ایسٹ انڈیا کمپنی اور مذہب (۲) ——– تلخیص و ترجمہ: صابر علی

0

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

اسی دوران کمپنی پر ایک تنقید یہ ہونے لگی کہ بنگال کے قحط میں مرنے والوں کے لیے کمپنی نے کچھ نہ کیا بلکہ ان کے مصائب سے فائدہ اٹھا کر انہیں لوٹا۔ روشن خیالی کے اثرات کے تحت کہا جانے لگا کہ ہندوستان ہمیں دولت دے رہا ہے تو ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم بھی ہندوستان کی بہتری کے لیے کچھ کریں۔ 1784ء میں بشپ رچرڈ واٹسن نے ہاؤس آف لارڈز میں تقریر کی اور زور دیا کہ ہندوستان میں عیسائیت کی تبلیغ کی جائے۔ 1786ء میں بشپ تھامس تھرلو نے کہا کہ ہندوستانیوں کو عیسائی بنانا برطانیہ پر فرض ہے کیوں کہ اب ہندوستانی برطانیہ کی رعایا تھے۔ اس دباؤ کے باوجود کمپنی مصر تھی کہ ہندوستانیوں کو مذہب کے معاملے میں نہ چھیڑا جائے۔ ایڈمنڈ برکے اور ولیم جونز نے بھی اسی قسم کے دلائل دیے ہندوستانیوں کے قدیم عقائد اور روایات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں، کمپنی کے پاس افرادی قوت اتنی نہیں تھی کہ عوامی بغاوت کا سامنا کر سکتی اس لیے کمپنی ہندوستان میں عیسائیت کی تبلیغ کے خلاف ڈٹی رہی۔ 1790ء تک فرنچ پادریوں پر مکمل پابندی لگا دی گئی کیوں کہ ان کے متعلق خیال تھا کہ وہ ٹیپو سلطان کے جاسوس ہیں۔

پادریوں نے 1772ء میں بنگال میں مشنری قائم کرنے کی کوشش کی لیکن کمپنی نے انہیں لائسنس نہ دیا۔ 1787ء میں کمپنی مشنری سرگرمیوں کے لیے دوبارہ درخواست دی گئی اور طاقت اور بااثر افراد کو اس کی نقول بھیجی گئیں۔ چارلس گرانٹ نے مشنری قائم کرنے کے پروپوزل میں دل چسپی لی اور سرتوڑ کوشش کی کہ یہ پروپوزل قبول کر لیا جائے۔ ناکام ہونے پر اس نے ذاتی اخراجات سے مشنری قائم کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں بھی ناکام رہا۔ گرانٹ 1790ء میں کمپنی کی بائیس سالہ ملازمت کے بعد برطانیہ واپس گیا تو وہاں اپنے دوست وزیراعظم اور دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کو عیسائیت کی تبلیغ پر راضی کرنے کی مہم میں لگ گیا۔ گرانٹ کے دوستوں میں سے ولبرفورس زیادہ شاطر تھا۔ ولبرفورس نے تجویز دی کہ پروپوزل میں ترمیم کی جائے اور درخواست کی جائے کہ ہندوستانیوں میں سائنس اور انگریزی کا نور پھیلانے کی اجازت دی جائے۔ گرانٹ کی سرتوڑ کوششوں اور ہر قسم کی ساز باز کے باوجود اس کا پروپوزل قبول نہ کیا گیا۔

گرانٹ نے ہمت نہ ہاری اور 1793ء میں جب کمپنی کو نیا چارٹر جاری ہوا تو اس نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے چارٹر میں یہ شق شامل کروا دی کہ ہندوستانیوں کو مفید علم دیا جائے اور ان کی اخلاقی اور مذہبی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ یہ شق منظور کر لی گئی اور اس کے بعد دوسری شق یہ منظور کروائی گئی کہ کمپنی ہندوستان میں اسکول ماسٹر، مشنری اور دیگر موزوں افراد بھیجے گی۔ تاہم اس شق کی شمولیت سے طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور خدشات ظاہر کیے گئے کہ اس سے کمپنی کے اثاثے محفوظ نہیٰں رہیں گے اور یہ شق کمپنی کی تجارتی حیثیت سے زائد ہے۔ شیئرہولڈرز کی میٹنگ بلائی گئی اور سب نے اس کی مخالفت کی۔ کمپنی نے چیئرمین نے کہا کہ اگر مشنری کامیاب ہوئے تو ہندوستان میں برطانیہ کا راج ختم ہو جائے گا۔ آخر کار بینک آف انگلینڈ کے ڈائریکٹر نے تجویز دی کہ مشنریوں کو پابند کر دیا جائے کہ وہ تبلیغ نہیں کریں گے اور صرف چرچ آف انگلینڈ کے مذہبی اور اخلاقی اصول لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔ 1797ء میں بہت سے دوسرے بااثر افراد نے دوسرا مشنری پروپوزل پیش کیا لیکن طویل بحث مباحثے کے باوجود یہ بھی منظور نہ ہو سکا۔ تاہم اس وقت تک دو مشنری ڈچ جہاز کے ذریعے ہندوستان پہنچ چکے تھے۔

یہ مشنری کیرے اور تھامس تھے جو ہگلی پہنچے اور بندیل میں قیام پذیر ہوئے۔ انہوں نے جاتے ہی تبلیغ شروع کر دی۔ جب وہ بنگال میں داخل ہوئے تو انہیں لائسنس کے بغیر بھی تبلیغ کی اجازت مل گئی۔ کیرے اور تھامس کے پاس رقم ختم ہو چکی تھی اور وہ ایک مسمار شدہ مکان میں رہتے تھے۔ کیرے کی بیوی بیمار تھی اور چار میں سے بڑا بیٹا موت کے منہ میں تھا۔ ان حالات میں کیرے کو سندربن کے جنگلات میں چند ایکڑ زمین تین سال کے لیے مفت دی جانے کی پیش کش ہوئی جسے اس نے فوراً قبول کر لیا۔ اس دوران وہ بنگالی بھی سیکھ رہا تھا۔ آخرکار انہیں انگریز کاشت کار کے کھیتوں پر مینجرز کی ملازمت مل گئی۔ اس ملازمت کے دوران تھامس اور کیرے نے ہندوستانیوں اور یورپیوں کو تبلیغ جاری رکھی۔ کمپنی ملازمین ان کی سرگرمیوں سے باخبر تھے لیکن انہوں نے ان کی رپورٹ نہ کی۔ ہندوستان میں کمپنی کے سرکاری پادریوں نے ان کی سخت مخالفت کی تاہم بنگال پریذیڈنسی کے گورنر سے شناسائی کی وجہ سے انہیں کچھ نہ کہا گیا۔ 1797ء میں بنگال گورنمنٹ نے کیرے، تھامس اور فاؤنٹین کو بنگال میں رہنے اور تجارت کرنے کا اجازت نامہ دے دیا۔

1798ء میں چوتھا مشنری بنگال پہنچا اور 1799ء میں مزید چار مشنری اپنے خاندانوں کے ہمراہ سرامپور پہنچے۔ یہ بھی بغیر لائسنس کے آئے تھے لیکن انہیں رہنے کی اجازت نہ دی گئی۔ کیرے بھی نکالے جانے کے خوف سے سرامپور جا پہنچا۔ تاہم گورنر جنرل لارڈ ویلزلے سرامپور کو ڈیفالٹرز اور مقروضوں کا گڑھ سمجھتا تھا۔ ویلزلے کو یہ بھی شکایت تھی بائبل بغیر تفسیر کے تقسیم کی جا رہی ہے جس سے ہندوستانی لوگ سیاسی طور پر مساوی ہونے کا دعویٰ کر دیں گے۔ تاہم کچھ کمپنی پادریوں کی سفارش کی بنیاد پر کیرے کو ویلزلے کے کالج میں بنگالی پڑھانے کی ملازمت مل گئی اور اس کی صلاحیتوں نے اسے بچا لیا۔

مشنریوں نے سیاسی خیالات کا اظہار شروع کیا تو انہیں سختی سے حکم دیا گیا کہ سیاست کے متعلق اپنی زبانیں بند رکھیں ورنہ انہیں ہندوستان سے باہر نکال دیا جائے گا۔ لہٰذا بغیر لائسنس نئے پہنچنے والے مشنریوں کو خبردار کر دیا جاتا کہ اگر انہوں نے برٹش علاقوں میں قدم رکھا تو فوراً دھر لیے جائیں گے۔ 1804ء میں مشنریوں نے کلکتہ میں چرچ تعمیر کیا اور ہفتہ وار بنیادوں پر مذہبی اجتماع اور تبلیغ شروع کر دی۔ بنگال سپریم کونسل کے جارج اڈنی نے ان سے تعاون کیا اور کٹوہ اور جیسور میں بھی مشنری اڈے قائم ہو گئے۔ 1805ء میں فورٹ ولیم کالج کی ایشیاٹک سوسائٹی کے سنسکرت کتابوں کا بنگالی ترجمہ کیا جس کی فروخت سے مشنریوں نے تین نئے اڈے قائم کیے۔ ویلزلے نے بطور عیسائی بائبل کے ہندوستانی زبانوں میں ترجمے میں تعاون کیا لیکن بطور گورنر ہندوستانیوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہ دی۔

ویلزلے کے بعد گورنر بارلو نے بھی خواہش ظاہر کی ہندوستان میں عیسائیت غالب ہو لیکن اس نے کسی بھی مشنری سرگرمی میں تعاون سے انکار کر دیا۔ تمام مشنری باپٹسٹ تھے۔ انہیں کمپنی کی طرف سے تو کوئی خاص رکاوٹ نہ آئی تاہم ہندوؤں اور مسلمانوں نے سخت مخالفت کی۔ 1800ء میں پہلی بار بپتسمہ دیا گیا تو دو ہزار کے قریب لوگ جمع ہو گئے عیسائی مذہب قبول کرنے والوں کو لعنت ملامت کرنے لگے۔ اب مشنریوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت انہیں تحفظ فراہم کرے اور نئے عیسائیوں کو تحفظ اور مراعات دے کیوں کہ وہ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا چکے تھے۔ جنوری 1805ء میں مشنریوں نے مطالبہ کیا کہ لکھنؤ، پٹنہ اور چندرناگپور کے چرچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ورنہ مشن بند ہو جائے گا۔ مشنری زیادہ تر چھاؤنیوں کے آس پاس رہتے لیکن کمپنی سے بچ کر تبلیغ کرتے۔ پادری اور مشنری پریشان تھے کہ عیسائی ہونے والوں کی تعداد کم تھی، جو عیسائی ہو رہے تھے کمیونٹی ان پر تشدد کرتی تھی اور انہیں قبول نہ کرتی تھی۔ لہٰذا وہ اس بات کے قائل ہو گئے کہ کمپنی اور حکومت برطانیہ کی مدد کے بغیر ہندوستان میں عیسائیت کی تبلیغ و اشاعت کا کام محدود رہے گا۔ دوسری طرف انہی وجوہات کی بنا پر کمپنی مشنریوں کی مخالفت کر رہی تھی کہ اس سے حالات خراب ہوں گے اور ان کی حکومت و تجارت متاثر ہو گی۔

1803ء میں برہمنوں نے خود درخواست کی کہ جگن ناتھ مندر کو برٹش تحفظ میں لے لیا جائے۔ اسے تحفظ دیا گیا لیکن وہاں جمع ہونے چندے کا کچھ نہ کیا گیا۔ جب بدانتظامی اور کرپشن حد سے بڑھ گئی تو کمپنی سرکار نے تنخواہ دار چندہ کلیکٹر تعینات کر دیا۔ اگلے سال بنگال کونسل نے پنڈتوں کی ایک کمیٹی بنائی کہ مندر کا انتظام سنبھالے۔ مندر کے انتظامات اور یاتریوں کے امن و امان کی ذمہ داری کٹک کے کمشنر کے سپرد کی گئی۔ اس پر کمپنی پر تنقید کی گئی یہ کمپنی عیسائیت دشمن ہے۔ اس سے کمپنی اور پادریوں میں مخاصمت شروع ہوئی جو 1857ء تک جاری رہی۔

مدراس پریذیڈنسی میں لائسنس یافتہ مشنریوں کی مدد کی جاتی تھی اور انہیں مفت سفر اور مفت ڈاک کی سہولیات فراہم تھیں۔ 1804ء تک اس پریذیڈنسی میں کوئی پروٹسٹنٹ مشنری نہیں تھا۔ 1805ء میں پروٹسٹنٹ مشنری ڈاکٹر ٹیلر نے سورت میں تبلیغ کی کوشش کی لیکن کمپنی حکام نے اسے اجازت نہ دی۔ اس کے علاوہ مدراس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر کمپنی حکام دوسرے لائنس یافتہ مشنریوں کو مکمل تعاون اور تحفظ کا وعدہ کر کے مشنری سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی۔ مدراس کونسل کے گورنر کی طرف سے مشنریوں کو بارہ پگوڈا ماہانہ ملتے اور انہیں چار ایکڑ زمین بھی دی گئی۔

10 جولائی 1806ء کی رات سپاہیوں نے ویلور قلعہ کے سنتریوں کو قتل کر کے قلعہ پر دھاوا بول دیا۔ اس قلعہ میں ٹیپو سلطان کا خاندان قید تھا۔ بغاوت پر قابو پائے جانے سے پہلے دو سو کے قریب یورپی مارے جا چکے تھے۔ اس کے فوری بعد ولاج آباد، نندیدرگ، بلاری، حیدرآباد، پالم کوٹہ اور بنگلور میں دنگے فساد ہوئے۔ یہ خبریں فروری 1807ء میں برطانیہ پہنچیں۔ اس سے مشنریوں کی مخالفت نئے سرے سے زور پکڑنے لگی۔ اس بغاوت کی وجوہات کچھ بھی تھیں، ان میں یہ عنصر ضرور موجود تھا کہ سپاہیوں کو عیسائی بنانے کی افواہیں گردش میں تھیں۔ 1805ء میں مرہٹوں کو شکست دینے کے بعد برطانیہ ہندوستان میں واحد بڑی طاقت تھا اس لیے یہ بات خارج از امکان نہ تھی۔ اس بغاوت سے واضح ہو گیا کہ ہندوستان میں برطانوی راج کمزور ہے اور سپاہیوں کی وفاداری کے بغیر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

گورنر اور کمانڈر انچیف واپس بلا لیے گئے اور مشنری سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے مطالبے ہونے لگے۔ اس وقت تین مشنریاں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھیں۔ بائبل کی اشاعت کی خبریں شائع ہو چکی تھیں اور بہت سے مزید عیسائی پادریوں کی ہندوستان آمد متوقع تھی۔ پالم کوٹہ میں بڑی تعداد میں لوگ عیسائی مذہب قبول کر رہے تھے۔ جب بغاوت کی خبر بنگال پہنچی تو مشنریوں پر فوراً پابندی لگا دی گئی۔ تاہم مشنریوں نے ان پابندیوں کی پروا نہ کی۔ بائبل کے تراجم اور تقسیم بنگال کونسل کے تعاون سے جاری رہی۔ ادھر برطانیہ میں مشنریوں کے حامیوں اور مخالفوں میں پمفلٹ چنگ چھڑ گئی۔ کمپنی کی بنیادی دلیل یہی تھی کہ وہ تجارتی اور سیاسی ادارہ ہے مذہبی ادارہ نہیں اس لیے وہ عیسائیت کی اشاعت و تبلیغ میں کوئی تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ ایونجلیکل مشن نے 1807ء میں ایک کمیٹی بنائی اور کمپنی کو دشمن قرار دے کر اس کی مخالفت پر متحد ہو گئے۔ کمپنی کے ایک ڈائریکٹر نے ہیسٹنگز کو خط لکھا کہ پادری عالی مقام ہیں، میں نے ان سے کبھی محبت نہیں کی لیکن اب میں ان سے نفرت کرتا ہوں کہ یہ مشنری سرگرمیوں پر ڈٹے بیٹھے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: