عمران سے حکمران تک —— رقیہ اکبر

0

یہ پچیس جولائی دو ہزار اٹھارہ کی چمچماتی صبح ہے۔ سورج نکلتے ہی فضا میں حدت کا احساس بڑھ چکا ہے۔ دن کے آغاز سے ہی چمکتے آفتاب نے اپنارنگ دکھانا شروع کر دیا۔عام حالات میں اس قدر گرم صبح میں پاکستانی عوام اپنے گھروں کے ائرکنڈیشنڈ کمروں سے نکلنا پسند نہیں کرتے مگر۔۔۔۔۔

آج تو کچھ رنگ نرالا ہی ہے کیونکہ یہ کوئی عام صبح نہیں۔ آج سورج کچھ نئی امیدوں اور امنگوں کے ساتھ طلوع ہوا ہے۔ پاکستانی عوام کو یقین ہو چلا کہ وہ اپنے ہاتھوں اپنی تقدیر بدل دیں گے۔ نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد جوق در جوق پولنگ سٹیشنز کی طرف رواں دواں ہے۔ایسے لگتا ہے جیسے کسی مسیحا نے نئی روح پھونک دی ہو۔جیسے سب نوجوان جو خواب غفلت کا شکار تھے، انہیں کسی نے آکر گہری نیند سے بیدارکر دیا ہو ۔پولنگ سٹیشنز کا عملہ جو اس سے پہلے بھی کئی بار یہ انتہائی ناگوار اور ناپسندیدہ ڈیوٹی مارے باندھے ادا کرتا رہا ہے، آج تووہ بھی ایک نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ فرض کی ادائیگی کیلئے مستعد و ہشاش بشاش کھڑا ہے۔ پاکستانی عوام بالخصوص جوانوں کا جوش دیدنی ہے۔ ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، پولنگ سٹیشنز پہ خوب گہما گہمی ہے اور بالآخر یہ دن ایک نئی صبح کی امید کے ساتھ غروب ہوگیا۔ پاکستان کی تاریخ میں انیس سو بہتر کے بعد ریکارڈ ووٹ کاسٹ کئے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سترہ اگست دوہزار اٹھارہ کا دن ہے گرمیوں کی ایک اور صبح۔ چمکیلی، روشن۔خوشحالی، امن اور سکون کے ایک نئے دور کے آغاز کی امیدکے ساتھ جوانوں کے ہردلعزیز رہنما نے وزارت عظمی کا حلف اٹھا لیا۔ آج پورے پاکستان میں ایک جشن کا سا سماں ہے۔ آج کی رات پاکستانی عوام بہت گہری اور پرسکون نیند سوئیں گے کیونکہ ایک طویل،کٹھن اور تھکا دینے والے سفر کے بعد گویا منزل سامنے آکھڑی ہوئی ہے جیسے۔۔بس دوچار قدم کی دوری پہ۔
اور پھر محافظ بھی تو وہ جس پر آنکھیں بند کر کے یقین کیا جا سکتا تھا۔

اب میرے وطن کا ہر قلمکار، ہر صحافی، ہر دانشور۔۔۔ اور وطن عزیز کے تما م ٹی وی چینلز، سب عوام کو خوشخبری سنا رہے ہیں کہ بس اب تکلیفوں کے دن ختم ہو گئے۔ اب کوئی زینب کوڑے کے ڈھیر پہ نہیں ملے گی۔ اب کوئی شمائلہ انصاف کی ناتمام حسرت لئے خودکشی نہیں کرے گی۔ اب کوئی شاہ زیب بہن کی عزت کی رکھوالی کرتے جان سے ہاتھ نہیں دھو بیٹھے گا۔ اب کوئی محسود پولیس مقابلے میں نہیں مارا جائے گا۔اب عدالت میں انصاف کیلئے سالوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔کیونکہ اب ماں بھوک سے بلکتے بچوں کو نہیں بیچے گی۔ اب کوئی باپ اپنی گڑیا کی فراک کی خواہش پوری نہ کرنے کے احساس جرم سے موت کو گلے نہیں لگائے گا۔ سب یک زبان و یک قلم یہی کہہ رہے ہیں۔

آج میری ایک جوان قلمکار نے کوسوں دور بیٹھے بچے کو خط لکھ کر ایک نئی اور روشن صبح کی خوشخبری سنائی۔ اس کے خط کا ایک ایک لفظ خوشحالی کی امید کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ آنے والے وقت کی یہ متوقع خوشحالی ہم جیسے لوگوں کو بھی جینے کیلئے ایک نیا ولولہ عطا کر گئی۔ہمیں لگا بس اب ہمارے بچوں کے سر سے سائبان نہیں چھینے جائیں گے، اب ہمارے معصوم ہاتھ اینٹیں اور پتھر نہیں ڈھوئیں گے، اب ان پھول جیسے بچوں کے ہاتھ کوڑے کے ڈھیر سے رزق نہیں ڈھونڈیں گے بلکہ عمر کے نقش قدم پہ چلتا میرا نیا لیڈر ان کے دروازے پہ ان کے حصے کا رزق پہنچا دے گا۔ریاست مدینہ کا خواب دکھانے والا والئی مدینہ کی امت کے درد کا درمان کرنے آپہنچا۔

اب ہم بے آسرا نہیں رہے، اب ہم بے ٹھکانہ بھی نہیں رہیں گے۔ اب ہمارے بچے بھوکے نہیں سوئیں گے، کوئی ان کے منہ سے نوالہ نہیں چھین سکے گا، اب ہمارے قافلوں پہ رات کی تاریکی میں شب خون نہیں مارا جائے گا کیونکہ اب ہمیں بھیڑیوں سے بچانے والا ایک ایسا راہبر مل گیا ہے جو ہم میں سے ہے، ہمارے مسائل کو سمجھتا ہے، ہمارے درد کو محسوس کرتا ہے۔

چوٹ ہمیں لگے گی تو تکلیف بنی گالہ میں بیٹھے ہمارے وزیر اعظم کو ہو گی۔ آنکھ ہماری روئے گی تو درد خان کے دل میں اٹھے گا کیونکہ :
اس شخص کے سینے میں دل میرادل دھڑکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اورآج انیس جنوری ۲۰۱۹ ہے، لاہور سے ساہیوال جانے والی ایک خوشحال فیملی کو ملک کے محافظوں نے گولیوں سے بھون ڈالا۔۔ تیرہ سالہ اریبہ سمیت خلیل اور اس کی مظلوم بیوی کو ان کے بچوں کی آنکھوں کے سامنے خون میں نہلا دیا گیا۔ گاڑی کے ڈرائیور ذیشان کو بنا کسی صفائی کا موقع دئے دہشت گرد کہہ کے قتل کر دیا گیا۔اور ملک کے یہ محافظ زخمی بچوں کو پیٹرول پمپ پہ بے یارومددگار چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
اس ظلم عظیم پر عرش بھی کانپ گیا ہو گا مگر وہ کہ جس کے سینے میں عوام کا دل دھڑکتا ہے چین کی نیند سو گیا۔ آج وہ بچے ہاتھ باندھے اپنے والدین کیلئے انصاف مانگنے سڑکوں پر نکل آئے مگر بنی گالہ میں بیٹھے میرے دل کا درد سمیٹنے کا دعوی کرنے والے تک میری چیخ وپکار، میری آہ وزاری نہیں پہنچ پا رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور آج پندرہ مئی دوہزار انیس کی صبح ہے۔ ملتان کے ایک پرائیویٹ سکول میں اپنے غریب ماں باپ کی امیدوں کا واحد سہارا بیس سالہ عاصمہ سکول انتظامیہ کی طرف سے رزق چھن جانے کے خوف سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ پریوں جیسی خوبصورت، غزالی آنکھوں والی عاصمہ غربت نے جس کے چہرے کی لالی کو زرد،پیلی رنگت میں بدل دیا۔ معاشرے کی بے حسی نے آنکھوں میں بسے سپنے چھین لئے۔کتنے خواب بسے ہوں گے اس کی غزالی آنکھوں میں جن کی تعبیر کی حسرت لئے وہ اس دنیا سے ہی منہ موڑ گئی۔ کتنی ناآسودہ خواہشوں کو سینے میں دفن کئے منوں مٹی تلے جا سوئی۔اسماء جو اپنے والدین کا واحد سہارا تھی اپنوں کو حالات کے بے رحم تھپیڑوں کے حوالے کر گئی۔عاصمہ نو ماہ کی ڈائری بھی ایسی کئی اذیت ناک صبحوں اورخونچکاں شاموں کے احوال سے بھری پڑی ہے جیسی اٹھائیس جولائی دو ہزار اٹھارہ سے پہلے تھیں۔۔
کچھ بھی تو نہیں بدلا
جیسا میں نے سوچا تھا
جیسا میں نے چاہا تھا۔۔۔۔

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

آج بھی مہنگائی کا عفریت میرے بچوں کو نگل رہا ہے،آج بھی مائیں بھوک سے بلکتے بچوں کو زہر دے کر مکتی دلا رہی ہیں،آج بھی باپ اپنی گڑیا کیلئے فراک نہ لا سکنے کے احساس جرم سے اپنی نسیں کاٹ رہے ہیں، آج بھی کوڑے کے ڈھیر پہ بے گوروکفن پڑی کئی زینبوں کی لاشیں سراپا سوال ہیں، آج بھی پھول جیسے بچے گندگی کے ڈھیر سے رزق تلاش کرنے پہ مجبور ہیں اور آج بھی اسماء جیسی معصوم بچیوں کی بند آنکھیں سوال کرتی ہیں کہ:

بتائو میراخون کس کے سر ہے؟ کون ہے میرے قتل کا ذمہ دار؟
کیا سکول کی بے حس انتظامیہ؟ یا حکومتی مشینری؟
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

(Visited 212 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: