حادثات میں سڑک کے ڈیزائن کا کردار ———— قانون فہم

0

پاکستان میں سڑک پر گاڑیوں کے حادثات اور پھر ان حادثات میں اموات کی شرح، ترقی یافتہ دنیا کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ ہے۔ حتی کہ ایسے ممالک جو انفراسٹرکچر یعنی سڑکوں اور گاڑیوں کی کوالٹی میں پاکستان کے مقابل آنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، ان ممالک سے بھی ہماری شرح دونوں صورتوں میں بہت ہی بری ہے۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو جب 1988 میں الیکشن میں آئی تھیں، تو نیو سوشل کنٹریکٹ پیش کیا تھا۔ جس میں پاکستان میں سنگین ترین مسائل میں دہشت گردی، سینی ٹیشن اور ٹریفک حادثات کا بھی خصوصیت سے ذکر تھا ۔ حیرت کی بات ہے کہ بینظیر بھٹو اپنی زندگی میں روڈ انجنیئر اور ٹریفک انجنیئر کی پاکستان میں تعلیم کیلئے کوشش کرتی رہیں مگر مختلف وجوہات کی بنا پر ممکن نہ ہو سکا۔ مجھے علم نہیں کہ سندھ میں یہ دونوں مضامین سپیشلٹی کے طور پر پڑھائے جاتے ہیں یا نہیں۔ مجھے خوف ہے کہ پنجاب میں کسی یونیورسٹی میں یہ ڈگریاں موجود نہیں ہیں۔

ہمارے ہاں سڑک کی ڈیزائننگ کا کام سول انجنیئر کرتا ہے جو جیک آف آل ٹریڈز قسم کا انسان ہوتا ہے۔ اس کی مہارت سڑک کے میٹیریل کی بابت ہی ہوتی ہے۔ اسے ہرگز یہ علم نہیں ہوتا کہ ایک مخصوص سپیڈ پر چلنے والی گاڑی سڑک پر کس کس طرح behave کرتی ہے اور کر سکتی ہے۔

ہماری سڑکوں پر اکثر حادثات کی بنیادی وجہ روڈ ڈیزائیننگ کی غلطیاں ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ 2006 میں لاہور گوجرانوالہ ایکسپریس وے پر کام تقریبا مکمل ہو چکا تھا۔ گوجرانوالہ کے ایک معروف ہوٹل میں افطار کیلئے گیا تو میرے شہر کا ایک انجنیئر جو وہاں افطار کیلئے الگ سے آیا تھا۔ مجھے دیکھ کر میرے پاس آیا ملا اور اس نے مجھے اپنے جنرل میننجر این ایچ اے سے ملوایا جو اس پروجیکٹ کو ہیڈ کر رہے تھے۔ گپ شپ میں روڈ ڈیزائیننگ کی بات چلی تو میں نے ان سے اس سڑک پر ہوٹل کے سامنے ایک protected u turn کے ڈیزائن پر اعتراض کیا اور ذکر ہوا کہ ایک روز قبل ایک حاضر سروس ڈی آئی جی اس مقام پر حادثہ کا شکار ہو گئے تھے۔

جنرل مینیجر موصوف نے زوردار قہقہہ لگایا اور بتایا کہ تین یوم قبل اسی یو ٹرن پر وہ خود بھی حادثہ میں بمشکل بچ پائے۔ میں نے ان سے protected u turn بنانے کے ڈیزائن کی بابت پوچھا تو انہوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس موضوع پر ہر گز کچھ نہیں جانتے ہیں۔اور انہوں نے اندازہ سے اسے ڈیزائین کیا ہے۔ میں نے انہیں تجویز کیا کہ اس یوٹرن کی لمبائی سڑک پر اجازت شدہ رفتار کے حساب سے ہونا چاہئے ۔ انہوں نے دلچسپی دکھائی تو میں نے انہیں بتایا کہ ٹریفک قوانین ایک سو کلومیٹر کی رفتار پر چلتی ہوئی گاڑی کیلئے 120 گز جگہ درکار مانگتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ یوٹرن انہوں نے محض 65 فٹ میں بنا دیا ہے۔
اب آپ خود ہی حساب لگا لیں کہ سڑک کی ٹاپ لین میں جہاں کوئی گاڑی ایک سو کلومیٹر کی رفتار سے کم نہیں جا رہی اچانک ایک curve آجائے اور بریک لگانے کیلئے محض 20 گز کے قریب جگہ دستیاب ہو تو حادثات کی شرح کس قدر زیادہ ہو گی۔

اس اتفاقی ملاقات کا یہ فائدہ ہوا کہ اس ایک یو ٹرن کے علاوہ اس مصروف ترین سڑک پر باقی یو ٹرن میری سفارش پر سو گز میں بنائے گئے۔ اور اسے بھی مزید بہتر اور نمایاں کرنے کیلئے کیٹ آئیز وغیرہ زیادہ لگا دی گئیں۔

اسی طرح ماچھیوال ضلع وہاڑی میں آبادی کے درمیان مشیگن separater بنایا گیا جسے عام الفاظ میں ڈیوائیڈر بھی بولا جاتا ہے۔ وہ رات کو نظر نہیں آتا تھا۔ جب محکمہ ہائی وے کے ایکسین کی گردن دبوچی تو پتہ چلا کہ سڑک FWO بنا رہا ہے اور اس کا کپتان محکمہ ہائی وے کے افسران کی بات نہیں سنتا۔ دو ماہ میں دس سے زیادہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے۔ مجھے علم ہوا تو میں نے کپتان کو سمجھایا مگر کپتان صاحب عرش بریں سے بول رہے تھے۔ میں نے بالآخر کپتان کو بتایا کہ متعلقہ تھانہ میں اقدام قتل کے کئی مقدمات درج کرنے کی درخواستیں اس کیخلاف پینڈنگ ہیں اور میں اب روکنے کی پوزیشن میں نہیں رہا ہوں
تو اگلے روز کپتان صاحب مجھے ہمراہ لے کر موقع پر گئے تو وہ موقع راتوں رات ٹھیک ہو چکا تھا، ڈیڑھ کلومیٹر پہلے اور بعد میں دونوں طرف کیٹ آئیز اور ریفلیکٹرز نصب کئے جا چکے تھے۔

عرض کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ ہمارا نظام collapse ہو چکا ہے۔ ہم میں سے کوئی اپنا کام سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ لاہور اسلام آباد موٹروے اور حتی کہ اسلام آباد کے اندر ایوینیوز کی تعمیر میں سنگین ڈیزائیننگ کی غلطیاں ہیں۔ فاسٹ سپیڈ لین بنا کر ایک مہینہ کے اندر اندر آپ کو وہاں 70 کلومیٹر حد رفتار کے بورڈ لگانا پڑیں تو کسی نہ کسی اتھارٹی میں اس قدر شعور ہونا چاہئے کہ وہ ان غلطیوں سے سبق سیکھے اور آیندہ نہ ہونے کی منصوبہ بندی کرے ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: