روح افزا ——- علی عبداللہ

1

ہندوستان میں مشہور زمانہ شربت “روح افزا” کی دستیابی میں مشکلات پر لوگوں نے ٹوئیٹر پر خوب غم و غصے کا اظہار کیا- روح افزا سے کون واقف نہیں؟ بچپن کی بہترین یادوں میں سے ایک لال شربت روح افزا بھی ماضی کے افق پر پوری آب و تاب سے چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے- بلاشبہ روح افزا گرمیوں کی سوغات اور ہر عمر اور مزاج کے افراد کے لیے راحت جاں ہے- رمضان میں خاص طور پر اس کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور لوگ بڑے شوق سے افطار میں حسب ذائقہ اسے دودھ وغیرہ میں استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں- مشہور شاعر سائل دہلوی نے روح افزا کے بارے لکھا؛

جو رنگ دیکھو تو دل ربا ہے
مزا جو چکھو تو جاں فزا ہے
مہک میں پھولوں سے بھی زیادہ
اثر میں اکسیر بے بہا ہے
جو اس میں تفریط و تقویت ہے
نہ اس کی غایت نہ انتہا ہے
نا روح افزا سا کوئی شربت
کبھی بنے گا نا بن چکا ہے
صرف ہندوستان میں ہی نہیں پاکستان میں بھی روح افزا عوامی پذیرائی کا حامل ہے-

1907 میں دہلی کے حکیم حافظ عبدالمجید نے جو کہ ہمدرد دواخانے کے بانی بھی تھے، روح افزا کے نام سے ایک شربت متعارف کروایا- اس دور میں مختلف دیسی شربت موجود تھے مگر حکیم صاحب نے خاص محنت سے تخم خرفہ، تخم کاسنی، منقہ، نیلوفر، گاؤ زبان، ہرا دھنیا جو کہ طبی لحاظ سے بہترین خصوصیات کے حامل تھے اور پھلوں میں سنگترہ، انناس، گاجر اور تربوز، جبکہ گلاب، صندل اور کیوڑہ جیسی خوشبودار بوٹیوں سے ایک منفرد ذائقے والا شربت متعارف کروایا- یہ ایک ایسا فارمولا تھا جس کا اس دور میں کوئی ثانی نہ تھا اور آج تقریباً 112 سال گزرنے کے باوجود اس کے استعمال اور شہرت میں کمی نہیں آئی- مختلف سافٹ ڈرنکس کی بے پناہ طلب کے باوجود روح افزا ہندوستان، پاکستان اور دیگر ممالک میں بھی اپنی خاص پہچان کا حامل ہے-

“روح افزا” نام کے بارے مختلف خیالات پیش کیے جاتے ہیں- کچھ لوگوں کے نزدیک یہ نام خود حکیم عبدالمجید کی ذہنی اختراع تھی- لیکن بعض روایات کے مطابق یہ نام مثنوی گلزار نسیم میں موجود ایک کردار “روح افزا” سے لیا گیا ہے- اس کے علاوہ 1882 میں ہندوستان سے شائع ہونے والے ایک رسالے کا نام بھی روح افزا تھا- شربت روح افزا کا لیبل پہلی دفعہ مرزا نور احمد نے 1910 میں مختلف رنگوں میں تیار کیا- مختلف ادوار میں مختلف شعراء کے کلام سے روح افزا کی تشہیر کی جاتی رہی جن میں سائل دہلوی، داغ دہلوی، سیماب اکبر آبادی اور جوش ملیح آبادی وغیرہ شامل ہیں- مثال کے طور پر روح افزا کی تشہیر میں ایک بار داغ دہلوی کا یہ شعر استعمال کیا گیا،

اشارہ اس نگاہ کا روح افزا ہو نہیں سکتا
کہ جادوگر سے اعجاز مسیحا ہو نہیں سکتا،

ہمدرد لیبارٹریز ہندوستان کے ڈائریکٹر عبدالمجید کے مطابق روح افزا کی سالانہ بیس ملین بوتلیں صرف ہندوستان میں فروخت ہوتی ہیں- یہاں سے روح افزا کی مانگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے-

پاکستان کی بات کی جائے تو حکیم سعید مرحوم نے پاکستان میں ہمدرد دواخانے کی بنیاد رکھی اور اپنے خاندانی کاروبار خاص طور پر شربت روح افزا کو پاکستان میں متعارف کروایا- یاد رہے حکیم سعید، حافظ عبدالمجید کے بیٹے تھے- ان کے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید ہندوستان میں رہے جبکہ حکیم سعید ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہو گئے تھے- لیکن اپنے باپ کا بنایا ہوا دواخانہ ہمدرد دونوں ممالک میں ایک ہی نام سے چل رہا ہے- 1971 میں جب پاکستان تقسیم ہوا ہو تو بنگلہ دیش میں ہمدرد دواخانے کو وہاں کے ایک مقامی کاروباری شخص کے ہاتھ میں دے دیا گیا- ہمدرد دواخانہ پاکستان دیگر کئی ہربل دوائیاں بھی پیش کرتا ہے لیکن شربت روح افزا اس کی خاص پہچان ہے-

1980 کی دہائی میں ایک اخبار نے روح افزا کے بارے لکھا،

“when the motor car was on its way in and the horse buggy on its way out, sharbat rooh afza was there”

اب جبکہ روائتی گاڑیوں کے انجن کی جگہ خاموش اور ماحول دوست ہائبرڈ انجن متعارف ہو چکے ہیں لیکن روح افزا ویسے کا ویسا ہی موجود ہے- روح افزا شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کی زبان نے نہ چکھا ہو، لیکن اب پیپسی کولا اور دیگر مصنوعی انرجی ڈرنکس نوجوان نسل کی توجہ روح افزا سے ہٹانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں- دیکھنا یہ ہے کہ کیا روح افزا جدید دور میں بھی اپنے معیار اور ذائقے کی بنیاد پر اپنی ساکھ برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں-

(Visited 116 times, 3 visits today)

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: