کتاب سے تخلیقی طلسماتی رشتہ اور نیازمانہ —— محمد حمید شاہد

1

پہلے خالدہ حسین کا گھر بکا تھا اور اب منشا یاد کا گھر بک گیا ہے۔

یاسمین (میری اہلیہ) نے آہ بھر کر کہا: “گھرکی تعمیر یوں ہی نہیں ہو جاتی، اسے کتنی تکلیفوں اور حسرتوں سے بنایا ہوگا انہوں نے”۔ منشایاد کا گھر محض مکان یا گھر نہیں تھا، افسانہ منزل بھی تھا۔ وہ سب کو محبت کے کلاوے میں ڈال کر اکٹھا کرلینے کا ہنر جانتے تھے،خوشی غمی کا کوئی بھی موقع نکلتا، ان کے سب پیارے اس بڑے گھر میں سماجایا کرتے تھے۔ منشایاد کا اسلام آباد میں بسنا اور اپنے عزیز رشتہ داروں کو اس شہر میں بسا لینا ایک افسانے جیسا دلچسپ ہے۔ ایک افسانہ “افسانہ منزل” کا بھی ہے؛ جواسلام آباد کی ادبی تہذیب کی تاریخ ہونے کے باوجود بک جانے سے نہ بچ سکا۔ وہ عمارت تو اب بھی وہیں ہے، جب تک اس کا خریداراسے گرا کراپنی مرضی کے مطابق نئے سرے سے تعمیر نہیں کروا لیتا، منشایاد کے نام سے سرکاری طور پر موسوم سڑک پر اسی طور موجود رہے گی، مگر اب وہاں ایسی کوئی عمارت نہیں ہے جس کو “افسانہ منزل” کہا جا سکے گا۔

ہم میاں بیوی اسی عمارت کے ڈرائنگ ڈائنگ میں تھے، اور حسرت سے ایک ایک شے کو دیکھ رہے تھے۔ وہ جو شاعرنے کہا تھا، ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم، تو ایسے کئی نایاب لوگوں سے ہماری یہیں ملاقاتیں رہی تھیں۔ جب کوئی بزرگ ادیب یا شاعر دوسرے شہر سے اسلام آباد آتا تو منشایاد کا فون آ جاتا،اور ہم جھٹ وہاں پہنچ جاتے۔ ڈرائنگ ڈائنگ سےمتصل ان کے پڑھنے لکھنے کا کمرہ تھا۔ منشایاد کی زندگی کے آخری برسوں میں لگ بھگ ہر روزہم اس میں بیٹھا کرتے تھے۔ ابھی میں شام دفتر سے چھٹی کرکے نہ نکلا ہوتا کہ ان کا فون آجاتا،”گھر نہیں جانا، ادھر ہی آ جائو”۔جو انہوں نے لکھا ہوتا وہ سناتے، جو میں نے لکھا ہوتا میں سناتا۔ میری یاد داشت کے کینوس پروہاں کا ایک ایک منظرروشن ہے۔ دیواروں کے ساتھ کتابوں سے بھری ہوئی کارنسیں اور الماریاں، ایک طرف کمپیوٹر، پرنٹر، سکینر اورڈی وی ڈی پلیئر۔ جس طرف کھڑکی تھی، اس طرف کی میز پرترتیب سے رکھی ہوئی نئی کتابیں، رسالےاور ایک امتحانی گتا جس کی چٹکی میں اسی سائز کے پرچوں کا پورا دستہ جما لیا گیا ہوتا۔ ایک بار منشایاد کی موجودگی میں ان کی بیگم نے ہنستے ہنستے بتایا تھا کہ، وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ریٹائر نہیں ہوئے تھے۔ ہر صبح لکھنے پڑھنے کے اس کمرے میں آنے سے پہلے یوں تیاری کیا کرتے جیسے دفتر جانا ہو۔ نہا دھو کرصاف ستھرے کپڑے پہن کر اور بالوں کو اپنے ڈھب پر بٹھانے کے لیے کنگھی کرکے ہی وہ اس کمرے میں آکر بیٹھ جاتے، بھابی صاحبہ نے درست کہا تھا، یہی ہمارا مشاہدہ بھی تھا۔ امتحانی گتے کی چٹکی تلے سلیقے سے دبائے گئے کاغذ پرسکے والی پنسل سے لکھنا انہیں مرغوب تھا اور اس مقصد کے لیے لکھنے سے پہلے وہ کئی پنسلوں کو نہایت نفاست سے تراش کر ایک ترتیب میں رکھ لیا کرتے تھے۔ میں نے کہیں لکھا تھا کہ ان کے لکھنے کا اہتمام یوں تھا جیسے وہ عبادت کرنے جا رہے ہوں توان کے انہی معمولات پیش نظرکہا تھا۔ بھابی صاحبہ اوران بیٹےفرخ کے ساتھ ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل پر پہنچے جہاں ان کی کتابوں کا ذخیرہ تھا، وہیں منشایاد کے چھوٹے بیٹے کاشی سے بھی ملاقات ہو گئی۔ یہاں ہر ریک پر نمبر لگے تھے۔ افسانہ، ناول، تنقید، تاریخ، تہذیب سب ان کے پسندیدہ موضوعات تھے اور ان پر کیا کیا نادر کتب ایک قرینے سے سجی ہوئی تھیں۔ پنجابی کی الگ، انگریزی اور اردو کی الگ۔ وہ ہر سال کے ادبی پرچوں کو جلد کرواکر اپنے مخصوص گوشے میں سجا لیتے تھے۔

یہ سب اب نہیں رہے گا کہ افسانہ منزل، جو منشایاد کا گھر تھا، بک گیا ہے۔ کتابیں شیلفوں اور الماریوں سے نکالی جارہی ہیں کہ اب اس گھر میں ان کی گنجائش نہیں ہے۔ افسانہ منزل، اب محض ایک افسانہ ہو کر رہ گیا ہے۔

کتاب جب جب ہاتھ میں آتی ہے پڑھنے والے کو مطالعے کی ایک تہذیب کے مقابل کرکے اس کے خون میں رچ بس جاتی ہے۔ جب تک میرے لہو میں اس کی تاثیر باقی ہے میں کاغذ پر چھپی ہوئی کتاب کو ہاتھ سے کیسے جھٹک سکتا ہوں۔

بتا چکا ہوں کہ کچھ دن پہلے خالدہ حسین کے گھر کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ ان کا انتقال ہو گیا تھا اور وہ سارے جیتے جاگتے منظر جو میری آنکھ نے دیکھ رکھے تھے، وہ بھی مر گئے تھے کہ ان کا گھربک گیا تھا۔ آخری برسوں میں جہاں ان کا بستر لگا ہوا تھا، وہاں ادھر ادھر کتابیں ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے کچھ کتابیں تو یاسرہ بیٹی نے بتایا تھا کہ انہوں نے رکھ لی تھیں باقی کہاں ہوں گی کون جانتا ہے؟ اپنے بستر مرگ پر ہی انہوں نے مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ان کے افسانوں پر لکھوں، نئے افسانوں پر اور ان کی ایک کتاب بنا لی جائے۔ وہیں ان کے آس پاس پڑی کتابوں کے ساتھ ان کے افسانوں کی ایک نامکمل فائل مل گئی تھی۔ یاسمین نے کہا میں ابھی اس کی فوٹو سٹیٹ کروا لاتی ہوں۔ خالدہ حسین نے محبت سے انہیں دیکھا اور کہنے لگیں، “بعد میں کروالینا اب رات ہو گئی ہے” یاسمین نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا “ایک لکھنے والا اپنے مسودوں کے ساتھ جس طرح وابستہ ہوتا ہے وہ میں جانتی ہوں، آپ کو نیند کہاں آئے گی۔” پھر خالدہ حسین کی جانب جھک کر اضافہ کیا “آپ کو فکر رہے گی کہ افسانے ادھر ادھر نہ ہو جائیں، اصل مسودہ آپ کے پاس رہنا چاہیے۔” خالدہ حسین کے گھر کے قریب ہی مارکیٹ سے مسودہ فوٹو سٹیٹ ہوا اور اصل پھر کتابوں کے اوپر وہیں پہنچ گیا جہاں پہلے تھا۔ کچھ افسانے آصف فرخی اور امینہ بی بی کے ہاں سے مل گئے کہ وہ بھی ان سے رابطے میں تھے۔ کچھ دنوں میں کتاب بن گئی تو جو میں نے لکھنا تھا لکھ دیا اور کتاب چھپ گئی۔ خالدہ حسین نے یہیں، اسی بستر پر بیٹھے بیٹھے اپنی آخری کتاب “جینے کی پابندی” پر میرے لیے محبت بھرے جملے لکھے اور کچھ ہی دنوں بعد جینے کی پابندی سے نکل گئیں۔ ان کا مرنا تھا کہ سب افسانہ ہو گیا وہ گھر اور اس میں موجود کتابیں کہ ان کا گھر بھی بک گیا تھا۔

یہ سب میں لکھنے یوں بیٹھ گیا ہوں کہ اُدھر کراچی سے میرے افسانہ نگار دوست آصف فرخی نے خبر دی ہے کہ ان کی بیٹی باہر سے آتے ہوئے ان کے لیے کتابیں پڑھنے والا ایک کھلونا لے آئی ہیں، جی کنڈل جس میں لائبریریاں سما جاتی ہیں اور اپنے مطلب کی ہر کتاب پڑھی جا سکتی ہے۔ میں ایک گھر کا تصور باندھتا ہوں جس میں چھت تک دیواروں کے ساتھ، پڑھنے والے کے ہاتھوں کا لمس سمیٹے کتابیں لگی ہوئی ہیں، یہ منظر فشوں کرکے غائب ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک کھلونا لے لیتا ہے جس کا ڈسپلے ایک کتاب کی طرح میرے سامنے کھلتا ہے۔ میں اس کا تصور ڈھنگ سے باندھ نہیں پاتا کہ اِدھر ہمارے ایک اور شاعر اور نقاد دوست قاسم یعقوب اپنے ادبی جریدے”نقاط” کا ضخیم کتاب نمبر تھما جاتے ہیں۔ میں نقاط کھولتا ہوں تو میری توجہ اس رواں منظر نامے کی طرف ہو جاتی ہے جس میں کتاب گھر بدر ہو رہی ہے، کتاب مر رہی ہے، کتاب بدل رہی ہے اور کتاب سے طلسماتی رشتہ کمزور ہو رہا ہے۔ نقاط کے کتاب نمبر میں پڑھنے کو بہت کچھ ہے اس امید کے ساتھ کہ سماج کی مثبت بنیادوں پر تشکیل کا اگر کہیں امکان آج بھی ہے تو وہ کتاب کلچر ہی میں ہے جہاں سے تہذیبی اقدار کو تازگی ملے گی۔

خالدہ حسین کی بیٹی یاسرہ سے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ باقی کتابیں کہاں گئیں؟ پوچھتا تو نہ جانے کیا جواب ملتا۔ منشایاد کےبیٹے فرخ نے بتایا کہ سب کتابیں نیشنل لائبریری کو دے دی گئی ہیں۔ کچھ مجھے بھی عطا ہوئیں جو میں گھر لے آیا اور اپنے ذخیرے میں ڈال لیں۔ یاسمین نے کتابوں کے اس ذخیرے کو دیکھا اور کہا ہمارے بعد ان کتابوں کا کیا ہوگا؟

یہ جملہ سننا تھا کہ دِل بیٹھ گیا۔ کئی منظر میری آنکھوں میں گھوم گئے۔ ہر کتاب کے ساتھ ایک کہانی وابستہ تھی۔ کتاب کے متن کے علاوہ ایک کہانی۔ کتاب کے حصول سے اس شیلف میں سجائے جانے کی کہانی، اسے پڑھنے اس سے کچھ اخذ کرنے یا اس رد عمل کی کہانی جو میرے یادداشت کا لازمی حصہ ہو گئی تھی۔ جب میں گھر بنا رہا تھا تو تہہ خانے میں ایک بڑا سا ہال اس لیے بنوالیا تھا کہ اس میں لائبریری بنوائوں گا۔ میری بیٹی ثنا نے نقشہ بنوانے میں میری مدد کی یہاں سے سیڑھیاں اتریں گی، اور یہاں سے وہاں تک شیلف بنیں گے اور ادھر اس دیوار پر کوئی پینٹنگ یا تصویر لگائیے گا اور یہاں آپ کے لکھنے والی میز ہو گی۔ اس خواب کو تعبیر کیسے ملی، یہ میں ہی جانتا ہوں مگر اب ایک دھڑکا سا لگ گیاہے کہ ہمارے بعد کیا ہوگا؟ نقاط میں رضا علی عابدی کی تحریر نظر میں گھوم گئی” کس کے گھر جائے گا سیلاب کتب؟”

میں صدمے کی کیفیت سے نکل کر سوچتا ہوں تو سوجھتا ہے کہ ہمارے بعد وہی ہونا ہے جس عمل کا آغاز ہمارے جیتے جی ہو چکا ہے۔ میرے ذخیرے میں ایسی کتب موجود ہیں جو کسی کے مرتے ہی فٹ پاتھ پرآ گئی تھیں یا پرانی کتابوں کی دکانوں پر۔ کچھ کتابیں تو میں نے اس شخص سے خریدی تھیں جوہمارے ہاں پرانے گھر میں ردی خریدنے آیا کرتا تھا۔ ان میں کچھ کتابیں ایسی تھیں کہ ان پر مصنف کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی عبارت موجود تھی جو مرنے والے سے ایک خاص قلبی تعلق کو ظاہر کرتی تھی۔ یہ الفاظ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے کوئی معنیٰ نہیں رکھتے۔ ہمارے مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ میری سماعتوں سے بیگم کے الفاظ مسلسل ٹکرا رہے ہیں۔ یوں نہیں ہے کہ ہماری اولاد کتاب سے وابستہ نہیں، مگر وہ جنوں نہیں جو ہمیں ودیعت ہواہے کہ کتابیں ذخیرہ کیے جائیں۔ ایسے میں وہی ہونا ہے جو ہماری آنکھیں دیکھ رہیں ہیں۔ کچھ دن پہلے افتخار عارف بتا رہے تھے کہ انہوں نے بہت ساری کتابیں لائبریری کو عطیہ کی ہیں۔ ابھی ابھی نقاط میں پڑھا ہے کہ ڈاکٹر معین الدین عقیل کا کتب خانہ ملک بدر ہو کرجاپان کی کیوتو یونیورسٹی میں پناہ گزیں ہو گیا ہے۔ مرنے کے بعد کا کیا احوال، یہ تو جینے والے ادبدا کر زندگی میں ہی کر رہے ہیں۔

مجھے یاد ہے منشایاد ان لوگوں میں سے تھے جو کمپیوٹر پر لکھنے کی طرف بہت آغاز میں ہی متوجہ ہو گئے تھے۔ تاہم پہلی باروہ کاغذ پر ہی لکھا کرتے، چاہے وہ بہت خام صورت میں ہی کیوں نہ ہوتا، پھر اسے کمپیوٹر پر منتقل کر لیتے اور وہاں اس کی صورت نکھارتے رہتے۔ لگ بھگ یہ وہی زمانہ ہے جب مجھ سے بھی کا غذ قلم چھوٹ چکا تھا اور جوں ہی کوئی خیال سوجھتا میں کمپیوٹر کی طرف لپکتا اور ‘کی بورڈ’ پر انگلیاں جما کر خیال کے بہائو کے ساتھ ساتھ انہیں حرکت دیے چلا جاتا تھا۔ ایسے میں اگر کوئی یہ کہتا کہ وہ وقت آنے والا ہے جب کاغذ پر لکھنے کا رواج ختم ہو جائے گا تو یہ انہونی بات نہ لگتی تھی۔ دفاتر میں “پیپر لیس” ای فائلنگ کے سوفٹ ویئرز کے چرچے ہونے لگے تھے۔ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، کریڈٹ کا رڈ اور اس سے بھی آگے ‘ای ٹرازیکشنز’ تک آتے آتے ہم یہ بھی سننے لگے تھے کہ بہت سے اخبارات اور جرائد انٹر نیٹ پر منتقل ہونے کے بعد کاغذ پر چھپنا بند ہونے لگے ہیں۔ اب تو ایسی خبریں معمول کا حصہ ہو گئی ہیں۔ ایسے میں کتاب کیسے پیچھے رہ سکتی تھی سو یہ بھی اب اس ٹیکنالوجی کے طفیل ‘ای بک’ ہونے لگی ہے۔

جب ہم ای بک کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے امکانات کا ایک نیا سلسلہ کھل جاتا ہے۔ ای کتاب تو بیس سے زیادہ فارمیٹ میں دستیاب ہے۔ ان میں پی ڈی ایف، الیکٹرانک پبلی کیشن، کنڈل بکس وغیرہ بہت معروف ہیں۔ پی ڈی ایف یعنی پورٹ ایبل ڈاکومنٹ فارمنٹ سے ہم روزمرہ کی دستاویزات کا تبادلہ بھی کرتے رہتے ہیں اور پوری کی پوری کتابیں، اسکین کرکے، یا مسودے کی سوفٹ کاپی کو کنورٹ کرکے بالکل اس فارمیٹ میں لے آتے ہیں کہ وہ اسی کتاب جیسی لگتی ہے جس کے ہم عادی ہوتے ہیں۔ اپنے پسندیدہ ڈایزائن کے مطابق کتاب بنانا اور اسے خوب صورت (چاہیں تو رنگین تصاویر، نقشہ جات وغیرہ کے ساتھ) شائع کرنے کی سہولت ایسی ہے کہ اس کتاب سے دلچسپی رکھنے والے جہاں بھی ہوں فورا کتاب حاصل کر کے اپنے ہاں محفوظ کر سکتے ہیں۔

ای پبلی کیشن میں انہیں اس مقصد کے لیے بنائی گئی مختلف ڈیواسز جیسے سونی ریڈرز، نوک، آئی فون، آئی پیڈ، اینڈرائڈ فون وغیرہ پر بہ سہولت پڑھا جاسکتا ہے جبکہ کنڈل والوں نے اپنی ڈیوائس کے لیے الگ فارمیٹ بنایا ہوا ہے، اس میں مطالعے پر آپ بک مارک رکھ سکتے ہیں، لغت کا استعمال کر سکتے ہیں، اور اس طرح کی دوسری سہولیات سے اپنے مطالعے کو اور زیادہ بامعنی بنا سکتے ہیں۔ اچھا، یہ جو بستر پر لیٹ کر چھاتی پر رکھ کر کتاب کے صفحے الٹنے کا لطف ہے، وہ بھی ان ڈیواسسزمیں کسی حد تک فراہم کر دیا گیا ہے۔وہ کتابیں جو نیٹ پر یونی کوڈ میں فراہم کی گئی ہیں، سہولت سے تلاش کی جاسکتی ہیں، نہ صرف کتابیں تلاش ہو سکتی ہیں مواد بھی چھانٹا جا سکتا ہے۔ یہ سب سہولیات محدود چھپنے والی کاغذی کتاب میں نہیں ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں :

اصل مسئلہ کتاب کے فارمیٹ کا نہیں کتاب فہمی کا ہے۔

1۔ ای بک زیادہ سہولت سے میسرآسکتی ہے۔
2۔ اس کوکئی گنا زیادہ لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے
3۔ کتاب کی ترسیل میں وقت اور سرمائے کی بچت ہوتی ہے
4۔ کتاب کوہارڈ ڈسکٹ میں ڈال کر یا انٹرنیٹ کے ذریعے لمبے عرصے کے لیے محفوظ بنا یا جا سکتا ہے
5۔ ای بک کہیں زیادہ سہولت سے پڑھی جا سکتی ہے۔
6۔ سرچ ایبل ہونے کی وجہ سے حوالہ جات فوری طور پر تلاش کیے جاسکتے ہیں اور زیادہ تیزی سے مواد سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ

میں منشایاد کے گھر سے جو کتب اٹھا لایا تھا، ان میں ایسی بھی پرانی اور نادر کتابیں تھیں جن کے کاغذ پیلے پڑ گئے تھے۔ان بوسیدہ صفحات کو پڑھتے ہوئے بار بار میری آنکھوں سے پانی بہنے لگتا تھا۔ ایک کتاب اتنی پرانی تھی کہ اس کے صفحات سے اٹھنے والے تیز بو سے یاسمین کی الرجی کا عارضہ جی اٹھااور سانس رواں رکھنے کے لیے دوا کے پف لینے پڑے، جتنا وقت میں وہ کتاب پڑھتا رہا دور ایک کونے میں رہا۔ ای بک کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کتاب چاہے جتنی پرانی ہو،کاغذ کے اس طرح کی ناگوار بواوراثرات سے بچا جاسکتا تھا۔

ای کتاب کی اتنی” فیوض و برکات” کے باوجود میرا یقین ہے کہ روایتی کتاب کی اہمیت برقرار ہے اور برقرار رہے گی۔ نقاط کے سولہویں شمارے کے خاص نمبر کے مطالعے کے بعد میرا روایتی کتاب سے عشق اور بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ میرے پاس اس کا ایک جواز ہے۔ ممکن ہے،وہ جان لینے کے بعد، اور اس تجربے سے گزرنے کے بعد جس سے میں گزرا ہوں، آپ بھی اسی طرح سوچنے لگیں جس طرح میں سوچ رہا ہوں۔ جی، یہ جواز میں پہلے بھی کہیں عرض کر چکا ہوں اور ایک بار پھر دہرائے دیتا ہوں کہ اصل مسئلہ کتاب کے فارمیٹ کا نہیں کتاب فہمی کا ہے۔ محض کتاب فہمی بھی نہیں موثر مطالعے کا بھی۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ابھی تک موثر مطالعے کا سب سے موثر ذریعہ روایتی کتاب ہی ہے۔ جی یہ میں اس کے باوجود کہہ رہا ہوں کہ میں نے گذشتہ چند سالوں میں بہت زیادہ ای بکس پڑھی ہیں اور میری اپنی درجن بھر کتابیں ریختہ والوں نے ای بکس کی صورت میں فراہم کر رکھی ہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ پیپر بک کے مطالعے کے دوران ہی میں متن پر زیادہ توجہ مرکوز کر پاتا ہوں۔ اچھا ہو سکتا ہے ایسا اس لیے ہوں کہ ہمارے مطالعے کی تربیت میں روایتی کتاب دخیل رہی ہے اور جب نئی نسل جس کا کلی انحصار ای کتاب پر ہوگا، وہ اس مشکل کو محسوس نہ کرے۔ خیر اس باب میں ایک ریسرچ پیپر کی طرف دھیان جاتا ہے، کچھ سال پہلے نیٹ پر یہ ریسرچ پیپر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق ناروے کی استاوانگر یونیورسٹی کی این مانگان نے کنڈل پرای کتاب کو کاغذ پر طبع روایتی کتاب پر ایک جیسا مواد پچاس قارئین کو مہیا کیا تھا۔ اس نے اٹلی میں ایک کانفرنس میں اپنی ریسرچ کے نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جومواد پڑھنے والوں کو دیا گیا وہ الزبتھ جارج کا لکھا ہوا 28 صفحات پر مشتمل ایک افسانہ تھا۔ آدھے قارئین کو کاغذ پرطبع شدہ افسانہ پڑھنا تھا اور باقی نصف کو کنڈل پر ای کتاب میں۔

این مانگان (جو اپنے کام کی وجہ سے ریسرچ کے شعبے میں وہاں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں) نے مطالعے کی اس نئی سہولت کا بہت گہرائی میں مطالعہ کیا اور بعد ازاں دونوں طرح کے قارئین کو ایک امتحان سے گزارا گیا۔ ایسا کرتے ہوئے نوٹ کیا گیا تھا کہ وہ قارئین جنہوں نے کاغذ پر مطبوعہ افسانہ پڑھا تھا یا وہ جنہوں نے کنڈل پر پڑھا ان کی کہانی پر بظاہر گرفت ایک سی تھی مگر جب 14 واقعات کی درست درست ترتیب بیان کرنے کی باری آئی تو کنڈل پر پڑھنے والے ایسا کرنے سے قاصر تھے جبکہ کاغذ پرمطبوعہ افسانہ پڑھنے والے اسے بہتر طور پر اور مقابلتا درست ترتیب میں بیان کر سکتے تھے۔

کتاب کے کاغذ کو چھو کر پڑھنا اور کاغذ کو انگلی سے کناروں سے دبا کر اس کے ایک حصے کو روشن کر لینا یا اس طرح کے کئی اور حربے مطالعے کے دوران بظاہر کوئی معنی نہیں رکھتے مگر یہ ایک سطح ہر انسانی فہم سے معاملہ کر رہے ہوتے ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ بہت سی ایسی کتابیں جو کہیں دستیاب نہیں تھیں، مارکیٹ میں اور لائبریریوں میں بھی، وہ میں نے نیٹ پر پڑھیں اور اگر وہ وہاں میسر نہ ہوتیں تو میں انہیں نہ پڑھ سکتا تھا کہ وہ میری دسترس میں شاید کبھی نہ آتیں۔ ممکن ہے میں انہیں کوشش کرتا تو حاصل کرلیتا مگر اس کوشش کے لیے بھی ایک غیر معمولی ارادے اور عملی اقدام کی ضرورت ہوتی۔ خیر اب وہ کتابیں میری انگلی کے ایک اشارے پر حاضر ہو سکتی تھیں۔ مگر اس کے باوجود میں اس کتاب کا بھی حامی ہوں جو کاغذ پرچھپتی ہے۔ سرعت ترسیل اور فوری دسترس کے باب میں، میں ٹیکنالوجی کی اہمیت کو مانتا ہوں مگرموثر مطالعے کے لیے کتاب زندہ باد کہ اس کا تجربہ میں نے خود کرکے دیکھا ہے۔ کاغذ پر چھپی وہ کتاب جو گھر بدر ہو رہی ہے، ملک بدر ہو رہی ہے، جنگ میں حملوں کے درمیان تباہ ہو رہی ہے، مرنے والے اپنے پیچھے چھوڑ رہے ہیں، بوجھ بن کر ردی میں تل رہی ہے، فٹ پاتھوں پر بک رہی ہے اور بہ قول افتخار عارف، وہ کتاب بھی جو کیچڑ میں گر پڑی ہے؛ یہ کتاب جب جب ہاتھ میں آتی ہے پڑھنے والے کو مطالعے کی ایک تہذیب کے مقابل کرکے اس کے خون میں رچ بس جاتی ہے۔ جب تک میرے لہو میں اس کی تاثیر باقی ہے میں کاغذ پر چھپی ہوئی کتاب کو ہاتھ سے کیسے جھٹک سکتا ہوں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت ہی دل نشین پیراۓ میں لکھا گیا
    درد مندی اور لگاؤٹ بھی ہر لفظ ہر کیال سے وابستہ ہے

    کراچی میں کتاب کو دیمک برباد کردیتی ہے
    فرنیچر مہنگا
    صفائی کا الگ مسئلہ
    ہم نے تین ڈسکس اور آئی پیڈ پر ڈیڑھ لاکھ کتابین جمع کررکھی ہیں
    آئی پیڈ پر کتاب پڑھنا بڑی سہولت ہے
    اصلی کتاب سی ہاداشت کا لگاؤ فطری ہے
    اور آئی ہیڈ سے بد دلی والا
    جیتے رہیں
    لکھتے رہیں
    آپ بہت دل سے لکھتے ہیں
    دعاگو
    اقبال دیوان

Leave A Reply

%d bloggers like this: