قلزم کے اس پار: افتخار ملک کا سفر نامہ —— تبصرہ: نعیم الرحمٰن

0

’’قلزم کے اس پار‘‘محترم افتخارحیدر ملک کا منفرد سفرنامہ ہے۔ جس کا ذیلی عنوان ایتھنز سے برکلے تک ایک مورخ کے ساتھ دے کرواضح کیا گیا ہے کہ یہ صرف سفرنامہ نہیں ان علاقوں کا ایک تاریخی جائزہ بھی ہے۔ ایمل پبلشرزکی روایتی دیدہ زیب طباعت نے کتاب کوچار چاند لگادیے ہیں۔ تین سوصفحات کی کتاب کی قیمت پانچ سواسی روپے بھی انتہائی مناسب ہے۔ ایمل مطبوعات نے بہت مختصروقت میں مطالعے کے شوقین قارئین کے دلوں میں گھرکرلیا ہے۔ ’قلزم کے اس پار‘ بھی ایسی ہی ایک تصنیف ہے۔

سفرنامے کے مصنف پروفیسر افتخارحیدر ملک نے پنجاب یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ جس کے بعد مشی گن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ جس کے بعد انہوں نے نیوریارک، برکلے اور اسلام آباد کی جامعات میں تدریسی فرائض انجام دیے۔ 1989ء سے وہ آکسفورڈاور باتھ سپا کی دانش گاہوں میں تاریخ کے پروفیسر متعین رہے۔ جنوبی ایشیا، اسلامی تاریخ و ثقافت اورمغرب میں مسلمان معاشروں پراٹھارہ تحقیقی کتب اوردرجنوں مقالے تنصیف کرچکے ہیں۔ پروفیسر ملک رائل ہسٹوریکل سوسائٹی کے فیلو اور وولفسن کالج آکسفورڈ کے سینئر ممبر ہیں۔ ان کی حالیہ کتاب پشتونوں کی تاریخ اور پاکستان و افغانستان کی سیاسیات پر لندن سے دوہزارسولہ میں شائع ہوئی تھی۔ وہ اس کے بعد سرسید احمد خان، جسٹس امیرعلی اورسرفضل حسین پرتحقیق کررہے ہیں۔ ’قلزم کے اس پار‘ پروفیسر افتحار حیدر ملک کی پہلی اردوتصنیف ہے جو یونان، جنوبی فرانس اور امریکا کے تعلیمی اور ثقافتی تاثرات پرمبنی ایک اہم کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے انیس سوتراسی چوراسی کے ذاتی مشاہدات کاجائزہ بھرپورانداز میں پیش کیا ہے۔ تحریرکے ذریعے انہوں نے سلیس اورعام فہم زبان میں مشرق ومغرب کونزدیک سے دیکھنے کی ایک کوشش کی ہے۔ اس تاثرنامہ میں تاریخی، تدریسی اورتفریحی مقامات کا سیاحتی جائزہ بھی لیاہے اورمغرب کے ثقافتی اورعلمی اثاثوں کا تجزیہ بھی قارئین کے سامنے پیش کیاہے۔ قلزم کے اس پار پہلے مغربی تہذیبی ماخذ، یونان سے شروع ہوتی ہے اورکیلی فورنیاکی برکلے اوراسٹین فورڈ جیسی عظیم دانش گاہوں پہ اس کا اختتام ہوتاہے۔ یہ تاریخی مقامات، آرٹ گیلریوں، دانشگاہوں، دلکش وادیوں اوراہل ِ قلم کی داستان ہے۔ جواس مورخ کے عہدِ شباب کو بھی قارئین کے سامنے پیش کرتی ہے۔

اس طرح قلزم کے اس پارمحض ایک سفرنامہ نہیں۔ بلکہ ایک علمی، ثقافتی اورادبی دستاویزبھی ہے۔ جس میں یونان کی قدیم تہذیب سے لے کرامریکا کی سیاحتی عکاسی کی گئی ہے۔ کتاب کاتعارف کراتے ہوئے پروفیسرافتخارحیدرملک نے لکھاہے کہ

’’بخارااورسمرقندکے تاریخی اور لاثانی مقامات نے شعوری اورغیرشعوری دونوں طرح سے اس مسافرکو تقریباً بتیس سال قبل کے سیاحتی مطالعے کاموجودہ دیباچہ لکھنے کی تحریک دی ہے۔ یہ حُسن ِ اتفاق ہے کہ سمرقندمیں مرزا الغ بیگ کے انتہائی جاذبِ نظر مدرسے سے انیس سو بیاسی تراسی کی اس تصنیف کا پیش لفظ رقم ہوا۔ اگست دو ہزار پندرہ میں سینٹرل ایشیا کے تحقیقی اور تفریحی دورے میں، میں اپنے خیالات کوواپس اُس تعلیمی سفرکی طرف لے گیا جوبتیس سال قبل ایتھنزسے شروع ہوا تھا اوربراستہ جنوبی فرانس، انگلستان، نیویارک اورامریکا کی ریاست کیلی فورنیامیں پایہ تکمیل کو پہنچا تھا۔ اور یہ بھی حُسنِ اتفاق ہے کہ اس تعارف کی آخری سطور بھی ایتھنزکے قدیم ورثے ایکروپولس میں رومی بادشاہ، ہیڈیان کی لائبریری کے عقب میں رقم ہونا تھیں۔ ابن سینا، فردوسی، امام بخاری اور رودکی کا بخارا بھی اس تخلیقی عمل میں کافی ممد ثابت ہوا۔ کبھی یہ شہراپنے زمانے کا قدیم مسلم آکسفورڈ تھا اورآج اپنی تمام ترتاریخ اوررجائیت کے ساتھ ایک بے چین روح کی طرح نئے جنم کے انتظار میں ہے۔ ‘‘

ان مختصرسطور میں ملک صاحب نے کس کمال اختصاراوردردمندی سے یورپ اورمسلم دنیاکے علمی فرق کوواضح کیاہے۔ صدیوں پہلے قائم ہونے والی مسلم دانش گاہیں آج کس حال میں ہیں۔ اور اس دورمیں علم سے دورمغرب کی درسگاہیں کس طرح علم کے خزانے بانٹ رہی ہیں۔ دو ہزار پندرہ میں پروفیسرممتازاحمد کے ہاں شاہداعوان صاحب سے افتخارحیدرملک کی ملاقات اوران کے ادارے کی شائع کردہ گراں قدر کتب انہیں بھی اس تصنیف پرآمادہ کیا۔ جس کانتیجہ ’قلزم کے اس پار‘ کی شکل میں قارئین کے سامنے آیا۔

کتاب کے بارے میں مصنف کا کہنا ہے کہ

’’یہ تاثرات مغربی معاشروں کوقریب سے دیکھنے کی ایک انفردی کوشش ہے۔ ان بشری معاشروںکوبڑھاچڑھاکربیان کیاگیاہے اورنہ اُن کی بے جاہرزہ سرائی کی گئی ہے۔ کہیں کہیں اپنے معاشرے کیساتھ تقابل کا مقصد برتری یا کمتری کے چنگل میں پھنسانا نہیں بلکہ اسے نئے سوالات کے لیے بحیثیت مہمیزاستعمال کرنا ہے۔ نوگیارہ کے بعد کامغرب مسلمان دنیاکے لیے اپنی تمام ترجارحیت اور جاذبیت کے ساتھ ایک معمہ ہے۔ جیساکہ اہلِ مغرب کے لیے مسلم دنیا۔ یہ تحریر اس تاریخی چوراہے سے کئی سال قبل کی ہے اور شایدیہی اس کی انفردیت کااَمربنے۔ اگرچہ یہ مصنف دنیاکونیک وبدیاسیاہ وسفید کے ہمدردپیرایوں دیکھنے کا قائل نہیں لیکن ہم ایک بدلتی دنیامیں ہرلمحہ اٹھتے سوالات کوخاموش نہیں کرسکتے اورنہ ہی کرناچاہیے۔ دنیانئی تاریخ، تفسیر اورتسلسل کا مرقع ہے اور یہ خیالات اسی جذبے کے امین ہیں۔ شعوری طور پراس تحریر کوزیادہ تحقیقی اورگراں باربنانے سے احتراز برتا گیا ہے۔ یہ تمام دنیاوی معاشروں کوبشری کاوشیں بلکہ سفر گردانتی ہے۔ جہاں سکوت اور تبدیلی ہمہ وقت زیرعمل ہیں۔ یہ مغربی اقوام کومشرقی معاشروں سے افضل یاکمتر گرداننے کی سعی نہیں ہے بلکہ ایک ممکنہ انسانی حدتک خلوصِ نیت میں ڈوبی ہوئی ایک سچی کہانی ہے۔ ‘‘

اگست انیس سوتراسی کی ایک حبس زدہ شام افتخارملک اسلام آباد ایئرپورٹ سے کراچی روانہ ہوئے توان کی فلائٹ ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کا شکار تھی۔ کتاب کے آغاز ہی میں مصنف نے سول ایوی ایشن حکام کی روایتی لاپروائی، مسافروں کی پریشانی، ایئرپورٹ سے باہرٹیکسی ڈرائیوروں کی لوٹ ماراورکرنسی تبدیل کرانے والوں کااچھا نقشہ پیش کیاہے۔ ساتھ ہی کراچی پہنچنے سے پہلے کے کٹھن مراحل کابھی ذکرکیاہے۔ جوہر پاکستانی کا مقدرہیں۔ لکھتے ہیں کہ

’’یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جب آپ کوغیرملکی یونیورسٹیاں الاؤنس اورفیلوشپ دیتی ہیں اور ساتھ ہی آپ مقامی یونیورسٹیوں میں سے کسی ایک کے ذمہ داراستاد بھی ہیںتوپھریہ نوآبجکشن سرٹیفیکیٹ کی کیاضرورت ہے؟ ساری وزارتیں آپ کے کیس بلکہ آپ کی فائل کامطالعہ کرتی ہیں۔ مہینوں اِن پربیٹھتی ہیں اورمیل ملاپ کے بغیرآپ کا جائز حق آپ کونہیں ملتا۔ کیا ایک ملک کاذمہ دارشہری یاکسی ادارے کاباعزت ملازم ہوناکافی نہیں کہ آپ کواین اوسی کی بھی ضرورت پڑے جوکہ سامراجی دورکی ایک اذیت ناک سرکاری الجھن کے طور پرہمارے سروں پرسوارہے۔ آپ کے اساتذہ آپ کے ملک کے بارے میں کبھی غلط بات نہیں کریں گے اور اگرآپ ان کوزبردستی بندکرکے رکھیں گے توپوری قوم تاریکی میں سفرکرے گی۔ ہمیں اپنی قوم کے افراد سے ہتک آمیز سلوک کرکے آخر کیاحاصل ہوتاہے؟سفروسیلہ ظفر کے مصداق دنیاکے طول وعرض میں پھیل جانے سے آپ کی نئی نسلوں کو جدید ترین دریافتوں اور سہولتوں سے آگاہی حاصل ہوگی۔ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہماری پالیسی بنانے اورچلانے والے اپنے طالب علمی کے زمانے میں تو خوب روشن خیال اورانقلابی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ مگرذرا سی اہم حیثیت حاصل کرنے کے بعد رعونت اور فرعونیت کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ‘‘

کس سادگی سے ہماری بیوروکریسی کے طرزِعمل کو پیش کیاہے۔ جوہماری ترقی کی راہ میں حائل ہے۔ بہت سے غیرملکی وظائف اسی رویے کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ اس سے وظیفہ دینے والے ملکوں پر بھی پاکستان کاغلط تاثرمرتب ہوتاہے۔ افتخارحیدرملک نے ایران اورترکی کے تفصیلی دورے اور شیرازکی آبِ رکنابادکی سیر، آذربائی جان کے قہوہ خانوں میں گھومنے، کردستان کی پرحیات وادیوں میں آوارہ گردی اوراستبول میں باسفورس کے پل پر کھڑے ہوکرمشرق ومغرب کاایسے ہی موازنہ کرنے کے پروگرام بنایاتھا۔ جیساکہ کئی سال قبل ننھے منے ترک بچے نے کیاتھاجوتاریخ میں غازی کمال اتاترک کے نام سے مشہورہوا۔ بیرون ملک کی سیاحت سے انہیں اس حقیقت کابھی علم ہوا کہ پاکستان میں بھی تفریحی اور دیدہ زیب مقامات کی کمی نہیں۔ لیکن بیرونی سیاح توکیاہمارے اپنے ملک کے لوگ پاکستان کے اس حسن سے ناآشناہیں۔ مغرب میں لوگ سال بھرخوب محنت کرکے کماتے ہیں اورپھرچند ہفتوں کے لیے وہ سیروسیاحت کے لیے دوردرازمقامات کو نکل جاتے ہیں۔ ماہی گیری، ہائیکنگ، کوہ پیمائی، کشتی رانی، کیمپنگ یااسکیئنگ جیسے مشاغل میں فارغ وقت گزارتے ہیں اورپھرتروتازہ ہو کردوبارہ اپنے کام میںمگن ہوجاتے ہیں۔ جسمانی اورنفسیاتی طور پربھی سیروتفریح ایک انسان کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ اکتاہٹ اوربوریت کابہترین علاج ہے۔ کیمپنگ اورآؤٹ ڈورلائف اتنی گراں نہیں جتنی عام طور پرسمجھی جاتی ہے۔ ذراسی دلچسپی اورغور و فکرسے انسان کم خرچ سے بھی لطف اندوزہوسکتاہے۔ تفریح کے لیے زیادہ اسباب سفربھی ضروری نہیں۔ آپ بسوں، ویگنوں یاریل پر بھی گلگت، بلتستان، چترال یازیارت کی سیرکرسکتے ہیں۔ اس طرح ملک کے مختلف خطوں میں بسنے والوں، ان کی رسومات اوررہن سہن سے آگاہی بھی حاصل ہوتی ہے۔

افتخارملک نے آئرلینڈ کی مشہورمصنفہ اورنادرروزگارسیاح ڈرویلہ مرفی کی مثال دی جو انتہائی گمنام گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں اور رنگا رنگ مشکلات کا شکار رہیں۔ لکھتے ہیں کہ

’’مفلوج والدہ اورمحدود معاشی مسائل نے کئی رکاوٹیں ان کی راہ میں کھڑی کردیں۔ اس نے اپناغم غلط کرنے کے بجائے سائیکلنگ شروع کردی اوراس شوق میں یورپ اورایشیاکی سیرکرڈالی۔ یہی نہیں موسم سرماکی سخت برفانی سردی میں بلتستان میں دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ پیدل چل کر لداخ تک پہنچ گئیں۔ اس طرح شمالی ایتھوپیا کے دشوارگزارراستوں کی بھی پیدل سیاحت کرڈالی۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ انسانی عزم کی داستان ہے۔ ‘‘

بلاشبہ انسانی عزم کے سامنے کوئی پہاڑ بھی نہیں ٹھہرسکتا۔ انسان اگرحوصلہ برقراررکھے توکوئی بھی کارنامہ انجام دے سکتاہے۔ بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں بھی یورپی ملکوں کے علاوہ جاپان اورجنوبی کوریا جیسے ایشین ممالک محدود وسائل کے باوجود بہترنتائج پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح مشرقی یورپ کے پاکستان سے کم وسائل والے ممالک اپنے افراد کی منظم کاوشوں اورعزم کی بدولت شاندارکارکردگی پیش کرتے ہیں۔ لیکن مسلم دنیاسے اکا دکا کے علاوہ کوئی بڑا نام سامنے نہیں آتا۔

مغربی دنیا کا ایک بڑامسئلہ کثافت ہے۔ صنعتی ترقی، کان کنی اوربے ہنگم ٹرانسپورٹ نے فضا کوانتہائی آلودہ کردیاہے۔ اس کے مقابلے میں مشرقی ملکوں کی نسبتاً شفاف اورصحت مند فضا، نعمت غیرمترقبہ سے کم نہیں۔ افتخارملک لکھتے ہیں کہ

’’لاس اینجلس جوامریکا کا دوسرا بڑا شہر ہے اور کیلی فونیا جیسے حسین خطے میں واقع ہے، فضائی آلودگی کی بدولت انتہائی غیر صحت مند مقام بن چکاہے۔ اسی طرح نیویارک، شکاگو، ڈیٹرائٹ، لندن، لیورپول، پیرس، فرینکفرٹ، روم، برسلز، ٹوکیو اور ماسکو وغیرہ سب روزافزوں فضائی کثافت کی وجہ سے عجیب وغریب مسائل کاشکارہیں۔ مغربی جرمنی کی صنعتی ترقی نے وہاں کے حیوانات، انسانوں اورنباتات پرنہایت مضراثرات مرتب کیے ہیں۔ مثلاً جرمنی کے کالے جنگلات جن کودیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آتے ہیں، درحقیقت کثافت کے ہاتھوں نباتات کی تباہی کازندہ ثبوت ہیں۔ ہمارے بڑے شہروںکراچی، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں بھی یہ مسئلہ درپیش ہے لیکن سوات، چترال اور دیگرشمالی علاقوں کی فضاصاف ستھری ہے۔ ہمارے ملک میں گندگی کے ڈھیر، گندے پانی کے جوہڑ، تنگ گلیاں اورمضرِ صحت پانی کم خطرناک نہیں۔ ‘‘

سفرنامے میں مصنف احوال سفرکے ساتھ ایسے مسائل بھی زیربحث لاتے ہیں، اوران کا پاکستان سے موازنہ بھی کرتے ہیں۔ جس سے قاری کوآگاہی حاصل ہوتی ہے۔

افتخارحیدرملک امریکااورفرانس کاویزہ ملنے کے بعدایتھنز ایئرپورٹ سے یونان کا ٹرانزٹ ویزہ ملنے امیدمیں اسلام آباد سے روانہ ہوگئے۔ لیکن جب ایئرپورٹ بلڈنگ میں یونان کے امیگریشن حکام کے سامنے اپناپاسپورٹ پیش کیااورتین دن کاٹرانزٹ ویزہ مانگا، توپاکستانی پاسپورٹ دیکھتے ہی متعلقہ آفیسرنے اپنے ایک اورساتھی سے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ چونکہ وہ پاکستانی ہیں اوران کے پاس یونان کاویزہ نہیں ہے اس لیے وہ یونان میں داخل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے اصرار کیاکہ وہ یونیورسٹی کے استاد ہیں اورایک نہایت اہم اورمعززفیلوشپ پر امریکاجارہے ہیں۔ ان کے پاس نہ صرف امریکا بلکہ فرانس کا ویزہ اورباقاعدہ ٹکٹ بھی ہے۔ یونانی حکام پر اس کاکوئی اثرنہ ہوا، اورایک افسرٹرانزٹ لاؤنج میں چھوڑ آیا کہ اپنی منزل کا فیصلہ کریں یا تین دن اسی لاؤنج میں گزاردیں۔ اس واقعے سے بیرون ملک کے مسافروں کو یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ ہرصورت اپنے ملک ہی سے جن ممالک جانا ہے ان کاویزہ حاصل کرکے روانہ ہوں۔ ورنہ کسی بھی مشکل سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ ماضی میں پاکستانی پاسپورٹ کونہایت احترام سے دیکھا جاتا تھا اوربہت سے مغربی ملکوں میں سفریامختصرقیام کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ لیکن اب چنددن کی مسافرت کیا، تعلیم وتحقیق کے لیے بھی ان ممالک میں مختصرقیام ناممکن ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سیاسی عدم استحکام اورمعاشی بدحالی نے پاکستان کی ساکھ کو بڑا متاثر کیا ہے۔ اور گرین پاسپورٹ کی ویلیوکم ہوگئی ہے۔

افتخارملک صاحب نے ایئرفرانس کے کاؤنٹرپرمتعین یونانی نژادایئرہوسٹس کواپنا ٹکٹ دکھاکر ٹرانزٹ ویزہ نہ ملنے پراسی شام فرانس کے شہر نیس بھجوانے کوکہا۔ جس نے یونان سے دلچسپی کے بارے میں پوچھا۔ اس بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ

’’میں نے اسے بتایا کہ میں پاکستان کی فیڈرل یونیورسٹی میں تاریخ کا استاد ہوںاوراپنے مضمون کے ناطے سے مجھے یونان دیکھنے کا شوق ہے حالانکہ میری منزل امریکا ہے۔ میں نے اسے اپناپاسپورٹ اور دیگر کاغذات دکھائے کہ میں ایک بین الاقوامی اعزاز پر یوایس اے کی چند اعلیٰ درسگاہوں میں بطوراستاد جا رہا ہوں اورمجھے اگرکہیں رہنا ہواتووہ امریکا ہی ہوگاجہاں میں پہلے بھی ساڑھے چارسال گزارآیا تھا۔ یونان اورفرانس رہنے کی میرے لیے تو کوئی تک ہی نہیں بنتی۔ امریکاسے واقفیت رکھنے اوروہاں کی اعلیٰ پائے کی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود بھی میں نے امریکا میں کبھی مستقل سکونت کے بارے میں نہیں سوچا۔ میری ان کے ملک کے بارے میں دلچسپی اورساتھ ہی مایوسی نے اسے چندلمحات کے لیے خاموش کردیا۔ کچھ توقف کے بعد بولی ’اگرتمہیں آج شام کوفرانس کی فلائٹ مل جائے اورساتھ ہی یونان کے لیے تین دن کاویزا بھی توتم ان دونوں میں سے کس کا انتخاب کروگے۔ ‘میں نے برجستہ جواب دیا۔ ’یونان کا۔‘ اس نے مجھ سے پاسپورٹ اوردیگرکاغذات لے کرکچھ دیرانتظارکرنے کوکہا۔ اور کچھ دیر بعد ویزا لگوا دیا۔ ‘‘

ایسی دلچسپ اورمعلومات افزا تفصیلات کتاب کی دلچسپی میں اضافہ کرتی ہیں اورقاری کو اکتاہٹ کاشکارنہیں ہونے دیتی۔ ایک ہزارسال قبل مسیح تک یونانی زیادہ ترزبانی روایات پرہی انحصارکررہے تھے۔ یہاں تک کہ ہومرجیسے مشہورزمانہ دانشور، مورخ اورادیب کی ذہنی کاوشیں نسل درنسل زبانی روایات سے ہی منتقل ہوئیں۔ یونانیوں نے ہزارسال قبل مسیح سے ایک سوچھیالیس قبل مسیح کے درمیانی عرصے میں سیاسی مذہبی، سماجی اورادبی روایات کی بنیاد رکھی۔ ریاضی، سائنس، فلسفہ، تاریخ، عمرانیات، سیاسیات اورفنون لطیفہ جیسے نئے مضامین کاآغازکیااور اسطرح افلاطون، سقراط، جیسے عظیم دانشورپیدا کیے۔ فدیاس نامی ایک یونانی نے چوتھی صدی قبل مسیح میں ایکروپولس اوردیگرکئی اہم مذہبی و ثقافتی عمارات کی تعمیر کا کارنامہ سرانجام دیاجوآج تک یونان کے عہدِ قدیم کی سنہری یادگاریں ہیں۔ یونانی اپنے مافوق الفطرت عقائدکے با وجود احساس ِ لطیف، عقل ودانش، انسانی عظمت اوربشری جذبات کی سربلندی کے لیے مشہورتھے۔ انہوں نے دنیامیں عقل اورخوبصورتی کو لازم وملزوم قراردیااورانہیں اچھائی اورنیکی کا نام دیا۔ جب کہ بدصورتی کوبرائی اوربدانتظامی قراردیا۔ مصنف کاتین روزہ سفریونانی تہذیب سے آشناکرتاہے۔ وہ اپنے سفرکاکوئی لمحہ رائیگاں نہیں جانے دیتے۔ مختصرقیام کے بعدمصنف ایتھنزایئرپورٹ سے یونان کی انمٹ یادیں لیے اگلی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ بحیرہ روم کے ساتھ ساتھ پروازکے بعد وہ اٹلی پرسے گزرے توذہن میں اٹلی کاتاریخی پس منظر دوہرارہے تھے۔ یہیں سے تحریک احیائے علوم کا آغاز ہواتھا۔ جس کے نتیجے میں جدید یورپ کی بنیادپڑی۔ اطالوی ریاستوں میں میلان، نیپلز، روم، وینس اورفلورینس تہذیبی اورعلمی مراکزتھے جہاں یورپ کی قدیم ترین یونیورسٹیوں کی بنیادیں پڑیں۔ دانتے، باکاسیو، پیٹرارخ، میکاولی اورلورینزونے تحریک احیائے علوم میں اہم کرداراداکیا۔ دانتے نے ڈیوائن کامیڈی میں جنت ودوزخ، زندگی اورموت جیسے مضامین پرقلم اٹھایا۔ میکاولی نے اپنی تاریخی تحقیقی کتب میں اٹلی کی شیرازہ بندی کی اوراپنی مایہ نازتصنیف دی پرنس میں اٹلی کی وحدت اور مرکزیت کے لیے ایک مثالی بادشاہ کے کرداراورحکمت عملی پرسیرحاصل بحث کی۔ غرض اٹلی میں نہ اترکربھی افتخارحیدرملک نے فضائی نظارے میں ہی یہاں کی تاریخ کی بازیافت کرکے قارئین کوبھی اس میں شریک کیا۔ یہی ان کی تحریر کا کمال ہے۔

جنوبی فرانس اورمونٹی کارلو میں مٹرگشت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں

’’فرانس یورپ کا واحد ملک ہے جس کے بارے میں حتمی طور پرکہا جاسکتا ہے کہ اس کی تاریخ کافی حدتک مبسوط اورمعلوم ہے کیونکہ حجری زمانہ سے عصر حاضرتک فرانسیسی تاریخ کے مختلف ادوارباقاعدگی سے واضح طور پرمندرج ہوچکے ہیں۔ ماضی میں جنوبی یورپ کے مختلف ممالک کی مانند قدیم فرانس بھی شمالی یورپ اور ایشیائے کوچک سے آنے والوں کی آماجگاہ رہا ہے۔ یونان وروماکی تہذیبوں سے کماحقہ متاثرہونے کے ساتھ ساتھ فرانس، ہسپانیہ، افریقااورعربستان کی نظریاتی، سیاسی اور تجارتی یلغاروں سے بھی محفوظ نہ رہا۔ موجودہ فرانس ایک مدبر، ترقی یافتہ اورطاقتورملک ہے۔ دس سال پہلے مجھے ایک ایسی فرانسیسی تخلیق پڑھنے کوملی جسے افریقاکے نوجوان طالب علم کیمارالائے نے پچاس کی دہائی میں تحریرکیا تھا۔ یہ ایک ایسے افریقی بچے کی آپ بیتی ہے جسے پیرس جیسے انتہائی جدید اورامیر شہرمیں اپناغریب اور دوافتادہ افریقی گاؤں یاد آتا ہے اور جواپنے بچپن کوانتہائی دلنشین اورغمگین لہجے میں ایک ناولٹ میں پیش کرتاہے۔ والدکی مصروفیات، دادی جان کی بھرپور طاقت، قبائلی رسومات، جادوگری کے کرشمے، مسلمان دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے شب وروزکی یادیں کیمارالائے کوفرانس کی خوبصورت راتوں میں تڑپاتی ہیں اورمحکوم ریاست کایہ نوجوان، نسل پرست فرانس میں اپنے وطن کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے۔ ‘‘

عمدہ اسلوب میں ایک ناولٹ کے حوالے سے مصنف نے اپنے پسماندہ ملک کی یاد کوعمدگی سے پیش کیاہے۔ کوئی کسی بھی ملک میں کتنے برس بھی رہے اپنے وطن کی یاد ہمیشہ اس کے دل میں موجود رہتی ہے۔ افتخار ملک لکھتے ہیں کہ

’’انقلابِ فرانس نہ صرف تاریخ یورپ بلکہ تاریخ انسانی میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت کا حامل ہے۔ یہ انقلاب بنی نوع انسان کی برابری، انفرادی، جمہوریت، قوم پرستی، حریت افکاراور اس کے علاوہ بہت سی تحریکات کا پیش خیمہ بنا۔ اگرچہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ خود فرانس بعد ازانقلاب ایک بار پھر شہنشاہیت کا شکار ہوگیا اور تقریباً اسی سال بعد وہاں جمہوریت فروغ پذیر ہوئی جب فرانس نے جرمنی سے پہلی مرتبہ اٹھارہ سوستر میں شکست کھائی۔ بعدازاں فرانس میں بھی جمہوریت کا قافلہ نہایت پرخطررستے پرچل نکلا اورجمہوری قوتوں کومختلف اندرونی بحرانوں کا شکار ہونا پڑا۔ ‘‘

افتحار حیدر ملک پہلے بھی امریکا میں کئی سال رہ چکے تھے۔ نیویارک کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

’’نیویارک کے بارے میں مشہورہے کہ یہ انسانوں پرپھلتاپھولتاہے اورواقعی یہ صحیح ہے کہ امریکا جیسے وسیع وعریض ملک میں نسبتاً کم آبادی کے باعث جہاں جنوبی ایشیاکی طرح لوگوں کے جھمگٹے نظرنہیں آتے وہاں نیویارک میں لوگوں کی کثیرتعداددیکھ کراحساس ہوتاہے کہ یہاں کی بلندوبالاعمارات ہی نہیں بلکہ لوگوں کی بھیڑ بھی اس شہرکوباقی امریکاسے ممتازکرتی ہے۔ ‘‘

مجموعی طور’قلزم کے اُس پار‘ ایک انتہائی دلچسپ اور ریڈایبل سفرنامہ ہے۔ جس کا مصنف مختلف خِطوں کے ساتھ ساتھ قارئین کوتاریخ کا سفربھی کراتا ہے۔ جن سے قاری کا تحیراور تجسس قائم رہتا اوردلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے۔


 

کتاب کے حصول کے لئے:
https://www.emel.com.pk/product/qulzum-ka-us-paar-%D9%82%D9%84%D8%B2%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B3-%D9%BE%D8%A7%D8%B1/

https://www.facebook.com/search/top/?q=EMEL%20Books%20%D9%82%D9%84%D8%B2%D9%85&epa=SEARCH_BOX

(Visited 266 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: