اگر عمران خان ناکام ہوا تو کیا ہوگا؟‎ —– محمود شفیع بھٹی

0

محفل یاراں میں سوال ہواکہ اگر عمران خان ناکام ہوا تو اس سسٹم اور ووٹرز کا کیا بنے گا؟ تحریک انصاف کے قیام کا مقصد کرپشن فری پاکستان تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کو ایک سیاسی پارٹی بنانے کی بجاۓ ایک سیاسی تحریک طور پر پیش کیا گیا۔ جس کا مقصد مزدور یونین طرز اپنے مطالبات پیش کرنا انکو منوانا تھا۔ تحریک انصاف کے جھنڈے میں سرخ رنگ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس ملک کو کرپشن اور کرپٹ عناصر نے کتنا زخمی کیا ہے۔

اکتوبر 2011 کے جلسے کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان مین اسٹریم سیاست پر چھا گئے۔ پاکستان میں اس وقت 65% یوتھ ہے اور اس یوتھ کا 60% تاحال عمران کے کیساتھ کھڑا ہے۔ اس اکثریت میں پڑھے اور ان پڑھ بتدریج موجود ہیں۔ تحریک انصاف کے ووٹرز کی اکثریت عمران کو سیاسی لیڈر کم اور مسیحا زیادہ مانتی ہے اور توقعات کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ بس خدا کی پناہ۔

تحریک انصاف کی خوشی قسمتی سمجھیں یا بدبختی کہ اسکا ووٹر اس سے اتنا کمٹٹڈ ہے کہ غلط بات کو درست ثابت کرنے میں کوی کسر نہیں چھوڑتا۔ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف کے ہارنےمیں ٹکٹس کی غلط تقسیم بنیادی محرک تھا۔ نظریاتی لوگوں کی بجائے بینک بیلنس کو ترجیح دی گئی۔ 2018 کے الیکشن میں جہاں ایک طرف تحریک انصاف جیت تو گیی ہے تو دوسری طرف ساری جماعتوں کے مسترد شدہ لوگ بلے کے ٹکٹ پر آلٹریٹ ہوکر ایوان میں پہنچ گیا۔

تحریک انصاف کو عمران نے ایک ادارہ بنانا تھا، لیکن تاحال یہ سلیکٹڈ افراد کے گرد گھوم رہی ہے۔ تحریک انصاف کی وفاقی کابینہ میں اس وقت مراد سعید، شہریار آفریدی، علی محمد خان جیسے چند نظریاتی لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ اسد عمر جو تحریک انصاف کا دماغ تھا کو سائیڈ لائن کردیا گیا ہے۔ تحریک انصاف میں اتنا قحط الرجال برپا ہے کہ پنجاب حکومت میں اطلاعات کی وزارت سابقہ جیالے کو دینا پڑی، اسی طرح مرکز میں بھی فردوس عاشق صاحبہ کو لانا پڑا۔

تحریک انصاف کا طرز حکمرانی تاحال مثالی نہیں ہے۔ ہر شعبے میں اصلاحات کا فقدان نظر آرہا ہے۔ وزراء کی بیان بازی دیکھ کر حکومت کم اور اپوزیشن کی پریس کانفرنس زیادہ لگتی ہے۔ حکومت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی واضح نہیں ہے، ہم اپنی داخلہ پالیسی بھی بالائے عوام قوتوں کے حوالے کر چکے ہیں۔ اب سوال پھر وہیں کا وہیں ہے کہ عمران کی ناکامی کے بعد سسٹم چل پاۓ گا۔

گزشتہ دس برسوں میں زرداری اور نواز حکومتوں نے 58 ارب ڈالر کا قرض لیا۔ جس میں سے تقریبا تیس ارب ڈالر 2020 کے آخر تک واپس کرنے ہیں۔ زرداری تجارتی خسارہ تقریبا آٹھ ارب ڈالر چھوڑ کر گیا تھا جبکہ نواز حکومت یہ خسارہ بجائے کم کرنے کے اسکو اٹھارہ ارب ڈالر تک پہنچا کر رخصت ہوئی۔

صورتحال اتنی گھمبیر ہے کہ عمران نہ تھوکا جاسکتا ہے اور نہ ہی نگلا جاسکتا ہے۔ عمران کے فالوورز کا ایک طبقہ موجود ہے، ایسا طبقہ جسکی کمٹمنٹ سب سے بہتر ہے۔ عمران کی ناکامی کا مطلب ہے کہ آؤ اور مارشل لاء لگاؤ، یہ حکومت سویلین کے بس کا روگ ہی نہیں ہے۔ عمران ناکام ہوا تو اس ملک کا اکثریتی ووٹر مایوس ہوکر گھر بیٹھ جائے گا۔ جس سے سیاسی تربیت جمود کا شکار ہوکر رہ جاۓ گی۔

انسان غلطیوں سے سیکھتا ہے اور عمران خان اب تک سیکھ چکے ہونگے۔ عمران کے پاس وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ عمران اپنے ووٹرز کو مایوسی اور کارکنان کو انارکسٹ ہونے سے خود ہی بچا سکتے ہیں۔ کیونکہ عمران کی ناکامی اس سسٹم کے ناسوروں کی کامیابی تصور ہوگی۔ لیکن کوی یہ گمان بھی تو کر سکتا ہے کہ عمران عنقریب ماورائے آئین قوتوں کو آڑے ہاتھوں لینے والا ہے اور یہ اسکی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا رسک ہوگا جسکی اسے عادت ہے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: