طلاق، لو میرج اور والدین کی تربیت (۱) —– ڈاکٹر مبین اختر

0

ڈاکٹر سید مبین اختر مشہور ماہر نفسیات و ذہنی امراض ہیں۔ ’’امریکن بورڈ آف سائیکاٹری اینڈ نیورولوجی‘‘ سے سند یافتہ ہیں۔ اس شعبے میں 1970ء سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی نگرانی میں کراچی اور حیدر آباد میں کئی کامیاب ہسپتال چل رہے ہیں۔ بطورِ ماہر نفسیات ان کے پاس بہت سے مسائل آتے ہیں۔ طلاق بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے۔ نفسیات کے حوالے سے اسباب اور وجوہات کے بارے میں ان سے جمال عبداللہ کی تفصیلی گفتگو۔

’’طلاق کی نفسیاتی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟‘‘
’’اس میں اہم کردار والدین کا ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کی تربیت نہیں کرتے۔ اسے ذہنی طو رپر تیار نہیں کرتے۔ شادی سے پہلے شادی کے موضوع پر بات کرنا گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ لڑکیاں تو دور کی بات، لڑکے بھی اس موضوع پر لب نہیں کھول سکتے۔ اگر کوئی بات کی، اسے ڈانٹ پڑ گئی: ’’ارے! تم اتنے بے شرم ہو گئے ہو۔ تمہاری یہ جرات کیسے ہوئی؟‘‘ میں سمجھتا ہوں والدین کا، خصوصاً والدہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی تربیت کرے۔ اس کی ذہن سازی کرے۔ اسے بتائے کہ ایک نیا ماحول اور نئے حالات تمہارے منتظر ہیں۔ اس کے سامنے ان حالات کی نقشہ گری کرے۔ اسی طرح بیٹی کو بھی حق دیا جائے کہ وہ اس موضوع سے متعلق سوالات کرے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خود ہی راستے بند کر دیے۔ اپنے بیٹے اور بیٹی کی تربیت نہیں کی، پھر مسائل کا گِلا کرتے ہیں۔ یعنی والدین 20، 25 سال تک بیٹی کو پالتے پوستے ہیں۔ اسے کھلاتے پلاتے ہیں، اس کی تعلیم کے اخراجات اٹھاتے ہیں اور جو اس کی اہم ضرورت ہے، اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔‘‘

’’اب ہوتا یہ ہے کہ اچانک بیٹی کو ایک نئے ماحول میں چھوڑ دیتے ہیں۔ سب کچھ یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک پورا گھر اس کے ذمے پڑ جاتا ہے۔ والدین نے اپنے گھر میں اسے ملکہ کی طرح رکھا۔ اب جب وہ کہیں اور گئی، اسے شدید گھٹن محسوس ہوئی۔ پھر ستم یہ کرتے ہیں اپنی بیٹی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے بڑا ظلم کوئی نہیں ہے۔ کم از کم والدین اور کچھ نہیں کر سکتے، اپنی بیٹی کو اچھا مشورہ تو دے سکتے ہیں۔ ایک طرف وہ مصیبت میں گرفتار ہوتی ہے۔ دوسری جانب والدین کی سپورٹ میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اگر بیٹی کوئی بات کرے، اسے بات تک نہیں کرنے دیتے۔ والدین کو چاہیے وہ اپنی بیٹی کی دل شکنی نہ کریں۔ وہ اس کی بات سنیں، اسے مشورہ دیں۔ اچھے طریقے سے ڈیل کریں۔ اسے مناسب انداز میں کہیں کہ بیٹی! زندگی میں ایسے حالات آتے ہیں۔ تم پریشان نہ ہونا۔ ایسا کرو اور ایسا نہ کرو۔ میں سمجھتا ہوں یہ جو والدین اور قریبی عزیزوں کی طرف سے راستے مسدود ہو جاتے ہیں، یہ اس کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوتی ہے۔ عام طو رپر ہمارے ہاں یہ سوچ پیدا ہو گئی ہے جو مسئلہ ہو، بچی اس سے خود ہی نمٹے گی۔ اب ایک بیٹی ماں باپ کے سامنے اپنا دُکھ درد نہیں رکھے گی تو اور کون ہو گا جو اس کا حال سنے گا؟ ہر لڑکی تو کسی ماہر نفسیات کے پاس جانے سے رہی۔‘‘

اگلا سوال تھا:
’’اس کا مطلب ہے طلاق کی ایک وجہ والدین کی تربیت نہ کرنا ہے؟‘‘
ڈاکٹر سید مبین اختر نے اسی سے ملتے جلتے نکتے کی وضاحت کی:
’’میں سمجھتا ہوں مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ خود والدین کی تربیت نہیں ہوتی۔ انہیں پتا نہیں ہوتا کہ بیٹی کے معاملات کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے؟ ان کی بیٹی کس طرح شادی کے بعد ایک کامیاب زندگی گزار سکتی ہے؟ لڑکی پر ظلم میں صرف سسرال والے شامل نہیں ہوتے، اس کے اپنے والدین اور قریبی رشتے دار بھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔ بغیر تحقیق کے، کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد اس پر جو چاہے گزرے۔ اُف نہیں کرنی۔ چاہے قیامت ٹوٹ پڑے۔ ظلم و ستم ہو۔ کھانے پینے کو کچھ نہ ملے، کہتے ہیں تمہاری شکایت نہیں آنی چاہیے۔ خود کو ہر حال میں ایڈجسٹ کرنا ہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیسے والدین ہوتے ہیں جو اپنے جگر کے ٹکڑے کو ایسے بے یار و مدد گار چھوڑ دیتے ہیں۔ وہاں ظلم کا شکار دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ مدد کریں گے۔ اگر بیٹی کی آنکھوں میں آنسو آئے، اسے ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کر دیا اور کہا یہاں سے تمہارا جنازہ ہی اُٹھنا چاہیے۔‘‘

یہ سوال ذہن میں اُبھرتا ہے:
’’کیا اس سے مزید شہہ نہیں ملے گی اور طلاق کی شرح میں مزید اضافہ نہیں ہو گا؟‘‘
ماہر نفسیات ڈاکٹر مبین اختر نے اپنی رائے دی:
’’یہ اچھی بات ہے۔ طلاق سے ہمیں بہت زیادہ خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر طلاق کی شرح بڑھ ریہ ہے تو اس کا مطلب ہے لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے۔ یہ معلوم ہو رہا ہے کہ طلاق بھی ایک راستہ ہے۔ یہ کوئی کفر نہیں ہے۔ شجرِ ممنوعہ نہیں ہے۔ اگر ایک جگہ ظلم ہو رہا ہے اور اس سے نجات ملتی ہے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ یہ ایک مثبت بات ہے، جس کی اجازت دین اور شریعت نے دی ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کے پاس ایک خاتون آتی ہے اور کہتی ہے مجھے اپنے شوہر سے کوئی شکایت نہیں ہے، مگر اس کی شکل پسند نہیں ہے۔ حضور ان کی علیحدگی کرا دیتے ہیں۔ اس حد تک اسلام نے گنجائش رکھی ہے۔ طلاق کا جو اصل فلسفہ ہے، اسے کچلنا نہیں چاہیے۔ ایسا نہیں کہ لڑکی کو قتل کر ڈالو، لیکن طلاق کی بات نہیں کرنی، ورنہ ناک کٹ جائے گی۔ شاید اس لیے کی جاتی ہے کہ میاں بیوی خوش و خرم زندگی گزاریں۔ اب اگر وہ آپس میں ایڈجسٹ نہیں، خود نہیں، شادی کا فائدہ کیا ہے؟ علیحدگی سے بہتر کوئی راستہ نہیں۔ کہیں اور انتظام ہو جائے گا، مگر ہمارے ہاں لوگوں کی یہ سوچ بن چکی ہے کہ ایک بار شادی ہوئی، اب اسے آخر تک نبھانا ہے۔ چاہے شوہر اور بیوی کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہو۔ وہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہ کرتے ہوں۔‘‘

پھر یہ سوال اُٹھتا ہے:
’’اس طرح ہمارا معاشرہ امریکا و یورپ کی طرح نہیں بن جائے گا؟‘‘
جواب میں ڈاکٹر سید مبین اختر نے بتایا:
’’امریکا میں تو طلاق کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ کیونکہ وہاں شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ کہتے ہیں “Living Together”۔ یعنی اکٹھے رہو۔ ایک مرتبہ میرے پاس ایک بچی لائی گئی۔ میں نے مسئلہ معلوم کیا۔ بتایا گیا اس نے کسی کالے کے ساتھ دوستی گانٹھ رکھی ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے یہ اسے کہہ دے کہ مسلمان ہو جائو، ہم شادی کر لیتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتے، “Living Together” چاہتے ہیں۔ اس لیے کہ وہاں طلاق کی صورت میں آدھی جائیداد عورت کے پاس چلی جاتی ہے۔ اس وجہ سے وہاں شادیاں نہیں ہوتیں تو طلاق کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔ وہاں شادی نہیں ہوتی اور یہاں یہ حال ہے کہ لڑکی کو بالکل ایک شکنجے میں جکڑ دیتے ہیں۔ یہ دو انتہائیں ہیں۔ دین اسلام اعتدال کا نام ہے۔‘‘

ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا:
’’میرے پاس اکثر لوگ آتے ہیں۔ میں ان سے مسائل پوچھتا ہوں۔ کچھ عرصہ قبل ایک ادھیڑ عمر خاتون آئیں۔ میں نے پوچھا تو پتا چلا محترمہ کے بیٹے کی شادی ایک ڈیڑھ سال قبل ہوئی ہے۔ حالانکہ بیٹے نے اسی وقت صاف منع کر دیا تھا کہ میں اس لڑکی کے ساتھ شادی نہیں کروں گا۔ لیکن ماں باپ نے زبردستی شادی کر دی۔ اب شادی تو ہو گئی، مگر بیٹے نے بیگم کی شکل تک دیکھنا گوارا نہ کی۔ ایک یہ ستم ہوا، اب اس سے بڑا ظلم اور ڈھایا جا رہا تھا۔ میں نے ان خاتون سے کہا کہ بڑی طویل زندگی ہے۔ لڑکی کو طلاق دلوا دیں۔ کیوں آپ لوگ دونوں کی زندگی تباہ کر رہے ہیں؟ ابھی دونوں کے لیے مواقع موجود ہیں۔ میری بات سنتے ہی کہنے لگیں: ’’نہیں نہیں! یہ ہماری عزت کا سوال ہے۔ ہمارے خاندان میں کبھی طلاق نہیں ہوئی۔ ہماری ناک کٹ جائے گی۔ ہم بیٹے کی دوسری شادی کرائیں گے، مگر اسے بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ اب آپ بتائیں اس بچی نے آخر کیا قصور کیا ہے؟ سسرال والے جو کر رہے ہیں، سو کر رہے ہیں۔ اس بچی کے والدین نے بھی شادی سے پہلے یہ زحمت گوارا نہیں کی کہ لڑکے کے بارے میں چھان بین کرتے، اس کے خیالات کیا ہیں؟ وہ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں اپنی لخت جگر کا ہاتھ دے رہے ہیں جو اس کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اور یہ چند دنوں کے لیے نہیں، پوری زندگی کے لیے۔ والدین اتنی آسانی کے ساتھ اپنے آپ کو سبکدوش کر دیتے ہیں۔‘‘

جاری ہے۔۔۔۔


’’کیا غیر محسوس نفسیاتی بیماریاں بھی طلاق کا سبب بنتی ہیں؟‘‘
’’بطورِ ماہر نفسیات آپ ’’لو میرج‘‘ کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟‘‘
’’کیا جنسی کمزوریاں بھی طلاق کا سبب بنتی ہیں؟‘‘
’’کیا خواتین کا بانجھ پن یا اولاد کا نہ ہونا بھی طلاق کا سبب بن جاتا ہے؟‘‘
’’شادی کی عمر میں تاخیر سے کس قسم کے مسائل جنم لیتے ہیں؟‘‘

ان سوالات کے جوابات پہ مبنی دوسرا اور آخری حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

(Visited 535 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: