ہماری سیاست اور سماج : ماضی کا ضعف اور مستقبل —- احمد الیاس

0

حالات کی مکمل، تفصیلی اور یقینی پیش گوئی مشکل کام ہے۔ تاہم ماضی اور حال کو دیکھ کر اور گہرائی سے تجزیہ کرکہ کچھ معروضی اندازے لگائے جاسکتے ہیں۔ سیاسی حوالے سے طویل المدتی پیش گوئی یا اندازے کے سلسلے میں سب سے اہم کردار دو عوامل کا ہوتا ہے۔

۱۔ ماضی میں سیاسی سفر کا پیٹرن کیا رہا ہے ؟
۲۔ اس وقت معیشت اور معاشرت کس رخ پر ہیں؟

پاکستان کے حوالے سے بہتر سالہ سیاسی پیٹرن کی بات کی جائے تو پہلا تجزیہ تو یہی سامنے آتا ہے کہ آدھا وقت جمہوریت اور باقی عرصہ فوجی آمریت رہی۔ کہنے کو بات درست ہے لیکن ہے سطحی۔ سیاست اور سیاسی نظام اپنے آپ میں کچھ نہیں ہوتا۔ کسی بھی معاشرے کی سیاست اس کی معاشی حقیقتوں اور سماجی ڈھانچے کا عکس ہوتی ہے۔ لہذا ظاہری طور پر سیاسی نظام کا نام اور ڈھانچہ چاہے کچھ بھی بنا لیا جائے، سیاست کا جوہر وہی رہتا ہے جو معیشت اور معاشرت طئے کردیتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک قبائلی گوپالی سماج میں سیاسی طاقت ان افراد کے پاس ہی رہے گی جو اپنی طاقت کے بل بوتے پر قبیلے اور اس کے جانوروں کا تحفظ کرتے ہیں یا نئے جانور مہیا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ زرعی جاگیردارانہ نظام میں جس کے پاس زمین ہو، وہی راج کرے گا۔ اس طرح صنعتی سرمایہ دارانہ نظام میں بورژوا یعنی خوشحال مڈل کلاس طبقہ ہی طاقت کا سر چشمہ قرار پائے گا۔ اب بھلے آپ قبائلی سماج میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم کردیں یا جاگیردارانہ سماج میں لبرل ڈیموکریسی والا آئین بنا لیں، معیشت اور معاشرت کی قوت سیاست کی قوت سے بہرحال زیادہ ہی ہوتی ہے۔ قبائلی سماج کی حقیقتیں آپ کی کمیونسٹ پارٹی کو بھی اپنے حساب سے مولڈ کرلیں گی اور جاگیردارانہ سماج لبرل جمہوریت کے پردہ میں بھی اشرافیہ کی حکومت بن کر رہے گا۔

پاکستان کے دو بڑے صوبوں کا سماجی ڈھانچہ بنیادی طور پر زرعی اور جاگیردارانہ ہے۔ معاشی طور پر کچھ خطے انڈسٹرلائز ہو بھی گئے ہوں، تب بھی ذہنی سطح پر سانچے اسی دور کے ہیں۔ کوئی ایسی تحریک ہمارے ہاں نہیں چل سکی جو ان سانچوں کو توڑ دے، بلکہ نوآبادیاتی نظام اور اس کی لیگیسی نے ان سانچوں کو مضبوط تر ہے کیا ہے۔ جاگیردارانہ سماج کی سیاست ہمیشہ اشرافیت اور بادشاہت کی طرف مائل ہوتی ہے۔ وقت کے تھپیڑے بادشاہت اور اشرافیائی شان و شوکت کو اتار کر پھینک بھی دیں، تب بھی ذہنوں کے سانچے اور روزمرہ زندگی کی معاشی معروضیتیں ہی ایسی ہوتی ہیں کہ طاقت ان ہی “خاندانوں” کے پاس مرکوز رہتی ہے جن کے پاس دولت ہو۔ اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ خاندان دولت اور طاقت کے اس کلب میں کسی اور کا داخلہ اور بالخصوص جائز طریقوں سے داخلہ ناممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

طاقت سرمایہ دارانہ نظام میں بھی اہلِ دولت کے پاس ہی رہتی ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام اور جاگیردارانہ نظام میں فرق یہی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں کوئی بھی فرد جس پر قسمت مہربان ہوجائے، جو ذہین اور چالاک ہو اور جو کچھ ہاتھ پاؤں بھی ہلا لے، دولت مند ہوسکتا ہے۔ تاہم جاگیردارانہ نظام میں آپ مجبور ہیں کہ اگر ایک غریب اور طاقت سے محروم خاندان میں پیدا ہوئے ہیں تو اسی کلاس میں رہیں۔ کوشش کرکہ بھی آپ دولت اور طاقت کے کلب میں شامل نہیں ہوسکتے۔ یوں سرمایہ دارانہ نظام میں بہت امیر طبقہ موجود ہوتا ہے لیکن ایک بہت بڑی مڈل کلاس بھی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے جو آخر کار اپنی طاقت مجتمع کرکہ اس سیاسی ڈھانچے کو اپنے جوہر کے ساتھ قائم کرلیتے ہے جسے جمہوریت کہتے ہیں اور جو دراصل صرف سرمایہ دارانہ نظام میں اور ایک بہت بڑی مڈل کلاس کے ساتھ ہی صحیح معنوں میں قائم ہوسکتی ہے۔ اور کسی معاشی ڈھانچے میں ہرگز نہیں۔

ان دو صورتوں کے علاوہ آج کے دور میں جو بھی صورتیں بتائی جاتیں ہیں جن میں سیاسی طاقت کا رشتہ دولت سے کاٹنے اور سیاسی طاقت اشرافیہ یا مڈل کلاس سے لے کر غریب محنت کش طبقے کو دینے کی بات کی جاتی ہے، یا تو احمقوں کی جنت ہیں یا اشرافیہ ہی کی چالاکی۔ نہ اشتراکی معیشت کبھی حقیقیت بن سکی ہے نہ اس کا کوئی امکان ہے۔

پاکستان میں سرمایہ داری نظام نہ آسکنے کی متعدد وجوہات ہیں۔ ہمارا جغرافیہ اور تاریخ وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔ ہماری ریاستی vulnerability اور نتیجتاً دفاع پر اٹھنے والا خرچہ، نوآبادیاتی پس منظر، افغانستان کی ہمسائیگی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن سب سے کلیدی کردار بہرحال بھٹو دور کی نیشنلائزیشن اور ان کے بعد عسکری و سول اشرافیہ کی کرپشن نے ہی ادا کیا۔

پاکستان کی معیشت و سیاست کو بنیادی طور پر چار ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

۱۔ پہلا دور جو قیام پاکستان سے سقوطِ ڈھاکہ تک ہے۔ اس میں پہلی سول سری اشرافیت انیس سو اٹھاون تک اور پہلے فوجی سری اشرافیت انیس سو اکہتر تک شامل ہیں۔ اس دور میں ریاست اور معیشت ایک دوسرے سے آزاد تھیں مگر صحتمندانہ تعلق قائم تھا۔ یہ سرمایہ داری کی طرف جانے کے لیے موزوں صورتحال ہوتی ہے۔

۲۔ دوسرا دور سقوطِ ڈھاکہ سے بہاولپور فضائی حادثے تک۔ اس میں ستتر تک سول سری اشرافیت اور اٹھاسی تک فوجی سری اشرافیت شامل ہیں۔ اس دور میں ریاست نے دولت کو کنٹرول کیا اور صنعتی انقلاب رک گیا۔ سرمایہ داری اور مڈل کلاس کی نمو کا کا خطرہ جاگیر دار کے سر سے ٹل گیا اور روایتی اشرافیہ نے سکھ کا سانس لیا۔

۳۔ تیسرا دور ضیاء کی موت سے مشرف کے استعفے تک کا ہے۔ اس دور میں دولت نے براہ راست ریاست کو کنٹرول کرنا شروع کیا اور تاجر سلطان بنے۔ نتیجتہً جاگیرداری ڈھانچے کے مثبت پہلو مثلاً وقار، اقدار اور روایت پسندی بھی جاتے رہے اور صرف دولت و طاقت کی پرستش رہ گئی۔ اس میں ننانوے تک سول سری اشرافیت اور دو ہزار آٹھ تک فوجی سری اشرافیت شامل ہیں۔

۴۔ چوتھا دور وکلاء تحریک اور مشرف کے جانے سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں اب تک سول سری اشرافیت قائم ہے۔ پیٹرن وہی ہے جو تیسرے دور کا تھا یعنی دولت براہ راست ریاست کو کنٹرول کررہی ہے لیکن تین چیزیں فرق ہیں۔

الف۔  اس صورتحال کے خلاف مزاحمت یا کم از کم بیزاری موجود ہے۔

ب۔  تیسرے دور کی نمائندہ نسل نے اقتدار سے چمٹے رہنا پسند کیا ہے اور باوقار طریقے سے اور بروقت اقتدار اگلی نسل کو منتقل نہیں کیا۔ اس سبب فرسٹریشن بڑھی۔

ج۔  سول سری اشرافیت کا تسلسل اب تک قائم ہے حالانکہ سول اشرافیت کے دونوں دھڑے ناکام ہوکر اقتدار سے باہر ہوچکے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں سول سری اشرافیت کو فوجی سری اشرافیت replace کرتی تھی۔ اب کی بار سول اشرافیہ ہی کے ایک تیسرے چہرے نے جگہہ بنائی ہے۔ (اگر آپ کے دماغ میں یہ چل رہ ہے کہ یہ چہرہ بھی دراصل فوجی اشرافیہ کا ماسک ہے تو یاد کیجئیے کہ گزشتہ سول اشرافیائی چہروں کا بھی یہی معاملہ تھا، تاہم ان کو بھی ہم سول اشرافیائی حکومتیں ہی مانتے ہیں)۔

بہرحال ان عوامل کی بنیاد ہر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست کا لگا بندھا پیٹرن کہیں نہ کہیں ٹوٹ رہا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے یہی ہے کہ کسی نہ کسی حد تک مڈل کلاس پیدا ہوگئی ہے، سرمایہ داری ملک کے کچھ حصوں اور طبقوں میں ہی سہی پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ یہ سرمایہ داری اور مڈل کلاس اس قابل نہیں ہوئی کہ وہ اکیلی حکومت کرسکے یا حکومت کا سب سے اہم حصہ ہی بن جائے، لیکن بہر حال وہ کسی نہ کسی سطح پر ایک پلئیر ضرور بن گئی ہے۔ پہلے ایسا ہرگز نہیں تھا۔

وقت کے ساتھ (اگرچہ آہستہ آہستہ) ہم اس نئے کھلاڑی کی آواز کو مضبوط ہوتا دیکھیں گے۔ جب اس کی طاقت اور اس کی فرسٹریشن ایک خاص سطح پر پہنچ جائے گی تو اس کی بغاوت صحیح معنوں میں نمودار ہونا شروع ہوگی۔ پہلے پہل اس کے نشانے پر سول اشرافیہ کے دو روایتی دھڑے آئے ہوئے ہیں۔ دوسرے مرحلے پر یہ سول اشرافیہ کے اس تیسرے دھڑے سے دست و گریباں ہوگی جس کے ساتھ یہ آج اتحاد میں ہے۔ یہ پی ٹی آئی کی تقسیم کا مرحلہ ہوگا (جو بہرحال ایک دن ہونی ہے)۔ آخری اور حتمی راؤنڈ میں رد جمہوری قوتوں سے لڑائی کا ہوگا۔

ماضی کی روشنی میں حالات کے موجودہ رخ کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ روایتی سیاسی قوتوں یعنی مسلم لیگ، پیپلز پارٹی نیز قوم پرست جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کی کوئی گنجائش بچی ہے نہ ہی سماجی ضرورت۔ یہ قوتیں آہستہ آہستہ غیر متعلق ہوتی جارہی ہیں، حتیٰ کہ خود اشرافیہ کے لیے بھی ناکارہ ہوچکی ہیں۔ اشرافیہ کی امیدیں بھی پی ٹی آئی میں موجود اپنے لوگوں سے ہی جڑی ہیں کہ وہی ہمارے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ آئندہ کچھ سالوں میں تحریک انصاف کا (کبھی نہ کبھی) ٹوٹنا اور اس جماعت کے اندر موجود اشرافیائی طبقے اور مڈل کلاسی طبقے کا ایک دوسرے کے خلاف کھڑا ہونا لکھا جاچکا ہے۔ جمہوریت کے لیے رد جمہوری قوتوں سے فائنل راؤنڈ لڑائی کا فیصلہ بھی بڑی حد تک اُسی راؤنڈ میں ہوجائے گا۔

(Visited 247 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: