ہندا نئیں یا کر دے نئیں؟ ——- عظمیٰ ذوالفقار

0

“ہُندا نہی یا کر دے نہی؟” یہ ڈائیلاگ میری فیملی کی ایک خاتون کا ہے جو میرے گھر آئی میری دوست سے اپنی پہلی ملاقات میں دو بچوں کے بعد تیسرے کی بابت مسکرا کر دریافت فرمارہی تھیں۔ جواب میں میری سہیلی بیچاری ٹکر ٹکر ان کا منہ دیکھ کر رہ گئی۔ وہ یقیناً سوچ رہی ہو گی کہ بظاہر اچھی خاصی معقول اور باشعور خاتون نے یہ انتہائی ذاتی نوعیت کا سوال اتنے آرام سے کیسے پوچھ لیا؟
کون لوگ ہیں یہ آخر؟

سچ کہوں تو ہم سب ہی وقتاً فوقتاً کہتے رہتے ہیں کہ ‘لوگ جینے نہی دیتے’۔ ‘لوگ ایسے ہیں اور لوگ ویسے ہیں’۔ سوال اٹھتا ہے آخر یہ کمبخت ‘لوگ’ ہیں کون جو ہر بات میں ٹانگ، بازو اَڑانا اپنا فرض عین خیال کرتے ہیں؟ تو عزیزو جان لیجیے کہ یہ سب ‘لوگ’ ہم ہی ہیں۔ آپ کے لیے ‘میں’ لوگ ہوں اور میرے لیے ‘آپ’ لوگ ہیں۔ یعنی اربوں کی آبادی مجھے ہی لوگ کہتی اور سمجھتی ہے۔

تو اگر لوگ ٹھیک کرنے ہیں تو ظاہر ہے کہ مجھے خود پر یعنی اپنے سوالوں پر توجہ دینی ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خود سے یہ عہد کیا جائے کہ آج بلکہ ابھی سے اپنے اندر کے اس غیر ضروری تجسس کے کیڑے کو مار دینا ہے۔ کہیں کوئی 25 برس سے اوپر کی کنواری لڑکی نظر ائی تو بھلے پوچھنے کو بڑا دل مچلے کہ ‘شادی کب کرا رہی ہو؟’ تجسس کے اس کیڑے کو شٹ اپ کال دینی ہے اور دنیا سے ایک عدد ‘فضول لوگ’ کا خاتمہ کر دینا ہے۔

کسی جوڑے کا مادی تسلسل (اولاد) ابھی دنیا میں ظہور پزیر نہیں ہوا اور وہ خود پِٹ سیاپا بھی نہیں ڈال رہا تو آپ بھی اپنے اندر کے اس کیڑے کو ریسٹ دیں۔ واللہ انہیں سب وجوہات کا آپ سے بہتر علم ہو گا۔ مانا کہ آپ یہ سب خیر خواہی میں پوچھتے ہیں مگر سوچیں کہ یہی ‘خیر خواہی’ اگر پندرہ ملنے والے روزانہ کریں تو سننے والے پر کیسا شدید دباؤ ہو گا؟

ایک اور حرکت فی الفور چھوڑنا بھی اپنی فہرست میں شامل کریں کہ جہاں نظر آ رہا ہو کہ کوئی شخص کسی محرومی کا شکار ہے وہاں اپنی نعمت کا ذکر جو آپ کو کسی عمل یا دعا کے صلے میں حاصل ہوئی ہے، بڑھ چڑھ کر نہ کریں کہ سامنے والا احساسِ کمتری کا ہی شکار ہو جائے۔ بہتر ہے کہ اس کے کسی بہتر پہلو کو تلاشیں اور اسکی تعریف کی کوشش کریں تاکہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہو۔ مانا کہ خامیاں اور محرومیاں دور سے ہی نظر آجاتی ہیں مگر اپنی تنقیدی عینک اتار کر زرا دیر کو خوبیوں والی عینک پہن کر دیکھیں۔ دنیا حسین لگے گی۔ بلکہ خود میں بھی مثبت تبدیلیوں لانے کو من چاہے گا۔ آزمائش شرط ہے۔

اب زرا وہ لوگ ہاتھ کھڑا کریں جنہیں کسی رشتے دار خصوصاً سسرال میں کسی کا کوئی عیب، کوئی کمزوری معلوم ہو گئی ہے۔ اور وہ اپنے احباب میں اس کا زکر کرنے بلکہ چسکہ لینے سے شعوری طور پر باز رہے۔۔۔یہ کام دل گردے کا ہے مگر ایسے ہی کاموں کے لیے کہا گیا ہے کہ کسی کا عیب چھپاؤ تو خدا تمھاری پردہ پوشی فرمائے گا۔ غور کریں تو سودا مہنگا نہیں۔ نہ ہم فرشتے ہیں اور نہ لوگ۔۔۔۔۔تو توقعات فرشتوں کی سی کیوں رکھی جائیں؟ کون جانے کسی کمزور لمحے ہم بھی کہیں ٹھوکر کھا جاتے؟ تو ایسے مواقع نہ ملنے پر بھی ایک شکر تو بنتا ہے باس!!!!!!

ارے ہاں،،،وہ جو ہاتھ اٹھایا تھا نا، اس سے خود کو ایک تھپکی دے دیجیے گا میری طرف سے۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: