رویت ہلال اور تاریخ سازی : کچھ ایں و آں —- سراج الدین امجد

0

رمضان المبارک کی تقدس مآب ساعتیں جس تبتُل اور انقِطاع ماسِویٰ کی متقاضی ہوا کرتی ہیں وہ ہم گناہ گاروں کا نصیب کہاں تاہم ارادہ یہی تھا کہ اس دفعہ ماہِ صیام میں ارتکاز و یکسوئی سے خوب خوب دامنِ مراد بھرا جائے۔ لیکن خدا بھلا کرے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا کہ رویت ہلال کے مسئلے پر اپنے افکار ِ عالیہ سے قوم کو کیا مستفید فرمایا۔ ہماری بصیرت افروزی کا خوب سامان کر گئے۔ آں جناب نے ہمارے غیر سائنسی رویوں پر تو لب کشائی کی ہی رویت ہلال کی باضابطہ طرز و روایت پر بھی خوب برسے۔ ہم یہ سب کچھ “شامت ِ اعمالِ ما صورتِ نادر گرفت” جانتے ہوئے توبہ و استغفار کرتے اور اصلاح احوال پر توجہ مرکوز رکھتے لیکن موصوف نے ایک ہی سانس میں علماء کرام کو جس طرح طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا، بالخصوص ہمارے ممدوح مفتی منیب الرحمن صاحب زید مجدہ ایسے متین و سنجیدہ فقییہ اور جید عالم کو جس طرح موردِ طعن ٹھہرایا وہ ہماری عزلت نشینی کے سکون آور ماحول کو متلاطم کرنے کے لیے کافی تھا۔ بات بھلا یہاں کہاں رکنی تھی الیکٹرانک میڈیا نے بھی ہمیں باور کرانا شروع کردیا کہ مملکت خداداد پاکستان کی ولولہ انگیز قوم کی سائنسی پیش رفتوں میں پچھلے ستر سالوں میں اگر کوئی رکاوٹ تھی تو وہ روایت پرست علماء کا قمری کیلنڈر کے لیے رویت بصری پر اصرار تھا ورنہ یہ قوم کب کی سائنسی ایجادات میں رشک جہاں بن چکی ہوتی۔

مصنف

بات یہاں نہ رکی۔ لبرلز اور سیکولر طبقات خردافروزی کی اس جنگ میں کیسے پیچھے رہتے۔ ٹی وی مباحث سے لیکر کالم نگاری تک ان کے فکر انگیز تبصرے ہیں کہ ایک بھونچال آیا ہوا ہے۔ حقیقت واقعہ یہ ہے جب سے ہمیں ہوش آیا مسجد قاسم خاں پشاور سے ہمیشہ رویت ہلال کے حوالے سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے خلاف اعتزالی و انحرافی آواز ابھری۔

ہم طویل عرصہ تک اسے پشتون دینی روایت کا تفر د سمجھتے رہے تاآنکہ ڈاکٹر مشتاق صاحب کی رویت ہلال پر فاضلانہ تصنیف نظر سے گزری تو پتہ چلا کہ ایسے تفردات مسلکی اور علاقائی عصبیتوں کے پیش خیمہ تو ضرور ہوسکتے ہیں تاہم مستند فقہاء و علماء ایسی چالبازیوں کی رعایت نہیں کرتے۔

خیر اب تو کئی سالوں سے مفتی پوپلزئی کی انحرافی آواز دینی ماحول کو مکدر کر رہی تھی لیکن بجائے اس کے کہ اس مفسدہ پردازی کا علاج کیا جاتا کارپردازان حکومت نے مفتی منیب صاحب ایسے صائب الرائے اور متفقہ قیادت و سیادت کی حامل شخصیت پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیا۔ مقتدر طبقات کی تاریخی حقائق سے چشم پوشی ارباب نظر سے مخفی نہیں تاہم ببانگ دُہُل تاریخی صداقتوں کی تکذیب کو شاید اسی دور ہمایوں کی یاد گار بننا تھا ۔ تحریک پاکستان میں علماء کے کردار کو جس طرح محل نظر سمجھا گیا سخت حیرانی ہوئی۔ تاہم ہماری بد مذاقی بھی کچھ کم نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم ڈاکٹر مبارک علی اور آنسہ عائشہ جلال ایسے لوگوں کی تاریخ دانی پر ایمان لاتے اور دھڑلے سے روشن خیال ٹھہرتے لیکن ہم علماء کے کردار کے حوالے سے اپنی دقیانوسی سوچ سے نکل نہ سکے کبھی ہم نے اشتیاق حسین قریشی سے جا پوچھا، تو کبھی کوئی حمید نظامی نشانِ راہ بنا۔ بریلوی مکتب فکر کی سیاسی کاوشوں کو بھی “بنارس سنی کانفرنس” کے تناظر میں دیکھتے رہے کبھی کسی عبد الستار خان نیازی کی آواز پر کان دھرا تو کبھی کوئی مولانا محمد بخش مسلم ہمیں حقائق سے روشناس کرانے آ نکلا ۔ حسرت موہانی سے لیکر جمال میاں فرنگی محلی تک اور عبد الحامد بدایونی سے پیر آف مانکی شریف تک علماء و مشائخ کا ایک جہاں آباد تھا۔ جو تحریک ِ پاکستان میں پیش پیش تھا۔ یہاں یہ وضاحت بھی کرتا چلوں کہ بریلوی مکتب فکر میں چونکہ عصبیت مشائخ کو حاصل ہے لہذا سیادت و قیادت بھی زیادہ تر مشائخ و سجادہ نشینان کے ہاتھ رہی۔ لہذا تونسہ و سیال شریف کی خانقاہیں ہوں یا بھرچونڈی و علی پورکے آستانے، سارے مشائخ مملکت خداداد کے حصول میں جناح صاحب کے دست و بازو بنے اور تو اور علامہ شبیر احمد عثمانی علماء دیوبند کی قیادت کرتے اس تحریک کا ہراول دستہ بنے۔

خیر یہ تو تھا چند تاریخی حقائق کی درست تفہیم کا مسئلہ، اب دوبارہ اصل مسئلہ کی طرف لوٹیے۔ ہمیں اس میں ذرا تامل نہیں کہ ہر حکومتِ وقت اپنی ترجیحات کے تحت کمیٹیوں کی تشکیل کرتی اور تبدیلیاں لاتی رہتی ہے۔ لہذا مرکزی رویت ہلال کمیٹی یا مفتی منیب صاحب سے اگر کارپردازانِ مملکت کو کوئی گلہ تھا تو حسنِ تدبیر سے معاملہ حل کیاجاتا ایک جید عالمِ دین اور مستند فقیہ کی بے توقیری کس برتے پر کی گئی۔ یقین جانیے مفتی صاحب کے لیے کمیٹی کی سربراہی وجہ عزت نہیں بلکہ ان کی ذات سے کمیٹی کو ثقاہت و وقار نصیب ہوا۔ پھر وجہ انتشار تو مفتی پوپلزئی صاحب ہیں۔ ریاست کی علمداری ان کے حوالے سے خاموش کیوں ہے۔ اس مفسدہ پردازی کی روک تھام کے لیے اربابِ حل و عقد کیا کسی مصلحت کا شکار ہیں؟

کاش ہم اپنی روایتی بے تدبیری سے سلجھے ہوئے معاملات کو الجھانا بند کرسکیں اور ماحول کومزید پراگندہ کرنے کی بجائے نفس مسئلہ اور وجہ نزاع پر توجہ کریں تو ملک و قوم ان ایامِ سعادت فرجام میں بے کیف غوغا آرائی کی بجاٰے برکات ماہ صیام سے بہرہ مند ہو۔

تاتو بیدارشوی نالہ کشیدم ورنہ
عشق کاری است کہ بے آہ و فغاں نیزکنند

(Visited 192 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: