عالمی بساط سیاست: اے صاحب نظراں نشہ قوت ہے خطرناک —- فرحان شبیر

0

بڑے کھلاڑی کو کھیل میں ہار پسند نہیں اس لئیے بساط ہی الٹی جارہی ہے جن اصولوں کو آج تک اپنے ماتھے کا جھومر بنائے رکھا آج انہیں کو ایک ایک کر کے خود ہی توڑا جارہا ہے۔ جس امریکی قوم نے برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کرکے دنیا بھر کے انسانوں کو بلا رنگ و نسل و مذہب کی تفریق کے برابری کی بنیاد پر زندگی گذارنے کا خواب دیا تھا آج وہی Racism , anti immigrants , Islamophobia اور Russo-sino فوبیا کا شکار ہو کر تقسیم در تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے۔

امریکی قوم کے مفاد کے نام پر امریکی کارپوریٹ ڈیموکریسی کے پروردہ، پیٹرو، وال اسٹریٹ لابیز کے ایکزیکٹیئوز اور ملٹری انڈسٹریل کملیکس کے چمچے جرنیل دنیا کے جس ملک کو چاہتے ہیں جنگ کا میدان بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ ایسٹ سے لیکر ویسٹ تک کارپوریشنز کے مفادات نے انسانوں کو جنگوں کے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

خدا کرے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کی روس کے سیاحتی مقام suchi میں ہونے والی ملاقات کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے اور ایران سے لیکر مڈل ایسٹ اور ادھر وینزویلا تک کے انسانوں پر ایک اور نئی جنگ مسلط نہ ہوا۔ گو کہ suchi میں روس امریکی وزرائے خارجہ پریس بریفنگ میں امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے پہلے تو وہی کہا جو ڈپلومیسی کی شوگر کوٹڈ زبان کے ساتھ کہتے ہیں موصوف نے اطمینان دلایا کہ
“We fundamentally do not see a war with Iran”
لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ
“We’ve made it clear to the Iranians that if American interests are attacked, we will certainly respond in an appropriate fashion.” ( Sputnik news )

اب مسلہ یہ ہے کہ اس کی ضمانت کون اور کیسے دے کہ کوئی اور تیسرا ملک مثلا اسرائیل اس میں کوئی گندہ کردار ادا نہیں کریگا (اسرائل اس معاملے میں ایک داغدار ماضی رکھتا ہے) یا پھر خود امریکی CIA کی اپنی بنائی ہوئی بیسیوں طرح کی مذہبی غیر مذہبی ملیٹینٹ آرگنائزیشن ہی کسی اشارے پر کوئی رپھڑ ڈال کر عرب اور عجم کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی حماقت نہیں کرینگی۔ گذشتہ دو ہفتوں سے مڈل ایسٹ جس ٹینشن والی صورتحال سے گزر رہا ہے اس میں کسی بھی تیسرے چوتھے ملک یا پانچویں چھٹی خفیہ طاقت کی کوئی بھی شرارت، حماقت، جذباتیت یا ذلالت و کمینگی خطے کے چھوٹے بڑے الائنسز یعنی ایران+ترکی وغیرہ اور سعودیہ عرب + یواے ای وغیرہ کو ایکدوسرے کے براہ راست مدمقابل لاکھڑا کر سکتی ہے۔

اصل میں دیکھا جائے تو سارا مسلہ ہی اقتصادی اور معاشی ہے۔ بگ کارپوریشنز کے مالکان، ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے جنگوں اور اسلحوں کی فروخت سے پیسہ کمانے والے، لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ کمپنی کے ڈائریکٹران اور سی ای اوز کے منافع کی حرص و ہوس دنیا کو جنگوں، کنفلکٹوں اور بحرانوں میں ڈالتے رہینگے۔ چونکہ بڑے کھلاڑی کھیل میں جلدی ہار مانتے نہیں لہذا نیو لبرل اکانومی اور نیو لبرل آرڈر کے چیمئن امریکی اور یورپی وائٹ Recism اور مذہبی انتہاوں پر پہنچے یہ Neocons وار مونگر اپنے سامنے ایک نان وائٹ، نان کرسچین، نان انگلش اسپیکنگ اور نان کیپیٹلسٹ یعنی اتنے سارے NON رکھنے والی Chinese یا روسی قوم کا طاقت پکڑ کر دنیا میں کسی بھی طرح کا کردار ادا کرنا قبول ہی نہیں کر پا رہے۔

سرد جنگ کا سارا زمانہ امریکی ڈیپ اسٹیٹ نے روس کو روکنے میں لگا دیا تو اس کے بعد سنہ 2000 کے سارے جنگ کے میدان چین کو روکنے کے لئیے گرمائے جارہے ہیں۔ پچھلے بیس سالوں میں جھانکا جائے تو امریکی زنجیروں کو توڑ کر چین اور روس کے ساتھ تعقات بڑھانے والے کئی ملکوں کو انکے کئیے کی سزا دی جاچکی ہے جبکہ کچھ کو دی جارہی ہے اور کچھ کو مذید ٹف رگڑا دینے کے منصوبوں پر عمل جاری ہے۔ جب جب کوئی ملک چاہے وہ پاکستان ہو ایران ہو یا سعودیہ یا کوئی اور چین کے ساتھ کسی معاہدے میں جڑنے کی کوشش کرتے ہیں تب تب ہی پاکستان سے لیکر ہر دوسرا ملک کرائسسز کا شکار بنا دیا جاتا ہے۔

بڑے کھلاڑی Uncle SAM سے پوچھنے والی بات یہ ہے بھائی چین اگر پاکستان، افغانستان، ایران، سعودی عرب، سینٹرل ایشیا سے روس پھر یورپ، ادھر سری لنکا سے لیکر ایتھوپیا تک ایک ٹریڈنگ زون بنانا چاہ رہا ہے تو کیا غلط کر رہا یے اور اگر پاکستان سے لیکر کوئی اور ملک بھی چین اور روس کے ساتھ کاروبار سے لیکر دفاعی تعلقات بنارہا ہے تو کونسا گناہ کررہا یے۔ کیا یہ آزادی صرف ساوتھ ایشیا امریکہ کے تھانیدار بھارت کو حاصل ہے کہ وہ تو امریکہ کے دشمن ایران میں چاہ بہار کی پورٹ بنا کر بھی امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر رہ سکتا ہے لیکن پاکستان جہاں امریکی مدار سے نکل کر چینی یا روسی فضاوں میں معاشی اور ملٹری معاہدے کرکے تھوڑا کھل کے سانس لینا چاہتا ہے تو وہیں سے امریکی پابندیوں سے اسکا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ یا پھر امریکہ کے دشمنوں سے دوستی کا اجازت امریکی اسپانسرڈ اور کٹر zionist and apartheid state اسرائیل کو ہی ملا ہوا کہ وہ روس اور چین کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھ سکتا ہے۔ لیکن اگر سعودی حکمران روس جاکر ماسکو میں تاریخ کا سب سے بڑا دورہ کر آئیں تو امریکہ خاشقجی کے معاملے کو بنیاد بناکر سعودیہ کو اپنے کانگریس مینوں سے دھمکیاں دلوانا شروع کردیتا ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ دنیا اس وقت مڈل ایسٹ سے لیکر وینزویلا تک کسی بھی نئے تنازعے کو برداشت نہیں کرسکتی۔ گلوبل آئل پرائس میں اضافہ آئل امپورٹ کرنے والے ملکوں کی معیشتوں کو بحران میں ڈال دیگا۔ اور یہ اضافہ ابھرنے والی معیشتوں بالخصوص پاکستان جیسی حالیہ کمزور حالت کے شکار ملک کی معیشت کو اٹھنے سے پہلے ہی گرا سکتی ہے۔ پہلے ہی چالیس سال سے افغان وار اور پچھلے پندرہ سالوں سے مڈل ایسٹ و یمن میں جاری جنگوں نے باقی ہما شما کا تو کیا سعودیہ جیسی تیل کی طاقت کی معیشت کا بھی کچومر نکال کر رکھ دیا ہے۔

دوسری جانب ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں نے ایران کی بھی کمر توڑ رکھی ہے۔ وہ بھی کوئی جنگ افورڈ نہیں کرسکتا۔ لیکن صورتحال کو تیزی سے بد سے بدترین تک لے جانے سے روکنا خود دنیا بھر کے رہنماوں کے لئیے بہت ضروری ہو گیا ہے۔ اصلی بموں اور میزائلوں کے چلنے سے پہلے آگ اگلتی زبانوں کا ٹھنڈا ہونا ہونا بہت ضروری ہے۔ اب تک امریکی یکطرفہ جارحانہ اور ایرانی جوابانہ اقدامات نے صورتحال کو مذید ٹینس ہی کیا ہے۔ پیلے امریکہ اور ایران کی جانب سے ایکدوسرے کی فوجوں کو ٹیڑرسٹ قرار دیا گیا اور اب آبنائے ہرمز سے لیکر سعودیہ، یواے ای، ترکی، قطر میں فوجیں اسٹینڈ بائی سے بھی اوپر کی صورتحال پر کھڑی ہیں۔ امریکہ نے جنگی بحری بیڑے اور بمبار طیارے قطر پہنچا دئیے ہیں۔ پھر اس پر جلتی پر تیل اتوار کے روز سعودی آرامکو کی تیل کی پائپ لائن اور فجیرہ میں سعودیہ کے چار آئل ٹینکرز پر ہونے والے میزائل حملوں نے ڈال دیا۔ کوئی ایرانی بیکڈ یمنی حوثی لڑنے والوں پر الزام لگایا ہے تو یو اے ای کے ایک منسٹر ایران کو تنبیہ کر رہے ہیں ادھر ایرانی قیادت “اسرائیل” کو اس حرکت کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے (جو کہ بہت حد تک لگتا بھی ہے)۔

لیکن ظاہر ہے مستند وہی مانا جائگا جو انکل سام کے ظلمت کدے سے نکلے گا۔ اس سے پہلے ایران کےساتھ امریکہ اور پانچ یورپی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو بھی امریکہ نے ایران کی مکمل کمپلائینس اور یورپی رہنماوں کے بار بار روکنے حتی کہ ایک طرح سے پیر پکڑنے کے باوجود بھی یکطرفہ طور پر توڑ ڈالا تھا جبکہ دیکھا جائے تو ایران کے اچھے بچوں کی طرح چلنے کی گواہی خود اقوام متحدہ کے انسپکشن ٹیم کے جائزہ کار بھی آج تک چیخ چیخ کر دے رہے ہیں۔ اب اس کے باوجود بھی اگر امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل (اور افسوس کی بات سعودی عرب) کے بے پناہ دباو کے بعد یہ نیوکلئیر ڈیل توڑ دی تو کل کو کیا ضمانت ہے کہ آئیندہ کسی اور کی بلا ایران کے سر نہیں باندھی جائیگی۔

ایرانی قیادت بھی گو کہ جنگ کے کسی بھی امکان کو بالکلیہ رد کر رہی ہے لیکن امریکی قیادت سے لیکر امریکی انداز سیاست تک کو ایران بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنا کر نہ صرف یہ کہ قوم کا مورال ہائی کیا جارہا ہے بلکہ قوم کو ہر طرح کی صورتحال کے لئیے تیار رہنے اور کسی بھی طرح کی جنگ میں ایرانی قوم کے نہ جھکنے اور سرینڈر نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا جارہا ہے۔ کسی کمزوری کا تاثر پیدا نہ ہو پائے لہذا ایرانی قیادت نے اپنی مضبوطی دکھانے لئیے نیوکلئیر ڈیل کی کچھ شقوں پر عملدرآمد روکنے کا بھی اعلان کردیا ہے اور یورپی ممالک کو 60 روز کا الٹی میٹم بھی دے دیا ہے کہ ایران کا معاشی بائیکاٹ ختم کرایا جائے۔

اب دیکھنا یہ ہے بڑے کھلاڑی کے بے ایمانی پر مبنی کھیل پر روک کس طرح لگائی جاتی ہے۔ ایران کا پارٹنر ہونے کے ناطے روس بھی ایران کے خلاف امریکہ کے جارحانہ رویے کی سخت اور علی الاعلان مخالفت کرہا ہے۔ اور ظاہر سی بات ہے چین بھی ایران کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے وہ بھی ایران کا نقصان نہیں چاہے گا۔ سعودیہ سے لیکر ترکی اور پاکستان تک کا کردار اس تمام صورتحال میں انتہائی اہم کردار کا حامل ہے ان تمام ملکوں کی ڈپلومیسی، ملٹری اور حکومتی دماغوں کی فہم و فراست اور بہادری اور جرات کا امتحان ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ کیا Suchi میں ہونے والی ملاقات میں روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاروف جمہویت کے چیمپئین امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگئے ہونگے کہ
اسکندر و دارا و چنگیز کے ہاتھوں
سو بار ہوئی حضرت انساں کی قبا چاک
تاریخ امم کا یہ پیام ازلی ہے
اے صاحب نظراں نشہ قوت ہے خطرناک

والسلام
فرحان شبیر

(Visited 55 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: