چار ویک اینڈ کا دیس نکالا —– وارث اقبال کا افسانہ

0

موسمِ بہار نے ہر طرف اپنے رنگ بکھیرنا شروع کر دئیے تھے۔ نہر کنارے سبنل کے درختوں سے جھڑے خزاں رسیدہ سرخ، جامنی اورپیلے پتے بھی بہار کے رنگوں میں شامل ہو گئے تھے۔ سنبل کے یہ درخت ساری رات خزاں رسیدہ پتوں کو چُن چُن کر اپنی شاخوں سے جدا کرتے رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے عید کی رات بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے والا اپنے سر کے بالوں سے ایک ایک سفید بال چن چن کر نکال دیتا ہے۔

سبز اور مٹیالے رنگ کی گھاس نے جب ان بے وطن پتوں کو اپنے سینے پر دوڑنے پھرنے کی اجازت دی تو ان کا حسن قہر برپا کرنے لگا۔

جب ہوا کے جھونکے ان دْھتکارے ہوئے پتوں کے رخسار چومتے تو وہ شرما کر ایک نا سمجھ آنے والی آواز نکالتے ہوئے ماحول میں سُر تال بکھیرتے اپنی جگہ تبدیل کر لیتے۔

بہار ہو یا خزاں، ہر کسی کو اُس کے اندر کے اپنےموسم کے مطابق محسوس ہوتی ہے۔ باہر کی بہار بے معنی اور بے کیف ہوجاتی ہے اگر اندر خزاں رسیدہ ہو اوراگراندر بہار ہوتو باہر کی خزاں کے پیلے پتے بھی بہار کے حسین پھول دکھائی دیتے ہیں۔ جن کے اندر خزاں رسیدہ ہوتے ہیں انہیں پھولوں کے رنگوں کی حرارت محسوس نہیں ہوتی۔ اور جن کے اندر بہار کے رنگوں سے مزین ہوتے ہیں وہ خزاؤں میں بھی رنگ تلاش کر لیتے ہیں۔

کمال کے اندر نا جانے آج کس موسم نے خیمے لگارکھے تھے کہ وہ منہ میں کچھ بڑ بڑاتےاور ہر کسی کو گھورتے ہوئے ہر کسی سے آگے نکلنے کی کوشش کررہا تھا۔

اس نے دائیں ہاتھ میں ایک اونی دستانہ پہنا ہوا تھا جبکہ بائیں ہاتھ کا دستانہ اپنی پینٹ کی جیب میں اس طرح ٹھونس رکھا تھا کہ اس دستانے کا انگوٹھا جیب سے باہر جھانک کر کمال کی جلدیوں کی گواہی دے رہاتھا۔ ننگا ہاتھ جب سردی کی شکایت کرتا تو وہ بازو مروڑ کر اسے کمر کے پیچھے چھپا لیتا۔

وہ ٹریفک اشارہ پر تیز بریک لگا کر رکا اور کچھ بڑ بڑاتے ہوئے بالوں سے خالی سر پر سے ٹوپی اُتارتے ہوئے جھاڑنے لگا۔ وہ جتنی دیر اشارہ پر رکا رہا اپنے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ جب اشارہ کھلاتو اس نے ٹوپی کو سرپررکھا، اسے نیچے کی طرف کانوں تک کھینچا، پیلے رنگ کے اونی سکارف سے ٹوپی کو ڈھک کر ٹھوڑی کے نیچے لا کر باندھااور اْسی جوش اور جذبہ کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گیا۔ چونکہ سڑک پر ٹریفک زیادہ تھا اس لئے اب وہ سڑک کے بائیں کنارے کے قریب اطمینان سے موٹر سائیکل چلا رہاتھا۔

یہ ویکینڈ بھی برباد ہی گیا۔ کیا ضرورت تھی بچوں کو شالیمار دکھانے کی اورکیاسارے خاندان کو میرا ہی گھر ملا ہے ہوٹل بنانے کے لئے۔ بندہ ایک دن رہ لے۔ ۔ ۔ دو دن رہ لے یہ کیا کہ ہفتہ بھردوسرے گھر پر بچوں سمیت پڑا رہے۔

وہ اپنی سوچوں میں مگن اپنے بھائی پرناراض ہو رہا تھا جو ایک ہفتہ سے اس کا مہمان بنا ہوا تھا۔

اُسے اپنے اْس ویکینڈ کے ضائع ہونے کا تو دکھ تھا ہی اصل دکھ گڑیا کے فراک کے لئے سنبھال کر رکھے پیسوں کے خرچ ہونے کا تھا۔ گڑیا نے دو مہینے پہلے بازار میں ایک فراک دیکھا تھا جو اسے بہت پسند آیا تھا۔

گڑیا کو فراک اس لئے پسند نہیں آیاتھاکہ وہ بہت خوبصورت تھابلکہ اس لئے کہ وہ فراک ٹی وی کے اشتہار میں ایک پیاری سی لڑکی نے پہناہوا تھا۔ گڑیا سمجھتی تھی کہ اگر وہ بھی وہی فراک پہن لے تووہ بھی ویسی ہی خوبصورت دکھائی دے گی۔ ۔ ۔ پیاری سی پری۔

یوں فراک کے حصول کی خواہش نے جونک بن کر اس کے ننھے سے دل کو جکڑ لیا۔

کمال جونہی گھر میں قدم رکھتا، گڑیا باپ کے کندھوں پر سوار ہو جاتی اور فراک کا تقاضاکرتی۔ کمال کچھ حساب کتاب کرتا اور کہتا،

“بیٹا! آج نہیں، اس ویکینڈ پہ۔ ۔ لادوں گا۔ ۔ ضرور اس ویکینڈ پر۔ ”
“اس ویکینڈ پہ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں بابا ویکینڈ تو ابھی بہت دور ہے۔ ”
جب حتمی انکار کرتا تو گڑیا یہ کہتے ہوئے روٹھ جاتی۔
“آپ گندے بابا ہو میرے لئے ایک فراک نہیں لا سکتے بھائی کو روز دودھ پلانے بازار لے کر جاتے ہیں۔ ”

ماں گڑیا کو ڈانٹتی اور کمال بیوی کو۔ یوں وہی ازلی کھچ کھچ شروع ہو جاتی جو ازدواجی رشتے میں بندھے جوڑوں کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے۔ جس کا اختتام اس پر ہوتا کہ گڑیا رورو کر کمرے میں چلی جاتی اور کمال گھر سے باہر۔ اس کی بیوی صائمہ نصیبوں ماری برتن دھونے میں جت جاتی، رات دیر تک کمال گھر نہیں لوٹتا تو صائمہ کوئی نہ کوئی کام نکال لیتی اور کمال کے آنے کا انتظار شروع کر دیتی۔

کمال اپنے دوستوں کے پاس چلا جاتا۔ تاش کھیلتا، پتوں کو خوب گالیاں دیتا اور اونچی اونچی آواز میں قہقہے لگاتا۔ جب اڈا بند ہونے لگتا تو وہ اپنے سارے قہقہے وہیں پتوں میں چھوڑ کر اپنے دکھوں کا سکارف اوڑھ کر گھر کا رخ کرتا۔

ہر مرد یہی کرتا ہے اپنے دکھوں کو باہر کی کسی نہ کسی مصروفیت میں وقتی طور پر دفن کر کے راہِ فرار اختیار کرتا ہے یہ بھول کر کہ وہ باہر کتنا ہی وقت گزار لے آنا تو گھر ہی ہوتا ہے وہ گھر جس کے سنگ و خشت اور گوشت پوست سے بنے پیارے سب اُ س کی راہ تکتے انتظار کے پل آنکھوں میں گزاردیتے ہیں۔ بھلا خوشبو اپنے پھولوں سے کتنی دیر دور رہ سکتی ہے اور لباس اپنے وجود کے بغیر کب تک بے وجودہ رہ سکتا ہے۔

کمال کی غیر موجودگی میں صائمہ کچھ نہ کچھ کر ہی لیتی۔ کبھی پرانے کپڑوں کو جوڑ جاڑ کر گڑیا کے لئے کوئی نیا فراک بنا ڈالتی، کبھی کوئی سویٹر شروع کردیتی اورکبھی کوئی ادھورا سویٹر مکمل کر لیتی۔ جب کمال گھر لوٹتا تو وہ گہری نیند سے جاگنے کی اداکاری کرتے ہوئے دروازہ کھول دیتی۔ کمال کے سامنے کھانا اس طرح رکھتی جیسے کسی اجنبی کے سامنے۔ پھر دونوں خاموش بیٹھے رہتے، کمال کھانا ختم کرتا، اپنے بستر پر جا کر سگریٹ کے لمبے لمبے کش لیتا، صائمہ چائے کاکپ لا کر اْس کے سرہانے رکھتی اور بستر پر دوسری طرف منہ کرکے لیٹ جاتی۔ بس جونہی اْس کی کمر بستر پر لگتی وہ نیند کی وادیوں میں کھو جاتی۔ کمال بستر پر لیٹے لیٹے دو تین سگریٹ پیتا اور پارٹ ٹائم کام کے منصوبے بناتے بناتے سو جاتا۔

اسی طرح کئی دن گزر جاتے، پھر انہی خامشیوں کے پہرے میں ان دونوں میں سے کسی ایک کے لبوں سے کوئی ایک جملہ نمودارہوتا جو زبان بندی کی سزا ختم کر دیتا۔ یوں ویکینڈ پر ایک ویکینڈ کا یہ دیس نکالا ختم ہو جاتا۔

………………….

ہمیشہ کی طرح پہلی کا دن آیا تو کمال گھر سے تہیہ کر کے نکلا تھا کہ تنخواہ ملتے ہی وہ سب سے پہلا کام یہی کرے گا۔ کہ گڑیاکے لئے فراک خریدے گا۔

“ہمیشہ کا کت خانہ آج مکا ہی دینا ہے۔ ”
کچھ اس طرح کے جملے بڑ بڑاتے ہوئے وہ اپنے دفتر کے مرکزی گیٹ سے ہوتا ہوا پارکنگ میں جا کر رکا۔

اْس نے اپنی بلتی سفید ٹوپی، سکارف اور دستانے ایک شاپنگ بیگ میں رکھے اور شابنگ بیگ کو موٹر سائیکل کے ہینڈل کے ساتھ لٹکا کر ہاتھوں کی انگلیوں سے سر کے بچے کھچے بالوں کو ماتھے سے ہٹا کر اپنی جگہ پر رکھتے ہوئے اور بٹھاتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔

اسے یہ چیزیں دفتر کے اندر لے جانا پسند نہیں تھا کیونکہ سب اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ”بڑی ٹھنڈ اے بھئی۔ ”

پھر زیبا اور نازیبا جملوں کا کاروبار شروع ہو جاتا۔ اُس کے پیشہ ور رفیقوں کےبہت سے جملےاُ س کے اندر تک کو کاٹ کر رکھ دیتے۔ پھر جوں جوں اُ س کا پارا چڑھتا توں توں جملوں کی حدت اور شدت میں بھی اضافہ ہو جاتا۔ اس لئے وہ کسی کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دینا چاہتا تھا۔ ویسے بھی ہمارے ہاں رواج ہے چھوٹی سی بات سے شروع ہونے والا مذاق کسی بڑے ہنگامے پر جاکر ختم ہوتا ہے۔

یہ اُس کے روز کا معمول تھا۔ لیکن آج وہ کچھ زیادہ ہی چست تھا۔ اس کی ڈیوٹی ٹوکن دینے کی تھی، آج نہ تو وہ کسی سے جھگڑا کر رہا تھا اور نہ ہی کسی سے الجھ رہا تھا۔ بلکہ خوش ہونے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ وہ کوشش کر کے اپنے آپ کو مصروف بھی رکھے ہوئے تھا۔ دراصل وہ وقت گزارنا چاہتا تھا۔ وہ وقت جو اُس کے اور اُ س کی تنخواہ کے درمیان حائل تھا، وہ وقت جو اْس کی جان گڑیا کے فراک اور اْس کے درمیان حائل تھا۔ وہ ان لمحوں کا تصور کر کے خود ہی مسکرا دیتا جب گڑیا فراک پہنے اْ س کے سامنے کھڑی مسکرا تے ہوئے کہہ رہی ہوگی۔

“آپ اچھے پاپا ہیں۔ ”

وہ سوچتا، اس کے چہرے پر کیسے رنگ پھیلیں گے۔ فراک پہن کر تووہ پری ہی لگے گی۔ جونہی اس کا ہاتھ ٹوکنوں سے فارغ ہوتا اس کا دماغ چل پڑ تا۔ کتنی پیاری ہے میری بیٹی، کاش میں بھی پیارا ہوتا، اْس کی ہر خواہش پورا کر سکتا، اسے ہر وہ شے لا کر دیتا جس کا اْس نے سوچا تک نہ ہوتا۔ وہ بڑی گاڑی میں بیٹھی کیسی لگتی۔ پیار سے پیاری۔

………………….

دکان بچیوں کے کپڑوں سے جگ مگ جگ مگ کررہی تھی۔ رنگ اس طرح بکھرے ہوئے تھے جیسے گلستان میں بہار آئی ہو۔ ہر طرف گوٹے کناریوں کی برسات تھی۔ دکان کی روشنیوں نے گوٹے کناریوں کو نئی زندگی، نیاروپ اور نیا جوبن دے رکھا تھا۔ وہ کھل رہی تھیں اوراپنی طرف اٹھنے والی ہر نظر کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ ہر فراک ہر گاہک کو مسکرا مسکرا کر یہی سمجھا رہا تھا،

“آؤدیکھومیں توبنا ہی تمہاری بیٹی کے لئے ہوں۔ ”

کمال ایک مخصوص فراک کو ا س طرح دیکھ رہا تھا جیسے کئی دن کا بھوکا مٹھائی کو دیکھ رہا ہو۔ اُسے اْ س فر اک کے اندر گڑیا دکھائی دے رہی تھی جو فراک پہنے کہہ رہی تھی۔

“شکریہ بابا۔ آپ بہت اچھے بابا ہیں۔ ”
“کیا چاہئے میاں جی۔ ”
کاؤنٹر سے ایک لڑکے نے کمال کا استغراق اور انہماک دیکھ کر پوچھا۔
کمال نے کچھ کہے بغیر سامنے لٹکے ہوئے فراک کی طرف انگلی کرد ی۔ لڑکے نے ایک چھڑی سے ایک فراک کی طرف اشارہ کیا،
“یہ”
کمال نے جواب دیا، “نہیں جی وہ سنہری اور لا لا۔ لال رنگ، وہ جامنی والے کے ساتھ۔ ”
فراک اس کے سامنے تھا۔ اس نے فراک کو پیار کرنے والے انداز میں چھوا، اسے اُٹھا کر اس کی پیمائش کا اندازہ کیا،
“کیسی لگے گی یہ گڑیا پر۔ ”
اس نے فراک کاکپڑا دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“او جی کمال!”

دکاندار نے کچھ سمجھے بغیر ہی جواب دے دیا یا شاید اُس کا معمول تھا۔ پتہ نہیں کتنے پیار کے مارے یہی جملہ بولتے ہوں گے بس نام کا فرق ہو گا۔ کمال اس برجستہ انداز اور اپنا نام سن کر پہلے تو حیران ہوا پھر جب جملے کی ہیت سمجھ آئی تو مسکرانے لگا۔

“ک ک کتنے کی ہے۔”
اْس نے ہچکچاتے ہوئے دل کی بات پوچھ ہی لی۔
“ایک ہزار کی۔ ”
دکاندارنے ایک اور فراک کا لفافہ بند کرتے ہوئے بتایا۔
“کیا، ایک ہزار کا، کیوں بھئی پچھلے مہینہ تو سات سو کاتھا۔ ”
کمال جیسے پھٹ پڑا۔
“نہیں بزرگو! پچھلے مہینے بھی اتنے ہی کی تھی آپ کوغلط فہمی ہوئی ہے۔ چلیں آپ نو سو دے دیں۔ ”
دکاندارنے اپنا فنِ دکانداری دکھانے کی بھر پور کوشش کی۔ لیکن کمال بھی بضد تھا۔
“ارے بھئی کیا قہر ہے، خدا سے ڈرو، چھوٹی سی بچی کی فراک اور نو سو روپے کی۔ ”
“ناراض نہ ہوں میاں جی، آپ خود سمجھ دار ہیں، اس کا کام بھی تو دیکھیں نا۔ ۔ ۔ ۔ خالص ہاتھ کی کڑہائی ہے۔ ۔ ۔ ۔ چلیں آپ آٹھ سو دے دیں۔ ”
دکاندار نے ایک اور پتا پھینکا۔
“نہیں آٹھ سو بھی بہت زیادہ ہیں۔”
کمال نے کچھ نرم انداز میں جواب دیا۔
“چلیں! نہ آپ کی نہ میری، ساڑھے سات سو دے دیں۔ یہ لیں۔ ”
یہ کہہ کر دکاندار فراک پیک کرنے لگا۔
“آپ اسے سائیڈ پر رکھ لو، ابھی تو کھانے کی بریک ہوئی تھی تو میں آ گیا، سوچا چلو دیکھ لوں کہ فراک بک تو نہیں گئی۔ ”

دکاندار کو تو کمال کی یہ حرکت اتنی بری لگی کہ اس نے فراک کمال سے چھین کردوسرے کاؤنٹر پر کھڑے ہوئے ایک بچے کی طرف پھینکتے ہوئے کہا،
“اوے دتے ڈسپلے کر دے۔ ”
کمال نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی،
“یار میں شام کو ضرور آؤں گا، آج مجھے تنخواہ مل جائے گی، تم اس فراک کو سائیڈ پر رکھ لو۔ ”
“او! نکال لیں گے جی ہمیں کو ن سا لنڈی کوتل جانا پڑنا ہے۔ ”
دکاندار نے بے زار ہوتے ہوئے کہا۔

اب کمال کے پاس وہاں رکنے کا کوئی جواز نہ تھا، ویسے بھی کھانے کا وقفہ ختم ہونے والا تھا اس لئے وہ دکان سے نکلا اور دفتر کی طرف چل پڑا۔ سکارف کا ایک کونہ اس کے دانتوں میں تھا وہ اْسے مستقل چبائے جا رہا تھا۔ لگتا تھا جیسے غصہ سے بھرے دانت سکارف سے جھگڑرہے ہوں۔

دفتر کے دروازے میں داخل ہوتے ہوئے اس نے اپنے سکارف اور دانتوں کے اندر سے ایک گالی باہر پھینکی،
“مردود کہیں کا۔ ۔ ”
پتہ نہیں یہ گالی اس نے کس کو دی تھی، خود کو یا سماج کو لیکن سچ تو یہ تھا کہ اس کا اطلاق دونوں پر ہو رہا تھا۔

غصہ اور مسکراہٹ لئے وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ٹوکن لینے ولا تو کوئی نہیں تھا اس لئے وہ کرسی پر گھومنے لگا۔ گھومنے والی یہ کرسی اس کے نئے باس نے اپنے دفتر سے ا س وقت نکالی تھی جب انہوں نے اس دفتر کا پہلا دورہ کیا تھا۔ کمال ایک دن پچھلی گلی میں گیاتو اس کی نظر اس کرسی پر پڑی۔ اس نے اسٹور کیپر سے پوچھ کر وہ کرسی اٹھا لی۔ اس پر بیٹھ کر اسے بہت اچھا لگا تھا۔ اس نے اپنے دو ستوں کو اس پر بٹھایا اور پوچھا تھا،

“یار مجھے اس کی کوئی ایک خامی تو بتادوجو صاب نے اسے نکال دیا۔ ”
اس پر اس کے ایک دوست نے اسے جواب دیا تھا،
“ابے نالائق، بیوی اور کرسی اپنی اپنی۔ ”
دوسرے دوست نے اس میں اضافہ کر دیا،
“نہیں بھیا! نیا دفتر، نئی کرسی اورنئی بیوی۔ وہ ہماری طرح تھوڑی ہی ہے جو ایک کو لے کر بیٹھا رہے۔ ابے وہ صاحب ہے۔ صاحبوں کو پرانی کرسی پر کانٹے چبھتے ہیں۔ ”
کمال نے لاحول پڑھا۔

ناجانے کیوں کمال ان باتوں کو یاد کر کے کچھ ہلکا پھلکا ہو گیاتھا۔ اس نے گھومتے ہوئے اپنی کرسی کی طرف دیکھا تو اس میں کوئی خامی نہ ملی اور پھر ناجانے کیوں ا س کی توجہ اپنے گھر والی کی طرف چلی گئی،

“کوئی نہیں یار۔ ”
اُس نے آہ بھری۔
“بس لڑا نہ کر یار۔ ”

کرسی پر گھومتے ہو ئے وہ سامنے دیوار پر لگی خستہ حال گھڑی کی طرف دیکھنے لگا۔ اُس گھڑی میں یہی کمال تھاکہ اپنی ایک سوئی کھونے کے باوجود چل رہی تھی۔ دفتر کے لوگ بھی ایسے ماہر تھے کہ یہ ٹیڑھی ہو یا سیدھی وہ وقت دیکھ ہی لیا کرتے تھے۔

اس کی نگاہیں دروازے کا وقتا فوقتا نامکمل طواف بھی کرتیں کہ کب خورشید داخل ہو اور کوئی نوید سنائے۔ لیکن خورشید نمودار تو ہوتا لیکن موسمِ سرما کے خورشید کی طرح مکھڑا دکھا کربناکچھ کہے مسکرا کر گذرجاتا۔

پھر اس نے اپنی قمیض کے کالر کابٹن کھولا جو اس نے صبح سختی سے بند کیاتھا۔ جب اس نے اس دفتر میں نوکری شروع کی تھی تو وہ ٹائی باندھا کرتا تھا۔ اب ٹائی تو چھوڑ دی تھی لیکن اُس کی یہ عادت آج بھی قائم تھی کہ کالر کابٹن ضرور بند کئے رکھتا۔

کمرے میں حبس بھی محسوس ہو رہا تھا۔ اُس نے یعقوب سے پوچھا۔
”یار یعقوب! آج مجھے گرمی لگ رہی ہے یا واقعی گرمی آگئی ہے۔ ”
یعقوب نے ہنستے ہوئے جواب دیا،

“میں قربان جاؤں مالک کی قدرت پر سردی کو گرمی بنا دے گرمی کو سردی۔ بہار تو آگئی ہے، نئے پھول کھل رہے ہیں، میلے بھی شروع ہوگئے ہیں لیکن گرمی نہیں آئی۔ ”
یعقوب کی عادت تھی کہ وہ ہر بات بہت لمبی کرتا تھا۔
“او یار! تم سے تو بات کرناہی فضول ہے، جونہی منہ لگایا گٹھیں کروانا شروع کر دیتے ہو۔ ”
کمال یعقوب کی مزید خبر لیتا کہ خورشید کی آواز سن کر وہ کرسی سے اس طرح اٹھا کہ جیسے کرسی کاسپرنگ نکل گیا ہو۔

اکاؤنٹنٹ اسے دیکھ کر نہ حیران ہو انہ پریشان۔
“اس دفعہ تو ادھار نہیں پکڑا سر آپ نے۔ ”
“نہیں جی۔ ۔ سر جی شکر ہے اللہ کا اس دفعہ تو بچے ہی ہوئے ہیں۔ ”
کمال نے اس کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے نوٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“یہ لیں جی اپنے پیسے اور یہاں دستخط کر دیں۔ ”
اکاؤنٹنٹ نے روپے کمال کے سپرد کرتے ہوئے کہا۔
کمال نے اس کے ہاتھ سے پیسے تقریباً چھینتے ہوئے رجسٹر پر دستخط کر دئیے اور پیسے گننے لگا۔
ایک دفعہ گنے، دو دفعہ گنے۔
“یار! یہ کچھ کم نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ”
“اوہ، مجھے بتانا یاد نہیں رہا۔ اس دفعہ کمپنی نے سب کا ایک ایک ہزار روپیہ کاٹ لیاہے۔ ” اکاونٹٹ نے رجسٹر پر کچھ دیکھتے ہوئے کہا۔
“وہ کیوں جی۔ ”
کمال نے خاصے غصہ میں پوچھا۔
“سیلاب زدگان کی مدد کے لئے۔ کیا واقعی آپ کو نہیں پتہ تھا۔ ”
اکاؤنٹنٹ نے پوچھا۔

کمال کو اپنی آنکھوں کے سامنے رات کی ایک خبر دکھائی دینے لگی جس میں بتایا جا رہا تھا۔ “۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے وزیرنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کروڑ روپے کا چیک سیلاب زدگان کی مدد کے لئے صدر ِ پاکستان کو پیش کیا۔ ”

اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیر اچھانے لگا، اُسے یوں لگا جیسے اُس کا دل سکڑ گیا ہو۔ اندر سپنوں کا مچھلی گھر ٹوٹا اور اُس میں گڑیاکا فراک مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ اُ س نے دروازہ کھولا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگا۔ اکاونٹنٹ اس کے پیچھے بھاگا۔

“آپ چاہئیں تو درخواست دے کر اپنے پیسے واپس بھی لے سکتے ہیں۔ ”

اکاونٹنٹ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر انتہائی نرمی سے کہا۔ لیکن کمال نے اپنا دایاں ہاتھ اُ س کے منہ پررکھتے ہوئے کہا۔

“اپنی فصلوں کو بچانے کے لئے پانی غریبوں کی طرف بھیج دیتے ہیں، پھر ان کی مدد بھی نہیں کرتے۔ ۔ ۔ ۔ غریبوں سے ہی ان کی مدد کرواتے ہیں۔ ۔ ۔ عجیب کھیل رچا رکھا ہے ان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نے۔ اب تم ہی بتاؤ میں گڑیا کو کیا منہ دکھاؤں گا، اْسے کیسے سمجھاؤں گا، اْسے کیسے مناؤں گا، کیسے بہلاؤں گا۔ کہاں سے لاؤں گا فراک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر وہی کت خانہ۔ ۔ ۔ اب تو برباد ہو گئے چار ویکینڈ، پورے چار ویکینڈ۔ ۔ ۔ ۔ چار ویکینڈ کادیس نکالا۔ چار ویکینڈ میں یہی سنتا رہوں گا، بابا آپ بہت گندے باباہیں، یا ربتا چار ویکینڈ کوئی کم وقت ہوتا ہے، اگر کسی ڈنگر کےپیارے بھی چار ویکینڈ تک روٹھے رہیں تو وہ بھی مر جاتا ہے۔ میں تو انسان ہوں۔ میں کس طرح قربان کروں گا اپنے چار ویکینڈ۔ ”

وہی دیس نکالا۔ ۔ ۔ ایک نہیں چار ہفتوں کا دیس نکالا۔ ”
اکاؤنٹنٹ کے سامنے کھڑا ایک اور شخص اونچی آواز میں یہ گنگناتے ہوئے ہنسنے لگا،
“چار ویکینڈ، کیسے کٹیں گے چار ویکینڈ، ویسے کٹیں گے چار ویکینڈ جیسے کٹتے ہیں چار ویکینڈ”
اس کے قریب کھڑے اس کے دوسرے ساتھیوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔

(Visited 67 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: