ایسٹ انڈیا کمپنی اور مذہب ( ۳۔ آخری حصہ) ——– تلخیص و ترجمہ: صابر علی

0

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ اور  دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

جنوری 1808ء میں مذہبی اتحاد کی وجہ سے ڈائریکٹرز مجبور ہو گئے اور مشنریوں کو جزوی سرپرستی مل گئی۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ کمپنی نے نیا چارٹر لینا تھا اور ڈائریکٹر نہیں چاہتے تھے اتنے زیادہ مذہبی لوگوں کو ناراض کریں جن کا پارلیمنٹ پر دباؤ بہت زیادہ ہے۔ انہیں خدشہ تھا کہ مذہبی اتحاد پارلیمنٹ کو مجبور کر کے کمپنی کی اجارہ داری ختم کروا دے گا۔ ہندوستان میں 1807ء سے 1812ء تک مشنریوں اور کمپنی کے مابین تعلقات زیادہ تر خراب ہی رہے اگرچہ بعض مشنریوں کو سمجھ دار خیال کرتے ہوئے انہیں سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی مثلاً مشنری کیرے فورٹ ولیم کالج میں پروفیسر ہو چکا تھا اور ایک ہزار روپیہ تنخواہ لے رہا تھا۔ بہت سے مشنریوں کو ہندوستان میں داخلے کی اجازت نہ ملی اور کئی کو ہندوستان سے واپس بھیج دیا گیا۔ 1812ء میں کمپنی پر ہر طرف سے دباؤ تھا؛ ہندوستان میں نجی برطانوی تاجر اس کے حریف بن رہے تھے اور برطانیہ میں اس کی اجارہ داری ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔

اس متنوع قسم کے دباؤ کی وجہ سے کمپنی کی پالیسی یہ رہی کہ مشنریوں کی حوصلہ افزائی نہ کی بلکہ انہیں بھی برداشت کیا جائے۔ 1813ء کے بعد کمپنی حکام نے زیادہ تر توجہ تعلیمی اداروں پر مرکوز کی۔ مثلاً 1815ء میں بنگال کے پندرہ اسکولوں کے لیے پہلے چھہ سو پھر آٹھ سو روپے کی گرانٹ منظور کی گئی لیکن یہ شرط رکھی گئی کہ ان سکولوں میں بائبل کی تعلیم نہیں دی جائے گی۔ 1913ء کے چارٹر کے تحت کمپنی کی ذمہ داری تھی کہ ایک لاکھ روپے (یعنی دس ہزار پونڈ) سالانہ مقامی لوگوں میں سائنس اور علم کے فروغ پر خرچ کرے۔ 1823ء تک کمپنی نے یہ خرچہ نہ کیا اور مالی حالات کی خرابی کا بہانہ کیا۔ مشنریوں کے لیے بھی ایجوکیشن پہلی ترجیح تھی کیوں کہ جب تک لوگ بائبل نہں پڑھ سکتے تھے ان کا عیسائی بننا ممکن نہیں تھا۔ 1816ء میں گورنر بنگال لارڈ موریا نے نے سرامپور کا دورہ کیا اور مشنریوں سے تعلیم کے فروغ کے لیے تجاویز مانگیں۔ یہ تجاویز کتابی صورت میں شائع ہوئیں اور موریا نے انہیں پسند کرتے ہوئے ایک ہزار روپے فروغِ تعلیم فنڈ میں جمع کروائے۔ چندہ مہم کامیاب رہی اور پندرہ ماہ کے اندر اندر مشنریوں نے 103 ایلیمنٹری اسکول بنائے جن میں 6703 طالب علم تھے۔ 1818ء میں اجمیر (راجپوتانہ) میں گورنر جنرل کی معاونت سے مشنریوں نے ایلیمنڑی اسکول قائم کیا۔ موریا اور نواب اودھ نے تین تین ہزار روپے چندہ دیا۔ اسی طرح سرامپور میں کالج قائم کیا گیا اور عیسائی اور غیرعیسائی طلبہ کو سیکولر تعلیم دی جانے لگی۔

سیکولر ایجوکیشن میں اگرچہ براہ راست مذہبی تعلیم شامل نہ تھی لیکن کتابوں کے لکھنے والوں میں مشنری بھی شامل تھے۔ موریا کی بیوی لیڈی ہیسٹنگز نے بُک سوسائٹی قائم کی جس کے لیے بنگال گورنمنٹ کی طرف سے 6000 روپے کی گرانٹ ملی۔ یہ سوسائٹی لوئر بنگال کے اسکولوں کو کتابیں فراہم کرنے والا بڑا ادارہ تھا۔ اسی طرح کلکتہ سکول سوسائٹی بنی تو اسے بھی بنگال گورنمنٹ کی طرف سے 6000 روپے سالانہ گرانٹ ملی۔ مشنریوں نے پریس بھی لگا لیے تھے جہاں سے گورنمنٹ پرنٹنگ کرواتی رہتی تھی۔ 1820ء میں مشنریوں کے تیرہ پریس تھے اور 1828ء تک کلکتہ مشنریوں نے اکہتر ہزار کتابیں شائع کیں۔ لہٰذا 1823ء تک مشنری اور بنگال گورنمنٹ تعلیمی میدان میں باہم ایک ہو چکے تھے۔

گورنمنٹ کے تعاون سے حوصلہ افزائی پا کر مشنریوں نے اسکولوں میں بائبل کی تعلیم براہ راست شروع کر دی۔ اس سے پہلے قصے کہانیوں کے ذریعے مسیحی اخلاقی اقدار سکھائی جاتی تھیں۔ ہندوستانیوں نے اس کی مخالفت کی اور کئی اسکول بند کر دیے گئے۔ عیسائی کی بجائے ہندو اساتذہ کی تعیناتی سے کم مخالفت ہوتی۔ مخالفت کے باوجود ہر ماہ ایک نیا سکول قائم کرنے کی درخواست کی جاتی۔ ہندوستانی ایجوکیشن چاہتے تھے عیسائیت نہیں۔ مشنریوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ انگریزی کی کلاس میں انگریزی کے ذریعے عیسائیت کی تعلیمات دینے لگے لہٰذا اکثر مشن اسکولوں اور سرکاری اسکولوں میں تبلیغ جاری رہی۔

اسکولوں کا پراجیکٹ کامیاب رہا اور ہندوستان میں جگہ جگہ کالج قائم ہونے لگے۔ بنارس مدرسہ کے لیے تیس ہزار روپے کی گرانٹ دی گئی۔ وڈیالہ کالج 1816ء میں قائم ہوا جس کے لیے پچیس ہزار روپے کی گرانٹ دی گئی۔ اس کے علاوہ کلکتہ، آگرہ اور دہلی میں سرکارنے سنسکرت کالج قائم کیے۔ پبلک انسٹرکشنز کمیٹی کا سربراہ ہوریس ولسن بنا تو اس نے مشنریوں کی بجائے ہندوستانیوں کو آگے آنے کا موقع دیا۔ مدراس پریذیڈنسی میں صورت حال مختلف تھی۔ یہاں مشنریوں پر اشاعت اور ایجوکیشن کے حوالے سے سختیاں تھیں اگرچہ بعض کمپنی حکام چوری چھپے اسکولوں سے تعاون کرتے مثلاً چتوڑ کے جج نے لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے اسکول بنائے اور عیسائی مذہب قبول کرنے والوں کی اعانت بھی کرتا لیکن انہیں ہدایت کرتا کہ اس کا نام نہ لیا جائے۔

بمبئی پریذیڈنسی میں گورنر نپیان پورے خلوص سے مشنریوں کے ساتھ تھا اور ان سے ہر ممکن تعاون کرتا۔ اس نے مشنریوں کو سورت میں اسکول قائم کرنے میں تعاون کیا۔ اس کا جانشین الفنسٹن مشنریوں کو بمبئی سے باہر نہ جانے دیتا اور بمبئی کے اندر بھی انہیں زیادہ آزادی دینے کا روادار نہ تھا۔ اس نے مشنریوں کی بُک سوسائٹی کی بھی مخالفت کی اور انہیں اپنی کتابوں میں سے عیسائی تعلیمات کم کرنے کے لیے کہا۔ گورنر میلکم نے مشنریوں کی ڈاک مفت کر دی اور انہیں پوری پریذیڈنسی میں تبلیغ کرنے کی اجازت دے دی۔ وہ سرامپور کالج کا سرپرست بھی بنا لیکن یہ بھی کہا کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ عیسائیت کی تبلیغ میں حصہ لینا انگلش حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

گورنروں کے برعکس ملٹری کمانڈرز مشنریوں کے سخت خلاف تھے۔ 1814ء میں بنگال گورنمنٹ نے فوجیوں میں بائبل کی تقسیم پر پابندی لگا دی، مشنریوں کو بھگا دیا اور تمام مواد ضبط کر لیا گیا۔ اسی طرح مدراس میں عیسائیوں کو فوج میں شامل نہ کیا جاتا اور عیسائی مذہب قبول کرنے والوں کو معطل کر دیا جاتا۔ ایک برہمن نائیک نے عیسائیت قبول کی تو پہلے اس کی تنخواہ روکی گئی اور پھر اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔ سردھانہ کی حکمران بیگم سمراؤ کیتھولک ہو چکی تھی، اسے خبردار کیا گیا کہ اگر اس نے مشنریوں سے تعلقات رکھے تو وہ گورنمنٹ کی دوست نہ رہے گی۔ ملٹری کمانڈر جس چیز سے سخت نفرت کرتے تھے وہ یہ تھی کہ مشنریوں کی وجہ سے فوجیوں میں ڈیموکریٹک تصورات پھیلنے کا خطرہ تھا۔ ڈھاکہ کے جج لارنس نے ایک مشنری کو جھڑکا کہ تم لوگ چرچ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے والے کان کن ہو، تمہاری وجہ سے چرچ منہدم ہو جائے گا اور ساتھ ہی ریاست بھی۔

کمپنی پالیسی کی واضح خلاف ورزی ڈلہوزی کے دور میں ہوئی۔ ڈلہوزی نے کھلم کھلا کہا کہ ہم عیسائی ہونے پر شرمندہ نہیں اور ہمیں عیسائیوں کا تحفظ کرنے میں کوئی ڈر نہیں۔ اس نے 1849ء میں کوشش کی کہ بہادر شاہ ظفر کو دہلی سے باہر نکال دیا جائے، پھر بادشاہ کو خبردار کیا کہ وہ مغل سلطنت کا آخری بادشاہ ہو گا۔ اس نے 1856ء میں اودھ کا الحاق کمپنی کے علاقوں سے کیا تو باقی ریاستیں سکتے میں آ گئیں کیوں کہ ریاست اودھ شروع سے کمپنی کی وفادار چلی آ رہی تھی اور بنگال آرمی کی اکثریت یہیں سے بھرتی شدہ تھی۔ کمپنی کے دستوں نے خزانہ لوٹ لیا اور شاہی خاندان کے ہیرے جواہرات اور فرنیچر تک نہ چھوڑا۔ اس سے برہمن بہت زیادہ خائف ہوئے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ مغربی سائنس، طب اور ٹیکنالوجی نے ہندوازم کی بنیادی ہلا کر رکھ دی ہیں، تعلیم نسواں سے بھی انہیں شدید قسم کے تحفظات تھے۔ جب قانون سازی ان کے مذہبی رواجوں میں دخیل ہوئی تو انہیں سارا ہندوازم ڈھیر ہوتا نظر آیا۔ ہندوستانی مذہبی معاملات میں آزاد نہ رہے تھے؛ ڈلہوزی ہندوستان کو ماڈرن بنانا چاہتا اور کمپنی کے خزانے بھرنا چاہتاتھا۔ باہمی انحصاریت کی جگہ غرور اور تکبر نے لے لی تھی، اس سے 1857ء کی جنگ کی راہ ہموار ہوئی۔ بعض مورخین جن میں مجمودار بھی شامل ہے، 1857ء کی جنگ کو مذہبی جنگ کی بجائے ملٹری بغاوت قرار دیتے ہیں۔ مجمودار کے بقول بغاوت کے دوران سپاہیوں کی توجہ ذاتی فوائد سمیٹنے پر تھی۔ سپاہی عوام کی مدد اور رہنمائی کرنے کی بجائے انہیں لوٹنے اور ان کے دیہات تباہ کرنے میں لگ گئے تھے۔ دہلی کی طرف مارچ میں یورپی اور ہندوستانی دونوں باغی سپاہیوں کی لوٹ مار کا نشانہ بنے۔ بہت سے سپاہیوں کے ہاتھ کافی مال لگ گیا تو وہ وہیں سے گھروں کو لوٹ گئے۔ دہلی پہنچ کر سپاہیوں نے پہلے تنخواہ کا مطالبہ کیا۔ اس کے برعکس کچھ مورخ کہتے ہیں کہ اس بغاوت میں نمایاں کردار برہمنوں کا تھا کیوں کہ انہیں ہندومذہب خطرے میں نظر آ رہا تھا۔

کمپنی کا اصول یہ تھا کہ سرکاری رقم سے مشنری سرگرمیوں کی مدد نہیں کی جائے گی۔ مشنریوں کی کتب سنسر کی جاتیں اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے نازیبا گزرنے والا مواد نکال دیا جاتا۔ تبلیغ میں ملوث اداروں کو گرانٹ نہ دی جاتی۔ سرکاری پادری نظر رکھتے کہ عام یورپی بھی تبلیغ نہ کریں۔ تاہم کمپنی مشنریوں کو یورپیوں کی تعلیم کے لیے یا ہسپتالوں اور جیل خانوں میں ملازمت دیتی یا ان کے پریس سے پرنٹنگ کرواتی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ مشنریوں اور عیسائیت قبول کرنے والوں کا اسی طرح تحفظ کرے گی جس طرح دوسرے ہندوستانیوں کا کرتی ہے۔

کمپنی ایک طرف ہندوستانیوں کو راضی رکھنا چاہتی تھی اور دوسری طرف برطانوی مذہبی عوام کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔ دونوں کو خوش رکھنے کی کوشش میں دونوں کی ناراضی مول لی۔ کمپنی کا راج تو ختم ہو گیا لیکن یہ بحث پھر بھی جاری رہی کہ عیسائیت کے فروغ کے لیے حکومت برطانیہ کیا کر سکتی ہے۔ ایونجلیکل چاہتے ہیں کہ تاجِ برطانیہ اپنی عیسائی ذمہ داریاں پوری کرےتاہم ملکہ وکٹوریہ نے اس سلسلے میں کمپنی کی حمایت کی۔ اس نے کہا کہ ہمیں اپنی رعایا پر اپنی خواہشات مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس نے مزید کہا کہ ہماری رعایا کی مذہبی عقائد میں دخل اندازی کرنے والا ہمیں سخت ناراض کرے گا۔ تاہم مشنری کہتے تھے کہ ہم ہندوستانی عوام کو ذمہ دار نہیں بلکہ خداوند کوجواب دہ ہیں جس نے ہمیں ہندوستان دیا۔ 1857ء کے بعد حکومت کو تقریباً دو ہزار خطوط لکھے گئے لیکن کسی بھی پارٹی نے مشنریوں کی حمایت کی کوشش نہ کی۔

مدراس کے گورنر چارلس ٹریولن نے 1836ء میں کہا تھا کہ ”اب عیسائیت کے امتحان کا وقت ہے، دیکھتے ہیں اس میں کامیاب ہونے کی سکت ہے یا نہیں۔ اگر ہماری تمام تہذیبی برتری کے باوجود اگر یہ ناکام ہو گئی تو ہمارے لیے شرم کا مقام ہو گا“۔ اور ہندوستان میں عیسائیت ناکام رہی۔ 1858ء تک 180 ملین کی آبادی میں صرف 360 مشنری تھے۔ مشنری اسکولوں کی تعداد بھی کم ہوتی چلی گئی۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہندوستانیوں نے اسے اس لیے قبول نہ کیا کہ اس کا سلطنت سے گہرا رشتہ تھا۔ مشنریوں نے ہندوستانیوں اور برطانویوں کو عیسائیت کے ذریعے ایک کرنا چاہا لیکن عیسائی ہونے والے اپنے ہی وطن میں بیگانے ہو کر رہ گئے۔

سرکاری سطح پر کمپنی نے عدم مداخلت کا دعویٰ کیا لیکن حقیقت میں اس نے کبھی بھی عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل نہ کیا۔ وہ ان معنوں میں کہ شروع سے آخر تک اپنے مقبوضہ علاقوں میں مشنریوں کو آزادی سے آمدورفت کی اجازت نہ دی اور ہر مشنری سے کمپنی وفاداری کا حلف لیا جاتا۔ کوئی بھی چرچ کمپنی کی اجازت کے بغیر تعمیر نہیں ہو سکتا تھا اور اس کی جگہ بھی کمپنی متعین کرتی۔ اس نے ہمیشہ کوشش کی کہ عیسائیت کو اس کی حدود میں رکھے۔ کمپنی مذہب کے مقابلے میں غیرجانب دار نہ رہی بلکہ مقامی مذاہب کی حمایت کی۔ اسی وجہ سے مشنریوں نے کمپنی پر تنقید کی کہ کمپنی نے بت پرستی کی حمایت کی جس وجہ سے وہ ہندوستان کو عیسائی بنانے میں ناکام رہے۔ عیسائی ہونے والوں کو سخت محرومی اور خوف کا سامنا رہا۔ بشپ ایک ریاستی ملازم تھا اور اس کی 1814ء میں ہندوستان آمد کمپنی پر پارلیمنٹ کا جبر تھا۔ مشنریوں کی وجہ سے کمپنی پر دباؤ بڑھا کہ عیسائیوں ہونے والوں کا تحفظ کرے اور ان کی ضروریات پوری کرے۔ کمپنی نے مشنریوں کو چھاؤنیوں میں سرکاری پادری صرف اس لیے رکھا کہ ان کا متبادل نہیں تھا اور وہ سستے بھی تھے۔ کمپنی کی اعلیٰ قیادت میں شروع سے آخر تک ایک ہی پالیسی رہی اور اس نے تمام مذاہب کے متعلق نتائجیت پرستانہ رویہ رکھا تا ہ بہت بڑی آبادی پر حکومت کر سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: