اشفاق بخاری کی یاد میں —– قاسم یعقوب

0

یہ انجم سلیمی نے مجھے خبر سنائی تھی کہ میرے پیارے اشفاق بخاری جہانِ فانی سے دنیا کی بے ثباتی اور ناپائیداری پر طنز کرتے ہوئے چلے گئے ہیں۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہاکہ اشفاق بخاری جیسا توانا اور زندہ دل آدمی بھی مر سکتا ہے! مگر جب میں لائل پور کے زندگی سے بھر پوراپنے گذشتہ وقت کو یاد کرتا ہوں تو مجھے حیرانی کے ساتھ ساتھ شدید دکھ کا احساس بھی ہونے لگتا ہے۔ کیسے کیسے نابغہ ٔ روزگار رخصت ہو گئے۔ ہماری یادوں بھری محفلوں کو ویران کر گئے۔ فضل حسین راہی، ڈاکٹر مقبول اختر، میاں اقبال اختر، محمود ثنا، شاکر غوری اور نذر جاوید__ایک لمبی فہرست بنتی ہے جو ایک ایک کر کے موت کے سامنے بے بسی کی تصویر بنتے گئے۔ پھر اشفاق بخاری بھی موجود اور ناموجود کے درمیان پھیلی اس بے پایاں حدوں کو پار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

اشفاق بخاری بنیادی طور پر ادب دوست انسان تھے۔ وہ ادب کو بطور ’’ثقافتی سرگرمی‘‘ کے لیتے تھے۔ انھوں نے بہت کم لکھا اور زیادہ ادب کی جمالیاتی کیفیات سے حظ اُٹھایا۔ وہ اپنی وضع کی منفرد شخصیت تھے۔ اُن کا طرزِ زندگی گم راہ ادیبوں جیسا نہیں بلکہ ایک مضبوط اورمتحرک سماجی کردار کے ساتھ زندگی کے رنگیں تصورات سے لبریز تھا۔ مجھے زندگی میں، ادب کے میدان میں جن ٹیچرز نے سب سے زیادہ متاثر کیااُن میں پروفیسر سعید احمد اور پروفیسر اشفاق بخاری ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر سے میں باقاعدہ تو نہیں پڑھا مگر ان صاحبان کے بعد ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے مجھے ایک استاد کی طرح تشفی فراہم کئے رکھی۔ اشفاق بخاری کا طرز تدریس غیر معمولی تھا اور اُن کا سارا زور ادب کی جمالیاتی گرہ کشائی پر صرف ہوتا۔ ادب کی جملہ جمالیات کا بیان اُن کے گہرے مشاہدے اور فکری سطح پر مضبوط نقطۂ نظر سے ہمارے سامنے کھلے راستوں کو ہمارے لیے آسان کر دیتا۔ میں اُن کے کہے گئے جملے اکثر اپنے دوستوں میں دہراتا رہتا ہوں اور شاید ہی کوئی ہو جو میرے قریب رہا ہو اور میرے ان جملوں کو نہ سن سکا ہو:

’’تو بچوں انگریز آئے تو ترقی ہوئی؍ تو بچوں انگریزوں سے پہلے یہاں مغل حکمران تھے؍ مغل تو قلعے بناتے تھے، بڑی بڑی مسجدیں بناتے؍ نولکھا محل، شیش محل اور تاج محل___ تو بچوں مغل تو بس یہی کرتے تھے؍ اپنی زندگی میں اپنے مقبرے بنالیا کرتے؍ یہ جہانگیر بادشاہ لاہور میں رہتا تھا؍ اپنی آخری زندگی میں اپنا مقبرہ خود دیکھنے آیا کرتا __انگریز آئے تو یہاں نہری نظام لائے؍ ڈاک کا نظام آیا، ریلوے لائنیں بچھائی گئیں؍ چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی اسٹیشنز بنے؍عدالتیں بنائی گئیں، پولیس نظام متعارف ہوا__توبچوں نگریز آئے تو یہاں تعلیم آئی؍یونیورسٹیاں اور کالجز بنے؍ سکولز کھلے___ بچوں یہ آپ کا گورنمنٹ کالج بھی انگریزوں نے بنایا‘‘

ہم ایک دم اپنے کالج کی بوسیدہ ہوتی عمارت کو دیکھنے لگتے۔ بخاری صاحب انگریزوں کو ڈاکو کہتے تھے مگر وہ اُن کی علمی اور ثقافتی احسان کے مداح بھی تھے۔ اُن کا نظریہ تھا کہ انگریزوں نے ہمیں ایک سلیقہ دیا جو برصغیر کا کوئی حکمران نہ دے سکا۔ وہ برصغیر کے کسی حاکم کے حق میں نہیں بولتے تھے۔ سب کو ڈاکو اور لٹیرے قرار دیتے اور اسی رَو میں وہ انگریزوں کے خلاف بھی کہہ جاتے۔ ایک دن وہ کلاس میں کہنے لگے ’’ میں لوگوں کو اکثر کہتے سنتا ہوں کہ میری زندگی اچھی نہیں گزری مگر جب میں اپنی زندگی کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت اطمینان ہوتا ہے کہ میں نے تو بہت اچھی زندگی گزاری ہے۔ میں تو اپنی زندگی سے بھرپور مطمٔن ہوں‘‘ میں ان جملوں کو جب سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں کہ یہ کہنا کتنا مشکل ہے کہ میں نے تو بہت مطئمن زندگی گزاری ہے۔ میں بھی یہ جملہ بخاری صاحب کی نقل میں جھوٹ موٹ کہتا رہتا ہوں مگر میرا ضمیر مجھ پر طعنہ زَنی کرتا رہتاہے اور میں یہ جملے بولنے کے بعد خود سے شرم سار ہوجاتا ہوں۔

اشفاق بخاری کی زندہ دلی کا اندازہ کیجیے کہ وہ بہت اچھے تیراک (Swimmer) بھی تھے اور انھوں نے اپنی ریٹائرڈمنٹ کے آخری دنوں تک تیراکی کو اپنی روٹین بنائے رکھا۔ ایک دفعہ میں اور زاہد امروز چناب کلب لائل پور کے لان میں بیٹھے تھے۔ زاہد امروز کے دوکزن بھی تیراکی سے گہرا شغف رکھتے ہیں اور وہ اس وقت ہمیں انتظار کی سولی پر بیٹھا کر خود تیراکی سے محظوظ ہو رہے تھے۔ جب وہ واپس آئے تو انھوں نے ہمیں بتایا کہ ’’آپ کے استاد اشفاق بخاری صاحب بھی ہمارے ساتھ تیراکی کر رہے تھے۔ وہ بہت اچھے تیراک ہیں اور نوجوانوں کی طرح تیراکی کرتے ہیں۔‘‘ ہم بہت حیران تھے کہ اشفاق بخاری صاحب اپنی عمر کے اس حصے میں بھی کتنے صحت مند اور زندہ دل ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ وہ چناب کلب میں اپنی گاڑی کھڑی کر کے تھری سٹار ہوٹل تک حلقہ اربابِ ذوق کے تنقیدی جلسے میں شرکت کے لیے پیدل آیا کرتے۔ ایک دفعہ وہ حلقے کے اجلاس میں آئے تو انھیں بہت سانس چڑھا ہوا تھا۔ شبیر قادری نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ہے تو انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آج میں نہ چاہتے ہوئے بھی پیدل یہاں تک چلا آیا ہوں اور اب واپس پیدل جانے کا سوچ کے میرا سانس پھول رہا ہے۔

مجھے اشفاق بخاری صاحب کے ساتھ بہت سے شب و روز گزارنے کا موقع ملا ہے۔ میں جب بھی حلقہ ارباب ذوق میں کوئی تنقید پیش کرتا تو میری کوشش ہوتی کہ اشفاق بخاری اس کی صدارت کریں وہ اس خواہش کو اپنی کئی مصروفیات ترک کر کے پوری کر تے۔ اُن کو کوئی کمپلیکس نہیں تھا۔ وہ بہت چھوٹی چھوٹی محافل میں بھی چلے آتے اور بے تکلف گھل مل جاتے۔ جب میں نے شاعری کا آغاز کیا تودو چار دفعہ میری فنی رہنمائی احمد ندیم قاسمی صاحب نے بھی کی۔ اُن کے کچھ خطوط میرے پاس محفوظ ہیں۔ انھی خطوں میں ایک خط میں احمد ندیم قاسمی نے میری اشفاق بخاری پر لکھی گئی نظم کی وجہ سے مجھے ادبی سرپرستی کے لیے اشفاق بخاری کے حوالے کر دیا تھا۔ جب میں نے یہ خط اشفاق بخاری کو دکھایا تو وہ بہت حیران ہوئے کہ قاسمی صاحب مجھے کس طرح میرے مکمل تعارف کے ساتھ جانتے ہیں۔ ایک دفعہ میرے کالم ’’استاد کا رویہ تعلیمی اداروں کا کلچر ہوتا ہے‘‘ پر اپنی رائے کا اہار کرتے ہوئے کہنے لگے:

The behaviour of teacher creates the educational as well as cultural atmosphere of institution .You were being a cultured student of my class and now a teacher himself can understand well the preposition .What to say more you have grasped all aspects of present dilapidated state of affairs .I advise you to be subjective in your writings .It will increase your readership

مذکورہ Commentsسے اُن کے تعلیمی نظام اور خصوصاً بطور استاد خیالات کا اندازہ ہوتا ہے۔

وہ ریٹائرڈمنٹ کے بعد اپنے بیٹے کے ملحقہ آفس میں بیٹھنے لگے تھے۔ میں اکثر اُن سے ملنے وہاں جاتا۔ میرے استفسار پر وہ کہتے کہ ’’میں کالج والی روٹین چھوڑنا نہیں چاہتا۔ پہلے صبح صبح اُٹھ کر میں جی سی چلا آتا تھا اور وہاں کام کرتا مگر آج کل میں اپنے بیٹے کے اس آفس میں آ جاتا ہوں اور اطمینان سے بیٹھ کر ’’لائل پور کہانی‘‘ پر کام کر رہا ہوں۔‘‘ وہ مجھے بہت فخر سے اپنے کاغذات دکھاتے۔ میری بھی ہر بار کوشش ہوتی کہ اُن کے لیے تازہ آنے والی کتابیں لے جائوں۔ باہر سے آنے والے دوستوں سے اُن کو ملانا بھی میرا معمول تھا۔ جب میں اسلام آباد آ گیا تو وہ مجھے فون پر تازہ صورتِ حال سے آگاہ کرتے رہتے۔ عابد سیال اور عاصم بٹ کے ساتھ اُن کی ملاقاتیں اُن کے لیے تو معمولی تھیں مگر میرے لیے اور میرے ان دوستوں کے لیے یقینا یادگار ہیں۔ جب میری کتاب ’’ریت پہ بہتا پانی‘‘  2010 میں شائع ہوئی تو انجم سلیمی اور شکیل احمد نے اس کی تقریبِ تقسیم کا اہتمام کر ڈالا۔ جس میں تقریباً شہر بھر کے تمام اہم ادیب اکھٹے تھے۔ اس موقع پر اشفاق بخاری صاحب نے میری تنقید کو ہی موضوعِ مرکز رکھا اور شاعری کو کوئی اہمیت نہ دی جس پر میں خود ساختہ ناراض سا ہوگیا۔ بخاری صاحب نے میری ناراضی کوبھانپتے ہوئے زاہد امروز سے کئی بار مجھے منانے کا عندیہ دیا۔ یہ بھی اُن کے بڑے پن اور محبت کا اظہار تھا جس پر مجھے آج بھی عجیب طرح کا احساسِ تفاخر ہے۔

بخاری صاحب بنیادی طور پر تنقید کے آدمی نہیں تھے۔ وہ فکشن کو شوق سے پڑھتے اور پڑھاتے تھے۔ اس کے علاوہ ادب پر جدید مباحث بھی اُن کی نظر سے گزرتے رہتے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر سے میری قلبی اور فکری دوستی کا انھیں خوب اندازہ تھا اور میری توسط سے ناصر نیر سے بہت سے سوالات کرتے رہتے۔ جن میں سے میں کچھ ناصر صاحب سے شیئر کرتا رہا ہوں۔ فکشن سے اُن کی محبت اور قلم کی روانی کا اندازہ اُن کی تصنیف ’’لائل پور کہانی‘‘ سے بھی ہوتا ہے۔ لائل پور کہانی فیصل آباد شہر کی ثقافتی تاریخ ہے۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ اس شہر کو کس طرح اہلِ علم نے بسایا۔ لائل پور کہانی کے چار والیم اب تک شائع ہو چکے ہیں۔ لائل پور کہانی کا والیم ’’چناب کلب‘‘ ایوارڈ یافتہ ہے۔ ان دنوں اشفاق بخاری کس حصے پر کام کر رہے تھے اس کا جواب اُن کے چھوڑے جانے والے کاغذات سے ملے گا۔ لائل پور کہانی میں ’’چناب کلب‘‘، ’’ریگل چوک‘‘، ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘ اور’’ لائل پور اور فیض‘‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کے بیسیوں تنقیدی مضامین بھی بکھرے پڑے ہیں۔ اُن کے مضامین روایتی تدریسی نوعیت کے نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی وہ اپنے مضامین میں سکہ بن ردعمل کا اظہار کرتے۔ وہ صرف انھی موضوعات پر لکھتے جن سے اُن کی دلچسپی عیاں ہوتی۔ اُردو کی تاریخ سے انھیں گہری دلچسپی تھی۔ وہ ادب کی تاریخ کو خطے کی مجموعی سماجی تاریخ کے طور پر پڑھتے۔ جالبی صاحب کی تاریخ کا جگہ جگہ حوالہ دیتے۔ حالاں کہ وہ کسی بھی طرح کے کلاسیکی مزاج کے ادیب نہیں تھے۔ مجھے ایم اے کے دوران بہت زور دے کے کہتے تھے کہ سب سے پہلے اُردو ادب کی جامع تاریخ پڑھو تاکہ ادب کا مجموعی ثقافتی اور ادبی جدول تمھارے سامنے آ سکے۔ پھر اپنی پسند کا موضوع انتخاب کر کے ادب میں اپنی صلاحتیوں سے نوازوں۔ میری کوشش ہو گی کہ میں اُن کے بکھرے مضامین مرتب کر سکوں۔ مجھے یہ بھی دعویٰ ہے کہ اُن کے مضامین کی ترتیب سے اُن کا ادبی موقف بھی سامنے آئے گا اور تنقیدی حوالے سے وہ منفرد نقاد بن کر بھی سامنے آئیں گے۔

بخاری صاحب حسن عسکری سکول کے خلاف تھے مگر ذاتی طور پر وہ حسن عسکری کوپسند کرتے تھے۔ اپنی گفتگومیں وہ جگہ جگہ حسن عسکری کو کوٹ کرتے۔ اُنھوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے موضوع کے لیے ’’حسن عسکری‘‘ کے فن کا انتخاب کیا تھا مگر وہ اپنی خراب صحت کے ہاتھوں اس کام کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ بہت کم لوگوں کو شاید پتہ ہو کہ اُن کو زندگی میں 3دل کے دورے پڑ چکے تھے۔ مگر وہ ہشاش بشاش ہی نظر آتے۔ موت کا خوف اُن کو چھو کر بھی نہیں گزرا تھا۔ ایک دن وہ مجھے نصیحت کرنے لگے کہ تم غالب کے خطوط غور سے پڑھو۔ کہنے لگے کہ

’’میں نے غالب کے خطوط اُن دنوں پڑھے جب میں دل کے دورے کی وجہ سے ہسپتال میں تھا۔ میرے سرہانے ہر وقت کتاب ’’عودِ ہندی‘‘ پڑی ہوتی۔ جب نرس مجھے دیکھ کر چلی جاتی تو میں چھینی ہوئی چیز کی طرح ’’عودِ ہندی‘‘ پڑھنے لگتا۔ میرا تو دل کرتا ہے کہ میں دوبارہ ’’عودِ ہندی‘‘ پڑھوں مگر دل کے دورے کے بغیر___‘‘

مجھے نہیں پتا کہ اُن کی آخری دنوں کیا حالت تھی مگر سوشل میڈیا پر وہ بہت متحرک تھے۔ وہ اپنے بڑے بیٹے کے پاس دوبئی منتقل ہوگئے تھے۔ پہلے کچھ سالوں سے وہ صرف گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے دبئی جاتے، مگر پھر انھوں نے اپنے دوبئی قیام کو لمبا کرنا شروع کر دیا۔ وہ جب بھی دوبئی سے واپس آتے مجھے ضرور اطلاع دیتے اور ملنے کا کہتے۔ میری بھی کوشش ہوتی کہ میں لائل پر جائوں تو بخاری صاحب سے ضرور ملوں۔ مگر اس بار تو انھوں نے کچھ بتایا بھی نہیں اور نہایت خاموشی کے ساتھ سفید چادر میں لپٹے، آنکھوں کا دروزہ بند کئے لائل پور واپس آگئے۔ پہلے اپنی آمد کی خبر اشفاق صاحب خود کر دیا کرتے تھے مگر اس دفعہ مجھے انجم سلیمی نے سیل فون پر مختصر سا اور دل دہلا دینے والا پیغام بھیجاہے اور میں ابھی تک نم آلود آنکھوں سے اپنے سیل فون کو دیکھ رہا ہوں ’’ہم ابھی ابھی اشفاق بخاری کو دفنا کے آ رہے ہیں‘‘_______
______کیا اس کے بعد کچھ رہ جاتا ہے!!!!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: