فواد چودھری کی باتیں — قابلِ غور بھی ہیں —– اورنگ زیب نیازی

0

فواد چودھری کا مذاق اُڑانا ٹھیک کہ ہماری سیاست میں بد تہذیبی کی روایت سؤر کے بچے، کتے کی اولاد، کوکا کولا پیپسی۔ ۔ ۔ ۔ ٹیکسی، چکلے میں ایک کوٹھا۔ ۔ ۔ کے لیے سے ہوتی ہوئی اوئے، ٹیکنیکل فالٹ، ٹریکٹر ٹرالی، پنڈی کا گٹر، انگلی، صاحبہ اور کھسرے تک آپہنچی ہے۔

جب سے بندر کے ہاتھ میں استرا یعنی فیس بک آئی اور ہر بوالہوس نے ’’دانشوری‘‘ شعار کر لی تب سے تہذیب اور بد تہذیبی کی حد فاصل کا نشان بھی مٹ گیا۔ فواد چودھری کے منہ سے جو پھلجھڑیاں پھوٹتی رہی ہیں، ان کے نتیجے میں اسے وزارت اطلاعات و نشریات کے قلم دان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اب اسے سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت دینا بھی قابل افسوس ہے کہ اس کی تعلیم بھی رانا تنویر اور زاہد حامد جتنی ہے۔ درحقیقت ہمارے ہاں تعلیم اور سائنس کی وزارتیں ’’گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے’’ یا محض ’’بھگتانے‘‘ کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ 2013ء کے الیکشن سے پہلے ہماری سیاست میں اقبال اور نوجوانوں کا ذکر ہوا تو اس وقت کی پنجاب حکومت کے وزیر، مشیر اور ایم پی ایز تعلیمی اداروں میں زبردستی گھسنے لگے۔ تین تین ماہ تک عوام کو شکل نہ دکھانے والے اپنی فرمائش پر بہ طور مہمان خصوصی ہمہ وقت مفت دستیاب ہو گئے۔

یوم اقبال کے قریب لاہور میں ہمارے کالج کو دربار سرکار سے حکم آیا کہ یوم اقبال کی ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جائے جس کے مہمان خصوصی وزیر تعلیم پنجاب (واؤ اضافی) ہوں گے۔ عین بروز تقریب صبح سویرے دوسرا حکم یہ آیا کہ وزیر صاحب کے لیے تقریر بھی آپ ہی لکھ کر دیں۔ پرنسپل نے شعبہء اردو کے صدر پروفیسر سلیم الرحمان صاحب کو کچی نیند سے جگا کر کالج طلب کیا، سلیم صاحب ٹھہرے پرانے وقتوں کے پڑھے لکھے آدمی؛ اپنے مخصوص اسلوب میں دو صفحے کی تقریر لکھ دی۔ وزیر صاحب حسب معمول دو گھنٹے تاخیر سے پہنچے اور آتے ہی تقریر طلب کی۔ ہاتھ سے لکھی تحریر پڑھ نہ سکے چناںچہ فوری طور پر تقریر کمپوز کرائی گئی۔ اب سٹیج پر تقریر پڑھنی شروع کی تو مشکل الفاظ پڑھے نہ جائیں۔ ایک بار پھر تقریر کے مصنف کو طلب کیا گیا، وہ ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ہر مشکل مقام پر لقمہ دینے لگے۔ یہ مزاحیہ ڈرامہ دیکھ کر ہال میں سے کھسر پھسر اور زیر لب استہزائیہ آوازیں آنے لگیں۔ چار منٹ بعد وزیر صاحب نے کاغذ لپیٹ کر ایک طرف رکھا اور اقبالیات کو چھوڑ کر اپنے اصل موضوع ’’عمرانیات‘‘ پر آگئے۔ اپنے لیڈر کی پیروی میں ابھی مائیک توڑنے بھی نہ پائے تھے کہ کچھ طالب علم شور مچانے لگے کہ یوم اقبال کی تقریب ہے، آپ صرف اقبال پر بات کریں۔ وزیر صاحب کھسیانے ہو کر پاؤں پٹختے ہوئے سٹیج سے اترے اور چلتے بنے۔

سائنس کے میدان میں ایسا ہی کچھ حال فواد چودھری کا بھی ہے مگر وہ باز نہیں آتے اور آئے دن کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن کچھ باتیں انھوں نے ایسی کی ہیں جو واقعی قابل غور ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، میڈیا اور بغض بھرے دانشور لٹھ لے کر پیچھے پڑے ہوں، ایک حکومتی وزیر کی طرف سے ایسی باتیں کہہ جانا حیران کن بھی ہے اور جرأت مندانہ بھی۔

پہلی بات: وزارت اطلاعات کے دنوں میں پی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہم نیوز چینلز کو پیچھے کریں گے اور ثقافتی اور تفریحی چینلز کو پروموٹ کریں گے۔ اب اسے ان کی سادگی یا بے وقوفی کہیے کہ انھوں نے اپنا ارادہ ظاہر کر دیا۔ ورنہ یہ کون نہیں جانتا کہ میڈیا اور اس کے اینکرز عالمی سرمایہ دار قوتوں کے دلال ہیں، یہ حقیقت سمجھنے کے لیے کسی آئن سٹائن کے دماغ کی ضرورت نہیں کہ ایک بڑا نیوز چینل کھولنے کے لیے ایک سے دو ارب روپے درکار ہوتے ہیں، کوئی سرمایہ دار اتنی بڑی رقم ملک و قوم کی خدمت اور عوام کو سچ بتانے کے لیے نہیں لگاتا۔ اس کا پہلا، آخری اور واحد مقصد منافع کا حصول ہوتا ہے اور اس کے ملازمین بھاری تنخواہوں پر صرف اس کے مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ اب اتنے طاقت ور ہو چکے ہیں کہ جب چاہیں، جس کی چاہیں مٹی پلید کر کے رکھ دیں۔ اکثر دیکھا گیا کہ لائیو شوز میں سینیئر سیاست دانوں کو گالیوں سے نوازا جاتا ہے۔ ایک سیاسی صحافی ببانگ دہل کہتا ہے کہ اس کا دل منتخب وزیر اعلیٰ کو تھپڑ مارنے کو کرتا ہے اور کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ پچھلی دو سیاسی حکومتوں نے اپنی مدت پوری کر لی، یہ حکومت بھی گرتے پڑتے اپنی معیاد مکمل کر لے گی لیکن ملک میں سیاسی عمل کو جاری رکھنا ہے اور جمہوریت کو کوئی سمت دینی ہے تو پھر اس طاقت ور سانڈ کے لیے بھی حدود کا تعین کرنا پڑے گا۔

دوسری بات: اس رمضان کے آغاز میں فواد چودھری نے کہا کہ ہم رویت ہلال کمیٹی ختم کر کے ایک مستقل قمری کیلنڈر بنائیں گے تاکہ آئے روز کے جھگڑے سے ہمیشہ کے لیے جان چھوٹے۔ بات یہ بھی درست ہے کہ دنیا چاند پر جا پہنچی ہے اور ہم ہر سال اس بات پر جھگڑ رہے ہوتے ہیں کہ چاند نکلا یا نہیں۔ سائنس اس حد تک ترقی کر چکی ہے کہ چاند کی قبل از وقت پیش گوئی کرنا کوئی ناممکن بات نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف سے واحد مضبوط دلیل یہ دی جاتی ہے کہ دین میں چاند دیکھ کر روزہ اور عید کرنے کا حکم ہے تو عرض یہ ہے کہ تیس کا چاند تو واضح اور یقینی ہوتا ہے، ہر کوئی دیکھ لیتا ہے لیکن انتیس کا چاند بالعموم انسانی آنکھ سے، ہر جگہ دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ مفتی صاحب اور ان کے چند ساتھی، جدید سائنسی آلات کی مدد سے چاند دیکھتے ہیں اور جدید سائنسی آلات کی مدد سے لوگوں کو خبر دیتے ہیں۔ کروڑوں لوگ خود سے چاند نہیں دیکھ پاتے، وہ مفتی صاحب کے اعلان پر روزہ اور عید کرتے ہیں تو کیا ان کی عید ہوتی ہے یا نہیں؟ رمضان اور عید چاند چڑھنے سے وابستہ ہیں جب ایک دوسری فرض عبادت نماز سورج کے ساتھ۔ ملک بھر میں روزانہ پانچ وقت کی نماز گھڑی دیکھ کر پڑھی جاتی ہے نہ کہ سورج دیکھ کر۔ اگر نماز گھڑی کے وقت پر پڑھی جا سکتی ہے تو رمضان اور عید قمری کیلنڈر کے مطابق کرنے میں کیا حرج ہے؟

تیسری بات: فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مساجد کے اماموں کی تنخواہ مقرر کی جائے اور جمعے کا یکساں خطبہ نافذ کیا جائے۔ یہ بھی کوئی انہونی نہیں۔ بیشتر اسلامی ممالک میں یہی دستور رائج ہے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو امام صاحبان بھی قومی دھارے میں شامل ہوکر مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور یکساں خطبہ فرقہ واریت اور مذہبی شدت پسندی کو کم کرنے میں یقینا معاون ثابت ہو گا۔

فواد چودھری سے اختلاف اپنی جگہ لیکن اس کی یہ باتیں قابل غور ہیں۔ حیرت ہے کہ ہر چھوٹی بڑی بات پر پیالی میں طوفان اُٹھانے والا روشن خیال طبقہ ــ ’’بغض معاویہ‘‘ میں اس قدر گونگا، بہرا ہو چکا ہے کہ اسے بھی ان معاملات کے ثمرات بھی نظر نہیں آرہے۔ جلد یا بدیر اس قوم کو ان خطوط پر سوچنا پڑے گا ورنہ تو خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔

(Visited 99 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: