برطانوی استعمار، NGOs Resource Persons، اور برصغیر کی احتراماً ہار —– صابر علی

0

برصغیر میں استعمار کے تعارف، فعالیت، کارکردگی، نفوذ، تسلط اور پہچان میں کلیدی کردار ادا کرنے والے عارضی اجرتی افراد تھے۔ ان کی حیثیت اور کردار کو بہتر طور پر سمجھنا ہو تو غیرملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز میں ”ریسورس پرسن“ نامی مخلوق کا تعارف حاصل کیجیے۔ یہ ریسورس پرسن ہی کمپنی کا اصل اثاثہ تھے جیسا کہ دنیا کی ہر این جی او NGO میں ہوتے ہیں۔ یہ مستقل ملازم نہیں ہوتے بلکہ انہیں پراجیکٹ وائز محنتانہ ملتا ہے۔

بعض مرتبہ تو ماہانہ یا یومیہ بنیادوں پر قلیل اجرت ہی دی جاتی ہے تاہم اجرت کی مقدار کا انحصار پراجیکٹ کی حساسیت، جغرافیائی وقوع، فنڈنگ کی مقدار اور ادارے کی پروفیشنل دیانت داری پر بھی ہوتا ہے۔

ریسورس پرسن کی اہم ترین ”کوالی فکیشن“ اس کا لوکل ہونا ہے یعنی جس علاقے میں پراجیکٹ شروع ہوتا ہے ریسورس پرسن اسی علاقے سے لیا جاتا ہے۔ اس کی جان پہچان ہوتی ہے لیکن یہ زیادہ سمجھ دار یا تعلیم یافتہ نہیں ہوتا مگر پراعتماد، چرب زبان، مہم جو اور مسابقت کا جذبہ رکھنے والا ہوتا ہے۔ اور اس کے اعتماد کی وجہ بھی عموماً اس کی کم علمی اور بے شعوری ہوتی ہے۔۔
اس کی سوچ ذرا مختلف اور رجحانات ترقی پسندانہ ہوتے ہیں۔ عمر کے لحاظ سے نوجوان ہوتے ہیں۔ یہ کرتے کیا ہیں؟ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہر این جی او چاہے مقامی ہو یا غیر ملکی، اپنے کام کے لحاظ سے کمیونٹی میں اجنبی ہوتی ہے یعنی یہ جو کام کرتی ہے یا جو سوچ اور خیالات پھیلاتی ہے وہ مقامی لوگوں کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی بھی برصغیر میں اجنبی تھی، اس کے افراد، تصورات اور طرزِ زندگی بھی باشندگانِ برصغیر کے لیے اجنبی تھا۔ گویا دو تہذیبوں کے درمیان ایک خلیج یا گڑھا موجود تھا جسے پار کرنے کے لیے طرفین کو کوئی واسطہ اور وسیلہ درکار تھا۔ ہر شخص اجنبیوں سے خائف اور چوکنا رہتا ہے اور ان کے بارے میں متجسس بھی ہوتا ہے۔ اگر اجنبی بالکل انوکھے ڈھنگ کا ہو اور شرافت کے لبادے میں آیا ہو تو اس کے لیے رعب اور احترام کے ملے جلے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ریسورس پرسن آگے بڑھتا ہے اور ایک دوسرے سے اجنبی تہذیبوں کے درمیان واسطے کا کام کرتا ہے۔ آنے والا اجنبی اس ریسورس پرسن سے ہاتھ ملاتا ہے اورانسیت دکھاتا ہے۔ یہ ریسورس پرسن گڑھے کو پُر نہیں کرتا، نہ ہی اس پر کوئی پُل بناتا ہے۔ یہ خود اس گڑھے میں اتر کر اسقدر جھکتا ہے کہ مرغا بن جاتا ہے۔ اجنبی نووارد اس کی پیٹھ پر سے گزر کر مقامی لوگوں میں داخل ہوتا ہے اور جب اس طرح سے داخل ہوتا ہے تو گویا مقامی معرفت سے آتا ہے اس لیے اسے باہر نہیں نکالا جاتا۔۔۔

ریسورس پرسن کی یہ وجودی پوزیشن اس کے نفسی حال اور سماجی مقام کا بہترین اظہار ہے۔ یہ لوگ شعوری طور پر اجنبی تہذیب کے اجنبی افراد سے متاثر ہو کر ان سے ہاتھ ملانے میں پہل کرتے ہیں اور ہمیشہ مخمصے اور تضادات کا شکار رہتے ہیں۔ اجنبی تہذیب کے نمایندوں کو سر اٹھا کر دیکھنے کے لیے ان کے پاس وقت ہوتا ہے نہ ہمت اور ان کے اصل عزائم جاننے کی اہلیت بھی نہیں ہوتی۔ اجنبیوں کی مالی و مادی حیثیت اور وعدے انہیں مرعوب بلکہ مدہوش کرتے دیتے ہیں؛ انہیں روزگار مل جاتا ہے اور بعض کے تو نصیب جاگ اٹھتے ہیں۔ یہ لوگ اجنبیوں کی محدود تقلید سے آگے نہیں بڑھ سکتے یعنی اجنبی اطوار و اقدار کو اپنانا ان کی ”اختیاری مجبوری“ ہوتی ہے لیکن یہ اجنبیوں کے جیسے کبھی نہیں بن سکتے۔

یہ اپنے لوگوں میں تبدیلی لانے کے خواہاں ہوتے ہیں اس لیے اپنی تہذیب کا مکمل تعارف کرواتے ہیں۔ اجنبی انہیں اپنے مقاصد بتاتا ہے اور یہ انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ ان مقاصد کے حصول میں کون سی ممکنہ مشکلات اور رکاوٹیں ہو سکتی ہیں اور ان پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ مخبری نہیں ہوتی بلکہ پراجیکٹ کے لیے لازمی انفارمیشن ہوتی ہے۔ ان لوگوں میں تبدیلی کی سوچ بذات خود پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کا محرک اجنبی کی آمد ہوتی ہے اور آنے والے ہی انہیں ریسورس پرسن بن کر تبدیلی کا ایجنٹ بننے پر راضی کرتے ہیں، یعنی آنے والی ممکنہ تبدیلی نوعیت کے لحاظ سے مقامی یا داخلی نہیں ہوتی۔ ریسورس پرسن کو یقین ہوتا ہے کہ تبدیلی مقامی لوگوں کے حق میں بہتر ہے لیکن اسے اس بات کا شعور بھی ہوتا ہے کہ وہ تو صرف اس عمل میں کیٹالسٹ یا سہولت کار کا کام سرانجام دے رہے ہیں خود کچھ نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنا معاوضہ لیتے ہیں لیکن اس معاوضے اور اپنے کام کو بھی مفادِ عامہ اور مقامی بہتری کے زمرے میں رکھتے ہیں۔ پھر یہ لوگ اپنے مقامی لوگوں کی کایاکلپ ہرگز نہیں چاہتے بلکہ کسی ایک پہلو یا ایک قدر کو تبدیل کرنے میں مدد دیتے ہیں اور خود کو اس محدود تبدیلی کا پروفیشنل ایکسپرٹ تصور کرتے ہوئے مقامی لوگوں کو لیڈر ہونے کا تاثر دیتے ہیں۔ اس لیے مقامی لوگوں کے مطالبات اور خواہش اجنبی تہذیبی نمایندوں تک پہنچانے کا وعدہ بھی کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ لوگ تبدیلی کا عمل رفتہ رفتہ چاہتے ہیں تاکہ ان کا سلسلہ روزگار چلتا رہے کیوں کہ تبدیلی کا امکان موجود رہنا ہی ان کے وجود کا امکان بن جاتا ہے۔ ایک طرف تو انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ آنے والی تبدیلی مقامی لوگوں کی اپنی تصور کردہ یعنی اوریجنل اور حقیقی نہیں اور دوسری طرف یہ اس بات پر بھی نالاں ہوتے ہیں کہ مقامی لوگ اس تبدیلی کو قبول کیوں نہیں کر رہے۔ شرمندگی اور خدمت کے ملے جلے احساسات کے ساتھ کام میں لگے رہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ مقامی اور زیادہ سے زیادہ کارآمد اور مفید ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس بند گلی میں داخل کرنے والے ریسورس پرسن ہوتے ہیں۔ برصغیر میں استعمار کی آمد اور تسلط میں وہ تمام لوگ ریسورس پرسن تھے جو خصوصاً کمپنی کے سپائے (سپاہی) بنے اور عموماً وہ جو کسی بھی شکل میں ملازم بنے۔ ان لوگوں نے آمدِ استعمار پر جو استقبالیہ دیا اس نے ہمیں بزدل یا ڈرپوک نہیں بنایا بلکہ استعمار کے احترام میں مبہوت کر دیا۔

رجعتانہ ترقی پسندی کا یہی متناقض رویہ انہیں موجودہ اور آمدہ دونوں تہذیبوں سے خارج کر دیتا ہے یعنی یہ صحیح معنوں میں کسی بھی تہذیب کے باغی یا معتقد نہیں رہتے۔ اسی متناقض رویے کی بدولت ان کا اپنا معاشرہ انہیں غدار بھی نہیں کہہ سکتا لیکن ان کی سرگرمیوں سے متاثر ہوئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا؛ اسی طرح آمدہ تہذیبی نمایندے بھی انہیں اپنے حقیقی یا مستقل وفادار نہیں سمجھتے لیکن ان کے بغیر وہ مقامی لوگوں سے تعامل برقرار بھی نہیں رکھ سکتے۔ ان کا خلوص اور اغراض خود انہیں، مقامی اور اجنبی تہذیب تینوں کو ایک پیچیدہ صورتِ حال سے دو چار کر دیتے ہیں۔ ان متعاملین یعنی ریسورس پرسنز کی پیدا کردہ صورتِ حال کا مہلک ترین اثر مقامی تہذیب پر ہوتاہے۔ مقامی لوگوں میں تبدیلی آرہی ہوتی ہے، وہ تبدیلی کو محسوس بھی کر رہے ہوتے ہیں لیکن اس تبدیلی کے براہِ راست عوامل کی نشان دہی کے قابل نہیں رہتے اور معلوم عوامل سے مخاصمت رکھنے کے باوجود انہیں ختم بھی نہیں کر سکتے لہٰذا تبدیلی کا حقیقی تجزیہ کرنے اور اس کے لیے فیصلہ کن یا اجتماعی موقف اختیار کرنے میں متامل یا اپاہج ہو جاتے ہیں۔اول تو دشمن کی نشان دہی مشکل ہو جاتی ہے اور اگر ہو بھی جائے تو ان ریسورس پرسنز کی وجہ سے لڑائی تو ہوتی ہے لیکن جنگ کا کوئی جواز انہیں نظر نہیں آتا۔ وہ اس بات سے تو باخبر ہوتے ہیں کہ دشمن موجود ہے، تبدیلی آرہی ہے لیکن اس تبدیلی کی یقینی نوعیت اور اسباب و عوامل بیان کر نے سے قاصر ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے ماضی کی طرف مراجعت اور مستقبل کی طرف مسابقت دونوں پر بیک وقت عمل کرنا ناممکن اور کسی ایک پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ حالات کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ تبدیلی کا محرک خارجی لیکن ذرائع داخلی ہونے کی وجہ سے انہیں بے چارگی کے کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان کے لیے اصل تہذیبی مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ تبدیلی نہ تو اصلاً خارجی ہوتی ہے نہ اصلاً داخلی ہوتی ہے۔

اوراس بند گلی میں داخل کرنے والے ریسورس پرسن ہوتے ہیں۔ برصغیر میں استعمار کی آمد اور تسلط میں وہ تمام لوگ ریسورس پرسن تھے جو خصوصاً کمپنی کے سپائے (سپاہی) بنے اور عموماً وہ جو کسی بھی شکل میں ملازم بنے۔ ان لوگوں نے آمدِ استعمار پر جو استقبالیہ دیا اس نے ہمیں بزدل یا ڈرپوک نہیں بنایا بلکہ استعمار کے احترام میں مبہوت کر دیا۔ یہ ریسورس پرسن ہمارے اپنے اور استعمار کا ہراول دستہ تھے اور اپنوں سے جنگ کا ہمارے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔ اس لیے ہم نے ناراضگی اور چِڑ میں لڑائی تو کی لیکن کوئی جنگ نہ لڑی۔ استعمار آج بھی اعتراف کر رہا ہے کہ مشنری جنگ ہو یا عسکری، فتح پانے کی ہمت اُس میں ماضی میں تھی نہ آج ہے۔ اور بات بھی سچ ہے؛ جنگوں سے رقم اور عسکریت سے رنگین ماضی رکھنے والے وسیع و عریض ہندوستان میں تادمِ آخر چند ہزار فوج رکھنے والا استعمار خواب میں بھی فتح کا نہیں سوچ سکتا تھا!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: