سرائیکی مسئلہ اور بلوچستان کے اصل وارث ——– گل ساج

0

گُم گشتہ تہذیب کا نوحہ
بلوچستان کے اصل وارث، تہذیب و ثقافت، سیاسی سماجی نمائندگان کون ہیں؟

آئیے گُم گُشتہ مرتی ہوئی تہذیب کی بات کرتے ہیں جسکی شناخت ہی ختم کردی گئی آج وہ اپنی ہی دھرتی پہ اجنبی اور لاوارثوں کی طرح مستعار لی ہوئی شناخت کے ساتھ زندہ رہنے پہ مجبور ہیں۔ ۔
سِتم ظریفی ہے کہ یہ رفتہ رفتہ اپنی اصل کو ہی فراموش کر چکے ہیں۔
یہ بدقسمت لوگ کون ہیں؟

یہ بلوچستان دھرتی کے اصل وارث “براہوی” ہیں
براہوی جو کہ بلوچستان کے اصلی قدیمی باشندے ہیں۔
جنہیں حقیقی معنوں میں “sons of soil” (دھرتی ذادے) کہا جا سکتا ہے یہ ریاست قلات کے حکمران تھے۔
انکی زبان بھی بلوچوں سے مختلف ہے جو کہ براہوی کہلاتی ہے، قبائل بھی بھی مختلف ہیں تہذیب و تمدن رسوم و رواج بھی الگ ہیں…
براہوی آریائی نہیں بلکہ قدیم ہندوستان کی درواڑی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ درواڑی ہی ہندوستان کے اصل باشندے ہیں۔

دراوڑی کون ہیں؟

وادئ سندھ اپنے دامن میں دنیا کا قدیم ترین تہذیبی و ثقافتی ورثہ سموے ہوئے ہے۔
برصغیر میں وادی مہران تہذیب و ثقافت کے ہڑپہ(پنجاب) موئنجودڑو(سندھ) مہر گڑھ (بلوچستان) گنویری والا (جنوبی پنجاب) سمیت کم و بیش چار سو پچاس سے زائد آثار دریافت ہو چکے ہیں۔
محقیقین کے مطابق کہ دراوڑ سے پہلے یہاں تقریباً7 ہزار قبل مسیح میں مختلف قبائل آباد تھے۔
دراڑویوں نے 5ہزار ق م میں وادئ سندھ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ ۔ ۔
دراوڑ اپنے علم و فن میں یکتا، تعمیر و ترقی، کاشت کاری اور تجارت کے جدید وسائل و طرائق سے بہرہ مند ترقی یافتہ اور مہذب قوم تھی۔
اس علاقے کے باشندوں نے پڑھنا لکھنا بھی دیگر تہذیبوں کی نسبت بہت پہلے شروع کیا۔
آثار سے معلوم ہوتا ہے یہاں کے رہنے والے اپنے زمانے کے ترقی یافتہ لوگ تھے جو مُنظم اور منصوبہ بندی کے تحت اپنی زندگی گزارنے کے خُوگر تھے۔
دراوڑ قوم علمی، فنی، اور تجارتی و تعمیراتی لحاظ سے اپنی ہمعصر مصری، آشوری اور سامی تہذیبوں کے ہم پلہ تھی۔
مگر پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر(شاید سیلاب اور طوفانوں کے سبب) وادئ سندھ کے یہ عظیم مراکز شہر تباہی و بربادی کا شکار ہوگئیے۔
موئنجودڑو اور دیگر دراوڑی تہذیب پہ مشتمل شہروں کی تباہی کی کیا وجوہات تھیں، اس پر مُحققین میں مختلف رائے رکھتے ہیں، بعض اسے قدرتی آفات اور سیلاب قرار دیتے ہیں، جب کہ بعض مُحققین کے نزدیک وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ سے آریاؤں کی یلغار نے اس تہذیب کو نیست و نابود کر دیا۔ ۔ ۔

دراوڑی النسل براہویوں کی تہذیب و شناخت کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
براہوی تاریخ دانوں، دانشوروں، محقیقین کے مطابق گلی خان نصیر نے براہوی ریاست میں بلوچوں کو ناجائز حیثیت دینے کے لیے براہوی تاریخ کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کی۔
یہی وجہ ہے کہ “گریٹر بلوچستان” کے مفروضے پر کام شروع ہوا، جب سندھی بلوچ یوسف عزیز مگسی کو انگریزوں نے 1931 میں گرفتار کیا تو مگسی نے ایک سیاسی تنظیم “انجمن اتحاد بلوچ” کی بنیاد ڈالی۔
یہیں سے براہوی اور بلوچ نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے اکٹھا کیا گیا۔
سندھی اور پشتون دوراندیش تھے انہوں نے اپنی مِلی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا۔
جبکہ براہوی جھانسے میں آ گئیے اور بلوچ قوم پرستوں سے مل کے مشترکہ جدوجہد پہ متفق ہوئے۔ ۔

11 اگست1947 جب طے پایا کہ برطانوی اقتدارِ اعلی کے اِختتام پر ہندوستان کی ریاستیں آزاد اور خود مختار ہونگی، مستقبل کا لائحہ عمل خود طے کرینگی۔
اس نُقطے پر میر احمد یار خان نے ریاست قلات کی آزادی کا اعلان کیا اور بار بار “عظیم ترین بلوچستان” کی بات کی اسکے خیال میں وہ عظیم بلوچستان کا باوا آدم قرار پائے گا۔ ۔
مگر اسکی امیدوں اور خواہشات کے برعکس لسبیلہ اور مکران کی ریاستیں پاکستان میں شامل ہو گئیں تو میر احمد یار خان نے طوہاً کراہاً اپنی ریاست قلات کو بھی پاکستان میں ضم کر دیا۔
تاریخی حقیقت ہے کہ برطانیہ نے براہوی ریاست سے جن علاقہ جات کو لِیز پر لیا تھا انکو (بلوچستان) کے نام دیا۔ ۔ ۔
یہی نام انگریزوں کی پالیسی “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے مطابق رائج کرنا ضروری سمجھا گیا۔
1970 میں جب ون یونٹ ختم ہوا تو کچھ پشتون بیلٹ اور تمام براہوی ریاست کو بغیر رائے شماری کے بلوچستان کا ہی نام قائم رہنے دیا گیا۔
“بلوچستان” نام سے براہوی قوم کو نقصان ہوا انکی مِلی شناخت ختم ہوگئی۔ ۔
براہوی تہذیب و شناخت زبان و ادب اپنی اصل کھو بیٹھے ہیں انہیں باور کرایا گیا کہ وہ دراصل بلوچ ہیں۔ ۔
بعین اسی طرح جیسے سرائیکی زبان کو پنجابی لہجہ قرار دے کر پنجابی شناخت قبول کرنے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔ ۔

بلوچ کون ہیں؟

بلوچ عرب بعد ازاں ایران و شام سے ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
چنگیز خان کے حملے کے بعد ایران سے ہجرت کر کے بلوچستان آئے ( یاد رہے کہ اسوقت بلوچستان کے نام سے کوئی علاقہ موجود نہیں تھا، موجودہ بلوچستان کیچ مکران سیستان کہلاتا تھا جہاں براہوی قوم آباد تھی)
حلب سے نقل مکانی کرنے والی یہ قوم جب سیستان سے ہوتی ہوئی یہاں وارد ہوئی تو وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے ماحول اور علاقائی صورتحال میں یہ دو شاخوں سلیمانی و مکرانی میں تقسیم ہوگئی۔ ۔
جبکہ اس علاقے کے اصل باشندے براہوی وسطی بلوچستان کے باسی ہیں۔ ۔ ۔
بلوچوں کے 18قبیلے جن میں بگٹی اور مری بھی شامل ہیں یہ سلیمانی ہیں، سندھ کے تالپور بھی خود کو سلیمانی بلوچ کہلواتے ہیں۔
درحقیقت بلوچستان میں تین بڑی قومیں بلوچ، پشتون اور براہوی آباد ہیں۔
بلوچی زبان بولنے والے بڑے قبائل میں رند، لاشار، مری، جموٹ، احمدزئی، بگٹی، ڈومکی، مگسی، کھوسہ، ہاشانی، دشتی، عمرانی، نوشیروانی، گچکی، بالیدی، سنجرانی اور خیدائی شامل ہیں، یہ قبائل مزید چھوٹے قبیلوں میں منقسم ہیں۔ ۔
براہوی زبان بولنے والے(جنہیں خود کو بلوچ کہنے پہ مجبور کردیا گیا ہے) رئیسانی، شاہوانی، سومولانی، بنگلزئی، محمد شاہی، لہری، بزنجو، حسنی، زارکزئی یا زہری، مینگل اور لینگو قبائل شامل ہیں۔
یہ قبائل اگرچہ براہوی زبان بولتے ہیں مگر ان میں بیشتر بیک وقت بلوچی اور براہوی دونون زبانیں بولنے پہ قادر ہیں۔ ۔ ۔
بلوچستان میں کاکڑ، گلزائی، ترین، مندوخیل، شیرانی، لیونی اور اچکزئی بڑے پشتون قبائل ہیں۔
ایران سے تارک الوطن بلوچوں اور براہوی قبائل میں عرصہ دراز تک کشمکش رہی۔ ۔
مگر بلوچ چونکہ جنگجو تھے وہ غالب آئے اور براہوی آہستہ آہستہ پسِ منظر میں چلے گئیے
براہیوں کا عروج ریاست قلات کی صورت میں رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کچھ ناسمجھ براہوی “گریٹ بلوچستان” کے پُر فریب نعرے کا شکار ہو کے چند بلوچ علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔
بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے طور پر بلوچوں کے کچھ خاص قبیلوں کا نام لیا جاتا ہے لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے کہ بلوچستان میں “بلوچ ” سادہ اکثریت میں نہیں ہیں اسلئیے براہویوں کو ساتھ ملا کے اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ۔ ۔
بلوچستان میں بلوچ النسل قریب40 فیصد ہیں جبکہ براہوی النسل قریبا18-20 فیصدی ہیں۔ پشتون بلوچستان کا قریبا 30-32 فیصد ہیں جبکہ باقی ماندہ پنجابی، سندھی، سرائیکی النسل ہیں۔ ۔ ۔

آج قدیم ترین لِسانی اور نسلی تہذیب و تمدن کی حامل قوم (براہوی) کا نام بلوچستان میں شجر ممنوعہ ہے۔
براہوی کا لاحقہ استعمال کرنا ناپسندیدہ اور بلوچوں کو تقسیم کرنے کی سازس قرار دیا جاتا ہے۔
یوں ایک طاقتور تہذیب زندہ درگور ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔

پنجابی اور سرائیکی کی بعینہہ یہی صورتحال ہے جو بلوچ اور اور براہوی کی تھی۔
پنجابی زبان و ثقافت قومیت پرستی آہستہ آہستہ سرائیکی شناخت کو نگلنا چاہتی ہے۔ ۔
جب پنجابی دانشور کہتا ہے کہ

“سرائیکی زبان پنجابی کا لہجہ ہے سرائیکی دراصل پنجابی ہے”

اس فقرے سے اسکے عزائم کا اظہار ہوتا ہے
جیسے بلوچیت نے دھیرے دھیرے براہویت کو مٹادیا خود میں ضم کر لیا۔ ۔
آج بروہی (براہوی) اپنی شناخت کھو بیٹھا اور خود کو بلوچ کہنے میں عافیت جان رہا، خود کو بلوچ کہنے میں فخر محسوس کر رہا۔
بروہی کہنے میں عار محسوس کر رہا (دراوڑ قوم کو آریا کی نسبت کم تر ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے) بعین سرائیکی کو بھی یہی باور کرایا جا رہا، سرائیکی کو بھی احساس کمتری میں مبتلا کر کے پنجابی کہلوانے پہ مجبور کیا جا رہا۔
سرائیکیو، وسیب ذادو دھرتی کے فرزندو۔ ۔
جان لو کہ آپکے سامنے براہوی قوم کا کیا حشر ہوا یہ ماضی کی نہیں حال کی زندہ مثال ہے
احساس کمتری سے باہر آو، اپنی شناخت پہ فخر کرو اپنی تہزیب ثقافت کو بچاو۔ ۔
وگرنہ
” مہاری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں ”

(صد شکر کہ سرائیکی دانشور، اہل قلم، شعراء و ادباء نے رفتہ رفتہ سرائیکی کو تقریبا الگ قوم تسلیم کرالیا ہے )

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: