یا پیر روم! مرید ہندی حاضر است (۱) ——— محمد وسیم تارڑ

0

استانبول میں میرا پانچواں دن بھی گزر چکا تھا۔ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے استانبول شہر کا منظر میرے کمرے کی کھڑکی سے دکھائی دے رہا تھا۔ عمارتوں اور شاہراوں کی شوخ رنگین روشنیاں تاریکی میں جھلملا رہی تھیں۔ دھب دھب کی آوازیں، بھاری ساز اورتیز امریکی دھنیں گلی کے کسی تہہ خانے میں موجود نائٹ کلب سے برآمد ہو کر رومانوی سکوت توڑ رہی تھیں۔ اتنے میں ہلکی پھوار شروع ہو گئی اور بارش کا پانی کھڑکی کے شیشوں پر لکیریں بناتا ہوا بہنے لگا۔

میرے سامنے استانبول شہر کا خوبصورت منظر ڈبڈبا گیا۔ ایشیاء اور یورپ کو جدا کرتی باسفورس اور بحریرہ مرمرہ کے کناروں پر پھیلا ہوا استانبول۔ یونانی بادشاہ سویرس کا آگستا انتونیہ، بزنطینی سلطنت کا بزنطائن، رومیوں کا الما روم، عظیم جنگجو کاستنتائن کا کاستانتانبول، عثمانی ترکوں کا قسطنطینہ اور پھرمصطفی کمال اتاترک کا استانبول۔ گو تاریخ میں اس شہر نے کئی روپ دھارے اور کئی نام تبدیل کیے۔ ہر باراس مٹی نے نت نئے بیرونی مہم جوں کو گود لیا، انہیں حق حکمرانی بخشا، اقتدار کے راج سنگھاسن پر بٹھایا اور پھر کچھ عرصہ بعد انہیں عاق کرکے بے دخل کر دیا۔

اس شہر کے پاس کشت و خون اور جنگ و جدل کی آلودہ تاریخ کے سوا اورکیا ہے؟میں نے سوچا۔ کیا یہی وہ مسحور کن استانبول ہے جسے دیکھنے کیلئے ہرسال گرما کے آغاز پر پورا یورپ امڈا آتا ہے اور شہر کے ہوٹل سیاحوں سے لدھ جاتے ہیں۔ وہ ایسی کون سی شے ہے جس کی تلاش میں دنیا بھر کے سیاح یہاں کھنچے چلے آتے ہیں؟ تخت و تاج سے شروع ہو کر کمین گاہ پر ختم ہو جانے والی سحر انگیز داستانیں؟ فاتح جنگجوں کی خاک ہو چکی قبریں یاشکست سے دوچار ہونے والے ماضی کے عظیم حکمرانوں کے عبرت ناک نشانات؟ اس کے علاوہ اگر کچھ ہے توعجائب گھروں میں تبدیل ہو چکے قدیم محلات، پر شکوہ شاہی قصر، دیو ہیکل کلیسا اور عظیم الشان مساجد جن کی تعمیر سے ماضی کے ہر حکمران نے اپنی سفاکی اور جنگی جنون کو مذہبی جواز فراہم کیا۔

اب رات اور گہری ہو چلی تھی اور دن بھر کی آوارہ گردی کے بعد میراوجودتھکن سے چور تھا۔ میرا پور پور آرام کا طلب گار تھا۔ میں آج اسکدور، ایمینونو، استقلال اور غلاطہ کے تاریخی علاقوں سے ہو کر لوٹا تھا۔ ترکی میں میرے قیام میں صرف دو روز باقی تھے جس کے بعد مجھے واپس پاکستان لوٹ جانا تھا۔ اپنے دیس پاکستان جہاں ایک فرشتہ صفت بوڑھی ماں اپنی چندھیائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ میری واپسی کی راہ دیکھ رہی تھی۔ میرے ضمیر پرایک بوجھ تھاجو ایک بھاری پتھر کی طرح میرے سینے کو دبائے چلے جاتا تھا۔ دل میں ایک کسک تھی۔ قونیا نہ جا سکنے کی کسک۔ اپنی آلکس کے باعث میں ا تنے دن گزرنے کے باوجود مرشد حضرت مولانا جلال الدین رومی کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکا تھا۔

مجھے بہ خوبی اندازہ تھا کہ اگر میں کل قونیا کیلئے روانہ ہو بھی جاؤں تو بر وقت واپس آنا ممکن نہیں تھا۔ بائیس گھنٹے کی طویل مسافت کا سوچ کر ہی کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ دوسرا یہ کہ تھکن کے احساس نے میرے اعصاب کو گرفت میں لے رکھا تھا۔ میں نے ایک بار پھر اپنے آپ کو کوسا۔ اگر سرزمین روم پہنچ کر بھی سید شمس تبریز اور مولانا روم کے شہر قونیا حاضری دیے بغیر لوٹ گیا تو میں زندگی بھر اپنے آپ کوکیسے معاف کر پاؤں گا۔ مجھے خیال آیا۔ میری رگوں میں خون کی گردش تیز ہو گئی۔ اور مجھے وہ تمام راتیں یاد آ گئیں جب میں یہاں سے تقریبا پانچ ہزار کلومیٹر دور جی ایٹ، اسلام آبادکے ایک فلیٹ کی مختصر سی سٹڈی میں بیٹھا مولانا کی کسی ربائی پر جھکا ہوتا تھا اور میرے کانوں میں مخصوص رومی دھن سنائی دیتی تھی جو کانوں کے راستے روح میں سرایت کرتی جاتی تھی اور جب قونیا شہر مجھے اپنی طرف بلاتا تھا۔

ای زندگی، تن و توانم ہمہ تو
جانی و دلی ای جانم ہمہ تو
تو ہستی من شدی از آنی، ہمہ من
من نیست شدم من تو، از آنم ہمہ تو
آج پھر مجھے وہی دھن سنائی دے رہی تھی اور وہی پکار تھی جو دھیرے دھیرے میرے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ قونیا۔ ۔ ۔ قونیا۔ ۔ ۔ قونیا۔ ۔ ۔

میرے خیالات اِدھر اُدھر بھٹکنے لگے۔ مولانا روم کے مزار کاسبز گنبد، سید شمس تبریز کا سلیٹی پتھر کا مینار، حافظ اور خیام کے دل سوز اشعار اور وہ چھوٹی چھوٹی نیلی آنکھیں اور دودھیا رنگت کا گول مٹول سرخ و سپید یورپی چہرہ۔ یہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی نوجوان فرانسیسی سیاح کیٹیا تھی جس سے میری ملاقات چند برس پیشتر دوبئی کے علاقے میرینا میں ایک میٹرو ٹرام میں ہوئی تھی۔

”ایک سیاح کی نظر میں دن اور رات کوئی معنی نہیں رکھتے، وہ شب و روز کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ فاصلوں اور طویل مسافتوں کی ایک سیاح کے لیے کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ اس کا جنم ہی سفر کیلئے ہوا ہوتا ہے۔ سفر حیات ہے اور ٹھہراؤ موت ہے۔ “ میرے ذہن میں اس نازک اندام سیاح کی ساری باتیں گھوم گئیں۔ ”انسان بھی تو ہر وقت حالت سفر میں ہی ہے“ میں نے سوچا”مجھے آج رات ہی قونیا کے لیینکلنا ہو گا۔ “ میرے بھیتر سے آواز آئی۔

میرے من کا سارا بوجھ ہلکا ہو گیا کہ جیسے یک دم کسی دیو نے میرے سینے پے پڑا ہوا بھاری پتھر ہٹا دیا ہو۔ میں بھی دن اور رات کی قید سے آزاد ہو چکا تھا۔ فاصلوں کی اب میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی۔ میرے اندر کا چھوٹا سا سیاح جاگ چکا تھا۔ میرے بدن میں بھی ایک سیاح کی روح تھی کہ میں زندگی کی ساری آسائشیں تیاگ کرہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ارض روم پہنچا تھا۔ یہ جانے استانبول کا سحرتھا یامولانا روم کے قونیا کی پکار تھی جو مجھے اپنے وطن سے اتنا دور کھینچ لائی تھی۔ مولانا روم کے در پر حاضر ہونے کی میری خواہش اب جنون میں بدل چکی تھی۔ اس وقت کیلئی میں نے برسوں انتظار کیا تھا۔ مگر اب یہ طویل انتظار ختم ہونے کو تھا۔ اس وقت میری حالت اس شخص کی سی تھی جو تکلامکان کے صحرا کو پار کر کے آیا ہو اور اسے جام کا پیالہ پیش کیا جائے اوراسے خیال آئے کہ جلد جام اور اس کے لبوں کے درمیان فاصلے مٹنے والے ہیں۔ میری بے قراری میں مزید اضافہ ہو رہا تھاکہ جلد وقت کی عنابیں کھنچ جائیں گی اور میرے اور قونیا کے درمیان فاصلے مٹ جائیں گے۔

چلے تو کٹ ہی جائے گا یہ سفر آہستہ، آہستہ
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیئے:  تصوف اور صوفیا: ایک تاثر — شاہد اعوان
(Visited 84 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: