انجمن فروغ ادب بحرین کا عالمی مشاعرہ 2019″ بیاد شاہد نجیب آبادی” ——– رپورٹ: احمد امیر پاشا

0

انجمن فروغِ ادب، بحرین کا گیارہواں عالمی مشاعرہ بیادِ شاہد نجیب آبادی اپنی تمام تر ادبی لطافتوں کیساتھ اختتام پذیر ہوا تو مشاعرے میں شریک شعرائے کرام اور سامعین و حاضرین کے حوصلہ افزا اور تہنیتی تاثرات نے اس کی شعری افادیت کو مزید اجاگر کر دیا۔ مملکتِ بحرین کے دارالحکومت منامہ کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منعقدہ اس مشاعرے کی بنیادی غائت، بحرین و گلف کے ممتاز شاعر اور علمی شخصیت شاہد نجیب آبادی (مرحوم) کی جملہ خدمات کو شایانِ شان انداز میں خراج پیش کر نا تھا۔ اس سے قبل بھی ۷۰۰۲ء میں کچھ ادب نواز دوست اس حوالے سے جشنِ شاہد کا اہتمام کر چکے ہیں۔ اس عالمی مشاعرے کی صدارت، پاک و ہند کے نامور شاعر، ادیب، محقق، معلّم اور تنقید نگار ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی نے کی، مہمانِ خصوصی عزت مآب سفیرِ پاکستان برائے بحرین، افضال محمود تھے جبکہ مہمانِ اعزازناصر علی خان (فرزندِ شاہد نجیب آبادی) تھے۔ یہ عالمی مشاعرہ دو حصوں پر مشتمل تھا، پہلا حصہ صاحبِ مشاعرہ کی تحدیثِ خدمات اور اس حوالے سے اُن کے لئے لکھے گئے مضامین و کلام اور مہمان شعراء کی شعری نگارشات ہر مبنی مجلّے اظہار کی تقریبِ اجراء، جبکہ دوسرا حصہ مشاعرے سے منسوب تھا۔ ابتدائی حصے کی نظامت کے فرائض مجتبیٰ برلاس نے سر انجام دئے۔

اس عالمی مشاعرے کے ابتدائی حصے کا آغاز کرتے ہوئے، مجتبیٰ برلاس نے کہا کہ انجمن فروغِ ادب بحرین ایک تعمیری ادب کی نشوو نما کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ ادبی منظر ناموں کی تعمیرو ترویج کے حوالے سے زندہ قومیں اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتیں۔ اس حوالے سے شاہد نجیب آبادی مرحوم بحرین اور خلیج کی وہ سرکردہ شخصیت تھے کہ جن کی خدمات شعر وادب پچاس سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک شاعر نہیں بلکہ ایک ادارہ تھے۔ ان کی ذات گرامی سے وابستہ بے لوث جذبہ اور خدمت کا جنون انہیں نہ صرف ہمارے ذہنوں میں امر کر دیتا ہے بلکہ اس کا بھی متقاضی ہے کہ ان کو خراجِ عقیدت پیش کر کے ان کے جذبہِ تعمیر کی تجدید کی جائے۔ اس تقریب کا تعارف پیش کر نے کے بعد انہوں نے اس عالمی مشاعرے کے روحِ رواں اور مرکزی کردار طاہر عظیم کو استقبا لیہ کلمات کے لئے سٹیج پر بلایا۔

انجمن فروغِ ادب کے کنوینر اور بحرین کے معروف شاعر طاہر عظیم نے اپنے استقبالیہ اظہارئے میں معزز شعرائے کرام اور شرکائے مشاعرہ کا شکریہ ادا کرتے ہو کہا کہ ”ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ ہم اپنے مشاعرے ان شخصیات سے منسوب کریں جو واقعی اس کے حقدار ہیں۔ آج سے قبل اس سلسلے میں انجمن، بیادِ عطا شاد، عزم بہزاد، قابل اجمیری، سلیم احمد اور بیادِ سعید قیس، عالمی مشاعرے منعقد کر چکی ہے۔ الحمد للہ کچھ سالوں سے ہمارے مشاعرے بہتر سے بہتر ہو رہے ہیں۔ ہمارے محترم احمد عادل، شکیل احمد صبر حدی، صہیب قدوائی اور عدیل ملک، یہ چار شخصیات اور ان کا تعاون اس مشاعرے کی بنیاد ہے۔ اس مشاعرے کے انعقاد کے حوالے سے ہم اہبے تمام معاونین کا شکریہ ادا کر تے ہیں جن میں با لخصوص عنایت اللہ، برہان آفتاب، محمد ذکی، محمد رضوان، الطاف عظیم، اقبال جوز، سعد اصغر علی، محمد زبیر قاضی، نواز بلوچ اور افضل بھٹی کے نام شامل ہیں۔

مجلسِ فخرِ بحرین کے سرپرست اور بانی جناب شکیل احمد صبر حدی کی جانب سے شاہد نجیب آبادی کے بارے میں تاثراتی پیغام پڑھنے کا فریضہ خرم عباسی نے سر انجام دیا، جناب شکیل احمد صبر حدی نے اپنے تاثراتی پیغام کا خلاصہ یوں ہے کہ،

،”انجمن فروغِ ادب، کے گیارہویں عالمی مشاعرے کے انعقاد پر اس مشاعرے کے منتظمین کو میں مجلسِ فخرِ بحرین برائے اُردو کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کر تا ہوں، اس عالمی مشاعرے کا منفرد پہلو یہ ہے کہ اس کا انعقاد بحرین میں ادبی سلسلوں اور بحرین ریڈیو کے معمار جناب شاہد نجیب آبادی کی یاد میں کیا جا رہا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ ان کے شایانِ شان بھی ہے۔

میرے ذہن میں ہمیشہ ہی ان کی نفیس اور صلح جُو شخصیت کا ایک گہرا تاثر بنا رہا۔ وہ اچھے شاعر بھی تھے، اور اس سے بڑھ کر ایک اچھے انسان تھے۔ میں فروری ۶۷۹۱ء میں بحرین آیا، پھر ادب اور شعرو شاعری کے حوالے سے ان کے ساتھ ملاقاتیں رہیں، ابتدا میں، میں بحرین کے شعری حلقوں میں کافی متحرّک تھا، مجھے ان سرگر میوں میں حصہ لینے کا شوق تھا۔ انہی سرگرمیوں کی نسبت سے شاہد صاحب سے ایک احترام کا تعلق قائم ہو گیا۔ شاہد نجیب آبادی سے جب بھی ملاقات ہوئی میں نے اُن کو بہت ملنسار اور منکسرالمزاج پایا۔ ریڈیو بحرین میں ان کی بہت اچھی سروس تھی اور وہ اس حوالے سے کافی مصروف آدمی تھے تاہم وضع داری اور مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی ان سے ملنے جاتے تو چاہے کتنی ہی دیر ہو جاتی، کبھی یہ نہ کہتے تھے کہ چلو اب گفتگو ختم کرتے ہیں، کبھی خود بات ختم کرنے کو نہ کہتے تھے۔ انہیں شعرو شاعری کی محفلیں منعقد کر نے کا جنون تھا، اس زمانے میں شعرو شاعری کی جتنی بھی محفلیں منعقد ہوتی تھیں، ان کا بندوبست شاہد نجیب آبادی خود کیا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ نہ صرف ان محافل کے لئے ذرائع مہیا کرتے بلکہ ان نشستوں میں شرکت کے لئے احباب کو آمادہ بھی کرتے تھے۔ انہوں نے ایک مضبوط ادبی سلسلہ قائم کر رکھا تھا جس کا محوروہ خود تھے اور انہیں ہونا بھی چاہئے تھا کیونکہ وہ اس حوالے سے ہم سب سے زیادہ متحرّک تھے۔ ان کے ساتھ ان کے معاون کچھ دوست بھی تھے، جن میں سعید قیس صاحب، نور پٹھان، عزیز ہاشمی، خورشید علیگ اور الطاف رانا قابلِ ذکر ہیں، اس زمانے میں بہت اچھے شعراء بحرین آئے لیکن وہ اب ہم میں نہیں ہیں، ان میں سے ایک محبوب شفق بھی تھے۔ اچھے شعر کہتے تھے۔، اخلاق احمد (جو وقارؔ تخلّص کرتے تھے) مجھے یاد آ رہے ہیں۔ بڑی اچھی شاعری ہوتی تھی، ادبی ماحول بڑا اچھا تھا۔ ان ادبی سلسلوں میں کم و بیش یہ سبھی لوگ فعال تھے لیکن ان سلسلوں کے اصل روحِ رواں شاہد نجیب آبادی ہی تھے۔ ان کی سوچ بڑی مثبت اور دوستانہ تھی۔ وہ کبھی کوئی متنازعہ بات نہیں کر تے تھے۔ وہ اپنی ذات اور شاعری میں بڑے حقیقت پسند تھے، اس حقیقت پسندی کا عکس ان کی شخصیت میں بھی نظر آتھا تھا“۔

احمدعادل نے جناب شاہد نجیب آبادی کے قریبی دوست نورپٹھان کی یاد داشتوں پر مشتمل تحریر پیش کرتے ہوے کہا

”سن باسٹھ میں بحرین میں دو چار ہی شاعر ہوتے تھے جیسے شاہد بھائی، جمیل جعفری، عزیز جعفری، شجعی جعفری۔ ان سب کے ساتھ رکھنا اور انکے فن کو زندہ رکھنا یہ شاہد بھائی کا مشن تھا۔ اگر میں یہ کہوں کہ بحرین میں اردو مشاعروں کی داغ بیل شاہد بھائی نے ڈالی تو یہ غلط نہ ہوگا۔ وہ سب کو جمع کرتے تھے حو صلہ افزاء کرتے تھے، اور اُنکے فن کی نش و نماء کے لیے مشاعرے کرتے تھے۔ ۔ ایک دفعہ مشاعرہ شاہد بھائی کے گھر ہو تا تھا اور ایک دفعہ جمیل جعفری کے گھر۔ چار اصل شاعر اور چار لے پالک شاعر ہوتے تھے، یعنی دو چار لوگوں کو کہہ دیا جاتا کہ آپ اپنی پسند کے کسی شاعر کا کلام پڑھ دیں، اور اس طرح ایک اچھا اور معیاری مشاعرہ ہو جاتا۔ ان شاعروں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جنہیں شاہد بھائی حروف کے شاعر کہتے تھے کہ یہ عبوری شعر کے شاعر بعد میں بنیں گے۔ ہر ایک سے اچھی امید رکھتے تھے ہر ایک کے لیے اچھا سوچتے تھے چاہے شاعر مشگاں پہ غزالاں ہی کیوں نہ دوڑائیں۔ شاہد بھائی نے کبھی کسی کو بُرانہیں کہا۔ شاہد بھائی کی عام حو صلہ افزاء کی وجہ سے مشاعرے کا ایک معیار قائم ہو گیا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر سے بہترین ہوتا جا رہا تھا۔ ان کی وجہ سے بڑے اچھے لوگوں سے رابطے رہے اور پائے کے اشعار سنے، کچھ یاد بھی ہیں جیسے عزیز جعفری کا شعر

کھیل پر اس بچپنے کے، ایک عالم ہے نثار
لفظِ دل لکھئیے زمیں پر اور مٹاتے جائیے

اب اگر شاہد بھائی نہ ہوتے تو میں تو کبھی بھی یہ انمول موتی نہ جمع کر پاتا“۔

مہمانِ خصوصی سفیر پاکستان برائے بحرین افضال محمود نے شرکائے عالمی مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ،

”میں مشکور ہوں منتظمینِ مشاعرہ کا جنہوں نے مجھے یہاں کھڑا ہو نے کی اجازت دی، اس کے بعد میں بیحد مشکور ہوں ان شعرا کا جو بہت سارا فاصلہ طے کر کے یہاں آئے اور اس مشاعرے کو رونق بخشی۔ اس کے علاوہ میں بہت دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں پیرزادہ قاسم کا جنہوں نے اس مشاعرے کو رونق بخشی۔ ہم لوگ خوش قسمت ہیں کہ آج یہاں موجود ہیں۔ میں بہت زیادہ واقف نہیں تھا شاہد نجیب آبادی صاحب سے لیکن جو خوبصورت باتیں اُن کے حوالے سے ہوئیں، اور جس دل جمعی سے انہوں نے کام کیا، اور اور کلچر کی ترقی کے حوالے سے ہم سب ان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، ہماری دعائیں ا ن کے لئے اور ان کے بچوں کے لئے ہیں۔ اللہ ان کے بچوں کو ترقی دے اور شاہد صاحب کو اپنے جوارِ رحمت میں ترقی دے۔ مجھے تقریباً تین دہائیاں ہو گئی ہیں سفارتکاری کرتے ہوئے، میں نے اس حوالے سے میٹنگز کیں، ورکشاپس کیں، امیر سے امیر اور غریب سے غریب ملک گیا ہوں اپنے فرئض کی انجام دہی کے لئے۔ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ملک میں کام کیا، مجھے کبھی کوئی احساس نہیں ہوتا یا مجھے کوئی چیلنج محسوس نہیں ہوتا کہ میں بات کیسے کروں، مشاعرہ واحد ایک ایسی جگہ ہے جہاں اپنے آپ کو بہت چھوٹا سمجھتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ انجینئر بن سکتے ہیں، آپ ڈاکٹر بن سکتے ہیں، آپ سفارتکار بن سکتے ہیں، آپ بزنس میں بن سکتے ہیں لیکن آپ شاعر نہیں بن سکتے، شاعر پیدا ہوتا ہے۔ میں شاعر نہیں ہوں، اللہ نے مجھے سب کچھ دیا ہے لیکن مجھ میں وہ چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے میں شاعر بن سکوں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ میرا شاعری سے فاصلہ رہا ہے، شاعر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص طور سے بھیجا جاتا ہے۔ ہمارے جیسے انسانوں کے لئے، شاعر کی روح عام آدمی سے زیادہ حساس ہوتی ہے، شاعر اپنے وژن کو اپنےء تخیل سے ملا کراس انداز میں پیش کرتا ہے کہ اس کے دل سے نکلی ہوئی بات دل میں اُتر جاتی ہے۔ اپنی اس زندگی میں جب آپ کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں، دنیا کو سمجھتے ہیں، اس زمانے میں چند ایک شعر میری نظر سے گزرے اور کہیں نہ کہیں میری روح میں اُتر گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کی زندگی میں کچھ نہ کچھ ایساہو تا ہے جس سے فرق پڑتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اقبال کا یہ شعر اگر میں پڑھا نہ ہوتا یا سنا نہ ہو تا تو شاید میں یہاں کھڑا نہ ہوتا۔

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

میں تو چل رہا ہوں، اس تلاش میں ہوں، اس گردوں کی جس سے ہم ٹوٹ کر بکھر گئے، اللہ کی مہربانی ہے کہ اقبال کا ایک شعر سمجھ میں آیا، میں جب تھرڈ ائیر، فورتھ ائیر میں تھا اقبال کا فارسی کام پڑھا، اس میں اقبال یونیورسیلیٹی کی جانب مائل ہیں۔ علامہ اقابل کی ایک فارسی نظم ہے، اس میں وہ مسلم امہ کو پیغام دیتے ہیں کہ اگر تم ہمت کرو تو منزل دشوار نہیں ہے،

وہ فارسی شعر دیکھئے

ناقہِ سیار من
آہوئے تاتارِ من
درہم و دینار من
اند ک و بسیارِ من
دولت بیدار من
تیز تر تو گامزن
منزل ما دور نیست

تو شاعر ہمارا اثاثہ ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ہمت دے، میں ایک مرتبہ پھر اس مشاعرے میں شرکت کیلئے آنے پر آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں“۔

اس عالمی تقریب کے ابتدائی حصے کے نا ظم مجتبیٰ برلاس نے مہمانِ اعزاز، فرزندِ شاہد نجیب آبادی کو اظہارِ خیال کی دعوت دی تو انہوں نے گہرے جذباتِ تشکر کیساتھ اس عالمی مشاعرے کے انعقاد اور اس کے شاندار انتظامات پر طاہر عظیم اور دیگر تمام اراکینِ انجمن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ

”بلا شبہ ہمارے والدگرامی اُردواور تاریخِ اسلام سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ کو شعرو ادب اور انسانی خدمت جیسے امور سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔ وہ بڑے نفیس اور منظم طبیعت کے مالک تھے۔ وہ عوامی فلاح کے جذبے سے سرشار تھے۔ ہمیں فخر ہے کہ آج انجمن فروغِ ادب کی جانب سے اُ ن کی خدمات کے اعتراف میں ایسا شاندار عالمی مشاعرہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہمارے والد کتاب و قلم سے عشق کی حد تک پیار کر تے تھے۔ انہوں نے عمر بھر علم کی ترقی اور ادبی سلسلوں کی نشوونما کے لئے کام کیا، اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے ِ۔ (آمین ث م آمین) ان کے علاوہ ان کے دوسرے دو بھائیوں عارف علی خان اوڈاکٹر آصف علی خان نے بھی شرکائے مشاعرہ سے اہنے مخٹصر خطاب میں انجمن فروغِ ادب کی اپنے والدِ گرامی کوہدیہ سپاس پیش کرنے کی اس کاوش کوسراہا، مہمانِ اعزاز کے خطاب کے بعد شاہد نجیب آبادی کی سوانح اور کلام کے حوالے سے ایک خوؓصور مجلے کا اجراء عمل میں لایا گیا۔ اس مجلّے ”اظہار“ کی تقریب اجراء، صدرِ مشاعرہ، مہمانِ خصوصی، مہمانِ اعزاز، پاک و ہند اور بحرین کے شعرائے کرام اور انجمن کے جملہ منتظمین کے ہاتھوں انجام پائی۔ اظہار کی تقریبِ اجراء کیساتھ ہی اس عالمی مشاعرے کا ابتدائی حصہ اختتام کو پہنچا۔ اس کے بعد عالمی مشاعرے کا اغاز ہوا جس کی نظامت کے فرائض ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے اردو غزل کے معروف شاعرمنصور عثمانی نے اس حسن سے نبھائے کہ کہ سامعین و حاضرین ان کی نظامت کی سحر کاری اور شعراء کے کلام کا بیک وقت حظ اٹھاتے ہوئے دو گونہ لطف محسوس کر رہے تھے۔ منصور عثمانی نے کارِ نظامت کو ایک ایسے ہنر کے طور پر متعارف کرایا ہے کہ جس کی انجام دہی بذاتِ خود ان کے لئے اوور شرکائے مشاعرہ کے لئے علمی اور صوتی لحاظ سے ایک ایسا کیف انگیز عمل ہے جس کی بازگشت اہلِ علم و ادب کی سماعتوں کو ایک مدت تک اپنے حصار میں رکھتی ہے، اس پر مستزاد منصور عثمانی کے لہجے کی ایک خاص گھمبیرتا ہے جو غالباً انہی کیساتھ مخصوص ہے، ان کی آواز کا یہ ایک گہرا تاثر ان کی نظامت کی اثر انگیزی کو سحر انگیزی میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اس عالمی مشاعرے کو عمدہ اور نفیس کلام کے حوالے سے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ تمام شعراء نے بھر پور انداز میں اپنا کلام پیش کیا اور شرکائے مشاعرہ سے خوب داد وصول کی۔ پڑھے گئے کلام کی نمایاں شعری جھلکیاں قارئین کی نذر ہیں۔

عدنان افضال

سعید قیسؔ کہا کرتے تھے کہ بحرین میں نئے لکھنے والوں میں مجھے عدنان سے کافی امید ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے شعروں میں ایسا کچھ نیا ہے کہ جو عہدِ نو کی تازہ غزل میں نمایاں شگفتگی کا باعث بنے گا۔ عدنان باہمی محبت کو اس کے طے شدہ معیاروں پر رکھ کر اپنے جذوں کی آنچ سے لو دے کر اسے غزل کے قالب میں ڈھالتے ہیں، اس مشاعرے میں عدنان نے داد بھی لی اور ناظم مشاعرہ کی دعائیں بھی، ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں،

آرزو کا نشان ہی نہ رہا
دل کو اب تیرا دھیان ہی نہ رہا
آ گیا خود میں درمیان اپنے
جب کوئی درمیان ہی نہ رہا
٭
اتنی تیزی سے عمر ڈھل رہی ہے
لگ رہا ہے کہ فلم چل رہی ہے

طاہرعظیم

ایک منتظم اور نئے آہنگ کے غزل گو شاعر کے طور پر طاہر عظیم اپنی شناخت کا عمل مکمل کر چکے ہیں۔ ان کے اشعار میں حرف جذبوں کی ایسی حقیقی ااور ایبسٹ ریکٹ صورت گری کرتے ہیں کہ ان کی شعری فکر ایک کھلے منظر نامے کا عنوان بن جاتی ہے۔ عالمی مشاعرہ بیادِ شاہد نجیب آبادی کے اصل روحِ رواں بھی طاہر عظیم ہیں۔ اُردو اور اس سے منسلک شعرو ادب سے طاہر کو جنون کی حد تک لگاؤ ہے، اس حوالے سے قومی زبان کے شعری اثاثے کے فروغ کے لئے ان کی عملی کاوشوں کو پاک و ہند کے ادبی حلقے بصل احترام نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان کے لئے ایک گہرا جذبہِ ستائش بھی رکھتے ہیں۔ ان کے نمائندہ اشعار کچھ اس طرح ہیں،

پہلے ہم سوچتے تھے بات کبھی ہوجائے
اب تو ممکن ہے ملاقات کبھی ہوجائے
آج بارش نے بھگویا تو مجھے یاد آیا
اس کی خواہش تھی کہ برسات کبھی ہوجائے
بس یہی سوچ کے اوقات میں رہتا ہوں
جیتنے والو! اگر مات کبھی ہوجائے؟

احمد امیر ؔپاشا

احمد امیر پاشا (راقم الحروف)

یوں بھی تو تم پہ وصل کا منظر نہیں کھلا
دل کی جگہ تھا بند دریچہ لکھا ہوا
تم نے تو اپنے خواب مرتّب کئے ہیں دوست
لوگوں کو مل گیا ہے تماشا لکھا ہوا
دہقان اس تضاد کو پڑھتے ہی مر گیا
دریا کے آس پاس تھا صحرا لکھا ہوا
٭
تمھارے وصل کی خوشیوں میں دل یہ کرتا ہے
تمھارے نام پر آزاد اک غلام کریں

رخسار ناظم آبادی

بحرین کے شعری حلقوں میں رخسار ناظم آبادی کی شعری کائنات کا محیط تیس سالوں پر پھیلا ہوا ہے۔ اُن کے شعر میں غمِ دنیا اور غمِ دوراں کا ایسا دلپذیر اظہار ہے کہ ان کے اشعار قارئین و سامعین کو تا دیر یاد رہتے ہیں، وہ اپنے انداز میں اپنی خاص شناخت رکھتے ہیں، ان کے اشعار کی جھلک یوں ہے،

ابتدا کرتا ہوں رب کے نام سے
اس لیے ڈرتا نہیں انجام سے
مفلسی سے جنگ لڑنی تھی جنھیں
گھر میں وہ بیٹھے رہے آرام سے
کوئی اس سے پوچھے جو گھر کا بڑا ہے
وہ کتنے محاذوں پہ تنہا کھڑا ہے

پیٹ پالے دکھ سہے سجدہ کرے
اک اکیلا آدمی کیا کیا کرے

احمد عادلؔ

بحرین کے شعرائے کرام میں احمد ؑعادل اپنے کومل لہجے اور کلاسکیکی انداز ِ غزل کے لئے اپنا الگ مقام رکھتے ہیں، ان کے شعروں میں محبت کی چاشنی اور سچے جذبوں کی سندرتا موجود ہے، ان کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں،

اپنی فطرت بدل نہیں سکتے
بے خودی میں سنبھل نہیں سکتے
اپنا کردار پہ نبھانا پے
کسی دوجے میں ڈھل نہیں سکتے
کچھ تگ و دو بھی ہم پہ لازم ہے
بس فقط ہاتھ مل نہیں سکتے
٭
تعمیرِ ذات ہی میں لگی زندگی تمام
خالق بنا رہا تھا، بنا جا رہا تھا میں

عمرانؔ شمشاد

عمران شمشاد بلا شبہ اردو غزل کا ایک تازہ امکان ہے، ان کا انداز نئے تجربے اور تجرید کا ایسا حیران کن امتزاج ہے کہ اپنے ہم عصروں میں اس کی نذیر کم ہی ملتی ہے، خاص طور پر ان کی وہ غزل جس کی ردیف بٹن ہے، عمران نے جم کر اپنا کلام پیش کیا اور خوب داد حاصل کی۔ ان کے نمائندہ اشعار یو ں ہیں،

ڈھونڈئے دن رات، ہفتوں اور مہینوں کے بٹن
لا مکاں میں کھو گئے ہیں ان مکینوں کے بٹن
درسِ تقویٰ دینے والے کی قبا پر دیکھئے
سونے چاندی اور چمکیلے نگینوں کے بٹن
٭
غور سے کون دیکھتا ہے یہاں
ان چراغوں میں جل رہا ہے کیا
٭
زندگی اک خیال خانہ ہے
آپ کا یہ خیال ٹھیک نہیں
گرنے والے نے سراٹھاکے کہا
ان ستاروں کی چال ٹھیک نہیں
آپ کے ناخنوں سے یاد آیا
میرےزخموں کا حال ٹھیک نہیں

ڈاکٹر کبیر اطہر

بحرین کے سامعین ڈاکٹر کبیر اطہر کو ان کی تازہ اور بہت جداگانہ طرز کی شاعری کے لئے مدتوں یاد رکھیں گے، ان کے ہاں غزل کا اہتمام واردات کیسا تھ، حیران کُن روحانی تجربات سے مزیں ہے، وہ اپنے منفرد قلندرانہ انداز میں پڑھتے ہیں تو لوگ ان کو داد دیتے ہیں مگر حیرتوں کیساتھ، ان کا شعر قلب سے زیادہ ایک روحانی واردات ہے، ان کے چند اشعار ملا حظہ کیجئے،

روز و شب یوں نہ گزارے ہوتے
چین آجاتا اگر کھیل کے ہارے ہوتے
خود سے فرصت ہی میسر نہیں آئی ورنہ
ہم کسی اور کے ہوتے تو تمھارے ہوتے

ندامت سے میں اپنا منہ چھپاتا پھر رہا ہوں
یہ میرے دوستوں کے درمیاں کیا چل رہا ہے

کہیں میں سے دیر پہنچوں تو یاد آتا ہے
کہیں میں وقت سے پہلے بھی جایا کرتا تھا

منصورعثمانی

غزل کے شہر میں شاعر ہزار ہیں لیکن
کسی کا میر سے اونچا مقام تھوڑی ہیں

اس دور بے ضمیر میں منصور کے سوا
بستی کے سارے اہل کرم حیریت سے ہیں

طلب تضحیک ہوتی جارہی ہے
نوازش بھیک ہوتی جارہی ہے

تری تحریر جب سے پڑھ رہا ہوں
نظر باریک ہوتی جارہی ہے

نسیم نازش

نسیم نازش اس عالمی مشاعر ے کی تنہا شاعرہ تھیں۔ آپ روایتی غزل کی بڑی عمدہ شاعری کرتی ہیں۔ اپنے کلام سے داد لی اور سماعتوں کو متاثر کیا اپنے اندازِتحت اور ترنم دونوں سے

اب ہمیں تیری تمنا نہیں ہے
آنکھ کو ذوق تماشہ نہیں ہے
شہر والو کبھی اس کو بھی پڑھو
وہ جو دیوار پہ لکھا نہیں ہے
جانے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ہم تم
وہ جو تقدیر میں لکھا نہیں ہے
اس کو کمتر نہ سمجھنا لوگو
وہ جسے خواہش دنیا نہیں ہے

سچ کی صدا جب آتی ہے
خاموشی چھا جاتی ہے
عشق کی یہ آزاد روی
زنجیریں پہناتی ہے

سارے سورج بجھ جاتے ہیں
رات اندھیری رہ جاتی ہے

جوہر ؔ کانپوری

ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے شاعر جوہر کانپوری انسانی رویوں اور ان میں موجود کھردری مزاحمت کی شاعری کرتے ہیں، اپنے حلقہءِ سماعت میں بہت مقبول ہیں، ، ان کے چند نمائندہ اشعار یوں ہیں،

پرانے مسئلے وہ اس طرح دبا دے گا
کہ آج کوئی نیا مسئلہ اٹھا دے گا

روپ بدلا رنگ بدلا اور سنہرا ہوگیا
پھول جب پورا کھلا تو اس کا چہرہ ہوگیا

جو یہ کہتا تھا میں سورج ہوں‘کروں گا روشنی
اس کے آنے سے اندھیرا اور گہرا ہوگیا

کام اچھے ہم نہ کر پائے تو بد کرنے لگے
دوسروں کی کامیابی سے حسدکرنے لگے

رکھتا ہے بعد مرگ یہاں کون کس کو یاد
کچھ بات تھی جو ان کو بھلایا نہیں گیا

بستی کے اک بزرگ کی میت کو دیکھ کر
میں اپنے بوڑھے باپ سے جاکر لپٹ گیا

بلندی پر پہنچنے کی دعا کس کے لئے مانگوں
جسے سر پر بٹھاتا ہوں وہی سر کاٹ دیتا ہے

کسی فرشتے کی تقدیر میں کہاں دکھ سکھ
یہ آدمی ہے جو ہر امتحاں سے گزرا ہے

فرحت عباس شاہ

فرحت عباس شاہ نئی اردو غزل اور تغزل کا وہ زندہ و جاوید حوالہ ہے جسے پاک و ہند میں ہی نہیں پوری دنیا میں جانا اور پڑھا جاتا ہے، لوگ ان کو ان کی با کمالشاعری کی وجہ سے دیوانہ وار محبت کرتے ہیں، ان کا شعر محض الفاظ و خیال کی ترکیب نہیں بلکہ ایک روحانی کرامت کا درجہ رکھتا ہے۔ ان کے لہجے میں ہجر آہیں بھرتا ہے اور وصال دھمال ڈالتا ہے۔ ان کو دعوتِ کلام دی گئی توسامعین و حاضرین کو گوہرِ مراد مل گیا، اگر تنگیِ وقت کا مسئلہ نہ ہو تا تو شائد ان کو ساری رات سنا جاتا، ان کے کچھ اشعار یوں ہیں،

بدل گئے مرے موسم تو یار اب آئے
غموں نے چاٹ لیا غم گُسار اب آئے

یہ وقت اس طرح رونے کا تو نہیں لیکن
میں کیا کروں کہ مرے سوگوار اب آئے
٭
ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
جس طرح لوگ سکوں ڈھونڈتے ہیں

ترے کچھ خواب جنازے ہیں مری آنکھوں میں
وہ جنازے جو کبھی گھر سے اٹھائے نہ گئے

مجھے پتا ہے وطن کس قدر ضروری ہے
کہ میں نے عمر گزاری ہے تارکین کے ساتھ

دیکھ لینا کہ کسی دکھ کی کہانی تو نہیں
یہ جو آنسو ہیں کہیں اس کی نشانی تو نہیں

کتنے ہی درد بہانے سے مرے پاس آکر
دیکھتے ہیں کہ مری شام سہانی تو نہیں

اسلم بدر

اپنی وضع قطع، شخصیت اور علمی قامت میں ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے شاعر اسلم بدر تحریکِ آزادی کے زعماء کی قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں، ان کی شاعری کلاسیکی حسن کے ساتھ ان کی زبان و خیال پر گرفت کی وجہ سے اور بھی لطف دیتی ہے، انہوں نے اپنے کلام سے خوب داد حاصل کی خاص طور پر ان کی طویل نظم ”علم “ نے تو خوب سماں باندھا، ان کے کچھ منتخب اشعار پیش کئے جاتے ہیں،

زخمِ روداد سناتے ہیں لہو بولتا ہے
میں تو چپ چاپ ہوں پر عالمِ ھو بولاتا ہے

دم دما دم کی صدا آئی تو محسوس ہوا
ان فقیروں کی صداؤں میں بھی تو بولتا ہے
٭
رہ گزر طے ہے، طے ہے منزل بھی
اونٹنی بے سوار جاتی ہے

کہانی ایسی نہیں واقعہ ہی ایسا ہے
سنا ہی ایسا نہیں ہے ہوا ہی ایسا ہے

ہمیں ہی ڈھونڈے جب لگے گی پیاس اسے
ہمارے خون کا کچھ ذائقہ ہی ایسا ہے

پیرزادہ قاسم

انجمن فروغِ ادب بحرین کی کوشش رہی ہے کہ ایسے شعراء کو اپنے عالمی مشاعروں میں مدعو کیا جائے جو اپنی شعری فکر میں نئے، منفرد اور عصری ادب میں اپنی جداگانہ شناخت رکھتے ہوں، اس حوالے سے ڈاکٹر قاسم پیرزادہ کا نام اور ان کا ادبی کام قومی زبان کی علمی تاریخ کا ایک مستقل اور قابلِ قدر سرمایہ ہے، لوگ ان کو سننے اور ملنے کے منتظر رہتے ہیں، ان کا ترنم، انکے کلام کی ندرت پر مستزاد ہے۔ اس مرتبہ وہ عالمی مشاعرہ بیادِ شاہد نجیب آبادی کی صدارت کر ہے تھے، ان کو دعوتِ کلام دی گئی تو شرکائے مشاعرہ نے ان کا بھر پور استقبال کیا، انہوں نے خطبہ صدارت میں فرمایا

”یہ عالمی مشاعرہ ہے لیکن اس کی قدروقیمت دوچند ہوگئی جب ہم نے اس میں جناب شاہدنجیب آبادی کویاد کیا اگر شاہد صاحب کی طرف نظر ڈالیں جیسے سب نے کہا کہ انہوں نے بحرین میں شاعری اور شعراء کی ہمت افزائی کے لئے بنیادی کام کیے لیکن جس وقت انہوں نے یہ کام شروع کیا وہ بحرین ہی نہیں خلیج کے اولین لوگوں میں شامل تھے تو ان کا انھی لوگوں کی فہرست میں آتاہے۔

اور منتظمین نے جس محبت اور جذبہ سے یہ مشاعرہ منعقد کیا اس کی بھی داد بنتی ہے“

لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہے
میں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہے

اے مرے درد بتا حد سے گزرنا کب ہے
تو جو یوں جاگتا رہتا ہے تو کیا جاگتا ہے

نامرادانہ پلٹ آتے ہیں سائل در سے
بھیڑ چھٹ جاتی ہے اکثر تو سخی جاگتا ہے

رسوائی کا میلا تھا سو میں نے نہیں دیکھا
اپنا ہی تماشہ تھا سو میں نے نہیں دیکھا

اس خواب تمنا کی تعبیر نہ تھی کوئی
بس خواب تمنا تھا سو میں نے نہیں دیکھا

نیرنگی دنیا کا منظر تھا حسیں لیکن
اس سر میں بھی سودا تھا سو میں نے نہیں دیکھا

مجھ آئینہ گر کو بھی اک پیکربے چہرہ
آئینہ دکھاتا تھا سو میں نے نہیں دیکھا

اس کی چاہت بھی نہیں اپنی تمنا بھی نہیں
رائیگانی ہو مقدر تو مداوا بھی نہیں

حوصلہ غم کا ہمیں وسعتِ صحرا سے ملا
اب علاجِ غمِ دل وسعتِ صحرا بھی

(Visited 45 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: