شیطان سے ملاقات‎ ——  سمیع احمد کلیا

0

زندگی میں ہر انسان کی بہت سی خواہشیں ہوتی ہیں میری بھی خواہش تھی کے شیطان سے ملاقات کی جاۓ وہ کہتے ہیں کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے…. بہت پاپڑ بیلے شیطان کے خاص کارندوں کو بھی اپروچ کیا مگر بے سود .رمضان میں چونکے شیطان کے پاس کافی وقت ہوتا ہے اس لئے مجھے بھی ملاقات کا ٹائم دیا گیا میں نے ملنے کا مقام پوچھا تو شتونگڑے نے کہا مرشد خود تشریف لائیں گے۔

آپ کو مختصر سا شیطان کے بارے میں بتا دیتا ہوں شیطان دنیا کا پہلا صحافی ہے جس نے الله کو خبر دی کے انسان دنیا میں جا کے خون خرابہ کرے گا اور پہلی بار اختلاف رائے بھی شیطان نے ہی کیا. یوں وہ اس دنیا میں جموریت کا بانی بھی ہے .سننے میں یہی آیا ہے کہ شیطان مرد کے دماغ میں رہتا ہے اور عورت کے دل میں، ضروری نہیں دل میں ہی ہو مگر ہوتا ضرور ہے. ہر آدمی شیطان سے پناہ مانگتا ہے اور کئی لوگوں کو وہ پناہ دے بھی دیتا ہے۔

کل میکاولی کی کتاب دی پرنس پڑھ رہا تھا کہ ایک کریہہ المنظر مخلوق میرے مدِمقابل آن بیٹھی۔ خوفناک اور پُر ہیبت چہرہ، بڑے بڑے کان، سر سے فارغ البال مگر کسی بُل فائٹنگ کے خوفناک سانڈ جیسے سینگ۔ اِس سے پہلے کہ میں بیہوش ہوتا شیطان کے بڑے اور بھدے ہونٹوں میں جنبش پیدا ہوئی اور اُس کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی، ڈرو نہیں، میں شیطان ہوں، شاید پہلے تم نے اصل شکل میں مجھے دیکھا نہیں اِس لیے ڈر رہے ہو، لو میں انسان کی شکل میں بدل جاتا ہوں

رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے کہا آج کل تم مخلوق خدا کو بے حد ورغلا رہے ہو . شیطان بولا جناب میں تو بس ایسے ہی بدنام ہوگیا ہوں ورنہ میں تو پہلے بہت گناہگار ہوں . اس لیے کم سے کم گناہ پر اکتفا کرتا ہوں.
لبرٹی لیتے ہوۓ شیطان مجھ سے گویا ہوا اور پوچھا اور سناؤ کیسا گزررہا ہے آپ کا مقدس مہینہ؟
میں رمضان میں شیطان کی قید اور مسلمانوں کے چاروں ہاتھوں سے نیکیاں سمیٹنے پر تقریر جھاڑنے ہی والا تھا کہ وہ بولا،

’’میں سمجھ گیا ہوں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں، میں قید ہوں تو تم لوگوں نے کون سا تیر مار لیا، میں قید ہوکر بھی تم لوگوں کے درمیان ہی تھا، بلکہ اِس مہینے میں تو مجھے پہلے سی جانفشانی سے کام بھی نہیں کرنا پڑتا، تم انسانوں میں موجود میرے چیلے ہی کافی ہوتے ہیں میں حیران ہوا کہ شتونگڑے کا تو سنا تھا مگر یہ چیلا کیا ہوتا ہے میری حیرانگی دیکھ کے شیطان بولا چیلا آپ جیسا انسان ہی ہوتا ہے مگر وو خود کو پارسا اور حاجی دکھلاتا ہے یہ میرے شتونگڑے سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیوں کے یہ آپ لوگوں میں سے ہی ہے .
میں نے جواب میں کچھ بولنا چاہا تو شیطان میرا منہ کھولنے سے قبل ہی گویا ہوا کہ آؤ تمیں دکھاتا ہوں،

یہاں سے پاس ہی ایک زاہد و عابد کا ڈیرہ تھا۔ وہ مجھے کھینچ کھانچ کر وہاں لے گیا مجھے تعجب ہوا کہ عبادت گزار اور پارسا حاجی صاحب کے ڈیرے پر شیطان کا کیا کام؟ مگر اِس نے میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں بڑی سی چارپائی پر شان بے نیازی سے پاؤں پسارے، سر پر حاجی صاحب کا طرہ سجائے ایک تسبیح پھیرتا شخص براجمان تھا۔

اُس کی جانب اشارہ کرکے شیطان بولا کہ حاجی صاحب کے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے۔ لاکھوں میں کھیلتے ہیں، اپنے زہد و تقویٰ پر بڑا مان ہے، رمضان کا آخری عشرہ حرم شریف میں گزارتے ہیں، ہر دو سال بعد حج کو جاتے ہیں اور اب تک بلا مبالغہ سات حج اور کئی عمرے کرچکے ہیں، مگر اکلوتی بیٹی نے جائیداد میں سے اپنا جائز حصہ مانگ لیا اور یوں حاجی صاحب کی پارسائی کا بت پاش پاش ہوگیا۔ سخت ناراض ہوئے اور سالوں سے بیٹی کا منہ نہیں دیکھا مگر حج اور عمرے بدستور جاری ہیں، اِس رمضان بھی آخری عشرہ حرم شریف میں گزار کے آئے ہیں۔ میرے خاص آدمی ہیں اب سمجھ آئی کے یہ چیلا کیا ہوتا ہے اور کیوں شتونگڑے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

اتنا کہہ کر شیطان مجھے ڈیرے سے متصل ایک بوسیدہ اور خستہ حال دیواروں والے ایک کچے اور بظاہر کھنڈر سے گھر میں لے گیا، یہ کسی بیوہ کا مکان تھا جس کا شوہر ایک عرصہ سے حاجی صاھب کے پاس ملازم رہا تھا بیوہ کی سات بیٹیاں ہیں۔ دوا کو ترستی ماں بیمار ہو کر بستر سے جا لگی تھی۔ بڑی چار بیٹیوں کے سروں میں زمانے کی گردش کیساتھ چاندی اتر رہی تھی۔ شیطان گویا ہوا کہ بھئی دیکھ لو، اِس بی بی کی بیٹیاں غربت اور کسمپرسی کی وجہ سے گھر بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں، کوئی شادی کرنے کو تیار نہیں، حاجی صاحب کو اپنے ایک آدھ حج یا عمرے کی رقم انہیں دے کر کبھی حق ہمسائیگی بھولے سے بھی ادا کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔

اِس کے بعد وہ مجھے لاہور کی ایک مسجد میں لے گیا۔ اندر داخل ہونے سے تو احتراز برتا مگر مسجد کے باہر کھڑا ہوکر بتانے لگا کہ یہ جو نورانی چہرے والے امام صاحب ہیں، ابھی کل ہی رمضان کے چاند کے مسئلے پر ساتھ والے محلے میں مخالف فرقے سے لڑ بھڑ کر انہیں کافر، واجب القتل اور پکا بلا حسابی جہنمی قرار دے چکے ہیں۔ یہ بتانے کے بعد اچانک شیطان کہنے لگا کہ لگتا ہے بھئی مجھے تو اب ریٹائرمنٹ پر غور کرنا چاہیے! کیونکہ میرے سارے کام تو تم لوگ بخیر و خوبی انجام دے رہے ہو۔

اس کے بعد شیطان مجھے داتا صاھب لے گیا اور گویا ہوا کہ بھئی دیکھ لو یہ سب مسلمان اور روزے دار تھے۔ کوئی حوروں اور جنت کی کا طالب آکر اِن کے درمیان پھٹا اور پھر کبوتروں کے بھی آنسو بہہ نکلے۔ بھئی تم انسان میری سمجھ سے بالا ہو، ہر وہ کام کیے دیتے ہو جو میں نے تم سے کروانے کا ازل میں تہیہ کیا تھا، لیکن سچ یہ ہے کہ اِس اشرف المخلوقات نامی مخلوق کے کارنامے دیکھ کر میں بھی شرمندہ ہوتا ہوں۔ تم انسان ایک دوسرے کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں ہو۔

اُس کی یہ کڑوی باتیں سن کر میرے وجود کا اشرف المخلوقات کا بت دھڑام سے میرے قدموں میں آن گرا اور پاش پاش ہوگیا۔ اب جیسے ہی میں نے پلٹ کر دیکھا تو انسانیت کے ساتھ وہ بھی غائب ہوچکا تھا۔

(Visited 333 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: