یاد آئے تیرے پیکر کے خطوط —- عزیز ابن الحسن

0

کچھ دن پہلے خاکسار نے شاعری میں تمثال کاری اور پیکر نگاری کی (image making) بات کی تھی۔ تمثال اصل میں تلازمات ہی کے قبیل کی شے ہوتے ہیں۔ یہ خیال ٹی ایس ایلیٹ کے تصور “معروضی تلازمہ کاری” (objective correlative) سے ذہن میں آیا تھا۔ یہ بات نہیں کہ یہ تصور ٹی ایس ایلیٹ کا ایجاد کردہ ہے۔ ہر زمانے اور زبان کی بہترین شاعری کیطرح فارسی و اردو شاعری کا ایک اہم ترین جز بھی “فنِ تلازمہ کاری” ہے۔ ہمارے اعلا ترین کلاسیکی شاعروں کی بہترین شاعری میں تلازمہ کاری کی وہ وہ نادر شکلیں ملتی ہیں جو دنیا کے بہترین شاعروں کو بھی ششدر کر سکتی ہیں۔ یہ غالبا ایذرا پاؤنڈ کا قول ہے کہ ایک اچھا امیج (پیکر) تخلیق کر لینا گھٹیا شاعروں کے دیوانوں پر بھاری ہوتا ہے۔

جیسا کہ فرائیڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لاشعور اس کی ایجاد نہیں بلکہ اس سے صدیوں پہلے بڑے شاعر اور فنکار اپنی لازوال تخلیقات میں لاشعور کی کارفرمائیاں دکھاتے رہے تھے مگر فرائیڈ کا کارنامہ یہ ہے کہ جسطرح اس نے انسانی زندگی، تہذیب، ادب اور فنون میں لاشعور کی پراسرار کارفرمائیوں کی نظر یہ سازی کرکے ایک علمیاتی عمارت کھڑی کردی ہے، اسی طرح ٹی ایس ایلیٹ کے بارے میں بھی یہ بات درست ہے کہ “معروضی تلازمہ کاری” کا تصور اس کی ایجاد نہیں مگر ہر زمانے کے بڑے نقادوں کی طرح اس کا کارنامہ یہ ہے تمثال کاری و پیکر نگاری کی تخلیقی معنویت کو اس نے خوبصورت لفظیات میں بیان کر دیا ہے، گوکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ تصور فلاں فلاں سے اخذ کیا ہے مگر اتنے وضاحت، قطعیت اور اختصار سے اس نے جو بیان کیا ہے وہ بیسویں صدی میں کسی اور نقاد سے بن نہیں پڑا۔ 1919 میں اپنے مضمون Hamlet and His Problems
میں ایلیٹ نے objective correlative کی ترکیب استعمال کی تھی اور اس کے بعد بیسویں صدی کے تنقیدی مباحث کا اس کا بڑا چرچا رہا۔ اس کا کہنا تھا:

The only way of expressing emotion in the form of art is by finding an “objective correlative”; in other words, a set of objects, a situation, a chain of events which shall be the formula of that particular emotion; such that when the external facts, which must terminate in sensory experience, are given, the emotion is immediately evoked.

فن کی ہیئت میں جذبے کے اظہار کا واحد طریقہ معروضی تلازمہ تلاش کرنا ہے؛ بالفاظ دیگر معروضات/ اشیاء کا کوئی مجموعہ، کوئ صورتحال یا سلسلۂ واقعات جو اس مخصوص جذبے کا بدل بن جائے۔

یعنی فن پارے میں خیالات، احساسات و جذبات یا رویوں کا کھلے بندوں یا خام صورت میں اظہار نہ ہو بلکہ ان کی جگہ ایسی بیرونی اشیاء یا معروضات کو کام میں لایا جائے جواس خیال احساس جذبے یا رویے کی علامت، استعارہ یا پیکر بن جائے۔

اسی شے کو ملارمے نے To evoke an object والے نظریے میں پیش کیا ہے۔ یعنی کسی معروض، پیکریا تلازمے کو آہستہ آہستہ اس طرح ابھارا جائے کہ وہ کسی خاص معاملے، حال، کیفت اور موڈ کا متبادل بن جائے۔ یعنی فنکار کو غم غصے دکھ اداسی مسرت وغیرہ کے اظہار کیلیے یہ “کہنا” نہ پڑے کہ فلاں یا میں دکھی اداس یا خوش ہے بلکہ اسے چاہیے کہ وہ خارج میں موجود اشیا و افعال کو اپنے خیالات محسوسات یا جذبات کے معروضی نعم البدل یعنی حسی پیکر بناکر پیش کرے۔ یہی وہ فنکارانہ طریق کار ہے جسمیں خام ننگے جذبات کے اظہار کے بجائے تدریجی ظہور میں آنے والی کیفیت اہم ہے، جو معروضی تلازموں، صورتحالاور واقعات کے سلسلوں کے ذریعے پیدا ہوتی دکھائی جائے۔

پیکر/تلازمہ وہ شے ہے جو حواس خمسہ میں سے ایک یا اکثر کے راستے قاری/ناظر کو اس جمالیاتی تجربے سے گزار دے کہ جہاں پیکر، پیکر تراش اور صاحبِ پیکر پوری طرح مدغم ہو جائیں اور لامسہ و باصرہ و سامعہ و شامہ و ذائقہ سے حاصل ہونے والا تجربہ، مدرکہ سے حاصل ہونے والے بلند ترین معانی سے زیادہ پرکشش ہو جائے اور معنی کے وثوق کو ایسا وفور انگیز بنا دے کہ

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقصِ بسمل بود شب جائے کہ من بودم

پری پیکر نگارِ سرو قد لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بودشب جائے کہ من بودم

کا سا حال طاری ہو جائے۔

پیکر جہاں زیادہ تر حسی ہوتا ہے وہاں تلازمہ کی بعض صورتیں عقلی بھی ہو سکتی ہیں۔ ان عقلی تلازموں کی اہمیت ان کے عقلی ہونے میں اتنی نہیں جتنی ایک فنکار کی اس قدرت کلام میں ہے جو اپنے فن کی جادو اثری سے انہیں حسی جمال آفرینی کا مرقع بنا دیتا ہے۔
شبلی نعمانی نے مصوری پر شاعری کی فوقیت جتلاتے ہوئے لکھا ہے کہ مصور تو صرف ان اشیاء کی تصویر بنا سکتے ہیں جو “پیکر محسوس” رکھتی ہوں۔ لیکن شاعر تو بسا اوقات ایسی چیزوں کی بھی تصویر بنا دیتا ہے جو مصور کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ مصور جو کام مو قلم کے ساتھ کرتا ہے شاعر وہ کام “محاکات” کے ذریعے کرتا ہے۔ (یاد رہے کہ محاکات کی اصطلاح عربوں نے یونانی تصور mimesis یا imitation کے توسیعی ترجمہ کے طور پر استعمال کی تھی) اپنی بات کی وضاحت کے لیے شبلی نہیں شاہنامہ فردوسی کا یہ شعر لکھا ہے

نسب نامۂ دولت کیقباد
ورق در ورق ہرسوئے برد باد

شاعر کہنا صرف یہ چاہتا ہے کہ کیقباد کی سلطنت تباہی ہوگئی۔ مگر اس کے لیے اس نے جو مضمون یا منظرنامہ بنایا ہے وہ ایک ایسی کتاب کا ہے جسے اس کے پڑھنے یا لکھنے والے نے بہت سینت سینت کر رکھا تھا مگر پھر وقت نے پلٹا کھایا تو اسے سنبھالنے والا کوئی نہ رہ گیا، زمانے کی آندھیوں نے اسے ورق ورق کرکے بکھیر دیا۔ صرف اتنی سی بات کہنے کے بجائے کہ ‘قیقباد کی سلطنت تباہ ہوگئی’ شاعر نے اس کے لیے نسب نامہ، سلطنت، کتاب، اوراق اور ہوا کے چھوٹے چھوٹے حسی پیکر اور خارجی تلامے استعمال کیے ہیں اور پھر اپنی صنعت گری سے ان پیکروں سے بننے والی تصویر کو بربادی کا مرقع بنا دیا ہے۔ غور کیجئے دودمانِ کیقباد کی تباہی، ویرانی و حرمانی کی ایسی افق گیر تصویر اتنے چھوٹے سے کینوس پر کوئی مصور کاہے کو بنا سکے گا؟
دنیا کی دیگر اچھی شاعری کی طرح ہماری فارسی، اردو اور حتیٰ کہ علاقائی زبانوں کی شاعری میں بھی پیکروں اور تلازموں کو احوال معاملات و کیفیات کا بدل بناکر جمالیاتی تجربہ تخلیق کرنا عام سی بات ہے۔ صاحب سیف الملوک میاں محمد بخش کا یہ شعر دیکھئے

ہسن کھیڈن نال لے گیوں تے پاگیوں وچ فکراں
پارٹی لیر پرانی وانگوں ٹنگ گیوں ویچ ککراں
(تم میرا ہنسنا کھیلنا ساتھ لے گیے ہو اور مجھے فکروں میں مبتلا کر گیے ہو
اس طرح تم نے مجھے پھٹے ہوئے چیتھڑے کی طرح کیکر کے کانٹوں پر لٹکا دیا ہے)

محبوب کی جدائی میں عاشق کا جو حال ہوتا ہے اس کا کوئی بھی راست بیان اس شعر کے منظر نامے کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ پیکر تراشی اور تلازمہ کاری کا یہی کمال شاعری کو جادو سحر انگیز بناتا ہے۔

مقصد اس ساری دراز نفسی سے یہ ہے کہ چند روز قبل ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ملنے والا کلیات عزیز حامد مدنی جو کھولا تو دل و دماغ میں اُس غزل کے پیکروں کا جمال بکھرنے لگا جو کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر خورشید عبداللہ نے شیئر کی تھی۔

اس غزل کے صرف پہلے شعر میں
“پیچ و تاب شوق کے طوفان” اور “ہواؤں کے خم” کے پیکر دیکھ کر اگر قاری ان اشعار میں استعمال ہونے والے تلازمات کے جمالیاتی لہلاؤ اور اہتزاز بخش کیف کو محسوس کرسکے جس نے اس غزل کو ان نت نیے پیکروں سے جگمگا رکھا ہے جو معناً الم خیز ہوتے ہوئے بھی اپنی تاثیر میں نشاط انگیز ہیں تو سمجھے غزل کے “مفہوم” سے قطع نظر وہ فن کی تقلیبی تاثیر کو پا گیا۔

غزل ملاحظہ ہو

سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے
وہ زلف کھل گئی تو ہواؤں کے خم گئے

ساری فضا تھی وادئ مجنوں کی خواب ناک
جو روشناس مرگِ محبت تھے کم گئے

وحشت سی ایک لالۂ خونیں کفن سے تھی
اب کے بہار آئی تو سمجھو کہ ہم گئے

اب جن کے غم کا تیرا تبسم ہے پردہ دار
آخر وہ کون تھے کہ بہ مژگان نم گئے

اے جادہ خرام مہ و مہر دیکھنا
تیری طرف بھی آج ہوا کے قدم گئے

میں اور تیرے بند قبا کی حدیثِ خاص
نا دیدہ خواب عشق کئی بے رقم گئے

ایسی کوئی خبر تو نہیں ساکنان شہر
دریا محبتوں کے جو بہتے تھے تھم گئے

“وادی مجنوں کی خواب ناکی”، “روشناسِ مرگِ محبت”، “لالہ خونیں کفن کی وحشت”، “بمژگان نم جانے والے”، “جادہ خرامِ مہ و مہر، “ہوا کے قدم”، اور “محبتوں کے تمے دریا”

قاری باادنیٰ تأمل اندازہ کرسکتا ہے کہ اس غزل میں استعمال ہونے والے اکثر پیکر حسی اور عقلی تلازموں کی پُرجمیل مثالیں ہیں۔ تخلیقی جمال کا کمال یہ ہوتا ہے کہ متن کی معنوی فضا اگر المیاتی بھی ہو تب بھی پیکرتراشیوں اور تلازمہ کاریوں کے جمال کا آخری تأثر بہجت انگیز ہی رہتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: