“آواز کے پر کھلتے ہیں” کا جمالیاتی پہلو —– عزیز نبیل کی کتاب پہ عبید طاہر کی تحریر

0

آواز کے پر کھلتے ہیں عزیزنبیل کا دوسرا شعری مجموعہ اور اسکے حرف و قلم کے سفر مسلسل کا ساتواں پڑاؤ ہے، دو شعری مجموعوں کے علاوہ ابتک آپکی پانچ نثری تالیفات بھی منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوکر سنجیدہ حلقوں سے داد حاصل کرچکی ہیں جبکہ سالانہ ضخیم رسالے دستاویز کی ادارت تحریر و تصنیف کے ساتھ ان کے ربطِ پیہم کی داستانِ خوش بیان ہے۔

عزیز نبیل عصرِ حاضر کے ان ممتاز نوجوان شعرا کی نمائندگی کرتا ہے جنہوں نے روایت کا احترام کرتے ہوئے جدید اظہاریے کو خوش اسلوبی سے برتا ہے اور مروجہ استعارات و تشبیہات اور علائم و تراکیب کے معانی میں نئے رنگ بھرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ وہ روایت پسند تو ہیں لیکن روایت پرست نہیں ہیں اور نہ ہی جدیدیت کے نام پر بے ڈھب تجربات کے حامی ہیں۔

نبیل کا پہلا مجموعہ دو ہزار گیارہ میں شائع ہوا تھا اور اسطرح زیر نظر مجموعہ ان کی آٹھ سالہ ریاضت کا کشید ہے اور ان کے صبر و انتظار اور فن کے ساتھ مخلصانہ وابستگی کا ثبوت بھی۔ ۱۵۹ صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں ۷۹ غزلیں شامل کی گئی ہیں جو آٹھ سال کے عرصے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کم لگتی ہیں لیکن پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کمیت اور کیفیت میں آج بھی کیفیت کا پلڑا بھاری ہے۔ اس امر کی طرف اشارہ اسلیے ضروری تھا کہ اتنے عرصے میں کئی شعرا کے متعدد مجموعے نہ صرف چھپ جاتے ہیں بلکہ چھپنے کے بعد چُھپ بھی جاتے ہیں۔
زیرنظر مجموعہ انسانی کیفیات ، سماجی تجربات، ذاتی مشاہدات اور حکایتِ ذات اور داستانِ کائنات کا حسین مرقع ہے جس کے ہر صفحے میں قاری کو چونکانے والے مصرعے گرفت میں لے لیتے ہیں۔ جذباتی رویوں کے خوش سلیقہ اظہار کے ساتھ ساتھ معاشرے میں عام اخلاقی بیماریوں کو بھی شاعرانہ رکھ رکھاؤ اور اعتدال کے ساتھ سپرد قلم کیا گیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عزیزنبیل کی شاعری محض رنگ و نکہت ، حسن و عشق اور گل و بلبل کا قصۂ دلرُبا نہیں ہے بلکہ گرد و پیش سے باخبر قلمکار کی ایک شعوری کاوش ہے جس میں ہر سلگتے موضوع کو دیانتداری کے ساتھ پیش کیا گیا ہے لیکن بایں ہمہ غزل کے بنیادی رنگ اور اصل تعارف یعنی حدیث دل سے اغماض ہر گز نہیں ہے اور حُسنِ یار اور کیفیاتِ عشق کو لفظوں کی جواہرپاروں سے جابجا خوب مزین کیا گیا ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ غزل کا دامن گرچہ ہر موضوع کو محیط ہے لیکن آج بھی اسکا رنگ ذکرِمحبوب پر ہی کُھلتا ہے اور اسکی شعریت اور لطافت کے امکانات حُسن کے ناز وانداز کے ہی مرہونِ منت ہیں۔ اس زاویے سے “آواز کے پر کھولیے” تو کیف و مستی کی ایک دنیا جذباتی وارفتگی کے ساتھ قاری کو مدہوش کیے چلی جاتی ہے اور من و تُو کے افسانے ذہن و دل کو تازگی اور ذوق شعری کو زندگی ادھار بخشتے ہیں۔

محبوب کی فتنہ سامانیاں ہوں یا اسکا لیت و لعل اور یا پھر اس کی عنایات کی تفاصیلِ ہوش رُبا، نبیل کے قلم نے تخیّل کی وسعت کو کمالِ مہارت کے ساتھ مصرعوں کی ہیئت عطا کی ہے اور پڑھنے والا خود کو کسی چشم ہوشرُبا کا قتیل، کسی رُخ زیبا کا مارا ہوا اور کسی زلفِ عنبریں کا اسیر پاتا ہے۔ آئیے نبیل کے اس جہان خوباں کی سیر کو چلتے ہیں جہاں حسن کی عشوہ طرازیاں اور عشق کی خودسپردگیاں سرِ راہ بکھری پڑی ہیں۔؀ چند اشعار ملاحظہ کیجیے

اسی کی چشم کشادہ میں رنگ بنتے ہیں
اسی پہ ختم ہے قامت بھی مہ جبینی بھی-
——-
چراغ کی تھر تھر لو میں،ہر اوس قطرے میں، ہر کرن میں
تمہاری آنکھیں کہاں نہیں تھیں ، تمہارا چہرہ کہاں نہیں تھا
——-
یہ کیسی حیرت تمہارے چہرے سے میری آنکھوں تک کھنچی ہے
جدھر بھی دیکھوں بس ایک تم ہو، ہزار پلکیں جھپک رہا ہوں
———
نظر بھر کر اُسے دیکھو تو یوں محسوس ہوتا ہے
ہزاروں رنگ اک چہرے کی تابانی میں آئے ہیں
——-
تیرے چہرے سے اجالا لے کر
چند مہتاب بنائے میں نے ۔۔
———
میں نے کچھ رنگ اچھالے تھے ہواؤں میں نبیل
اور تصویر تری دھیان سے باہر آئی ۔۔

یہ اور اس قسم کے اشعار نبیل کے تصور حسن اور وارفتگئ شوق کا خوبصورت ثبوت ہیں اور بظاہر متین نظر آنے والے اس خوبرو نوجوان کے تکیے کے نیچے تصویروں کے البم کا غماز ہیں۔

عزیزنبیل کا دائرۂ تخیل زندگی کے ہر زاویے کو اپنا موضوع بناتا ہے اور اسکا کامیاب احاطہ کرتا ہے۔ عصری حسیت کے ساتھ ساتھ روایتی شعری روایات کی پاس داری نے اسکی ادبی قامت میں اضافہ اور تخلیقی مقام کو بلندی عطا کی ہے۔ میں نے اسکی شاعری کے صرف ایک رنگ سامنے لانے کی کوشش کی ہے اور جمالیات پرست شاعر کو سنجیدہ ترین مضامین کے بوجھ تلے دبنے سے بچانے کی سعی کی ہے۔ محبوب کا لمس کتنا معجزاتی ہوسکتا ہے اور ماحول میں کسقدر تغیر پیدا کرسکتا ہے، دیکھتے ہی بنتا ہے؀
ایسے چمکا ہے ترے لمس کی تاثیر کا رنگ
خود بخود رنگ بدلنے لگا تصویر کا رنگ
۔۔۔۔
یہ کس کے لمس کی بارش میں رنگ رنگ ہوں میں
یہ کون مجھ سے گزرتا ہے آب و تاب کے ساتھ
۔۔۔۔
نبیل کی اس محبت بھری حسین دنیا کے باہر ایک اور دنیا بھی آباد ہے جہاں نفاق، ظلم، بےحسی ، اخلاقی فساد اور معاشرتی شکست و ریخت کے تازیانے ہیں اور اسکا قلم ان تلخ و تُرش حقائق سے نبرد آزما اور انکے خلاف سینہ سپر ہے۔ انکی غزلیں اسطرح کے مضامین سے بھرپور ہیں جہاں خشک سے خشک اور پیچیدہ سے پیچیدہ موضوعات کو بھی انہیں شعری لوازمات کے ساتھ غزل کی زبان میں کامیابی کے ساتھ برتا ہے جس کی درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔

عزیزنبیل کے پہلے مجموعے نے اردو شعری دنیا میں جو تاثر قائم کیا تھا اور اس نقش اوّل نے نقش ثانی کے جو متوقع خد و خال اہلِ ذوق کے فکری کینوس پر مرتسم کیے تھے ، یہ بات کہنے اور تسلیم کرنے میں کوئی پیش و پس نہیں “آواز کے پر کھلتے ہیں” بعینہ ویسا بلکہ اس سے کچھ سوا ثابت ہوا ہے۔ یہ مجموعہ زبان اور بیان کی سطح پر بھی اور تخیل اور فکر کے اعتبار سے بھی شاعر کی مسلسل ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اہل ذوق کی داد اور پذیرائی کا مستحق ہے۔

میں عزیز نبیل کو تازہ مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اسکالر پبلشنگ ہاؤس کے ڈائریکٹر شاہد خان صاحب کی پہل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جن کے توسط سے خوبصورت اور دیدہ زیب طباعت کے مراحل انجام پائے۔
اس مجموعے نے نبیل سے وابستہ ہماری توقعات کو اور توانائی بخشی ہے اور ہم مستقبل کے ایک نمایاں ترین شاعر کو بچشم تصور دیکھ رہے ہیں۔
؀
نبیل کھول دو شہر سُخن کے دروازے
بہت سی غزلیں اجازت کے انتظار میں ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: