اصغری، اردو ناول نگاری اورکچھ سوال —– خرم شہزاد

0

سخت پریشانی میں ہوں کہ اپنی چند معروضی باتوں کو کیا نام دوں جو ڈاکٹر فتح محمد ملک صاحب کے مضمون ’تمیز دار بہو کی بد تمیزی‘ پڑھتے ہوئے ذہن میں آئی ہیں۔ آپ اسے ڈاکٹر صاحب سے اختلاف کا نام دیں گے تو یہ زیادتی ہو گی کیونکہ بلا شبہ ڈاکٹر صاحب کو پڑھتے ہوئے ہم نے پڑھنا سیکھا ہے، لکھنا تو ابھی تک نہیں آیا۔ اس لیے معروضی باتوں کو صرف معروضیت تک ہی محدود رکھا اور سمجھا جائے تو عنایت ہو گی۔

سب سے پہلی بات کہ اردو کے چند بہی خواہوں کے مطابق ہماری نثر کی جھولی اچھے ناولوں سے خالی ہے، تو انہی بہی خواہوں سے کیوں نہ فرمائش کر لی جائے کہ جناب پھر آپ ہی کچھ پیش فرمائیں تاکہ لکھنے والوں کو پتہ چلے کہ اردو کی نثری جھولی آج تک کیوں کر خالی رہی۔ مولوی نذیر احمد کے ناولوں سے اگر اردو ادب کو اتنا ہی اختلاف رہا ہے اور تنقید نگاروں کے خیال سے اگر مولوی صاحب یہ سب نہ لکھتے تو آج شائد اردو ادب اپنی الگ قسم کی راہیں متعین کر چکا ہوتا تو یہ بات صرف اور صرف نذیر احمد سے مولوی کی بنا کر کیا جانے والا ایک اختلاف ہے۔ اردو کے دامن میں جتنا اور جس قدر ذخیرہ ڈائجسٹ لکھاریوں نے ڈالا، شاید ہی کسی نے ڈالا ہو۔ بات دنیا کی دوسری زبانوں کے ادب کے تراجم کی ہو یا پھر دنیا کے طویل ترین ناول کی، ہمارے ڈائجسٹ لکھاریوں کی بدولت ہی یہ سب ممکن ہوا لیکن اس سے ڈائجسٹ کے لکھاریوں کو کیا ملا۔ آج بھی اردو ادب کے بہی خواہ ڈائجسٹ کے لکھاری کو نہ تو لکھاری مانتے ہیں اور نہ ہی اس کے لکھے کو اردو ادب میں کوئی جگہ دینے کو تیار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر آج ہم ڈائجسٹ کے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں لکھاریوں سے ایسا سلوک کر سکتے ہیں تو ایک مولوی نذیر احمد کیا چیز تھے، ان کے لکھے کو بھی رد کرتے اور اردو ادب میں ناول نگاری کو آگے بڑھا لیتے، ہمیں بھلا کس نے روک لینا تھا۔ اب بھی بھلا ہم کون سا مولوی نذیر احمد کا جنم دن مناتے ہیں یا ان کے نام پر کوئی میلہ منعقد کیا جاتا ہے ناں ہی غالبا مولوی نذیر احمد پر کسی نے پی ایچ ڈی کی سطح کی ریسرچ کی ہے۔ ایسے ایک مولوی کو اردو ادب میں گمنام کر دیتے تو کیا جاتا، ہم نے جہاں اور بہت سوں کی ناقدری کی ایک اور سہی لیکن ایسا اس لیے نہ کیا گیا کہ بہی خواہوں کو خود تو کچھ لکھنا نہیں تھا اور جواز کے لیے کسی کی گردن کی ضرورت تھی اور ایک بے چارہ مولوی ان کے ہاتھ جا لگا۔

مولوی صاحب سے ایک اور اختلاف یہ کیا گیا ہے ان کی تحریروں کو سرکاری سطح پر سراہا گیا اور ان کی اشاعت کا بندوبست کیا گیا اور سرکار کی نمک خواری میں انہوں نے نہ صرف ترقی کی بلکہ عہدہ بھی پالیا۔ یقینا دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ مولوی صاحب نے اپنا قلم بیچ کھایا لیکن دو سوال ذہن میں اٹھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ قلم انگریز سرکار کو بیچنے کا حاصل کیا ہوا کہ انہوں نے کون سا انگریزی تہذیب و تمدن کو پروان چڑھانے کی بات کی تھی؟ دوسرا سوال یہ کہ کیا آج ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ مولوی صاحب اپنے زمانے میں نوکری وغیرہ کو لات مارتے، گھر بیٹھتے اور لکھتے، آج کے لکھاریوں کی طرح نہ صرف خود فاقوں مرتے بلکہ اہل خانہ کو بھی ایک ایک نوالے کو ترساتے اور پھر ایک دن خون تھوکتے مر جاتے تو ہم کہتے واہ، اس نے لکھنے کا حق ادا کیا کسی کی نمک خواری نہیں کی۔ کیا آج کوئی لکھاری کسی سرکاری عہدے پر نہیں ہے؟ اور کیا آج بیشتر لکھاریوں کی کتابیں بغیر سرکاری امدار اور اداروں کے چھپ رہی ہیں؟ اگرچہ ہم یہ سوال بالکل نہیں کر رہے کہ اس وقت جو بڑے لکھاری بنے ہوئے ہیں اور اپنے نام کے ساتھ جن درجن بھر کتابوں کا ذکر کرتے ہیں ان میں سے بیشتر تو کسی مارکیٹ میں عام شخص کو کبھی دستیاب بھی نہیں ہوئیں کیونکہ سرکاری اداروں سے چھپ کر سرکاری دوستوں کو تحفے تحائف میں جو بانٹ دی گئیں لیکن عام آدمی پر احسان ہوا کہ لکھاری اس کے لیے لکھ رہا ہے حالانکہ وہ لکھاری تو اس وقت مرتے دم تک عہدوں پر قائم رہنے کی منصوبہ بندی میں ہے۔ سوال اب بھی اپنی جگہ ہے کہ ہم کیوں کسی لکھاری کو ہر سرکاری تعلق اور عہدے سے بے پرواہ کروانا چاہتے ہیں جبکہ بطور معاشرہ ہم کسی لکھاری کو پالنے کے حق میں بھی نہیں ہوتے؟

آگے لکھتے ہیں کہ

’’ مولوی نذیر احمد کٹھ ملاوں کے طبقے سے ترقی کر کے آئے تھے اور اپنے ساتھ ادب و فن کے وہی معیار لائے جن کی رو سے فنون لطیفہ کو مخرب الاخلاق قرار دینا ملائیت کی بقا کے لیے ضروری تھا‘‘۔

لیکن اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتا کہ ادب و فن کا معیار کیا ہوتا ہے اور کیا یہ معیار سبھی انسانوں کے لیے ان کی سوچ، نظریات اور ماحول سے پرے ایک ہی رہے گا؟ ملائیت پر جھٹ سے الزام لگا دیا جائے گا کہ وہ فلاں فلاں چیزوں کو مخرب الاخلاق سمجھتے ہیں اور قبول نہیں کرتے لیکن کبھی کہیں مجھے یہ پڑھنے، سننے اور دیکھنے کو نہیں ملا کہ ملاوں کو بھی اپنے معاشرے کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے پڑھے لکھوں نے بھی کشادہ دلی کا مظاہر ہ کیا ہو اور بجائے ملاوں سے سب کچھ منوانے کے، ان کی بھی کوئی بات ماننا اپنی شان کے خلاف نہ سمجھا ہو؟ اگر فنون لطیفہ کو مخرب الاخلاق قرار دینا ملائیت کی بقا کے لیے ضروری ہو سکتا ہے وہ وہیں فنون لطیفہ کے مخرب الاخلاق استعمال پر ڈٹ جانا ایک بے راہ رو معاشرتی طبقے کی نمو اور زندگی کے لیے ضروری بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ لازم تو نہیں ہر کوئی ملائیت کے خلاف ہی ہو۔

’’میرا خیال یہ ہے کہ جب تک ہمارے نقاد اصغری کے کردار کو حسن و خوبی کا مثالی نمونہ قرار دے کر اس میں دائمی اخلاقی اقدار ڈھونتے رہیں گے اور نذیر احمد کی مقصدیت کو گھریلو زندگی کے قیام و بقا کا ضامن بتاتے رہیں گے۔ ہمارے معاشرے میں گھریلو انتشار روز بروز بڑھتا جائے گا اور ہماری زندگی کو رشوت ستانی سے لے کر سمگلنگ تک اور ریاکاری و منافقت سے لے کر غداری تک ہر طرح کی بد عنوانیوں کے گھن کھاتے چلے جائیں گے۔ ‘‘

کیا ان جملوں سے ایسا تاثر نہیں ملتا کہ مولوی نذیر احمد کا ناول نہ صرف ہمارے نصاب کا حصہ ہے بلکہ ہماری معاشرتی اور معاشی زندگی بھی اسی ناول کی دی گئی ہدایات پر ترتیب دی جاتی ہے جس کی وجہ سے عام آدمی ایک جکڑن کا شکار نظر آتا ہے اور اپنی اس مصنوعی زندگی سے نکلنا چاہتا ہے اور مولوی صاحب کے ناول کی جھوٹی مقصدیت کی وجہ سے آج ہر شخص رشوت ستانی سے لے کر سمگلنگ تک اور ریاکاری سے لے کر منافقت تک کو جائز سمجھتا ہے۔ چلیں ان جملوں کو پڑھتے ہوئے اپنے ذہن میں لائیے کہ ہمیں کتنی اور کون کون سی احادیث یاد ہیں۔ افسوس کہ ہمیں ایک بھی حدیث مکمل اور عربی میں اپنے پورے حوالے کے ساتھ یاد نہیں لیکن پھر بھی جو چند احادیث ایک عام آدمی کو یاد ہیں ان میں ایک یہ کہ جب کھانا سامنے ہو تو نماز چھوڑی جا سکتی ہے اور دوسری یہ کہ ایک مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔ اب سوچئے کہ کیا ہمارے امام مسجد نے اپنی چالیس پینتالیس سال کی تقاریر میں فقط یہی دو چار احادیث اور اتنی ہی مختصر سنائی اور سمجھائی ہیں؟ کاروبار میں ملاوٹ، رشوت اور ذخیرہ اندوزی سے لے کر رشتہ داروں سے احسن سلوک تک کیا کچھ ہوتا ہے جو ہر جمعے مولوی صاحب بیان کرتے ہیں لیکن ہم ان کی باتوں کو لائق توجہ کب سمجھتے ہیں بلکہ ہمارا یہ ایمان ہوتا ہے کہ ان کی باتوں پر عمل کر کے ہم زندگی میں صرف ناکام ہی ہوں گے۔ ۔ ۔ لیکن پھر بھی اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کے بعد بھی ہم اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار اسی مولوی کو ہی قرار دیتے ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی پوچھنا یقینا بر محل ہو گا کہ ہمارے معاشرے کا کون سا گھر ہے جہاں دن میں کم از کم ایک بار اکبری اور اصغری نہ صرف پڑھی جاتی ہے بلکہ بچوں کی تربیت کے لیے اسے مثالی کتاب سمجھتے ہوئے راہنمائی لی جاتی ہے۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو قرآن پاک سے راہنمائی لینا بھی بڑی مشکل سے گوارا کرتے ہیں، اس معاشرے میں ایک ناول نگار پر یہ الزام لگا دینا کہ لوگ اس کے ناول کو پڑھ کر ایک جھوٹی مقصدیت والی زندگی گزار رہے ہیں اور عین اسی طرح اپنے بچوں کی بھی تربیت کر رہے ہیں، اپریل کی یکم کو کیا جانے والا مذاق تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت نہیں۔

اصغری کے کردار پر بات پھر کبھی کے لیے اٹھا رکھتے ہیں کہ ابھی تو انہی سوالوں کو ان کی اصل روح سے سمجھ لیا جائے تو غنیمت ہو گی۔

(Visited 152 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: