صحت مند معاشرہ کے لیے عام آدمی کی ذمہ داریاں —- باسط حلیم

0

پاکستان موٹاپے کے اعتبار سے دنیا میں آٹھواں بڑا ملک ہے۔ موٹاپے کا مطلب ہے کہ پاکستانی اکثریت دل، جگر، دماغ اور گردوں کے امراض کا شکار ہے-سابقہ حکومت نے اپنے دورِ حکومت میں ریکارڈ ہسپتال قائم کیے اور شعبہ صحت میں بہتری لانے کی کوشش کی مگر اس سب کے باوجود صحت کی سہولیات کمیاب ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ بوجھ کم ہونے والا نہیں۔ ہسپتال اور سہولیات زیادہ ہونے کے باوجود مریض اور مرض بړ‎ھتے جارہے ہیں۔ وجہ بہت سادہ ہے۔

ہمارے پالیسی محاذ پر مرض کے علاج اور تدارک کو اہمیت دی گئی ہے یعنی تمام تر توجہ اس بات کی طرف ہے کہ مرض کا علاج اور خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ مرض پیدا ہی نہ ہو اس نہج پر جس طرح سوچنے اور اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے اس طرح سوچا اور سمجھا نہیں گیا۔

انسانی زندگی میں تعلیم و شعور کا ایک مقصد اُسے صحت مند زندگی مہیا کرنا بھی ہے۔ عام آدمی کی سمجھ یہ کہتی ہے کہ علاج سے بہتر ہے احتیاط۔ ایسا طرزِ زندگی اختیار کیا جائے کہ انسان بیمار نہ ہو۔ علاج کی سہولیات کی اپنی اہمیت ہے مگر حفظانِ صحت کے اُصولوں کو اپنا کر بیماریوں کی شرح کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالہ سے جہاں صحت مند طرزِ زندگی کے لیے صحت مند ماحول مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے وہاں معاشرےکی اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حفظانِ صحت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے صحت مند طرزِ زندگی کو اپنا لیں۔ بیمار ماحول بیماریوں کی افزائش کی وجہ ہے۔ سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ بیماری کی پیدائش اور افزائش کے بڑے اسباب کیا ہیں۔

۱۔ بیماری کی افزائش کی ایک بڑی وجہ بیماری کا موروثی ہونا ہے۔ وراثت میں پائی جانے والی بیماریاں کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ ایسا پہلو ہے جس پر ممکن حد تک قابو پایا جاسکتا ہے کیونکہ موروثی بیماریوں کی افزائش کا انحصار ماحول پر ہے۔ غیر صحتمندانہ طرزِ زندگی، ماحول، ناقص غذا اور قوتِ مدافعت کا کم ہونا یہ وہ اسباب ہیں جو موروثی بیماریوں کو پھلنے پھولنے کا موقعہ دیتے ہیں۔

۲۔ اگر بیماری وراثت میں موجود نہیں تو پھر بھی انوائرنمنٹ کی وجہ سے بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ غیر صحتمندانہ طرزِ زندگی، آلودہ ماحول اور ناقص غذا مختلف قسم کی امراض کی افزائش کی عام وجوہات ہیں۔ ماحول کو بہتر بنا کر، غذاکے تصورات کو درست کرکے اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر معاشرے کو بیمار ہونے سے بچایاجا سکتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ وائرس کی بنیاد پر منتقل ہونے والی بیماریاں بھی غیرصحت مندانہ ماحول کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ بیماری کی افزائش کے بڑے عوامل درج ذیل ہیں۔
۔ آلودہ آب و ہوا
۔ گندہ پانی
۔ آلاتِ جراحی و دیگر عوامل جن سے بیماری کا جراثیم منتقل ہوتاہے۔
۔ ناقص غذا
۔ غیر متوازن غذا
۔ غیر متوازن طرزِ زندگی
۔ غذا سے متعلق غلط تصورات

بیماری کے اسباب کو سمجھ کر امراض سے بچا جا سکتا ہے۔ اس حوالہ سے حکومت اور عوام دونوں کو اپنے اپنے دائرہ میں ذمہ داری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومتی سطح پر کلیدی اقدام اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے نیز فاسٹ فوڈ، فروزن میٹ، فرائڈ میٹ اور کولڈڈرنکس پر مکمل پابندی عائد کردی جائے کیونکہ ان کا مضرِ صحت ہونا اظہر من الشمس ہے۔ جدید ریسرچ کے مطابق فروزن میٹ کسی بھی اعتبار سے انسانی صحت کے لیے موزوں نہیں۔ صفائی کے نظام کو بہتر بنایا جائے نیز کھانوں کے مراکز کو سٹینڈرڈ کِچن بناکر دیے جائیں جو صفائی کے نکتہ نظر سے ڈیزائن کیے گئے ہوں۔
شہروں کو آلودگی اور دھویں سے پاک کیا جائے، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کا کریک ڈاؤن کیا جائے۔ انڈسٹری ویسٹج اور پلاسٹک کی چیزوں کو ریسائیکل کیا جائے۔ تازہ اور صحت مند گوشت کی فروخت کو یقینی بنایا جائے۔

عوام بیماریوں سے بچنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ غذا کے تصورات کو بھی درست کریں۔

۔ متوازن خوراک کھائیں۔ مخصوص خوراک صحت کا توازن بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جیسے آج کل مختلف شکلوں میں ایسی خوراک زیادہ لی جاتی ہے جس میں کاربوہائڈریٹس زیادہ ہوتے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹس ضرورت سے زیادہ لینے سے موٹاپا، شوگر، جگر اور دِل کے امراض پیدا ہوسکتے ہیں۔

۔ تلی ہوئی چیزیں اور خصوصاً تلا ہو گوشت نہ کھائیں۔ گوشت جب بھی کھائیں گرِل کریں یا سٹیم۔ نیز فروزن میٹ سے بیماری کی افزائش کے امکان رہتے ہیں اس لیے فروزن میٹ سے بھی بچا جائے۔

۔ صحت مند زندگی کے لیے صاف گوشت استعمال کیا جائے، سخت، بوڑھا، بیمار اور بڑے گوشت سے حتی الوسع احتراز کیا جائے۔ بڑے گوشت میں جگر، دل کے امراض کی وجوہات کے ساتھ ساتھ کینسر پیدا کرنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ ایسے اعضا جن میں فیٹس زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں اور وہ زود ہضم بھی نہیں، ان کا استعمال نہ کیا جائے مثلاً مغز، اوجڑی، کلیجی، پائے، سری، گردے، پھیپھڑا وغیرہ۔

۔ مٹھائیاں، سموسے پکوڑے اور بیکرز پراڈکٹس استعمال نہ کی جائیں۔ بازار کی ہر اس چیز سے بچا جائے جو تلی ہوئی یا اس میں بناسپتی گھی استعمال ہوا ہے۔ مٹھائیاں تیار کرتے وقت کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں۔

۔ نمک اور چینی اور حیوانی روغن کی مناسب مقدار لی جائے ضرورت سے زیادہ استعمال نہ کیے جائیں۔ کھانوں کو خوش ذائقہ بنانے کے لیے یہ چیزیں ضرورت سے زیادہ لی جاتی ہیں۔ نیز آرٹیفیشل مصالحہ جات سے بچا جائے۔ ایسے تمام بازاری مصنوعات سے اپنے بچوں کو بچایا جائے جن میں نمک، ٹاٹری یا دیگر مصنوعی مصالحے ڈالے جاتے ہیں وگرنہ آپ کی نسلیں جوانی کی عمر تک پہنچتے بلڈ پریشر، دِل اور جگر کے امراض کا شکار بن چکی ہوں گیں۔

(Visited 349 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: