شادی سیریز ———– سحرش عثمان

0

دوسرا حصہ (پہلے حصہ کا لنک) لکھنے کے لیے جو یکسوئی درکار تھی وہ نئی روٹین کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کے دوران عنقا تھی۔ لہذا کئی دن کئی باتیں ذہن میں لیے گھومتے رہے تین بار چابیوں کی جگہ بدل کر بھول گئے۔ چابیاں اندر رکھ کر روم لاک کردیا اور پھر شکل پر ایسی معصومیت طاری کی کہ چاہنے کے باوجود کوئی ہماری سٹوپڈیٹیز کو پوائنٹ آؤٹ نہ کرسکا۔حتی کہ کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہاں گم ہو۔ شرمندہ سا ہوکر خود ہی وضاحت دی وہ دراصل کئی دنوں سے ایک تحریر ہوئی پڑی ہے۔ لکھ نہیں پارہی تو دھیان اٹکا ہے اسی میں۔

کنسرنڈ ڈیپارٹمنٹ نے حیران آنکھیں پھیلا کر پوچھا تو زبانی لکھتی ہو؟ سب کچھ۔ اب حیران ہوکر رہ جانے کی باری ہماری تھی۔ لہجے میں باوجود شدید کوشش اور دلی خواہش کے بھی جب طنز تلاش نہ کرپائی تو پوچھا کیا مطلب؟ کہنے لگے ہمیں لگا کوئی گوگل وغیرہ سے مدد لیتی ہوں گی۔
ہم نے آہ بھرنا چاہی لیکن جب منہ کھولا تو اس میں سے قہقہہ برآمد ہوا۔ ہمارے ہنسنے کے دوران ہی کہا گیا لکھ لیں پہلے اسے۔ پہلے تو ہم نے ترجیحات پر ہلکا سا مصنوعی لیکچردے کر اپنی سمجھداری کا ثبوت دینا چاہا۔ لیکن پھر لکھنے کی ایمپلس نے ہاتھ پکڑ کر روکا اور سمجھایا زندگی پر کچھ حق تمہارا بھی ہے اور لفظوں کا بھی۔

ہم بھی لکھنے لگے۔ کہنے کو بہت کچھ ہے اور ہمیشہ کی طرح ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہاں سے شروع کریں اور کہاں ختم۔
خیر شادی بہت کچھ بدل دیتی ہے ہم بھی اسی امید پر قائم ہیں شائد بدل جائیں ہلکے سے تھوڑے آرگنائز ہوجائیں مینجمنٹ بہتر کرلیں اپنی۔
کیونکہ شادی کسی فینٹسی کا ہرگز نام نہیں یہ ذمہ داری ہے سماجی معاشرتی مذہبی ذمہ داری جس میں آپ کو بہت ساری چیزیں سیکھنا پڑتی ہیں قول کرنا پڑتی ہیں۔

کسی فینٹسی کا شکار ہوکر ہرگز شادی نہ کریں۔ دو میچیور لوگوں کی طرح چیزوں کو ڈسکس کریں پلاننگ کریں، چیزوں کو قبول کرنا بہت اہم ہے۔
ممکن ہے آپ کا پارٹنر ہم مزاج نہ ہو۔ ممکن ہے وہ آپ کی دلچسپیوں میں دلچسپی نہ لے سکتا ہو۔ یاد رکھیں یہ اس کا فالٹ خامی یا قدرت کا کوئی ستم نہیں ہے آپ پر۔ وہ ایسا ہی ہے اسے ویسا قبول کریں، سپیس دیں اور لیں۔
اپنے لیے وقت نکالیں۔

لڑکی ہیں تو شادی کو فل سٹاپ مت سمجھیں کہ شادی ہوگئی اب کیوں وزن کم کریں اب خم زلف کو تابدار کیوں کریں۔
یاد رکھیں چربی صرف آپ پر چڑھے گی اگلے کی آنکھوں پر نہیں۔
آپ کی لاپرواہی کی وجہ سے ہونے والی بے راہ روی پر پوچھی جائیں گی آپ۔ لہذا اپنے آپ پر اختیار مت کھوئیں۔
بہت ساری بدل جانے والی چیزوں میں خود کو سنوارنے کی عادت نہیں بدلنی چاہیے۔
کیا کچھ بدل جاتا ہے یہ سوال بھی آئے گا ذہن میں ضروری نہیں ہے بدلاؤ بھیانک اور خوف زدہ کرنے والا ہو۔ پیارا سا بدلاؤ بھی ہوتا ہے۔
مثلا رات کے دو بجے آپ کو میکڈنلڈز کے ترلے منتیں نہیں کرنا پڑتے بلکہ ہلکی سی مسکراہٹ پر آپ خود میکڈونلڈ بیٹھے میکفلری کھا رہے ہوتے ہیں۔
کھائی کی طرف چلنے کی ضد پر ابا اور بھائی کی ڈانٹ نہیں پڑتی بلکہ کوئی زور سے بازو پکڑ لیتا ہے اور چلنے دیتا ہے۔
دریا کنارے کاغذ کی کشتی پر آپ کی ایکسائٹمنٹ پر کوئی سبلنگ ہنستا نہیں۔
بارش میں دیوانگی پر کوئی آپ کو ڈڈو نہیں کہتا۔
آپ کی کبرڈ میں سے اچانک مردانہ کپڑے نکلنے لگتے ہیں۔
آپ کے ڈریسنگ ٹیبل پر بہت سی پرفیومز اکھٹی ہوجاتی ہیں۔
کسی کی کامب سے لمبے لمبے بال نکلتے ہیں۔
اور ٹائیوں کے ہینگر میں اچانک کرن لگا دوپٹہ برآمد ہوتا ہے۔
جس پر آپ کو کہا جاتا ہے اب تو پہننا چھوڑ دیا ہے یہ میں نے۔ آپ قہقہہ لگاتے ہیں شرمندہ ہوئے بغیر۔۔
کیونکہ دن میں کوئی کتنی بار شرمندہ ہوسکتا ہے؟
تب تب جب آپ شو شائنر کی کولیکشن میں سے ہمیشہ”غلط” شائنر اٹھائیں۔
جب آپ اتنے سے کانشئس ہوں کہ ہمیشہ کپڑے ہاتھ میں پکڑ کے سوچتے ہوں کہ اپنی ساکھ بچائی جائے یا ملک و قوم کی بجلی اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہمیشہ بجلی ہی بچائی ہو۔ اور ایک دن آپ کو پتا چلے کریز کی لائین ایک ہونی چاہیے۔ چاہے آئرن سٹینڈ پہ کھڑے کھڑے زمانے بیت جائیں۔
جب آپ اتنے میچنگ کانشئس ہوں کہ پنک شرٹ کے ساتھ ریڈ دوپٹے کو پنک ثابت کرتے ہوں۔
اور ایک دن آپ سے کہا جائے کف لنکس کا بلیو ٹائی کے بلیو سے ڈیفرنٹ ہے۔ اور آپ آنکھیں پھیلا پھیلا کر انڈیگو کی الگ شیڈز دیکھ رہے ہوں۔
جب آپ اتنے ایزی گوئنگ ہوں کہ جینز کے ساتھ جاگرز پہن کر سڑکیں ناپتے ہوں۔
اور آپ سے کہا جائے جینز کے ساتھ سنیکرز اور چوڑی بیلٹ پہنی جاتی ہے۔ آپ پوچھیں اگر نہ پہنیں تو۔۔۔ جواب آئے اچھا نہیں لگتا نا۔
تو آپ ہنستے ہوئے اللہ میاں کی طرف دیکھتے ہیں اور صرف یہ پوچھتے ہیں۔۔۔
سیریسلی اللہ میاں!!!
اللہ میاں بے نیازی سے کہتے ہوں۔۔
چیلنج۔
آپ دلبری سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہیں قبول ہے۔
تو جب کہہ دیا قبول ہے تو بس پھر قبول ہے۔
انڈیگو کی شیڈز سے لے کر پینٹس کی کریز تک۔
آرگنائزڈ رہنے سے کاجل لگانے تک ہر چیز قبول ہے۔
اس لئے نہیں کہ آپ کوئی کمزور مخلوق ہیں یا پھر آپ کے حقوق نہیں کوئی۔
اس لئے کہ آپ کے اختیار میں قبول کرنا اور کروانا۔
اگر گٹس ہیں تو قبول کروا لیں۔ نہیں تو کرلیں۔
تیسری صورت ہے شعور کے ایک صفحے پر ہونا۔۔ جس میں پڑتی ہے محنت زیادہ۔ جو ایک لمبا پر پیچ رستہ ہے۔ جس کے اینڈ پر روشنی کی کونسی صورت نکلتی ہے یہ بھی معمہ ہے۔
لیکن شعور کے ایک صفحے پر ہونا برابری کے ایک درجے پر ہونا ایک حسین خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے مشکلات برداشت کی جاسکتیں ہیں۔
اگر آپ لڑکے ہیں تو اس تعلق کو نبھانے کی ذمہ داری یوں بھی آپ پر زیادہ ہے کہ سوال پوچھے جائیں گے آپ اپنے عیال کے بارے میں۔
نان و نفقہ سے عدل و انصاف تک ہر شئے کے متعلق پوچھے جائیں گے آپ۔ جب یہ نازک آبگینے حشر میں کوثر کے ساقی کو ٹھیس دکھا رہے ہوں گے تو آپ پکارے جائیں گے بدلے کے لئے۔
یاد رکھیں جب رب کے رسول سفر میں سواری خاتون کے کمفرٹ لیول سے تیز نہیں چلانے دیتے تھے تو آپ زندگی کی گاڑی خاتون کے کمفرٹ لیول سے تیز کیسے چلا سکتے ہیں؟
کسی بات کے نتیجے میں جب ابو بکر صدیق رضی اللہ کا بازو بلند ہوا تو رسول خدا نے تنبیہ کی ابو بکر تمہارے سامنے نبی صلی علیہ وسلم کی بیوی کھڑی ہے۔ بعد میں مسکراتے ہوئے عائشہ سے پوچھنے لگے آج میں نہ ہوتا تو تمہیں ابو بکر کے غضب سے کون بچاتا۔۔
عائشہ کہنے لگیں میرا شوہر!
میرے شوہر کی موجودگی میں کون ہے جو عائشہ کو چھو جائے۔
اگر آپ چاہتے ہیں آپ کی بیوی بات بات پر اپنے باپ کا حوالہ نہ دے اس کی آواز سن کر رونے نہ لگے اس کے سامنے آپ کے لیے ڈٹ جائے تو پھر آپ کو ایسی ڈھال بننا پڑے گا تخفظ کے اس احساس کو زندہ کرنا پڑے گا۔
دوسری صورت میں اپنے تحفظ کی جنگ لڑتی آپ کی نسلوں کو آپ کے خلاف کرتی کسی خاتون کا نہ ہاتھ پکڑ سکتے ہیں نہ اس کی اوپینین میکنگ کا شکار اپنی نسل کا۔

خیر کہانی زیادہ ہی ڈپریسنگ ہوگئی۔
بات چینج سے شروع ہوئی تھی تو چینج تو بہرحال آتا ہے۔ آپ شاپنگ مال میں کپڑوں جوتوں سے کہیں پہلے گروسری سیکشن میں جاتے ہیں۔
میچنگ جوتوں کی بجائے کرٹنز سے میچنگ ڈسٹ بنز ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔
سکاچ برائٹ کی ںھی ورائٹیز ہوتی ہیں یہ ڈسکور کرتے ہیں۔
آپ کے ابا کا گھر امی کا گھر بن جاتا ہے۔
ابا کے پیسوں سے خود خریدی ہوئی چیزیں۔۔ امی نے لے کردی تھی بن جاتی ہیں
کال کر کے پوچھنا پڑتا ہے آپ لوگ بزی تو نہیں؟ آنا تھا نا میں نے۔
ساری زندگی سب سے ایموشنل لگنے والے بابل والے فوک گیت اچانک کہیں غائب ہوجاتے ہیں۔ اور آپ کنکاں لمیاں دیاں کیوں جمیان نی مائیں سننے لگتے ہیں۔
ابا کی بیٹیاں امی کی بیٹیاں بن جاتی ہیں۔
ہم سی بیٹیوں کو مائیں شائد نظر ہی شادی کے بعد آنے لگتی ہیں۔
جب آپ کی ابا کے ساتھ افیلیشن کے قصے سن سن کر کوئی آپ کو ابو سے بات کرلینا تھی کہتا ہے تو آپ جواب دیتے ہیں۔۔ امی سے اداس ہوگئی ہوں۔
یہ جملہ کہہ کے خود ہی حیران ہواجاتا ہے کتنا بدل گیا سب۔۔۔ اب اداسی کی بھی قسمیں ہوتی ہیں۔
خیر یہ تحریر پڑھ کے اداس ہونے والوں کو بتایا جاتا ہے کہ یہ ہی زندگی ہے۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔
یعنی تبدیلی آئے بغیر چارہ نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: