محمد انور عباسی کی خودنوشت ’’متاعِ شامِ سفر‘‘ پر ایک نظر ——- سیدمزمل حسین

0

متاعِ شامِ سفر بستیوں میں چھوڑآئے
بجھے چراغ ہم اپنے گھروں میں چھوڑآئے
سداسکھی رہی چہرے وہ ہم جنہیں محسن
بجھے گھروں کی کھلی کھڑکیوں میں چھوڑ آئے
(محسن نقوی)

کہتے ہیں کہ قلم کی کاٹ تلوارسے بھی کاری ہوتی ہے اس بات کا یقین حال ہی میں منصۂ شہودپرآنے والی ایک کتاب ’’متاعِ شام سفر‘‘ کے مطالعہ سے ہُوا۔ جس کا نام محسن نقوی کے اوپردیئے گئے اشعارسے لیاگیاہے۔ یہ کتاب آزادکشمیر کے بھولے بھالے باسی محمدانورعباسی نے بقلم خود اپنی زندگی کے بارے میں لکھی ہے۔ اُن کے ہاتھ میںبظاہر قلم دکھائی دیتاہے لیکن درحقیقت وہ ایک خنجر بردارشخصیت ہیں جومعاشرے کی خرابیوں پر ہنستے مسکراتے ہوئے گہرے وارکرجاتے ہیں۔ اورخوبی یہ کہ جن پر وہ ضرب لگارہے ہوتے ہیں وہ بھی اُسے مسکراتے ہوئے سہ جاتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ا نہیں بعد میں پتہ چلتاہے کہ اُن کے ساتھ کیا واردات ہوگئی ہے اور کس کا ہاتھ لگ گیا ہے۔

محمدانورعباسی کی اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ وہ پہلے قاری کی انگلی پکڑتے ہیں، پھر موقع پاکر دبوچ لیتے ہیں اورزندگی کے نشیب وفراز میں اُسے ساتھ ساتھ لیے پھرتے ہیں۔

محمدانورعباسی دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں دنیامیں آئے انہوں نے ایک دوردراز غریب علاقے میں آنکھ کھولی۔ والدین نے اپنے زمانے کے مطابق بہترین تربیت کی، ایسی تربیت کہ اب ایک کم 80 سال کے ہونے پر بھی وہ اُسی تربیت کے زیراثر دکھائی دیتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ انٹرنیٹ کازمانہ ہے لیکن محمدانور عباسی نے خودکو محفوظ رکھاہواہے۔ انٹرنیٹ کے استعمال سے نہیں بلکہ اس کے بُرے اثرات سے۔ بچپن کے تمام واقعات انہوں نے تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ اپنے والدین، اپنے چچاؤں تایاؤں، دادیوں، نانیوں کا بھرپور تذکرہ کیاہے۔ ہرایک کے احسانات کا اعتراف کیا ہے اور برملا کہا ہے کہ وہ انہی کے طفیل زندگی کی دوڑمیں کچھ پیش رفت کرسکے۔

کتاب کی تقریب پذیرائی سے سابق صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب، خورشید ندیم اور شاہد اعوان خطاب کررہے ہیں

کتاب کا وہ حصّہ بڑادلچسپ ہے جس میں وہ اپنے گاؤں کھنتل (اب نیلہ بٹ) کاتذکرہ کرتے ہیں۔ گوالی، کُھرلی (جانوروں کی جائے قیام وطعام)، رھڑو، جندرا (دروازے بندکرنے کی خاطر) دھرم چوڑ (کچے مکانات سے برف ہٹانے کے لیے ) غرض جو کچھ بھی انہوں نے اپنے اردگرد دیکھا۔ اُس کو چھپایا نہیں بلکہ چھپوا دیا ہے۔

گاؤں میں اجتماعیت کاماحول تھا۔ خوشی، غمی میں سب لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ کڑی، پوآچھی، لیتری، بیساکھ اوراسوج کے مواقع پر یہ بھائی چارہ دوچندہوجاتاتھا۔ کڑی کھینچنے کی منظرکشی کرتے ہوئے کیا خوب عکاسی کی ہے کہ لوگ یااللہ مدہم سی آواز میں اوریاعلی زوردارآواز میں پکاراکرتے تھے۔ کتنے بھلے لوگ تھے کوئی اسے اپنے عقیدے کے خلاف قراردے کر بائیکاٹ نہیں کرتاتھا۔ اس ساری صورتحال کومحمدانورعباسی’’ کلچری مذہب‘‘ قراردیتے ہیں اوراس میں انہیں خوبی ہی خوبی نظرآتی ہے۔

آزاد کشمیر کا یہ بھولابھالا انسان نویں جماعت میں پہلی باراپنے چچا کے ساتھ مری جانے کے لیے بس کا سفرکرتاہے لیکن ایسے کہ ماں جنہیں وہ دیدے کہتے تھے۔ جوپراٹھے پکاکر دیتی ہیں وہ دھیرکوٹ سے بس نہ مل سکنے کی وجہ سے کوہالہ کی جانب پیدل سفر کرتے ہوئے مناسہ کے مقام پر ایک چشمہ پر بیٹھ کر کھاتے ہیں اورپانی پی کر اللہ کا شکراداکرتے ہوئے سفرجاری رکھتے ہیں۔ کوہالہ میں بس کو دیکھ کر حیرت زدہ بچہ اس وقت زندگی کی ایک اہم حقیقت سے آشنا ہوجاتا ہے جب کنڈکٹر بس کو لوہے کے ڈنڈے سے اسٹارٹ کرتاہے اورکہتاہے۔ ’’جان دیواستاد‘‘ اُس وقت وہ بچہ اچانک بالغ ہوجاتاہے اوربالغ فکری کے ساتھ کہتاہے کہ دنیا اُسی کی ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہوتا ہے۔ اُسے آج کل Might is Right کہتے ہیں۔

شادی زندگی کا ایک اہم موڑ ہوتی ہے لیکن محمدانورعباسی وہ پُل بھی اپنے والدین کے پیچھے چھُپ کرعبور کرجاتے ہیں۔ شرمیلے اتنے کہ ایک کم اسّی سال کی عمرمیں کتاب لکھی تو اپنی اہلیہ کانام نہ لے سکے۔ اُس زمانے میں شایدگربہ کشتن روزاوّل کا فارمولا انورعباسی کے علم میں نہ آسکاتھا۔

میٹرک کاامتحان ہائی اسکول دھیرکوٹ سے پاس توکیا لیکن وہاں بھی عجیب صورتحال ہوئی۔ تینتیس طلبہ امتحان میں شامل ہوئے اورجب نتیجہ آیا تو محمدانورعباسی جن کارول نمبر57588تھا کو اسکول میں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ کامیاب ہونے والے واحد طالب علم تھے۔ محمدانورعباسی کے ساتھ شاید المیہ ہوا کہ انہیں اپنے حاصل کردہ نمبروں کا پتہ ابھی تک نہیں چل سکا۔ انہوں نے سیکنڈ ڈویژن حاصل کی تھی۔ خودکہتے ہیں کہ اگر تھرڈ ڈویژن بھی لی ہوتی تو اعزاز برقراررہتا اس لیے کہ باقی سارے طالب علم ناکام ہوگئے تھے۔ ان کا نام آج بھی ہائی اسکول دھیرکوٹ کے بورڈ پر موجودہے۔ اس کے بعد وہ روزگارکے حصول کے لیے کراچی چلے گئے۔ ساتھ ہی تعلیم کے حصول کاسلسلہ بھی جاری رکھا۔ اتنی بار انٹرویودیئے کہ انٹرویولینے والوں سے زیادہ تجربہ کے مالک بن گئے۔ کراچی میں تنخواہ کم ہوتی تھی لیکن اپنا پیٹ کاٹ کر والدین کوہرماہ رقم ضرورارسال کیاکرتے تھے۔ اورایک وقت وہ آیا جب اُن کی سعودیہ جانے کی لاٹری نکل آئی۔ کوہالہ سے بس میں سوار ہونے والابچہ اُڑن کھٹولے پر سعودیہ جاپہنچا۔ پاکستان میں اُن دنوں آمریت اورجمہوریت کی جنگ جاری تھی بلکہ یوں کہاجائے توبے جانہ ہوگا کہ یہ جنگ ہمیشہ جاری رہتی آئی ہے۔ سعودی عرب میں پاکستان کے مقابلے میں حالات بالکل مختلف تھے اورہیں۔ محمدانورعباسی نے آمریت اورجمہوریت کے مقابلے میں کھجوریت کی اصطلاح وضع کی اوراُس کے سائے میں بیس سال گزاردیئے۔ قناعت پسندی اتنی کہ 1200ریال پربھی نوکری کرلی اورکبھی حرف شکایت زبان پر نہ لایا۔

محمدانور عباسی کا مشاہدہ اورحافظہ دونوں بلاکے ہیں۔ انسان کے اشاروں اورحرکات وسکنات کی زبان کیسے اثر دکھلاتی ہے اُس کا ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دمّام میں ان کے ایک ساتھی کی قصائی سے گوشت کے معیار پر تلخی ہوگئی۔ یہاں پھروہی حقیقت بیان کردی کہ قصائی دُنیا بھر کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ وہ گوشت میں چربی اورچھیچھٹرے ڈالنے سے بازنہیں آتے۔ محمدانورعباسی کا ساتھی عربی نہ جاننے کے باعث قصائی کوغُصّہ سے اناکلب أناخنزیرکہہ کر گالیوں سے نوازتاہے۔ جواب میں قصائی بھی جویمنی ہوتاہے اورعربی جانتاہے وہی اناکلب اناخنزیر کے الفاظ دھراتاہے اوربزعم خودتُرکی بہ تُرکی جواب دیتاہے۔ حالانکہ اناکلب، اناخنزیر کا مطلب میں کُتاہوں، میں خنزیرہوں ہوتاہے اصل میں دونوں گرائمربھول جاتے ہیں اورغُصّہ کواپنی گرائمربنالیتے ہیں۔ سعودیہ کے نظامِ زندگی کوبھی گہری نظرسے دیکھا صفحہ نمبر267پرلکھتے ہیں:

’’ہمارے اردوادب میں ملکِ عرب اورملکِ شام کا تذکرہ ملتا ہے۔ ایک مذہبی اور جذباتی تعلق جوصرف محسوس کیا جاسکتا ہے اوربس۔ حرمین شریفین کادیس جزیرہ نما عرب کا سب بڑا ملک۔ اٹھارویں صدی کے وسط میں محمدبن سعود نے ایک مشہور دینی ریفارمر محمدبن عبدالوہاب نجدی کے ساتھ ایک سیاسی الائنس قائم کیا اورعثمانی عہدِ خلافت میں طاقت کے طور پر سامنے آیا۔ ایک مختصر سے وقت تک ان کے زیرتسلط رہاجس کو ۱۸۱۸۱ء میں محمدعلی پاشا نے ختم کردیا۔ ۱۹۰۲ء میں عبدالرحمن کے بیٹے عبدالعزیز نے، جوبعدمیں ابنِ سعود کے نام سے مشہورہوئے، اخوان المسلمون کے مشہوررہنما فیصل الدویش کی حمایت اورمددسے ریاض کوفتح کرکے آلِ سعود کی حکومت قائم کردی۔ پہلے پہل اس مملکت کا نام مملکتِ حجاز ونجدتھا۔ لیکن بعد میں برطانیہ کی رضامندی (یااشارے) پر اس کا نام مملکت سعودی عرب رکھ دیا گیا۔ اس کا بدلہ سعودی عرب نے کہیں اکیسویں صدی میں جاکر اخوان المسلمون کے قاتل مصرکے فوجی ڈکٹیٹر جنرل سیسی کی حمایت اوراخوان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر چکا دیا۔ نظام حکومت بادشاہت ہے۔ کسی سیاسی جماعت کی اجازت ہے نہ انتخابات ہی ہوتے ہیں۔ نظامِ عدالت شرعی ہے قاضیوں کاتقرراعلیٰ عدالتی کونسل کی سفارش پر ہوتاہے۔ منظوری بہرحال بادشاہ سلامت ہی دیتے ہیں۔ پتانہیں اس کی کوئی خاص وجہ ہے یا محض اتفاق ہے کہ بڑے بڑے نامورقاضی اندھے ہی پائے گے۔ یہ توسناتھا کہ قانون اندھاہوتاہے لیکن اس کی تشریح یہاں ملتی ہے کہ قاضی کوبھی اندھا ہونا چاہیے‘‘۔

محمدانورعباسی نے بہت بااُصول زندگی گزاری اتنی بااُصول کہ وہ یہ بھول گئے کہ معاشرہ میں وہ ان فٹ بلکہ مِس فٹ ہیں۔ اپنے ٹیکس کاخودحساب کیا اور اسلام آباد کے کسی ٹیکس آفس میں جمع کرانے گئے۔ ٹیکس آفیسرنے پہلی ملاقات میں ہی بھانپ لیاکہ اسامی سعودیہ پلٹ ہے لیکن بھولی بھالی ہے اور پھر اُصول پسند محمدانور عباسی نے تین دن مسلسل خجل وخوار ہونے کے بعد 7ہزار روپے رشوت دے کر جان چھڑائی اوراپنے دوست عاطف سے طعنہ سُنا۔ ’’ہور چوپو‘‘۔ محمدانورعباسی نے سعودی عرب سے واپسی پر یہاں کئی کاروبار کیے لیکن ہربار دھوکہ کھاکر جوکمین گاہ کی طرف دیکھاتو اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی۔

اس کتاب کے کچھ حصے اس لنک پہ ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں :
 کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی: اسوج، لیتری اور کھیل کود – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 12

 

محمدانورعباسی کی زندگی کااہم پہلو مولانا سید ابواالاعلیٰ مودودی مرحوم سے ہونے والی ان کی خط کتابت ہے۔ ان خطوط میں انہوں نے مولانا مودودی مرحوم کی کئی تفسیری آراء سے اختلاف کیا ہے اسی طرح حدیث کے بارے میں بھی مولانامودودی مرحوم اورمحمدانورعباسی کے مابین طویل بحث مباحثہ کتاب کا حصہ ہے۔ یہاں یہ بات مدِّنظررہنی چاہیے کہ محمدانورعباسی کا بنیادی تعلق جماعتِ اسلامی سے رہا اوراب تک ہے لیکن وہ اپنی رائے کو برقرار رکھنے کواپنے اورجماعتِ اسلامی کے لیے ایک قابلِ فخر مثال قراردیتے ہیں۔ بینک کے سود کو وہ منافع سمجھتے ہیں اوراس پر الگ سے بینک انٹرسٹ -منافع یاربا کے نام سے ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔

محمدانورعباسی کاتعلق نیلہ بٹ سے ہے اوروہ 23اگست 1947ء کے اُس جلسے میں بھی شریک ہوئے تھے جس کے بارے میں مشہورہے کہ اُس جلسے کے باعث موجودہ آزادکشمیر وجود میں آیاتھا۔ سعودی عرب میں اُدھیڑ عمرمیں بھی مختلف مواقع پر اُن کے’’ تراہ‘‘ (اچانک خوفزدہ ہوجانا) نکلتے رہے لیکن نیلہ بٹ کے جلسے میں پہلی گولی کی آواز سے اُن کا ’’تراہ‘‘ کیوں نہ نکلا اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی گولی کی آواز نہیں سُنی تھی اس لیے تراہ نکلنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ محمدانورعباسی کی یہی حق گوئی بعد میںدوسال تک اُن کے پورے خاندان کے سماجی مقاطعے کا باعث بنی تھی۔

متاعِ شام سفراُردوادب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔ 474صفحات پر مشتمل یہ کتاب ایمل مطبوعات اسلام آباد نے شائع کی ہے، ہرلحاظ سے یہ ایک بہترین پیش کش ہے جس کے لیے ایمل مطبوعات کے سرپنچ شاہداعوان مبارک باد کے حق دار ہیں۔


کتاب کے حصول کے لئے پبلشر کے ف ب پیج  https://www.facebook.com/www.emel.com.pk/ میسج یا رابطہ کریں
فون: 0512803096 اور 0321-5168572  ویب emel.com.pk

 

(Visited 148 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: