ہجر کا شاعر : عاصم تنہا — مجموعہ کلام : پھر تنہا —– نیلم ملک

0

جب کبھی درد کے ماروں کی طرف دیکھتا ہوں
مَیں حقیقت میں ستاروں کی طرف دیکھتا ہوں

احساس قدرت کی خاص ترین عطا ہے۔ احساس اپنے اندر یہ خدائی وصف رکھتا ہے کہ مجسم ہو کر ظاہر نہ ہونے کے باوجود ہر جا، ہر دل اور ہر سوچ میں موجود ہے۔
انسان کو جو شے باقی تمام مخلوقات سے افضل کرتی ہے وہ اپنے احساس اور محسوسات کو لفظوں میں بیان کرنے کا وصفِ خاص ہے جو کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں۔ میرے خیال میں سب سے حسین احساس اپنے دل میں کسی دوسرے کے درد کو محسوس کرنا ہے کہ اپنا درد تو انسانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مخلوقات بھی محسوس کرتی ہیں۔ لیکن ایک دردمند دل رکھنے والا انسان اپنے علاوہ دوسروں کے درد کو بھی ہر دھڑکن میں جیتا ہے۔ ہر سانس میں سہتا ہے اور ہمیشہ ساتھ رکھتا ہے۔

“درد” جسے بظاہر ہم چھو سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں، دیکھ سکتے ہیں نہ اس کا ذائقہ چکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی مہک اپنی سانسوں میں اتار سکتے ہیں اس کے باوجود یہ احساس بھرپور طور پر اپنی موجودگی ظاہر کرتا ہے۔ حواسِ خمسہ چیخ چیخ کر اس کے ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔
کچھ خاص دِلوں میں قدرت نے اس احساس کی شدت زیادہ رکھی ہوتی ہے اور ایسے ہی دل دار نفوس تخلیق کار بنتے ہیں۔
عاصم تنہا بھی ایسا ہی دل دار نفس ہے جو قدرت کی اس خاص عطا سے مالا مال ہے۔ عاصم تنہا کی شاعری کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا شعر نہ قاری کے لیے ہے اور نہ ہی نقاد کے لیے بلکہ یہ خالصتاً اس کا ذاتی دکھ ہے جسے اس نے یہ سوچے بغیر لفظوں میں پرویا کہ یہ جدید ہے یا روائتی، پرت داری لیے ہوئے ہے یا یک معنوی، مبہم ہے یا روزِ روشن کی طرح عیاں، خالص شاعری ہے یا تجریدیت۔ اس کی چاہ تو اپنے دل میں بسے درد کا اظہار تھا جو اس نے خوبصورتی سے کیا۔ اسی چاہ کے عکاس چند شعر درج کرتی ہوں۔

کھا رہی ہے نوچ کر،دل کی صدا میرا وجود
کیا اسی خاطر بنایا تھا خـدا میـرا وجـــود
۔۔
مرے رقیب کا قصہ تھا، یا مرا قصہ
کہ درد دل سے ہٹایا خدا خدا کر کے
۔۔
کسی کا ساتھ ہے صدیوں کی وسعتوں سے بھرا
ہمارے عشق کی یہ داستاں پرانی ہے
۔۔
میں جسے پا کے بھی رہا تنہا
مجھ سے وہ کتنا بے خبر نکلا
۔۔
رشک آیا ہے ہمیں خود پہ بہت
جب کبھی اس نے پکارا عاصم
۔۔
ابھی بارود کی بُو کب گئی ہے
پرندے آج بھی سہمے ہوئے ہیں

میرے خیال میں ہر تخلیق کار کی ایک مخصوص رینج ہوتی ہے، بیشتر تخلیق کار اس رینج میں تمام عمر اطمینان اور سکون سے رہتے ہیں، اسی کے اندر رہتے ہوئے چھ چھ مجموعے بازارِ ادب کی زینت بنا دیتے ہیں۔ ایسے تخلیق کار نہ تو اپنی رینج کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں نہ اس سے باہر جانے کی، جیسے بہت سے غریب لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی غربت کو ذہنی طور پر تسلیم کر چکے ہوتے ہیں اور اسی میں خوش رہتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی حالت کو بہتر کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ لیکن جو حقیقی معنوں میں تخلیق کار ہوتا ہے اور تخلیقیت کے اصل کو سمجھتا ہے وہ کبھی پر سکون نہیں رہتا، وہ ہمیشہ مضطرب اور بے چین رہتا ہے۔

ہمیشہ اپنی رینج سے باہر جانے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی اس کی یہ کوشش ناکام بھی ہوتی ہے لیکن اس کے اندر کا اضطراب اسے ہارنے نہیں دیتا۔ آخر بار بار کی کوشش اس کے کینوس کو وسیع سے وسیع تر کرتی چلی جاتی ہے۔ سچا تخلیق کار کبھی بھی اپنے گرد کوئی حفاظتی دائرہ نہیں بناتا اور نہ کسی کی متعین کردہ حدود کو مانتا ہے بلکہ وہ اڑان بھرتا ہے اور آفاق کی پہنائیوں کو ناپنے کی کوشش کرتا ہے۔
اڑان بھرنا اس کی جرآت کا پتہ دیتا ہے اور وہ پہنچتا کہاں تک ہے اس سے اس کی صلاحیت اور قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
عاصم تنہا نے بھی اپنے اندر کا دکھ سیدھے سبھاؤ رونے اور اپنی رہتل کی محرومیوں کی نوحہ گری کے ساتھ کہیں کہیں اڈاری ماری ہے جس سے اس کی جرآت کا اندازہ تو ہوتا ہے لیکن صلاحیت کا تعین ابھی کرنا قبل از وقت ہو گا۔ بطور ثبوت چند شعر

مری صدا ترے کانوں تلک جو پہنچی تھی
قصور وار برابر ہوا کا جھونکا تھا۔
۔۔
مفلس کی کوئی صنف جلالی نہیں ہوتی
الفاظ کی ہم سے تو جگالی نہیں ہوتی
۔۔
وقت کی قید سے آزاد قلندر نکلا
میں نے دریا جسے سمجھا تھا سمندر نکلا
۔۔
رستہ رستے سے جب نکلتا ہے
تب پتہ ہم سفر کا چلتا ہے
۔۔
کیا کروں اب میں عشق کی توضیح
لامکانی میں اک مکاں بھی ہے
۔۔
عشق کی تصویر کھینچی تھی مگر
عشق بھی اظہار کی تصویر ہے
۔۔
وہ جس کو کہتے تھے تہذیب،مر چکی عاصم
پناہ ڈھونڈیے جا کر کہیں گپھاؤں میں
۔۔
تیرے قدموں پہ چل رہا تھا جب
تُو ہی بتلا کہ میں گِرا کیسے
۔۔
تجھ سے پاؤں سراغ سمتوں کا
اور بھیدوں بھری سرنگ بھی تُو

غزل میں جس قدر کاریگری کا دخل بڑھتا جا رہا اتنی ہی حساسیت، موسیقیت، نغمگی اور تغزل ختم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک سختی اور کرختگی ہے جو غزل کے اصل حسن کو مسخ کیے جا رہی ہے۔ ایسی بناوٹی اور نام نہاد جدید ادبی فضا میں جب کہیں بےساختگی اور معصومیت سے کہا گیا شعر ملتا ہے تو بھلا لگتا ہے۔
یوں بھی یہ نئے مضامین کے متلاشی اپنے تئیں جدت پسند جو روایت کو روند کر آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں یہ متفق ہوں یا نہ ہوں یہ ایک حقیقت ہے کہ شاعری سے اگر رومانویت اور جنسِ مخالف کی محبت کا بیانیہ نکال دیا جائے تو شاعری ختم بھلے ہی نہ ہو لیکن مفلوج ہو کر آئی سی یو میں ضرور پہنچ جائے گی۔
زمانہ چاہے کسی بھی نہج پر چلا جا رہا ہو وارداتِ قلبی کے نتیجے میں وجود پانے والی تخلیق ان جھنجھٹوں سے پاک ہوتی ہے۔ عاصم تنہا کی شاعری بھی دل کی شاعری ہے۔ نہ تو دماغ کی ہے اور نہ زمانے کی۔

نبی کی آل پہ جو کربلا میں گزرا ہے
زمیں پہ اس سے بڑا سانحہ نہیں ہونا
۔۔
مجھ سے ملنے کی ضد بھی کرتا ہے
اور رہتا ہے مجھ سے تنگ بھی تُو
۔۔
جو منزلوں کے نشانات دے رہی ہیں تمہیں
ہماری گونج بھی شامل ہے ان صداؤں میں
۔۔
کہیں سے ڈھونڈ کر لاؤ وہ لمحہ
ہماری زیست میں جس کی کمی ہے

روح تک پھیلا ہوا تنہا عجب اک دشت ہے
ہو رہا ہے جس میں مجھ سے ہی جدا میرا وجود

خوبصورت غزلیات کے علاوہ اس مجموعہ میں نظمیں، قطعات اور فردیات بھی شامل ہیں جو کہ غزلوں ہی کی طرح نرم و نازک جذبوں میں رچی بسی ہیں۔
کسی بچھڑے ہوئے کا دکھ رونے میں ایک امید، ایک آس ہوتی ہے کہ بچھڑنے والا شاید ہمارے لفظوں میں چھپے کرب کو محسوس کر کے پلٹ آئے اور نہ بھی آئے تو امید ہی زندگی کے دِیے کا ایندھن بنی رہتی ہے لیکن مر جانے والوں کا دکھ رونا ایسی اذیت ہے کہ جس میں نہ کوئی آس ہوتی ہے نہ امید۔ اس دکھ میں رونا دکھ کو دونا کرتا ہے۔ عاصم تنہا کا دکھ بھی ایسا ہی ہے۔

ایک مدت تو چپ رہی آنکھیں
پھر اچانک ہی بلبلا اٹھیں

بیشتر شعراء و ادباء اور ناقدین کا خیال ہے کہ کسی بھی شاعر کو اپنا شعری مجموعہ ایک خاص معیار پر پہنچ کر چھپوانا چاہیے لیکن میرا خیال ہے کہ اگر کوئی اپنی تخلیق کو ایک دستاویز کی صورت محفوظ کرنا چاہتا ہے تو اس پہ کوئی قدغن نہیں لگائی جانی چاہیے۔
وقت کے چھلنی سے چھن کر جو اہل ہو گا وہ ادب کی تاریخ کا حصہ بن جائے گا ورنہ تخلیق کار کی ہر تخلیق اس کی اپنی یادگار، یادداشت اور تاریخ تو ہوتی ہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: