جے سالک: مفاداتی سیاست کا باغی —– حافظ شفیق الرحمان

0

جے سالک ہماری سیاسی اور سماجی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے۔ اس نے ایک افلاس گزیدہ اور غربت زدہ ماحول میں آنکھ کھولی۔ نامساعد حالات کے باوجود اس نے طبقاتی امتیاز، ناہموار معاشی چلن اور ہٹ دھرم ظالمانہ سماج میں مسلسل جدوجہد سے اپنا نام اور مقام بنایا۔ وہ شیر کی طرح طوفانوں کے بہاؤ کی مخالف سمت تیرتا رہا۔ اس کی سیاسی زندگی ساڑھے چار عشروں پر محیط ہے۔ اس نے سیاست کو اپنے ملک، عوام اور کمیونٹی کی خدمت تصور کیا۔ وہ اس آفاقی صداقت کا مشعل بردار ہے کہ دوام ہمیشہ مبنی بر خدمت سیاست ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں کم لوگ ہیں جو سیاست کو خدمت جانتے اور عبادت کا درجہ دیتے ہیں . اور ایسے سیاسی رہنماؤں کی تعداد تو انگلیوں کی پوروں سے بھی کم ہے جو سیاست کو بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور شہری آزادیوں کے حصول کی جدوجہد تصور کرتے ہوئے مقتدر طبقات کے جابرانہ، ظالمانہ اور عوام دشمن فیصلوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہے۔ مقتدر طبقات کے ان ناپسندیدہ اقدامات اور فیصلوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے سیاسی کارکن اور سیاسی لیڈر کا پیش پا افتادہ مفادات سے بے نیاز ہونا از بس ضروری ہے۔

اس معاشرے میں جہاں جرائم پیشہ بدعنوان عناصر کے گینگز اپنے جرائم کے تحفظ اور پردہ پوشی کے لیے سیاست کو ایک زینے اور ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جب بے تحاشا دولت کے بل بوتے پر وہ میڈیا اور رائے عامہ ساز اداروں کو اپنا تابع فرمان بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس جارحانہ پروپیگنڈہ کا منفی اثر یہ سامنے آتا ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں , صوبائی، قومی اور سینیٹ کی نشستوں، مناصب اور وزارتوں کا تاج بھی اپنے سر پر سجانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جونہی وہ منتخب ہو کر پارلیمان کے ایوانوں کی مسندوں پر براجمان ہو جاتے ہیں تو وہ اسے ووٹرز کی سادہ لوح مہربانی کے بجائے اپنی دولت کا چمت کار گردانتے ہیں۔ وہ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ ہم نے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ روپیہ اور قومی اسمبلی کی نشست میں کامرانی خریدنے کے لیے چارکروڑ روپے کی ’سرمایہ کاری‘ کی۔ جب سرمایہ کارانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر قانون ساز اور آئین ساز اداروں میں منتخب نمائندوں کی حیثیت سے فروکش ہو جاتے ہیں تو وہ دوران انتخابات کی گئی سرمایہ کاری کا منافع سو گنا کمانا اپنا استحقاق جانتے ہیں۔ ایسے ارکان پارلیمان کی فہرست پر اگر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ اس گنگا میں اشنان کرنے کا موقع کسی نے ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ سابق ارکان پارلیمان کی اکثریت نے سرکاری، شہری و دیہی و زرعی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کرنے میں کبھی ایک لحظہ کی تاخیر نہیں کی۔ وہ صرف قبضہ گردی ہی میں ملوث نہیں پائے گئے بلکہ انہوں نے قومی و کمرشل بینکوں سے مجموعی طورپر اربوں کھربوں کے قرضے حاصل کیے اور ان کے سود کی ادائیگی تو ایک طرف رہی، اصل زر کا بھی 10 سے 25 فیصد تک تین تین عشرے گزرنے کے باوجود بینکوں کو واپس نہیں کیا اور یوں وہ قومی خزانے کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ اور ہضم کرتے رہے۔ اس کے علاوہ لائسنس اور پرمٹ بھی جھولیاں اور بریف کیس بھر بھر کر ان کو دیئے جاتے رہے۔ مزید برآں انہیں مختلف سرکاری ملازمتیں بھی دی جاتی رہیں تاکہ وہ اپنے حلقۂ نیابت کے بیروزگار عوام کو سرکاری ملازمتیں دلا سکیں لیکن انہوں نے یہ نوکریاں بھی مہنگے ترین داموں پر فروخت کیں یا اکثر اپنے عزیز و اقارب کو پر کشش پیداواری سرکاری ملازمتوں پر فائز کرا دیا۔ یہ وہ صورت حال تھی جس کو دیکھتے ہوئے

حبیب جالب نے کہا تھا کہ
چند بھتیجے ہیں کچھ سالے ہیں
عہدے تقسیم ہونے والے ہیں

انہوں نے پارلیمان کے ایوانوں اور اقتدار کے نگار خانوں کو مار دھاڑ کی بمپر لوٹ سیل مارکیٹ بنا دیا۔ یہ جرائم انہوں نے اتنی پرکاری اور فنکاری سے کیے کہ ان کا کھوج لگانا کسی بھی تحقیقاتی اور تفتیشی ادارے کے لیے تقریباً ناممکنات کے زمرے میں شامل ہوتا ہے۔ تھک ہار کر تحقیقاتی ادارے بھی ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں اور میڈیا کو یہ بتاتے ہوئے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں کہ وائٹ کالر کرائمز کا سراغ اور کھوج لگانا اتنا آسان نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں ، سول و عسکری اداروں کے ذمہ داران اورمنتخب ایوانوں کے ارکان نے پاکستان کے عوامی اور قومی خزانے کو اس بے دردی سے لوٹا ہے کہ اس کا تصور کرتے ہوئے ذہن کی سکرین پر ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور نادر شاہ کے ہاتھوں دہلی کی بربادی کے دلخراش مناظر تازہ ہو جاتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 1988ءسے تادم تحریر کوئی ایک ایسا رکن پارلیمان ہے جسے مسٹر کلین قرار دیا جا سکے۔ یقینا اِکا

دُکا اور شاذو نادر اگر کوئی رکن پارلیمان تھا بھی تو وہ اب ہم میں موجود نہیں ہے۔ اس وقت جو سابق اراکین پارلیمان موجود ہیں ، اُن میں سے ایک رکن پارلیمان جے سالک کے بارے وثوق اور تیقن کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ 1988ءسے چار بار اقلیتی نشستوں پر بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوتا رہا۔ ایک الیکشن میں تو اس نے مسیحی اقلیتی نشست پر پیپلزپارٹی کے نامزد امید وار کو چاروں صوبوں سے واضح برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کر کے 77 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ شکست سے ہمکنار ہونے والے نامزد امید وار کو پیپلزپارٹی کی بھرپور اور ہمہ جہتی حمایت حاصل تھی۔ مسیحی اقلیتی رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے جے سالک نے اپنی کمیونٹی کے حقوق اور مفادات کے حصول اور تحفظات ازالے کے لیے شبانہ روز جدوجہد کی اور اسمبلی کے فلور پر بھرپور آواز اُٹھائی۔ جے سالک نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1979ءمیں میٹرو پولیٹن کارپوریشن لاہور کے منتخب مسیحی اقلیتی کونسلر کی حیثیت سے کیا۔ یہ ضیاءالحق کے مارشل لاءکا دورِ عروج تھا۔ وہ ٹاؤن ہال میں ضیا مارشل لائی آرڈیننسوں اور قوانین کے خلاف آواز بلند کرتا رہا۔ یہ دور زباں بندی کا دور تھا۔ کسی کو بھی تڑپنے کی اجازت تھی نہ فریاد کی۔ ہر کوئی شکوہ کر رہا تھا کہ

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

اور کوئی دہائی دے رہا تھا کہ یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری۔ ایسے میں حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے جے سالک کو اس جرم کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں ، تھانوں کی متعفن حوالاتوں اور جیلوں کی تنگ و تاریخ کال کوٹھڑیوں میں بھگتنا پڑیں۔ وہ گرفتار ہوتے ، جیل یاترا سے واپس آتے تو دوبارہ جرم حق گوئی کا ارتکاب کرتے۔ ضیاءالحق کے حواری اس کے سچ کی للکار سے انتہائی پریشان تھے کہ یہ کیسا دیوانہ ہے کہ جو مارشل لاءکے زباں بندی کے آرڈیننس کی دھجیاں اڑانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ جب اس کے ارد گرد تعزیرات کا محاصرہ تنگ کر دیا گیا تو اس نے اسے انسانی حقوق کی پامالی قرار دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا لیکن سیاہ کو سفید ماننے سے انکار کردیا۔

1983ءمیں دوبارہ بلدیاتی انتخابات ہوئے، ضیاءالحق کا مارشل لائی راج پورے طمطراق کے ساتھ قائم تھا۔ جے سالک نے ایک بار پھر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا اور پہلے سے بھی زیادہ اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور بلدیہ عظمیٰ لاہور کے کونسلر کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ ابھی جبر کی فضا قائم تھی۔ آواز حق بلند کرنے کی اجازت نہ تھی۔ ایک حبس اور گھٹن کا ماحول تھا۔ ایسے میں جے سالک کیونکر خاموش رہتا۔ خاموشی کے اس کائی زدہ تالاب میں اگر کوئی ایک گستاخ کونسلر کنکریاں پھینک کر ارتعاش پیدا کر رہا تھا تو وہ یہی جے سالک تھا۔ دوبارہ تعزیر و زنجیر کا سلسلہ شروع ہوا۔ جے سالک کو بار بار گرفتار کیا گیالیکن اس نے حق گوئی کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ اب بحیثیت ایک جگردار اور بہادر سیاسی کارکن کی حیثیت سے وہ اپنی شناخت ملک بھر میں قائم کر چکا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے قومی اسمبلی کے انتخابات میں مسیحی اقلیتی نشستوں پر 4 بار آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا اور نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو ہر بار شکست فاش دی۔ مسیحی کمیونٹی میں ان کی ہیرو ورشپ پیدا ہوئی۔ انہیں جرأت اظہار کا رول ماڈل قرار دیا گیا۔ مقام حیرت ہے کہ مسیحی اقلیتی نشست پر چار بار رکن قومی اسمبلی بننے والا آزاد ایم این اے جو ایک بار وفاقی وزیر بھی رہا، آج تک اس پر ایک دھیلے کی کرپشن کا الزام نہیں لگا۔ اس نے اپنی حیثیت سے کبھی ناجائز فائدہ اٹھانے کی سوچ کو بھی اپنے ذہن کے قریب نہ پھٹکنے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جے سالک کے دامن پر ایک انچ سرکاری زمین پر قبضے، قومی و کمرشل بینکوں سے ایک روپے کے قرضے ، امپورٹ و ایکسپورٹ کے کسی ایک لائسنس، مل یا فیکٹری لگانے کے کسی ایک این او سی یہاں تک کہ ایک اسلحہ لائسنس یا شراب کا ایک پرمٹ بھی حاصل کرنے کا الزام نہیں۔
اس تناظر میں مجھے یہ بات کہنے میں کسی قسم کی جھجک نہیں کہ جے سالک نے چار بار رکن پارلیمان منتخب ہونے اور ایک وفاقی وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے باوجود مفاداتی اور مراعاتی سیاست سے ہمیشہ انحراف کیا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس نے مفاداتی اور مراعاتی سیاست کے ایک بے باک باغی کی حیثیت سے لائق تقلید سنہری روایات کو قائم کیا۔

جے سالک کی شخصیت اتنی ہمہ گیر ہے کہ ایک کالم میں اس کی تمام خدمات ، جدوجہد اور خوبیوں کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: