کیا مولانا  فضل الرحمٰن  خطابت کے بجائے غورو فکر کا راستہ اختیار کریں گے؟

0

حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب،  ذمہ داری کا مظاہرہ کیجئے۔

پچھلے کئی دنوں سے مولانافضل الرحمٰن صاحب اور انکی جماعت کے دیگر اکابرین ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے انکی اپنی جماعت کے کارکنوں،دیگر مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اور عوام میں کنفوژن پھیل رہی ہے  اور کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ مولانا صاحب اور نکی جماعت کا موقف کیا ہے؟۔ مولانا صاحب نے 24 فروری 2017کو فرمایا کہ  ریاست کسی مذہبی  جماعت کے خلاف ہے مگر25 فروری کو دوسرا متضاد بیان دیا کہ جو 26 فرری کے جنگ میں شائع ہوگیا جس کے مطابق ریاست کے پروں کے نیچے مذہبی دہشت گرد جماعتیں کام کر رہی ہیں۔ اسی طرح مولانا صاحب نے  فرمایا کہ  ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانیوالے کو دہشتگرد سمجھ کر کاروائی کی جائے،مذہب اور ریاست کو مقابلے میں لانا ملکی مفاد کے خلاف ہے (روزنامہ جنگ 25 فروری 2017) سوال یہ ہے کہ مولانا کا کون سا بیان صحیح ہے؟یہ بیان کہ مدارس کے نوجوانوں کو ریاست نے اسلحہ دیا ،یا  یہ بیان کہ دہشت گرد تنظیمیں ریاستی سرپرستی میں کام کر رہی ہیں؟ یہ بات  بشمول مولانا صاحب کے ،کسی کو معلوم نہیں ۔اسی طرح مولانا صاحب کی جماعت کے دیگر اکابرین مولانا محمد خان شیرانی، مولانا عبدالواسع اور اسماعیل بلیدی نے روزنامہ جنگ 25 فروری 2017  کو بیان دیا کہ نوجوان جہاد اور آزادی کی جنگ میں دوسروں کا ایندھن نہ بنیں۔مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ  جہاد کے نام پر دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اصلی جہاد کتنے ہیں اور نقلی جہاد کتنے ؟کونسی جہادی تحریک جائز ہے اور کونسی ناجائز؟ صرف جہاد میں شرکت نہ کرنے کی بات کا کیا فائدہ؟

اسی طرح مولانا فضل الرحمٰن صاحب جب فرماتے ہیں کہ  میرے مدارس کے نوجوانوں کو کلاشنکوف تھمانے کے ذمے دار ریاستی ادارے ہیں ۔(  روزنامہ جسارت 25 فروری 2017 ) تو سوال یہ پیدا ہوتا  ہے کہ آپ کیوں پھنسے؟ یہ شرعاً صحیح تھا یا غلط تھا ،صرف خطابت کا فائدہ نہیں ۔ٹھوس بات کیجئے دلیل کے ساتھ اور نوجوانوں کی رہنمائی کیجئے۔

اگر جہاد افغانستان میں ریاستی اداروں نے فضل الرحمٰن صاحب کے مدرسے کے طالب علموں کو کلاشنکوف تھما دی تو انہوں اپنے طالب علموں کو اس سے کیوں نہیں روکا؟ اگر آپ کے طلباء جہاد افغانستان میں گئے تو وہ جہاد تھا یا نہیں تھا؟ اگر جہاد نہیں تھا تو انہوں نے کیا فساد میں شرکت کی ؟یہ بات آپ کو تیس سال کے بعد کیوں یا د آئی؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ ریاستی اداروں نے ،فوج نے مدارس  کے طلباء کو جہاد میں بھیج کر غلط کیا ،یہ آئین کے خلاف کام تھا تو آپ کیوں چپ رہے؟ آئین تو آپ نے بنایا تھا ،آپ نے ہی 1973 کے آئین کو اسلامی کہاتھا تو آئین کی خلاف ورزی پر آپ چپ کیوں رہے؟آپ نے اپنے طلباء کو اس غیر آئینی جہاد میں جانے سے کیوں نہیں روکا؟آپ کیا کر رہے تھے؟ آج آپ الزام فوج پر ،ایجنسیوں پر کیوں عائد کر رہے ہیں؟

آپ کے خیال میں پاکستان میں تمام دہشت گردی آپ کے مدرسے کے طلباء کر رہے ہیں ۔آپ کا یہ خیال بھی غلط ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنے مدرسے کے طلباء کے بارے میں اور دہشت گردی کی کاروائیوں کے بارے میں بھی کچھ نہیں معلوم۔آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ صوبہ سرحد میں اہل حدیث مکتب فکر کا کتنا اثر و نفوذ ہو چکا ہے۔ ماہنامہ الشریعہ نے جہاد پر ایک خاص اشاعت شائع کی ہے اس اشاعت میں پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر  قبلہ ایاز کی گفتگو ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ افغان جہاد کے بعد صوبہ سرحد میں مذہبی قیادت ،مذہبی فکر۔۔اہل حدیث مکتب فکر کے زیر اثر آگئی ہے ۔مولانا فضل الرحمٰن کا  جنگ 26 فروری میں یہ بیان بھی شائع ہوا کہ مذہبی دہشت گرد تنظیمیں ،ریاست کے پروں کے نیچے کام کر رہی ہیں ۔سوال یہ ہے کہ مولانا کا کون سا بیان صحیح ہے؟یہ بیان کہ مدارس کے نوجوانوں کو ریاست نے اسلحہ دیا ،یا  یہ بیان کہ دہشت گرد تنظیمیں ریاستی سرپرستی میں کام کر رہی ہیں؟مولانا سے درخواست ہے کہ صرف خطابت نہ کریں، بیان بازی کی سیاست چھوڑ دیں، ٹھنڈے دل سے دہشت گردی کی پوری جنگ کو دیکھیں اور بتائیں کہ عالمی دہشت گرد امریکہ نے کس طرح دہشت گردی کا الزام مدارس ،مساجد اور علماء کرام اور اسلام پر تھوپ دیا ہے اس میں آپ کہاں کہاں آلہ کار بنے؟  کہاں کہاں غلطیاں کیں، آپ سے کیا غلط اقدامات ہوئے ان پر غور کریں لیکن غصے میں کبھی امریکہ کو گالیاں دینا، کبھی فوج یا ریاست کومسئلے کا حل نہیں، نیا مسئلہ ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: