میرے بچپن کا رمضان —— غزالہ خالد

0

جیسے جیسے رمضان المبارک قریب آرہا ہے نجانے کیوں اس بار بچپن کے رمضان شدت سے یاد آرہے ہیں شائد اس کی وجہ بڑھتی عمر، گذرتا وقت اوراتنی ہی تیزی سی گھٹتی ہماری اقدار و روایات ہوں۔

آجکل لوگوں کی بے چینی اور پریشانی عروج پر ہے جسے دیکھو رمضان کی تیاریاں، جہاں دیکھو رش اور بھاگ دوڑ، سپر اسٹورز پر تو ایسا رش دیکھنے میں آرہا ہے کہ لگتا ہے جیسے ملک میں خدانخواستہ قحط پڑنے والا ہے یا پھرکوئی ایسی جنگ ہونے والی ہے کہ جسکے بعد ہر چیز عنقا و ناایاب ہوجائے گی۔ ایسی افرا تفری مچی ہے کہ جس کو جو لینا ہے رمضان سے پہلے پہلے خرید لے ورنہ پھر وہ چیز یا سودا سلف عید تک کہیں نہیں ملے گا، واقعی محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی۔ گھریلو خواتین نت نئے پکوان بنا بنا کر فریزروں کو بھرنے میں مصروف ہیں، کباب، رول، سموسے، فروزن چیزیں، نت نئے مشروبات غرض ہر طرف اور ہر وقت کی گہما گہمی دیکھ کرمیں نے سوچا کہ اگر مجھے اپنے بچپن کے رمضان یاد آرہے ہیں تو مجھے ان یادوں کو اپنے قارئین کے ساتھ بھی شیئر کر لینا چاہئے۔ آپ کو بتاتی چلوں کہ ‘یہ کوئی نصف صدی کا قصہ بھی نہیں’ ابھی میرا بچپن گذرے صرف کچھ دہائیاں ہی گذری ہیں اور زمانے کے چال چلن اتنے بدل گئے، اللہ جانے آگے کیا ہوگا۔

ظاہر ہے ہمارے بچپن میں بھی رمضان ہر برس آتا تھا اس وقت بھی گھروں میں رمضان کی آمد کا جوش اور ولولہ ہوتا تھا لیکن کھانے پینے پر اتنا زور نہیں تھا، رمضان سے پہلے وہ اشیاء جو صرف رمضان میں استعمال ہوتی ہیں مثلاً بیسن، سویاں، روح افزاء، پھینیاں، سرسوں کا تیل جس میں پکوڑے تلے جاتے ابو کو لکھ کر دے دی جاتیں اور ابو قریبی مارکیٹ سے کپڑے کے ایک سفید تھیلے میں یہ سب چیزیں رکھ کر لے آتے۔ باقی سودا سلف مہینے بھر کا آہی جاتا تھا، اب کی طرح ٹرالیاں بھر بھر کر سامان نہیں آتا تھا۔ اب تو روزے رکھنے کا مہینہ جس میں کم از کم کھا کر نفس کو سدھارنے کی کوشش کی جانی چا ہئے کھانے پینے کا مہینہ بن گیا ہے۔ روز کا جو بھی سالن بنتا تھا وہی ہم سحری میں کھالیا کرتے تھے۔ ہمارے گھر میں ایک عجیب رواج تھا کہ ہم ہمیشہ تو میٹھا کھانے کے بعد کھاتے ہیں لیکن نجانے کیوں رمضان میں جب سحری کے وقت ہم دستر خوان پرآتے تو پہلے سویاں، کھیر یا پھینی جو بھی میٹھا میسر ہوتا وہ کھاتے اس کے بعد سالن روٹی یا سالن پراٹھا کھاتے، شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ امی اس وقت گرما گرم روٹی یا پراٹھے پکا رہی ہوتیں تھیں تو شاید جب تک ہم بچوں کو وقت بچانے کے لئے میٹھا پہلے دے دیا جاتا ہوگا۔ اس زمانے میں سحری میں آکر جگانے والوں کا بہت رواج تھا جو ٹین کے ڈبے بجا بجا کر لو گوں کو جگاتے تھے۔ ہمارے محلے میں بھی کلو سائیں سحری والا آتا جس کی آواز رات کے سناٹے میں دل میں اترتی لگتی “رکھو روزہ، پڑھو نماز، آئی کلو سائیں سحری والے کی آواز” اور اس کے بعد ڈھم ڈھم ڈھم ڈھول پیٹا جاتا۔ میرا چھوٹا چچا زاد بھائی ‘اطہر” اس کلو سائیں کا دیوانہ ہوتا تھا اور اپنی کم عمری کے باوجود صرف اس کی آواز سننے کے لئے روز سحری میں اٹھا کرتا، ہم بھی کھڑکی سے جھانک کر کلو سائیں کا دیدار کرنے کی کوشش کرتے۔ یہ دیدار آس وقت نصیب ہوتا جب چاند رات کو کلو سائیں پیسے مانگنے آتا۔ بہر حال سحری کرکے ہم خوب پانی پیتے جب تک اذان نہ ہو کٹورے اور گلاس بھر بھر کر پانی ہی پیتے رہتےکیونکہ ہمارے بچپن میں سخت گرمی کے روزے ہوتے تھے اس لئے کچھ زیادہ ہی پانی پیتےاور پھرروزہ رکھنے کی نیت پڑھ کرنماز ادا کرتے اور سونے لیٹ جاتے۔ نیند تو کیا آتی باقی وقت غسل خانے کے چکر لگاتے گذرتا اور اسکول جانے کا وقت ہوجاتا۔ رمضان میں اسکول جانا دنیا کا مشکل ترین کام لگتا۔ اگر ہم گرمی کی وجہ سے روزے چھوڑ بھی دیتے توگھر والے بھی ہم بچوں کی کم عمری اور سخت گرمی دیکھ کر سختی نہیں کرتے لیکن اسکول کے ہم جولیوں اور اپنے کزنز سے مقابلہ بازی بھی خوب رہتی کہ کس نے کتنے روزے رکھے۔ میں اپنے چھوٹے بھائی ‘اظہر” کے روزوں پر کڑی نگاہ رکھتی پتہ نہیں کیوں اس وقت مجھے شک ہوتا رہتا کہ کہیں یہ چھپ کے پانی نہ پی لے بلکہ جب وہ وضو کررہا ہوتا تو میں آس پاس رہ کر نوٹ کرتی رہتی کہ کلی کے لئے جو پانی منہ میں گیا تھا وہ واپس آیا یا نہیں۔ اب سوچو تو ہنسی آتی ہے کہ وہ دور بھی کیسا سنہرا دور ہوتا ہے۔ اس زمانے میں دیر تک سونے کا رواج بھی نہیں تھا، آجکل تو کچھ لوگ صرف سونے میں اپنا پورا دن گذاردیتے ہیں اور یوں رمضان کی انمول ساعتوں کو ضائع کردیتے ہیں۔ اس زمانے میں دن میں خواتین قرآن پڑھنے اور عید کے کپڑوں کی سلائی کرنے میں اپنا وقت گذارتی تھیں، خواتین کے کپڑے گھر میں ہی سلتے، جمعہ الوداع کا بھی نیا سوٹ ہوتا۔

ہمارے بچپن میں روزے کا سارا دن باورچی خانے میں کام نہیں ہوتا تھا۔ جن بچوں اور بزرگوں کا روزہ نہیں ہوتا تھا ان کے لئے سحری میں ہی روٹی بنا کر رکھ دی جاتی جو وہ باورچی خانے میں جا کر خاموشی سے کھا کر آجاتے۔ رمضان کا بہت احترام کیا جاتا تھا، میرے دادا دادی بوڑھے، بیمار اور کمزور تھے روزے نہیں رکھ سکتے تھے لیکن ہم روزہ دار بچوں کا حد سے زیادہ خیال رکھتے۔ اس زمانے میں افطاری بھی آج کل کی طرح شاندار نہیں ہوتی تھی۔ آخری عشرے کے روزوں کی افطار پر اہتمام ہوتا، سموسے جلیبی بھی منگوالئے جاتے ورنہ عام دنوں میں عصر کے وقت امی سالن پکاتیں، پھر پکوڑے جنہیں اس زمانے میں ہم پکوڑے نہیں بلکہ پھلکیاں کہا کرتے تھے تل لیتیں تھیں۔ ہمارے شوق کو دیکھتے ہوئے رنگ برنگے پاپڑ والے رنگ اور دال اور چاول کے تھوڑے سے پاپڑ بھی تل لئے جاتے اور تلن کا کام مکمل ہوجاتا۔ ایک پلیٹ میں کھجوریں نکال لی جاتیں، ایک پلیٹ میں کوئی پھل کاٹ کے رکھ لیتے، ایک پلیٹ میں ابلے ہوئے کالے چنے ہوتے جنہیں امی تھوڑا سا تل لیتیں جو گھونگنیاں کہلاتیں شائد وہ وہی گھونگنیاں ہوتی ہیں جو منہ میں ڈال کر خاموش رہا جاتا ہے۔ ایک پلیٹ میں پھلکیاں ہوتیں اور صحن میں دری بچھا کر دستر خوان لگ جاتا، شربت البتہ خوب بنتا۔ دو بڑے بڑے جگوں میں شربت ہوتا جن مین سے ایک میں تخم بالنگا بھی ملا ہوا ہوتا جو بچپن میں ہمیں برا لگتا اور ہم وہ نہیں پیتے ہم لیموں والا روح افزاء شوق سے پیتےتھے۔ ایک چھوٹے برتن میں بادام اور چہار مغز والی ٹھنڈائی بھی ہوتی تھی۔ دستر خوان کے آس پاس بیٹھ کر دعا مانگی جاتی اور اذان کا انتظار شروع ہوجاتا۔ میرے چچا صاحب گھر کے باہر کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوجاتے اور دادا میاں ریڈیو پاکستان حیدرآباد اسٹیشن لگا کر اذان کا انتظار کرتے۔اکثر ریڈیو پر اذان کچھ سیکنڈ پہلے ہوجاتی اور دادا میاں کو غصہ آتا کہ ہمارا مؤذن اذان کیوں نہیں دے رہا ان کے روز کے الفا ظ ہوتے “کھا رہا ہوگا اچھی طرح” اور ان کے روز اس طرح غصہ کرنے سے گھر والے منہ چھپا چھپا کر ہنستے۔

دستر خوان پر بیٹھے بیٹھے ہم باہر سے آنے والی فقیروں کی صدائیں سنتے رہتے جو آج تک کانوں میں گونجتی ہیں۔ مثلاً ‘ نیک مائی نیک بابو دے خدا کی راہ میں’ یا ایک عجیب دل کو چھولینے والی صدا ‘اللہ تعالی مارے گا مار کر جلائے گا، ذرہ ذرہ حساب لے گا۔ پھر نہیں مارے گا، اللہ کا حساب چار نبیوں کی کتاب” آج بھی جب یہ صدا یاد آتی ہے تو دل لرز سا جاتا ہے۔ مسجد کا لاؤڈ اسپیکر آن ہونے کی آواز آتی اور اللہ اکبر سے پہلے چچا صاحب گھر میں آجاتے اذان ہورہی ہے اور اللہ اکبر کے ساتھ روزہ کھل جاتا۔ نماز پڑھتے کے ساتھ ہی کھانا لگ جاتا جس سے جتنا کھایا جاتا کھاتا اور برتن دھو دھلا کر چائے بنالی جاتی، سب چائے پیتے اور باورچی خانہ سمٹ جاتا، تھوڑی سی دیر آرام ہوتا اور پھر مرد تراویح کو چلے جاتے اور خواتیں جائے نمازوں پر کھڑی ہوجاتیں۔ جب ٹی وی پر کوئی شان رمضان جیسے پروگرام نہین ہوتے تھے جن میں لوگوں کی عزت نفس مجروح کرکے انہیں موٹر سائیکلیں پیش کی جائیں اور لوگ عبادت کی وہ سا عتین جب ہر نیک عمل کا اجر ستر گنا زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے چھوڑ کر کھیل تماشوں میں اپنا وقت ضائع کریں۔

پچھلے ہفتے استقبال رمضان کا ایک پروگرام اٹینڈ کیا جس میں مدرسہ نے بڑی اچھی بات کی کہ “آجکل مختلف برانڈ ز کی ستر فی صد سیل پر ہماری قوم کا یہ حال ہوتا ہے کہ دکانوں کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ جاتی ہیں لیکن افسوس کہ ستر فی صد زیادہ ثواب کمانے والا مہینہ سو کر اورپھر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ضائع کردیا جاتا ہے”

اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے مکمل فائدہ اٹھانے والے بن جائیں۔ اپنا دستر خوان وسیع کریں تو ان سفید پوشوں کا ضرور خیال رکھیں جنہیں اپنے آپ سے زیادہ اپنے بچوں کے روزوں اور عید کے کپڑوں کی فکر چین نہیں لینے دیتی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: