کیکڑا 1 : بندر کے ہاتھ کا ناریل یا سیاسی فٹبال —- مسعود ابدالی کے حقائق

0

چند ماہ پہلے عمران صاحب نے ایک بڑی خوشخبری سنائی۔ جسکے بعد وفاقی وزیر جہاز رانی علی زیدی نے چار دانگ عالم میں ڈھنڈوراپیٹنا شروع کردیا کہ پاکستانی سمندر کے نیچے تیل و گیس کا چشمہ ابل رہا ہے۔ کسی کو اسکی طرف خیال تک نہ آیا تھا لیکن میرے کپتان نے آتے ہی امریکہ کی ایکسون موبل کو اسطرف مائل کیا اور بس اس قوم کا دلدر دور ہونے کوہیں۔کراچی دوبئی بناجائیگا اور سار ے ملک کے دولت کی ریل پیل ہوگی، سابق وزیرخزانہ فرماگئے کہ اگر یہ کنواں کامیاب ہوگیا تو ہمیں آئی یم ایف کے پاس جانے کی ضرورت پیش نہیں آئیگی۔ دوسری طرف پی ٹی ائی کے بلاگرزنے آسمان سر پر اٹھالیا اور اس قسم کی پوسٹ سامنے آئی کہ جب ‘قیادت مخلص ہو تو لندن میں فلیٹ نہیں سمندر سے تیل نکلتا ہے’

ہم نے اسوقت حکومت کی گرفت کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ سمندر میں تیل کی تلاش کا کام کئی دہائیوں سے جاری ہے اور ایک کنویں سے گیس کی معمولی سی مقدار برآمد بھی ہوچکی ہے لیکن پیداواری چٹان کی موٹائی اور گیس کی حقیر مقدار کی بنا پر یہاں سےگیس نکالنا تجارتی طور پر وارا نہیں کھاتا اسلئے اس کنویں کو بند کردیا گیا۔ اسی طرح ایکسون موبل کو پاکستانی سمندروں کی طرف مائل کرنے میں عمران خان یاپی ٹی آئی کی حکومت کا کوئی کمال نہیں۔ یہ معاہدہ اسوقت ہوا تھا جب شاہد خاقان عباسی وفاقی وزیر پیٹرولیم اور بلوچستان کے موجودہ وزیراعلیٰ جام کمال وزیر مملکت تھے۔

عمران خان اور انکے رفقا کے بیانات ، ٹویٹس اور بلاگز نے کیکڑا کو ایک سیاسی مسئلہ بنادیا۔ اخبارات میں اس پر حاشیہ آرائی شروع ہوئی، فیس بک پردونوں طرف سے چٹکیوں کا آغاز ہوا ۔ ڈاکٹر شاہدمسعود صاحب نے اپنا ایک پورا پروگرام سمندر میں تیل کی تلاش پر کیا۔ موصوف نے فرمایا کہ کوئت سے بڑا تیل کا ذخیرہ ہمارے پانیوں کے نیچے ابل رہا تھا اور گزشتہ حکومتو ں نے کچھ نہیں کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے تیکنیکی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کنویں سے Mudنکل آیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں تیل موجود ہے جسکا ایک اور ثبوت Kickہے۔

دوسری جانب کچھ اور ماہرین سامنے آئے جنکا خیال تھا کہ یہ کنواں دو بار Sidetrackکیا جاچکا ہے اسلئے ان تلوں میں تیل محسوس نہیں ہوتا۔
ادھر کچھ دنوں سے کرکٹ کے انداز میں کیکڑا کی رننگ کمنٹری شروع کردی گئی تھی۔

گزشتہ دنوں وزیرپیٹرولیم عمر ایوب خان، وزیر جہاز رانی علی زیدی اور وزیر اعظم کے مشیر پیٹرولیم نے کیکڑا کا دورہ کیا ۔ بڑے طمطراق سے تصاویر شایع ہوئیں قوم کو مژدہ سنایا گیا کہ کنویں کی کھدائی مکمل ہونے کو ہے قوم دعا فرمائے۔ اسکے بعد سے کرکٹ کے اسکور کی طرح ہرروز کنویں کی ‘تازہ ترین’ صورتحال سے قوم کی آگاہی کا سلسلہ شروع ہوا۔ کیکڑا اتنا مقبول ہوا کہ اگر نائی کو بھی یہ معلوم ہوجاتا کہ اسکی کرسی پر کوئی جیالوجسٹ شیو کرانے بیٹھا ہے تو وہ چہرے اور گردن پر کریم ملنے کے بعد استرا گردن پر رکھ کر پوچھتا’صاحب جی کیکڑے کا کیا ہوا’؟؟ (ہم نے یہ ترکیب حضرت ابن انشا کی نقل کی ہے)

بہت ہی اہم لیکن معمول کے ایک کام کی غیر معمولی تشہیر نے اسے پشاور کی بی آرٹی اور شریفوں کی اورنج ٹرین بنادیاکہ جہاں ایک طبقہ تکمیل سے پہلے ہی کامیابی کا ڈھنڈورہ پیٹ رہا تھا تو مخالفین کو یقین تھاکہ یہ بھی 5 ارب درخت، کروڑوں نوکریوں اور لاکھو ں مکانات کی طرح ایک سیاسی نعرہ ہے۔

ای این آئی نے اب تک اس کنویں کے بارے میں کوئی اعلان جاری نہیں کیا کہ آزمائش و پیمائش (Wireline and Testing) کا کام جاری ہےاور کچھ مشاہدات کے تجزئے اور تفہیم میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔

احباب کو یہ بھی سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ تیل کی تلاش کا کام صبر ، مستقل مزاجی اور حوصلے کا متقاضی ہے۔ یہاں ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جاتی نہ یہ تبدیلی قلب کا آپریشن ہے کہ مریض کے ہوش میں آنے پر کامیابی کے اعلان کردیا جائے اور اگر مریض جانبر نہ ہو تو آپریشن ناکام ٹہرے۔ تیل گیس کی تلاش کے کام کو آسان زبان میں اسطرح سمجھ لیں کہ ہزاروں میٹر گہرائی میں تیل و گیس سے لتھڑا اسفنج کاا یک بہت بڑا ٹکڑا مٹی اور چٹانوں کی دبیز تہوں میں دبا پڑا ہے جسکی تلاش جوئے شیر لانے سے کم نہیں اور اگر یہ شوخ ہاتھ آبھی جائے تو اس عفیفہ کے پہلو میں لذت وصال کا لطف اٹھاتے اس ذخیرے کو سطح زمین کی طرف آنے پر آمادہ کرنا اس سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اکثر ایسا ہوا کہ ذخیرے تک پہنچے تومعلوم ہواکہ خزانے کے سرپر کوئی سائبان (Cap Rock)نہیں اور جب جھولی میں چھید ہوں تو وہاں قارون کا خزانہ بھی نہیں ٹک پاتا۔ کبھی ذخیرہ ملا تو اسکا ظرف اتنا چھوٹا کہ پیاس بجھنا تو دور کی بات داڑھ بھی گیلی نہیں ہوسکتی۔
تیل و گیس کے منبع (Source Rock)، ذخیرے (Reservoir)، منبع سے گھیر گھار پر تیل و گیس کو ذخیرے کی راہ دکھانے کا بندوبست یا Structure اور ذخیرے کے سرپر غیر مسامدار و غیرنفوزپزیر (Impermeable)چٹان کی موجودگی کیلئے جدید اور آزمائے ہوئے طریقے استعمال ہوتے ہیں لیکن Seismic اور دوسرے ذرایع سے حاصل ہونے معلومات دوٹوک اور شفاف نہیں ہوتیں اور انکی تفہیم میں غلطی کا احتمال رہتا ہے۔ بالکل درست معلومات کنواں کھود کی ہی حاصل ہوتی ہیں۔

کیکڑا کے حتمی نتائج کا ہمیں علم نہیں بلکہ یہ شائد ای این آئی کوبھی معلوم نہ ہو کہ ٹسٹ اور اسکا تجزیہ ابھی جاری ہے۔ لیکن جو ابتدائی معلومات میڈیا پر آئی ہیں اسکے مطابق اس بات میں اب کوئی شبہہ نہیں کہ یہاں منبع موجود ہے یہاں ذخیرہ کرنے والی چونے کے پتھر (Limestone)کی مسامدار چٹانیں بھی موجود ییں۔ یہ مسامات باہم ملے ہوئے ہیں اسلئے ان میں موجود تیل و گیس کو حرکت پر آمادہ کرنا بھی مشکل نہیں اور غیرمسامدار چٹانوں نے ذخیرے کا احاطہ بھی کیا ہوا ہے۔ بس مقطع میں سخن گسترانہ بات یہ آن پڑی ہے کہ ذخیرے کے صرف اوپر کے حصے میں گیس کے آثار ہیں جسکے نیچے پانی موجزن ہے یعنی بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ گیس سے لبالب چٹان کی موٹائی اتنی نہیں کہ یہاں سے تجارتی بنیادوں پر گیس کشید کی جاسکے۔

بلاشبہ اسے آپ ناکامی کہہ سکتے ہیں جسکا ملک دشمن میڈیا ‘کھودا پہاڑ نکلا چوہا ‘کہہ کر مذاق اڑارہا ہے لیکن ارضیات کے طلبہ کیلئے یہ نتائج کسی بھی اعتبار سے مایوس کن نہیں۔ چند برس پہلے شیل (Shell)نے کیکڑا کے جنوب میں ایک کنواں کھودا تھا جہاں نہ Cap Rock کا کوئی سراغ ملا اورنہ مسامدار چٹانوں کی موجود گی کا احساس ہوا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کیکڑا سے ملنے والی معلومات نے سے امیدو اعتمادکی نئی شمع روشن کی ہے جسکی روشنی میں نئے کنویں کیلئے جگہ کا تعین زیادہ باوثوق انداز میں کیا جاسکے گا۔ اب ماہرین کو زیرزمین پانی کے پھیلاو اور ان گیلی چٹانوں کی ڈھلان کا اندازہ کرنا ہے تاکہ نیا سوراخ وہاں کیا جائے جہاں گیس سے لبریز چٹانوں کی موٹائی زیادہ ہو۔

تو صاحبو ! کیکڑا کسی بھی اعتبار سے ناکامی نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کروڑوں ڈالر خرچ کرکے جو قیمتی معلومات حاصل ہوئی ہیں انھیں مایوسی کا رزق بنانے کے بجائےانکی بنیاد پر نئے کنویں ی تیاری شروع کردی جائے۔ جو لوگ رقم ڈوبنے کا ماتم کررہے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ تیل کی تلاش کیلئے گہری جیب، مضبوط دل اور آہنی اعصاب بنیادی جزو ہے۔ یہ تھڑ دلے اور ذرا سی مشکل پر ہتھیار رکھ دینے والوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ ان دلاوروں کا کام ہے جو ناکامیوں کو خود اپنے پیروں تلے مسل کر نیا راستہ بنانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

اس بات میں قطعاً کوئی شبہہ نہیں کہ پاکستانی سمندر کی تہوں میں تیل و گیس کا ایک سمندرموجزن ہے اور انشااللہ ایک دن یہ ضرور دریافت ہوگا۔ وسائل و قابلیت اور ہنرمند افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں بس حوصلہ مند، مخلص اور بے خوف تیکنیکی اور سیاسی قیادت درکار کی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: