یا پیر روم! مرید ہندی حاضر است (۲) ——— محمد وسیم تارڑ

0

(گزشتہ سے پیوستہ ۔ پہلی قسط کا لنک) فاتحی کے علاقے یانی کپی میں چھٹی منزل پر واقع فلیٹ سے نیچے اترا تو بارش تھم چکی تھی۔ کندھوں پربھاری بیگ لٹکائے میں مختلف گلیوں سے ہوتا ہوا مرکزی شاہراہ اتاترک بیلوارڈ تک پہنچا۔ سڑک پر ابھی تک چہل پہل تھی۔ لوگ ایک دوسرے پر نظریں ڈالے بغیر مشینی انداز میں چلتے چلے جاتے تھے۔ ہر بین الاقومی سیاحتی شہر کی طرح آپ سے لاتعلق اور اپنی دھن میں مگن. ایسا گماں گزرتا تھا کہ جیسے کسی نے سڑک پرایک ساتھ مختلف روبوٹ مشینوں کو چابی دے کر چھوڑ دیا ہو۔

میں اب اپنے میزبانوں کے بارے سوچنے لگا۔ ہر وقت چہرے پر بچوں ایسی مسکراہٹ سجائے رکھنے والا عثمان اور خلوص کا پیکر معاذ مغل۔ انہوں نے میری مہمان نوازی میں کوئی کسرنہ اٹھا رکھی تھی۔ اپنے پاکستانی مہمان کی آمد پر دونوں بھائی پچھلے کئی روز سے ٹھیک سے سو نہیں پائے تھے۔ کل صبح جب وہ مجھے اپنے بستر پر موجود نہ پائیں گے تو ان کے دل پر کیا گزرے تھی اور پھر کامیاب تاجر حاجی طارق چیمہ صاحب بھی تو تھے جن کے پرزور اصرار پر میں ان کے ساتھ اگلے روز اکٹھے ڈنر کرنے کا وعدہ کر چکا تھا۔ وہ صبح سے مجھے تین بار فون کر چکے تھے۔ ”تارڑ صاحب! اب کی بار ہمیں دھوکہ نہ دیجئے گا ورنہ ہمارا دل ٹوٹ جائے گا۔“ انہوں نے مجھے تاکید کی تھی۔ لیکن میں انہیں دھوکہ دے چکا تھا۔ میں ان کی محبت کو ٹھکرا نے اور ایک پیار کرنے والے شخص کا دل توڑنے کا جرم وار ٹھہرا تھا۔

میں نے ان تمام خیالات کو جھٹک دیا کہ اب کیا ہو سکتا تھا۔ ایک سچا سیاح جب گھر کی دہلیز سے باہر پہلا قدم رکھتا ہے تو پھروہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ بلاشبہ اس کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے جو لحظہ بہ لحظہ اپنے دیس کی محبت میں بے قرار ہوتا رہتا ہے اوراسے اپنوں کی یاد ستانے لگتی ہے، اسے پیار کرنے والے اپنوں کی یاد۔ لیکن ایک سچا سیاح اپنی دھن کا پکا ہوتا ہے۔ اسے بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے کہ سیاحت کے لیے قربانی ہی پہلی شرط ہے۔ اسی لیے تو مغرب کے بڑے بڑے دانشوروں نے اسے دنیا کا کٹھن ترین کام قرار دیا ہے۔

لیکن میں محض ایک سیاح تو نہ تھا۔ ایک سیاح کے علاوہ میں گوجرانوالہ کے دیہاتی علاقے نت کلاں میں جنم لینے والا وسیم تارڑ بھی تھا۔ ریٹائرڈ ہو چکے اسکول ماسٹرچوہدری سلیم تارڑ کا بیٹا وسیم۔ مجھے اکثرپتہ نہیں چلتا تھا کہ کب میرے اندر کا وہ دیہاتی وسیم نمودار ہوتا اور اس سیاح کی جگہ لے لیتا۔ دیا رغیرمیں میرے ساتھ ایسا پہلے بھی ہوتا آیا تھا۔ مجھے اپنی بچپن کی اس کمزوری کا بہ خوبی علم تھا کہ میں ہمیشہ فیصلہ کرتے وقت گہرے تذبذب کا شکار ہو جاتا تھا اور جب کوئی فیصلہ کر چکا ہوتا تو اس پر قائم رہنا اور بھی دشوار ہو جاتاتھا۔ آج پھر مجھے اسی قسم کی صورت حال کا سامنا تھا۔ میرے اندر کا وسیم مجھے اس سیاہ رات کو اَن دیکھے راستوں پر نکلنے سے روکتا تھا مگریہ مرشد مولانا روم کا عشق تھا کہ میں رات کے اس پہر بھی بدستور قونیا کی طرف کھنچتا چلا جا رہا تھا۔

کسی نے پوچھا بساط میری کہا جوابا ً گدائے مرشد
یہی ہے مرا کل اثاثہ، نگاہ مرشد، دعائے مرشد

میں اب استانبول یونیورسٹی کے پہلو میں اتاترک بیلوواڈ پر واقع چوک پہنچ چکا تھا جہاں ترک طرز کا ایک دیو ہیکل گھڑیال میرے سامنے ایستادہ تھا۔ یہاں سے میں اکسرائے میٹرو سٹیشن کو جاتی شاہراہ کی جانب مڑ گیا۔ میں اب مینڈریس بیلووارڈ پرچل رہا تھا۔ اس شاہراہ کا نام ترک قوم کو سابق وزیراعظم عدنان مینڈریس کی یاد دلاتا ہے جسے ترک مارشل لاء کے بعد اس وقت کی ناجائز حکومت نے پھانسی لگا دیا تھا۔ عدنان مینڈریس مر کر بھی ترکوں کے لیے امر ہو گیا جب کہ اس کے قاتل آج تک تاریخ کے پھانسی گھاٹ پر جھول رہے ہیں۔ میں نے سوچا۔ یقینا تمام قوموں کے ماضی میں ایک عجیب یکسانیت پائی جاتی ہے۔ انسانی تاریخ طاقت کی شیطانی ہوس، اقتدار کے حصول کی کشمکش، ظلم، جبر اور استبداد سے کس قدر لتھری ہوئی ہے۔ اسی لیے تو دوستووسکی نے کہا تھا کہ ”دنیا کا سب سے بڑا درندہ انسان ہے کہ درندگی میں کوئی جانور انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ “میں نے تیز تیز قدم اٹھانے شروع کر دیے۔ کیا اس وقت مجھے اسینلر جانے والی ٹرین مل جائے گی؟ اگر زیر زمین میٹرو ٹرین بند ہو گئی توپھر کیا ہو گا؟ کیا میں آج رات آتوگار سے بروقت بس کا ٹکٹ خریدکر قونیا روانہ ہو سکوں گا؟ خوف کے ننھے سنپولیے اپنے دہن وا کیے میرے دل میں رینگنے لگتے اور پل بھر میں غائب ہو جاتے۔

اکسرائے اسٹیشن پہنچتے ہی میں برقی سیڑھیوں سے نیچے پلیٹ فارم تک اترگیا۔ پلیٹ فارم پر جلتا بھجتا بورڈ مسافروں کی توجہ مبذول کر رہا تھا۔ ”سون ٹرین“۔ اسینلر آتو گارکی طرف جانے والی آخری ٹرین چند منٹوں میں پلیٹ فارم پہنچنے والی تھی۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ میرا جسم ایک انجانی خوشی کے احساس سے بھر گیا۔ کچھ دیر بعدچیختی چنگاڑتی میٹرو ٹرین پلیٹ فارم پر آ رکی۔ خود کار دروازوں کے کھلتے ہی منتظر مسافر ٹرین پر پل پڑے۔ آخری ٹرین ہونے کی وجہ سے رش معمول سے قدرے زیادہ تھا۔ ٹرین میں ہر قسم کے لوگ تھے۔ ان میں اکثریت ان نوکری پیشہ نوجوانوں کی تھی جو رات گئے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ موبائل فون اسکرین پرنظریں گاڑے ہوئے نوجوان جن کے پپوٹے نیند سے بوجھل تھے۔ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے خوبرو جوڑے اور مخصوص نشستوں پراونگھتے ہوئے ناکارہ ترک بڈھے۔ ایک طرف کونے میں ایک کچی عمر کی دوشیزہ منی اسکرٹ پہنے کسی کتاب پر جھکی ہوئی تھی۔ تمام لوگ روایتی ترکوں کی طرح ایک دوسرے سے قطعی لاتعلق تھے۔ چند اسٹیشنوں پر رکنے کے بعد ٹرین اسینلر پہنچ گئی۔ میں اس وسیع و عریض میٹرو اسٹیشن سے باہر نکلا توآسمان بالکل صاف تھا۔ سارا شہر چاند کی روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ ایک بڑی سڑک پار کر کے میں بہ آسانی استانبول آتوگار پہنچ گیا۔ یہیں سے مجھے محبتوں کے شہر قونیا جانے والی بس پر سوار ہونا تھا۔ وہی قونیا جہاں حضرت شمس تبریز نے دفن ہونا پسند کیا اور اسے اپنے وطن تبریز پر ترجیح دی۔

استانبول کے آتو گار کی دل کش عمارت مین ہیٹن کے کسی امریکی بنک کی طرح دکھائی دیتی تھی۔ داخلی دروازے کے بالکل سامنے ٹکٹ دفتر تھا۔ ”کہیے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟“ وہاں موجود نوجوان نے مخصوص بناوٹی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے خوش آمدید کہا۔ ”کیا میں آج رات قونیا کے لیے روانہ ہوسکتا ہوں؟کیا مجھے بس کا ایک ٹکٹ مل سکتا ہے؟“ میں نے بے چینی سے ایک ہی سانس میں پوچھا۔ نوجوان نے چند لمحوں کے لیے کمپیوٹراسکرین پر نظریں دوڑائیں اورپھر میری طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: