کیا ہم لالی پاپ کی قوم ہیں؟ ——— احمد اقبال

0

‎‎اپنے علامہ اقبال فرما گئے کہ “ملت بیضا”

اب اس لفظی مفہوم کچھ یوں بنا کہ ‘انڈے کی قوم’

فیس بک پر ایک مولانا نے تیل کی تلاش میں ناکامی کی خبر پر “خوش” ہونے والوں کی حب الوطنی پر شک کرتے ہوئے انہیں کچھ اس طور سے لتاڑا کہ میں نے در جواب آں غزل
کچھ عرض گذاری کرنا ضروری جانا۔۔۔۔ وگرنہ خواب نادیدہ کی تعبیر پہ رونا کیسا؟

یقینا پٹرو انجینیرنگ کے بارے میں عام پاکستانی کچھ نہیں جانتا خواہ وہ کتنا ہی عالم فاضل کیوں نہ ہو۔۔۔۔
میں بھی نہیں جانتا تھا اتفاق سے میری تیسری نسل کا ایک نمایندہ این ای ڈی سے پٹرولیم کی ڈگری لے کر آئل اینڈ گیس والوں کے ساتھ پاکستان کے طول و عرض میں ڈرلنگ کے شعبے میں ہے۔۔۔ یہ مقامات بالکل نامانوس، ویرانوں، کوہستانوں اور ریگزاروں کے ان دور افتادہ اور نامعلوم علاقوں میں ہیں جہاں آدم نہ آدم زاد۔۔۔ غالبا جن بھوت بھی نہیں جاتے کہ اسے کبھی ملے نہیں اور کام آسمان کی طرف یہ دیکھے بغیر جاری رہتا ہے کہ اوپر سورج مہاراج ہیں کہ چندا ماما۔ کرنا خدا کا یوں ہوا کہ اس نے اپنی خدمات پٹرو ڈالر کے عوض نیلام کرنا بہتر جانا۔۔ جیسا کہ دستور ہے۔۔ اور اب وہی کام کردستان کے ایک سرحدی علاقے میں کر رہا ہے۔۔ تو اس نے مجھ بزرگ کو سمجھایا کہ تیل کیسے ملتا ہے اور کہاں ملتا ہے؟

کم سمجھنے کے باوجود یہ ضرور میں نے سمجھ لیا کہ ریگ زاروں میں ہی نہیں سمندر کی بیکراں گہرائی میں بھی تیل چھپا بیٹھا ہے لیکن نکالنے والے بہر حال وہ ہیں جو چاند کے بعد مریخ پر اپنا نقش قدم چھوڑ آئے ہیں کہ وہاں بھی۔۔۔ کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد۔۔

تاہم اس تلاش کے کھیل میں کامیابی کا تناسب ہمیشہ اتنا ہی ہوتا ہے جتنا پرائز بونڈ میں پہلے انعام کا یا اس سے بھی کم اس میں سائنسدانوں کے ابتدائی تخمینے، ساری علمیت اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود ناکام قرار دیے جاسکتے ہیں جب پتا چلتا ہے کہ

1۔ تیل کی مقدار کے مقابلے میں اسے نکالنے کی لاگت بہت زیادہ ہے۔۔

2۔ تیل کا معیار اتنا ناقص ہے ک اسے استعمال کے قابل بنانا اتنا ہی ناممکن ہو جائے گا جتنا کسی بیوٹی پارلر کے لیے کسی حبشی حسینہ کو انجلینا جولی جیسی گوری حسینہ بنانا۔

میں باز آیا محبت سے اٹھا لو پاندان اپنا ‎تو بات اتنی سی ہوئی کہ محض پاندان اٹھالیا گیا ہے باقی وہ جو ہم رکھتے تھے اک حسرت تعمیر سو ہے

سلامت رہے جنوں اپنا کے مصداق اب کسی اور کوہ و صحرا یا فرش تہہ آب کی گہرائی تک جاتے ہیں۔

‎اس جذباتی رد عمل کے ذمے دار ہمیشہ کی طرح قوم کو سنہرے خوابوں کے لالی پاپ دینے والے ہیں۔

ایک خود مختار اسلامی ملک کا لالی پاپ تو بات پرانی ہوئی۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر ناقابل تسخیر کردینے کا لالی پاپ زیادہ پرانی بات بھی نہیں ہے کیونکہ ہماری قوم کے آنسو نہیں تھمتے تھے کہ 65 اور 71 میں اپنی فتح عظیم کے ترانے گاتے گاتے ہمارے تو گلے نہیں بیٹھے مگر بھٹہ بیٹھ گیا تھا۔۔ جہاد مقدس براےؑ تسخیر طالبان کا آغاز کرنے والے سپہ سالار اعظم کے دور خلافت میں جب مجلس شوریٰ ہوتی تھی اور ہر ادارے میں اقامت صلوۃ کمیٹی۔۔ سر عام دی جانے والی دروں کی شرعی سزائیں۔وہ ایک خلافت راشدہ کے احیاء کا لالی پاپ تھا جونائن الیون پر منتج ہوا اب ہاتھ میں رہ گئی سوکھی ڈنڈی۔۔ کہ لو چوپو۔۔ہور چوپو

‎اب کیا ہم مدنی ریاست کو بھی لالی پاپ کہیں؟ پینے کو پانی نہیں اور تیل کے دریا بہنے کی خوشخبری؟ کیا وہ بھی لالی پاپ تھی؟ کب تک ان خوابوں سے پیٹ بھریں؟
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دارو گیر۔۔

‎تو انسان جتنی سعی کرتا ہے پاتا ہے” کے فرمان پر عمل کے بجائے تکیہ پر تکیہ اور انشاللہ کرنے والوں کے خواب پرست منتشر ہجوم جسے پاکستانی قوم ہونے کے تفاخر سے مالا مال کر دیا گیا ہے۔

‎نوید ہو کہ اشک شوئی کے لیے جلد ایک اور نیا لالی پاپ بھی آسکتا ہے کہ وہ جو تھر میں کوئلے کے عظیم ذخائر تھے ہمارے سائنسدانوں کی جدید تحقیق کے نتیجے میں سونے کے ثابت ہوئے اور عالمی ماہرین بھی اس پر مہر صداقت ثبت کر چکے ہیں۔ پس مژدہ ہو اہل وطن کو کہ اب نہ صرف ہمارے تمام عالمی قرض بیباق ہو جائیں گے بلکہ ہمارے سونے کے محفوظ ذخائر امریکہ سے بھی زیادہ ہوں گے اور وطن عزیز میں وہ خوشحالی کا راج ہوگا کہ مدنی ریاست کی طرح خیرات لینے والا محتاج نہ ملے گا اور محاورے کے مطابق آدمی ایک سرے سے دوسرے تک سونا اچھالتا جائے گا۔

اس باران رحمت پر شکر کے نوافل بعد نماز جمعہ ادا کیے جائیں گے۔اللہ رب العزت کے اس انعام عظیم کا شکر ادا کرنے کے لیے کراچی کے پولو گراونڈ میں نماز کی امامت حضرت مولانا خادم رضوی اور لاہور کی بادشاہی مسجد میں مولانا حافظ سعید فرمائیں گے۔ اسلام آباد کی فیصل مسجد کے خصوصی اجتماع سے خطاب کے لیے جناب خادم حرمین شریفین امام کعبہ کی ذات بابرکات بنفس نفیس تشریف لائے گی۔

‎ ان سب روحانی اجتماعات کے بعد حکومتی لاوڈ اسپیکر بتائیں گے کہ یہ سب سابقہ کرپٹ حکومت کے علم میں تھا لیکن ان وطن فروشوں کا مقصد تمام سونے کو ملک کے باہر منتقل کرنے کا تھا وغیرہ وغیرہ

‎اور لالی پاپ کی عادی قوم آج بھی یہ نہیں دیکھے گی کہ کافر ہندو ملک بھارت کا ایک روپیہ ہمارے دو روپے دس پیسے کے برابر کیسے ہوگیا ہے؟ اور ہمارے ہی سابق صوبے بنگلہ دیش کے ایک روپیہ کےبدلے ہم ایک روپیہ اسی پیسے کیوں دیتے ہیں؟ ہوگی یقینا” اس میں بھی اللہ کی کوئی مصلحت۔۔ اور ‘اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

‎ کسی زیادہ باخبر یا شر پسند نے مجھے لکھا کہ ملک میں اب 29 لیفٹنٹ جنرل (شاید) 250 میجر جنرل ہیں۔ واللہ اعلم۔ لیکن اس کی ایک بات دل کو لگی جو سچ تھی کہ جب ملک دوگنا تھا تو آئی ایس پی آر کے سربراہ کرنل ہوتے تھے مثلا ‘میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا’ والے صدیق سالک تھے۔۔مگر سانوں کیہہ۔ ہم تو کسی ڈپٹی کمشنر بننے والے کی ان پڑھ دیہاتی ماں کی طرح دعا دیں گے کہ اللہ سب کو کو لیفٹن جنرل کرے

‎اف یہ ہماری مغرب زدہ نئی نسل!!! میرا ایک پوتا مجھے بلیک میل کر رہا ہے کہ دادا میں وہ نئی امپورٹڈ ایل ای ڈی لالی پاپ لوں گا جس کا ایڈ چل رہا ہے نا۔۔۔ اس کے بہانے میں بھی لالی پوپ دیکھوں تو سہی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: