سوشل میڈیا پر ناقابل فہم غیر اخلاقی رویہ سے کیسے نپٹا جائے —- قانون فہم

0

عجیب طرح کے شخصی رویے آج کل خصوصی دلچسپی کا موضوع ہیں۔ دنیا میں پاگلوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ استاد محترم کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالی نے دنیا کا نظام کچھ اس طرح ترتیب دیا ہے کہ ہر سطح پر پاگلوں، احمقوں اور بے وقوفوں کا جو تناسب عوام میں موجود ہے وہ تناسب اوپر بھی منعکس ہوتا ہے۔ اگر عوام میں 5 فیصد پاگل اور احمق موجود ہیں تو اعلی تعین حکومتی عہدوں پر، اعلی ترین انتظامی اور عدالتی عہدوں پر بھی یہ تناسب برقرار رہتا ہے۔

سوشل میڈیا، میری ناقص نظر میں، پہیہ کی ایجاد کے بعد سب سے بڑی انسانی کامیابی ہے کہ اس نے اطلاعات کی رسائی پر سامراجی تسلط کو پاش پاش کردیا۔ مگر ظاہر ہے کہ اس کی خوبی ہی اس کی سب سے بڑی خامی بھی ہے کہ یہ ہر کس و ناکس کی رسائی میں ہے۔

دنیا کے ایک خطہ میں ایک ذہنی مریض، دو ارب لوگوں کو بیک وقت چٹکی کاٹنے کیلئے کسی بھی محترم شخصیت کا کارٹون بناتا ہے اور اس کی تضحیک میں کچھ جملے لکھتا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ اس پاگل باولے کی فرینڈز لسٹ میں سبھی باشعور تو نہیں بیٹھے۔ اسی طرح کے لوگ ہی ہونگے! وہ اس کو شیئر کرتے ہیں، اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں یہ ایک چھوٹا سا سرکل ہوتا ہے۔ ممکن ہے سنجیدہ دنیا کیلئے اس فعل کی حیثیت مکھی کے پر کے برابر بھی نہ ہو۔

لیکن بدقسمتی سے ایک مرد مجاھد، بزعم خود مرد دانا اس فعل تک کسی بھی طرح رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ اور یوں ایک عقل کی کمی کی بنیاد پر نیا جہاد جنم لے لیتا ہے۔ وہ دانا بینا دوست اسے بار بار اپنی کمیونٹی میں شیئر کرتا ہے۔ اس کی اشاعت کو اپنا دھرم قرار دے دیتا ہے اور جوشیلے نعروں کے ساتھ اس احمق ملزم کی سزایابی کو اپنا مشن بنا کر ایک نئی جدوجہد شروع کردیتا ہے۔

اس طرح ایک احمقانہ خفیہ فعل کی نشرو اشاعت بین الاقوامی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ ایک کارٹون یا تضحیک آمیز نوٹ ممکن ہے کہ دس پندرہ لوگ بھی پڑھ کر نظر انداز کر دیتے مگر ہمارے خوش گمان نیک نیت دوست اس غلیظ کام کو شہرت دینا، اپنی معصومیت سے، اپنی زندگی کا مشن بنا لیتے ہیں۔

ابھی کل ہی ایک حادثہ میں ایک نیک نام سیاستدان کا معصوم زیرتعلیم طالبعلم بیٹا انتقال کر گیا تو اسی طرح کے کچھ پاگل کتے کاٹنے کو دوڑے۔ انہوں نے یہ کام اپنی دماغی صلاحیت کے مطابق کیا۔ اللہ تعالی نے انہیں اسی استطاعت اور ماحول کے مطابق دنیا میں بھیجا تھا۔ مگر بہت سے نیک نام باشعور دوست ان غلیظ کلمات کو شیئر اور ریپیٹ کرتے نظر آئے۔

میری نظر میں یہ رویہ نامناسب ہے۔ غلط ہے اور پاگل اور جہلا کے ٹولہ کی ہمت افزائی کا سبب بنتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ معروف لکھاریوں کی وال تک پہنچ کر اپنا تعارف کروانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ میری استدعا اور مشورہ سوشل میڈیا پر زیادہ پڑھے جانے والے اور اچھی شہرت والے دوستوں سے یہ ہے کہ ان گدھوں۔ احمقوں۔ پاگلوں کو نظر انداز کرنا سیکھیں۔ برے کمنٹ کو بلا توقف ڈیلیٹ کریں۔ زیادہ شدت سے ردعمل دینا ہو تو ان فرینڈ اور پھر بلاک کا آپشن استعمال کریں۔ سکرین شاٹ لگانے اور ان کی بکواس کو اپنی وال پر جگہ بالکل نہ دیں بہتر ہوگا کہ سوشل میڈیا کی مقبول شخصیات اور ویب سائیٹس انہی خطوط پر آگے بڑھیں اور سستی شہرت کے شائقین سے ان کا جنون چھین لیں۔ کسی بھی غلیظ کمنٹ کو کیسر نظرانداز کریں۔

میں بھی کوشش کروں گا کہ آیندہ کسی ایسے شخص سے آرگیومنٹ اور گالی گلوچ کا تبادلہ کرنے کی بجائے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کروں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس معاملہ میں تاریخی باوقار ردعمل کا درس دیا ہے۔ ہمیں اس سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: