ماں کے ہاتھ کی وہ لذت ——- شازیہ ظفر

0

انسانی رشتوں میں سب سے انمول اور عظیم رشتہ ماں کا اور سب سے بے لوث محبت ماں کی محبت ھے۔ ماں کی محبت کے کئی رنگ ھیں۔ ان میں ایک نمایاں اور گہرا رنگ ماں کے ھاتھ کے بنے کھانوں کا ھے۔۔ ھر ماں کی طاقتور محبت کی کلید ھے اسکے ھاتھ کا ذائقہ۔۔۔ خوش قسمت ھیں وہ اولادیں جنھیں اپنی ماں کے ھاتھ کا بنا کھانا میسر ھوتا ھے یا جنھوں نے اس ذائقہ کا لطف اٹھایا ھے۔۔ آپ کسی عمدہ ریسٹورنٹ میں ماھر شیف کے ھاتھ کی اپنی من پسند کوئی بھی ڈش کھالیں مگر جو مزا امی کے ھاتھ کی سبزی اور سادہ چپاتی یا دال چاول میں ھے اسکا کوئی نعم البدل نہیں ھے۔

کیا آپ نے کبھی کسی عمر رسیدہ، جہاندیدہ بزرگ شخصیت کی تجربہ کار آنکھوں میں کسی معصوم بچے کو مسکراتے جھانکتے دیکھا ھے؟ اگر نہیں۔۔۔۔ تو ذرا اپنے کسی بزرگ سے انکی ماں کا اور ماں کے ھاتھ کے ذائقے کا، ان کے بنائے کھانوں کا تذکرہ چھیڑ کر دیکھیئے۔۔۔ اتنی عمر گذرنے کے بعد بھی آپکو ان بزرگوں کی باتوں میں اپنی ماں کے لیے بچوں کی سی معصوم محبت صاف دکھائی دے گی۔۔ حسرت بھرے انداز میں “ھائے وہ میری ماں کے ھاتھ کے ذائقے انکے ساتھ ھی چلے گئے” کا جملہ ضرور سنائی دے گا۔۔ ھماری ایک قریبی بزرگ عزیزہ جب بھی ملنے آتیں ھیں کسی نہ کسی بات پہ اپنی اماں کے قصیدے اور انکے ھاتھ کے ذائقے کی قصے بڑی محبت سے سنایا کرتیں ھیں۔۔۔۔۔ شاید اس طرح وہ اپنی اماں کے تذکرے کا بہانہ ڈھونڈتی ھیں۔۔۔ جھکی جھکی کمر، سفید جھک بالوں اور پوپلے منہ والی اس ضعیف سی معصوم بچی کی گفتگو ھمیشہ ھی بڑی دلچسپ ھوا کرتی ھے۔۔۔۔ اے بٹیا۔۔۔۔۔ ھماری اماں کے ھاتھ کی لذت کا تو کہنا ھی کیا۔۔۔۔۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے اگر اماں کسی روز دال بھی بگھار دیتیں تو پورے گھر میں اس بگھار کی خوشبو ایسی پھیلی ھوتی کہ دادا میاں کھانے کے کمرے میں آتے تو دالان سے ھی کہتے ھوئے آتے ’’لگتا ھے آج کھانا چھوٹی بہو نے بنایا ھے ۔گھر بھر مہک رھا ھے‘‘ بہتیرے لوگوں نے اماں سے ترکیب پوچھ پوچھ کے پکایا مگر وہ ذائقہ کبھی نہیں آیا۔۔۔ چالیس پچاس جَنے بھی ھوں تو اماں ھنستے ھنستے کھانا بنا لیا کرتی تھیں۔۔۔ کئی طرح کے پوری پراٹھے، کئے طرح کے اچار، چٹنیاں۔۔۔۔ ارے انواع اقسام کے کھانے بناتی تھیں اماں۔۔۔۔۔ یوں مانو بٹیا۔۔ کہ جس بھی کھانے کا نام تم لو وہ ھماری جنت مکانی اماں بہت عمدہ بنانا جانتی تھیں۔۔۔۔۔ بڑا ذائقہ تھا انکے ھاتھ میں۔۔۔ اب ھم اسی طرح بناتے تو ھیں اور ھمارے ھاتھ کے کھانے کی پورے کنبے میں ھاھاکار بھی خوب مچتی ھے مگر بٹیا خدا لگتی کہیں تو اماں کے پاسنگ بھی نہیں ھیں ھم۔۔۔۔۔ کتنی محبت اور کتنی معصومیت سے ٹھنڈی سانس بھر کے وہ ھر بار یہ سب بتایا کرتیں ھیں۔۔۔ ھر بار بڑی خوشی اور جوش سے۔۔۔ جیسے پہلی بار بتا رھی ھوں۔۔۔ یہ تذکرہ ھی ایسا ھے کہ گھنٹوں بیت جائیں مگر ان باتوں سے دل نہیں اوبھتا۔

ایسے ھی ھمارے گھر کی ایک محفل میں کئی بزرگ اکٹھا تھے۔۔۔۔ آپس میں کزنز تھے اور ایک ھی گھر میں پلے بڑھے تھے۔۔۔ بچپن ساتھ بِتایا تھا۔۔ ماؤں کے بنائے کھانوں کا ذکر چھڑ گیا۔۔۔ کیسے اماں صبح سویرے لکڑی کے چولہے پر ایک بعد ایک گرما گرم گھی میں ترتراتا پراٹھا توے سے اتارتی جاتیں اور ھم سب باری باری کھاتے جاتے۔۔۔ مشترکہ خاندان تھا گھر میں پندرہ سولہ بچے تھے جنھیں اسکول جانا ھوتا تھا۔۔۔۔ کبھی بڑی اماں۔۔۔ کبھی اماں اور کبھی بڑی یا چھوٹی چچی جان۔۔۔ صبح سویرے یہ مشقت کیا کرتیں بغیر بیزار ھوئے۔۔ بغیر ماتھے پر شکن لائے۔۔۔ کسی کو اچار سے کھانا ھے۔۔۔۔ کسی کو رات کے سالن سے۔۔۔ کسی کو بالائی سے۔۔۔ کسی کو دیسی گھی یا مکھن لگی روٹی چاھیئے ھوتی ھر بچے کو اسکی پسند کے مطابق اسے ناشتہ ملتا جاتا۔۔۔۔ سب بچوں کو اور کام پہ جانے والے مردوں کو کھلا پلا کے رخصت کرنے کے بعد یہ سب مائیں خود ناشتہ کیا کرتیں۔۔۔۔ کیا دن تھے وہ بھی۔۔۔۔ کہیں بڑیاں، سویاں اور پاپڑ بنا رھی ھیں۔۔ کبھی اچار چٹنیاں ڈال رھی ھیں۔۔۔ بچپن کے یہ سارے قصے۔۔۔ من پسند کھانوں کے تذکرے۔۔ اور اس حوالے سے معصوم شرارتوں کا بیان۔۔۔۔ سب کے چہروں پر ایسی خوشی تھی اور آنکھوں میں محبت کے ایسے جگنو چمک رھے تھے کے ھم حیران ھی رہ گئے۔۔ بہت انوکھا مشاھدہ تھا یہ یوں لگ رھا تھا اب بھی وھی جیتے جاگتے مناظر ھمارے سامنے ھیں۔۔ ان سب کی یہ گفتگو زندگی سے اتنی بھرپور تھی کہ ذھن کی سفید چادر پر ھمارے تخیل کے دھاگے نے کتنے ھی رنگارنگ خوبصورت پھولوں جیسے مناظر کاڑھنے شروع کر دیئے۔۔۔۔ یوں جیسے کچے صحن میں پانی کے چھڑکاؤ کی سوندھی خوشبو پھیلی ھے، ایک طرف تخت رکھا ھے تخت پوش پہ دادی اماں کا پاندان دھرا ھے۔۔۔ دوسری جانب بیلے اور موگرے کی کیاریاں ھیں۔۔ گھڑونچی پہ رکھے گھڑے اور گھڑوں پہ رکھے کٹوروں، آبخوروں سے لپٹے بیلے کے گجرے۔۔۔ رات کی رانی مہک رھی ھے اور بیچ آنگن میں یہ سارے بچے قلقاریاں مارتے تتلیوں کی مانند یہاں سے وھاں کھیل کود تھے ھیں۔۔۔ نہ کوئی غم نہ فکر۔۔۔کوئی بے فکری سی بے فکری ھے۔۔۔ھم نہیں تھے انکے بچپن میں مگر ان سب کے ان تذکروں کی بدولت ھم نے چند لمحوں میں وھی بچپن جی لیا۔۔۔

چند سال پہلے کی بات ھے۔۔ سسر مرحوم انور رٹول آم لے کر آئے۔۔۔ اس روز heatwave کی بدولت گرمی بھی کچھ ایسی غضب کی تھی کہ چیل انڈا چھوڑ دے۔۔۔ ھم نے شاپنگ بیگ میں سے وہ گرم گرم آم نکالے اور کچھ دیر بعد ٹھنڈے یخ پانی کے ٹب میں ڈال دیئے کہ دوپہر کے کھانے کے بعد انکا صحیح لطف اٹھا سکیں۔۔۔ بظاھر یہ ایک معمولی عمل تھا مگر جوں ھی ابو نے یوں ٹب میں بھیگے آم دیکھے بیساختہ بول اٹھے۔۔۔ ارے بیٹا۔۔ یہ کیا کِیا تم نے۔۔ کہاں پہنچا دیا تم نے۔۔۔۔ اس طرح تو اماں کیا کرتی تھیں۔۔ اساڑھ کی گرمی میں جب ھمارے باغوں سے آم آتے تو بڑے سے لگن میں اماں گھڑے کا ٹھنڈا پانی ڈال کر انھیں بھگو دیتیں اور ھم سب بچے اسکے اردگرد بیٹھ کر خوب آم چوسا کرتے۔۔۔ ھم تھک جاتے مگر آم ختم ھونے سے پہلے اماں اور آم اور ٹھنڈا پانی ڈال ڈالواتی جاتیں۔۔۔ اور آموں کے ٹھنڈا کرنے کی اس معمولی سی حرکت سے شروع ھوئی یہ کہانی ابو کی والدہ کے ھاتھ کی کونڈوں کی ٹکیوں اور شب برأت کے حلووں پہ جا کے ٹھہری۔۔۔۔

کبھی ھم سوچتے ھیں کیسی عظیم ھیں ھماری مائیں ھیں جنھوں نے اپنی ساری محبت اپنے کھانوں میں گوندھ دی ھے۔۔ گھول دی ھے جو مدتیں گزرنے کے بعد بھی بچوں کے رگ وپے میں لہو بن کے دوڑ رھی ھے۔۔۔۔ اس محبت کے رنگ زمانے گذرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑتے بلکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اور نکھرتے جاتے ھیں اور ماں کے ھاتھ سے بنے بچپن کے اولین ذائقے نوکِ زباں پر بڑھاپے تک تازہ ھی رھتے ھیں۔

گئے زمانوں میں بچیوں کو اپنے گھر کے روایتی پکوان اھم ترین فریضہ سمجھ کر سکھائے جاتے تھے۔۔۔ چھ سات برس کی عمر سے ھی انھیں چھوٹے چھوٹے تانبے، پیتل اور مٹی سے بنے خوشنما برتن کھلونوں کے طور پہ سنبھلا دیئے جاتے اور پھر “ھنڈکلیا” پکانے کے دوران کھیل ھی کھیل میں مختلف پکوان سکھائے جاتے۔۔۔ چھوٹا سا کھلونا چوکی بیلن ھوتا بچیاں وھیں باورچی خانے میں ماؤں کے ساتھ آٹے کی چھوٹی چھوٹی لوئیاں بنا کے بیلتی جاتیں اور مائیں انھیں خوش کرنے کے لیے یہ چھوٹی چھوٹی روٹیاں سینکتی جاتیں۔۔۔۔ پوری پھول کے کْپا ھوتی روٹی کو دیکھ بچی کا شوق بڑھتا اور دھیرے دھیرے ماں سے روٹی سینکنے کی ضد کرتی اس طرح آگ اور چولہے کا خوف بھی نکل جاتا اور بچیاں جلد ھی پھلکے، چپاتی بنانے میں بھی طاق ھوجاتیں۔۔۔ کہیں گڑیا گڈے کی شادیاں منقعد کر لی جاتیں۔۔ بچیاں کھیل ھی کھیل میں مہمانوں کی خاطر مدارت کے پکوان۔۔۔ اور بارات ولیمے کے لیے قورمے، پلاؤ تک سیکھ جاتیں۔۔۔ کتنے مہمانوں میں کس تناسب سے کھانا بننا چاھیئے۔۔ مہمان نوازی کیسے ھونی چاھیئے۔۔ بچت، سلیقہ یہ ساری باریکیاں بچپن ھی سے ھنستے کھیلتے سیکھ جاتیں۔۔۔۔۔

یہ پچھلے وقتوں کا وہ دور تھا جب لڑکیوں کی ساری تعلیم و تربیت گھر پہ ھی ھوا کرتی تھی۔۔۔ اساتذہ، اتالیق گھر پہ ھی پڑھانے آتے۔۔۔۔ گھر کی بزرگ خواتین عربی، فارسی پہ بھی عبور رکھتی تھیں اور عمدہ شعری ذوق بھی۔۔۔ گویا گھر اور گھر کی خواتین تہذیب و تمدن کے مستند ادارے ھوا کرتے تھے۔۔۔۔ ھر گھرانے کے روایتی اور خصوصی پکوان ھوا کرتے۔۔ طور طریقے ھوا کرتے۔۔ بچیوں کو گھر داری سکھاتے ھوئے دھیان رکھا جاتا کہ دوسرے گھر جائیں تو ھماری خاندانی روایات سے وھاں بھی ھمارا نام روشن کریں۔۔۔۔

پھر وقت بدلتا گیا۔۔۔۔ سگھڑ مائیں گھروں سے نکل کر مردوں کے شانہ بشانہ میدان عمل میں شراکت دار ھونے لگیں مگر گھر کی روایات اور ان سے جڑے روایتی کھانوں کے روثے کو اپنی انگلی نسل میں منتقل کرنا انکی اولین ترجیح ھی رھا۔۔۔۔ “اگلے گھر جاؤ گی تو لوگ کیا کہیں گے، ماں نے یہ سکھا کر بھیجا ھے “… اس جملے کی تکرار سے اپنی بچیوں کو کسی نہ کسی طرح تربیت یافتہ کرنے میں کامیاب ھوتی ھی رھیں۔۔۔۔ اور اگر کچھ ملازمت پیشہ مائیں وقت کی تنگی کی وجہ سے اپنی نوعمر بیٹیوں کو گھر کے پکوان نہ سکھا سکیں۔۔ انکے لیے آسانی کی بات یہ ھوئی کہ جگہ جگہ ایسے ادارے قائم ھونے لگے جہاں بچیوں کو طرح طرح کے روایتی کھانوں کے ساتھ ساتھ دیسی اور بدیسی بہت سے کھانے اور دیگر خانہ داری کے ھنر سکھائے جاتے تھے۔۔۔۔ بس پھر ماؤں نے سکھ کا سانس لیا اور بچیوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ تعطیلات میں ان اداروں سے مستفید کروانا شروع کر دیا۔۔۔۔ مقصد یہی تھا انکی بچیاں جتنی بھی اعلی تعلم یافتہ ھوجائیں مگر گھر گھرھستی پہ بھی عبور رکھ سکیں گی۔۔۔

دل پہ ایک بوجھ محسوس ھوتا ھے۔۔۔ انجانا سا دکھ، ایک قلق ھے جو بے چین کئے رکھتا ھے۔۔۔۔کہ چند عشروں بعد۔۔۔ کسی بزرگ چہرے پر بچپن کو کھلکھلاتے کون دیکھے گا۔۔۔ کون ھوگا جو اپنی بوڑھی آنکھوں میں محبت کی جوت جگائے، اپنے بچپن کو پکارے گا۔۔۔ کپکپاتے لہجے میں بچوں کی سی معصومیت سمیٹے۔۔۔۔ بڑی تڑپ سے نرم، دھیمے اور شیریں لہجے میں کانوں میں امرت گھولے گا، ان تذکروں کے بہانے گئے وقت کو آواز دے گا۔۔اپنی ماؤں کو پکارے گا اور کہے گا۔۔۔۔ھائے وہ میری ماں کے ھاتھ کی لذت

شاید یہی وجہ تھی جسکی بناء پر ھم خوش قسمت ٹھہرے کہ الحمدللہ آج بھی خاندانی وضع دار گھرانوں میں ھماری مائیں، خالائیں، پھوہھیاں، ممانیاں، تائیاں، چچیاں اور ساس امیاں موجود ھیں جو ان تمام روایات کی امین ھیں اور پاسدار ھیں۔۔ ھماری تربیت کے لیے اور اس فن میں ھماری رھنمائی کرنے کے لیے اب بھی کوشاں ھیں۔۔۔۔

۔ “یہ روٹی کیسی ھے کنارے اتنے موٹے کیوں ھیں۔۔۔ ایک جیسی باریک کیوں نہیں ھے۔۔۔ ایسی کیا عجلت تھی جو جلدی جلدی ںیل کے توے پہ ڈال دی؟ کھانا خوشی سے اور محبت سے بناتے ھیں بوجھ سمجھ کے نہیں ٹالتے ”
“سلیقہ یہ ھے کہ میٹھے پر بادام پستے کی باریک ھوائیاں چھڑکیں جائیں، نہ یہ پھوھڑ لوگوں کی طرح کے موٹا موٹا میوہ کوٹ کے بکھیر دیا اور جان چھڑائی ”
“یخنی پلاؤ میں زردے کا رنگ اور کیوڑا نہیں ڈلتا، یخنی پلاؤ کی خوشبو ھی ایسی ھونی چاھیئے کہ پورا گھر مہکے ”
“پیاز دھیمی آنچ پہ براؤن کرتے ھیں تب سنہری اور کرکری ھوتی ھے۔۔ بریاں اور سوختہ کا فرق نہیں پتا؟”
قورمے پر ھرا دھنیا کبھی نہیں چھڑکا جاتا نری جہالت ھے یہ ”
” نہاری اور حلیم کا ھرا مصالحہ باریک نفاست سے کٹا ھوا اور گیلا نہیں ھونا چاھیئے۔۔ ادرک جنتی باریک کتری ھوئی ھو اتنی خوبصورت لگتی ھے۔۔ یہ کیا کہ موٹی موٹی کاٹ کے رکھ دی جیسے ماچس کی تیلیاں تیر رھی ھوں ”
“بگھار کے لیے کٹی پیاز اور سلاد کے لیے کاٹی گئی پیاز میں زمین آسمان کا فرق ھوتا ھے”
” ارے بھئی۔۔ کیا نہیں پتا کہ ھر دال کا بگھار الگ ھوتا ھے۔۔ اسکے لوامات الگ ھوتے ھیں۔۔ ماش کی دال پیاز کے ساتھ بگھاری جاتی ھے اور ارھر کی سفید زیرے، لہسن اور سرخ مرچ کے ساتھ ”
“پائے رات سے دھیمی آنچ پہ چڑھا دیئے جائیں تو ایسے شوربا ایسا لذیذ بنتا ھے کہ انگلیاں جڑ جائیں ”
“گلاوٹی کباب اوپر سے خستہ اور اندر سے اتنے نرم ھونا چاھیئں کے ھونٹوں پہ رکھتے ھی منہ میں گھل جائیں”
“کھیر الگ ھوتی ھے اور فرنی الگ ”
“بریانی اور پلاؤ کے چاول نرم مگر کھلے کھلے ھوتے ھیں۔۔جڑنے نہیں چاھیئں ”

پروردگار سلامت رکھے کہ الحمدللہ آج بھی ھماری مائیں کھانا بنانے کے اس فن کے مکمل ادارے ھیں۔۔۔ ھم اس خوش نصیب نسل میں ھیں کہ آج بھی ھم ان سے رھنمائی اور اصلاح لیتے ھیں، جہاں مشکل سے دوچار ھوں فورا انکی طرف دیکھتے ھیں۔۔ آج بھی دور دیس میں بسنے والے بچے اپنی ماؤں کو فون کرکے کہتے ھیں۔۔۔ اماں عید پہ آپکے شیرخورمے کی ترکیب چاھیئے۔۔۔ وھی جسکی خوشبو چاند رات کو پورے گھر میں پھیلتی تھی۔۔ آج بھی بہویں اپنی ساسوں کو فون کرکے پوچھتی ھیں۔۔ امی مجھے اپنے ھاتھ کی تراکیب نوٹ کروا دیں۔۔ انھوں نے کہا ھے امی جیسی کلیجی اور قورمہ بنا کے کھلا دو تو پردیس میں بقرعید کا مزا دوبالا ھو جائے۔۔۔

مگر۔۔۔۔۔۔ یہاں اب تک ھم نے جو کچھ بیان کیا۔۔ یہ تو آجکل کی باتیں ھیں یا پھر ماضی کے قصے۔۔ اصل فکر یہ ھے مستقبل کیسا ھوگا، اب وقت تیزی سے بدل رھا ھے۔۔۔ اب کھانا بننا اور کھانا بنانے کا فن سیکھنا ترجیحات میں شامل نہیں رھا۔۔۔ یہ ایک غیرضروری اور غیر اھم کام ھوکر رہ گیا ھے۔۔ پرانا رواج بننے لگا ھے۔۔۔ اس کو سیکھنے میں نسل نو کی دلچسپی دن بدن کم ھوتی جارھی ھے۔۔۔ جھٹ پٹ ریسیپیز کا زمانہ ھے، ھر گلی، ھر نکڑ پہ فری ھوم ڈلیوری ریسٹورنٹس کھل گئے ھیں، سپر اسٹورز تیار فروزن کھانوں سے بھرے پڑے ھیں۔۔ کیٹرنگ والوں نے بس ایک فون کال کی دوری سے گھروں میں ھر قسم کے کھانوں کی ترسیل کا بیڑا اٹھا لیا ھے۔۔۔ گھروں کھانا بنانے کے لیے ملازمین بھی موجود ھیں۔۔۔ آجکل بچیاں پڑھائی میں غرق ھیں۔۔۔ ابھی ھمیں کرئیر بنانے دیں پھر ھم اتنا کمائیں گے کہ خانساماں اور شیف رکھ لیں گے۔۔۔ ان جملوں کے ساتھ ھنسی ھنسی میں بات ٹل جاتی ھے اس طرف توجہ دینے کا وقت ھی نہیں۔۔۔ رھی سہی کسر “اپنا کھانا خود گرم کر لو” جیسے سلوگنز نے پوری کر دی ھے۔۔۔۔ ھمارے مشرق کی اس خوبصورت روایت کو بڑی حکمت عملی سے ختم کیا جا رھا ھے اور ماؤں کی محبت کا یہ سب سے خوبصورت اور گہرا رنگ مدھم اور پھیکا پڑتا دکھائی دیتا ھے۔۔۔۔

ہم دقیانوسی نہیں۔۔۔ ماضی پرست بھی نہیں، زمانے کے چلن کو اچھی طرح سمجھتے ھیں۔۔ آجکل کی بچیوں کی تعلیمی مصروفیات کو، وقت کی قلت کو اچھی طرح جانتے ھیں اسی لیے اس صورتحال پر معترض بھی نہیں مگر جانے کیوں دل پہ ایک بوجھ سا محسوس ھوتا ھے۔۔۔ ایک انجانا سا دکھ ھے۔۔ ایک قلق ھے جو بے چین کئے رکھتا ھے۔۔۔۔ کہ چند عشروں بعد۔۔۔ کسی بزرگ چہرے پر بچپن کو کھلکھلاتے کون دیکھے گا۔۔۔ کون ھوگا جو اپنی بوڑھی آنکھوں میں محبت کی جوت جگائے۔۔ اپنے بچپن کو پکارے گا۔۔۔ کپکپاتے لہجے میں بچوں کی سی معصومیت سمیٹے۔۔۔۔ بڑی تڑپ سے نرم، دھیمے اور شیریں لہجے میں کانوں میں امرت گھولے گا، ان تذکروں کے بہانے گئے وقت کو آواز دے گا۔۔ اپنی ماں کو پکارے گا اور کہے گا۔۔۔۔

ھائے وہ میری ماں کے ھاتھ کی لذت، ارے وہ میری ماں کے ھاتھ کے کھانے۔۔۔ !!!

(Visited 398 times, 6 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: