متی نصر اللہ —- ملک گوہر اقبال

0

ولتکن منکم امت یدعون الی الخیر ویامرون بلمعروف وینھون عن المنکر۔ ترجمہ۔ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے اور اچھائی کا حکم کرے اور برائی سے روکے۔ (آل عمران)

عزیزانِ من۔ قرآن حکیم کی یہ آیت مسلمانوں سے ایک ایسی جماعت کا مطالبہ کر رہی ہے جو مکمل دینی علوم سے آراستہ ہو اور قرآن وسنت کے علوم پر اتھارٹی رکھتے ہوئے لوگوں کو خیر کی طرف بلائے۔ کیونکہ ولتکن منکم امت سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یدعون الی الخیر کے لیے ایک الگ جماعت ہونی چاہیے۔ اور رہی وہ دوسری آیات جن میں (امر بلمعروف ونہی عن المنکر) کا حکم دیا گیا ہے وہ ایک فرض عامہ ہے جسے ہر ذی شعور مسلمان پر اس کی استطاعت تک فرض کرکے اسے (کنتم خیر امۃ اخرجت للناس) کا مصداق ٹہرایا گیا ہے۔ اور اس فرض عامہ کی تشریح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کے راوی ابو سعید خدری فرماتے ہے کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ جو شخص تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے روکے اگر قدرت و استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر قدرت و استطاعت نہ ہو تو دل میں اس کو برا سمجھے اور یہ ایمان کا بہت کم ہی درجہ ہے۔ اس حدیث میں یہ بات (اگر قدرت و استطاعت نہ ہو) دلیل ہے کہ یہ حکم عام مسلمانوں کے لیے ہے نہ کہ ریاست کے لیے اگر یہ مطالبہ ریاست سے بھی ہوتا تو پھر (اگر قدرت و استطاعت نہ ہو) کی رخصت نہیں آتی۔ کیونکہ ریاست کی تو زمہ داری ہی یہ ہوتی ہے کہ برائی کو طاقت سے روکے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی شخص پر امر بلمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ اس وقت عائد ہوتا ہے جب وہ اپنے سامنے کسی منکر کو ہوتے ہوئے دیکھے مثلاً ایک شخص دیکھ رہا ہے کہ کوئی اس کہ سامنے جوا کھیل رہا ہے یا چوری کر رہا ہے یا شراب پی رہا ہے وغیرہ۔ تو اس کے ذمہ واجب ہوگا کہ اپنے استطاعت و قدرت کے مطابق اس کو روکے۔ اگر اس کے سامنے یہ سب کچھ نہیں ہورہا تو یہ فریضہ اس کے ذمہ نہیں ہے کیونکہ حدیث مبارک کہ الفاظ کہ جو شخص کسی منکر کو دیکھے اسی طرف اشارہ ہے۔

عزیزانِ من۔ یہ تو فرض عامہ تھی اب اس آیت کے مفہوم کو سمجھتے ہیں جو مسلمانوں سے ایک الگ اور مستقل جماعت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مشہور مؤرخ و مفسر”حافظ ابن کثیر” نے اپنی تفسیر جلد ایک صفحہ 490 پر حضرت ابو جعفر باقر سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے آیت ولتکن منکم امت یدعون الی الخیر تلاوت فرمائی پھر فرمایا “الخیر اتباع قرآن وسنتی” یعنی خیر سے مراد قرآن اور میری سنت کا اتباع ہے۔ یعنی اس جماعت کا کام یہ ہوگا کہ خود قرآن وسنت کو سمجھ کر لوگوں کو بھی قرآن وسنت کی اتباع کی طرف بلائیں گے۔ اور اس آیت کا سب سے پہلا مصداق صحابہ کی جماعت ہے۔ جو دعوت الی الخیر کے عظیم مقصد کو لیکر اٹھی اور قلیل عرصہ میں ساری دنیا پر چھا گئی روم و فارس کی عظیم سلطنتیں روند ڈالی اور کفر وشرک کی تاریکیوں میں توحید وسنت کی شمعیں روشن کیں۔ جن کی نعرہ تکبیر سے ہند اور سندھ تک کے بت کدے لڑکھڑا گئے۔ جس کو اقبال مرحوم نے ان الفاظ کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے۔ وہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانی۔ یعنی صحابہ کے زور ایمانی، دنیا جہا سے شان بے نیازی اور صدق اعمال نے وقت کے عظیم طاقتوں اور سلطنتوں کو تہس نہس کردیا۔ اور اسلام کی زبردست اشاعت کرنے کی بدولت اللہ کا دین عرب و عجم کے ایک وسیع وعریض خطے پر نافذ العمل ہوا۔ حضرات صحابہ ہی قرآن کے مفسر حدیثوں کے راوی وحفاظ تھے اور فقیہ و مجتہد تھے خلافت سنبھالنے پر بھی اتھارٹی رکھتے تھے۔

عزیزانِ من۔ چونکہ جماعت صحابہ تو قیامت تک باقی رہنے والی نہیں تھی اسی لیے جماعت صحابہ کے بعد اگر کوئی جماعت ولتکن منکم امت یدعون الی الخیر کا مصداق بنتی ہیں تو وہ صرف علمائے حق ہی کی جماعت ہے۔ کیونکہ علمائے حق (الخیر) یعنی قرآن وسنت کے علوم کو سمجھتے ہیں اور جماعت علمائے حق ہی نے ہر دور میں لوگوں کی رہنمائی کی ہے اور عقائد و ایمانیات سے لیکر احکامات ومسائل تک ہر باب میں امت کو دعوت الی الخیر کرتی رہی ہے۔ اور جب بھی کوئی آزمائش آجاتی تو حق گوئی اور ثابت قدمی کی نئی تاریخ رقم کرتے خواہ ان کے جنازے جیلوں سے نکلتے یا انہیں برسرِ عام کوڑے لگائے جاتے۔ ہر دور میں ہر طبقے کے علماء خواہ وہ مفسرین ہو یا محدثین، فقہاء ہو یا اولیاء سب نے دعوت الی الخیر کا کام بخوبی سر انجام دیا۔ اگر امت فقہی مسائل میں کھبی الجھی ہے تو امام ابوحنیفہ جیسی شخصیت نے علم کی دنیا میں استنباط و استدلال کا دروازہ کھول کر علم کی دنیا میں انقلاب برپا کیا ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ ہی تھے جس نے فقہ اسلامی کی تدوین کی داغ بیل ڈالی۔ یہ ابوحنیفہ ہی تھے جس نے اکیلے 800 کے قریب ایسے شاگرد تیار کیے جو دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر درس و افتاء کے مسند نشین اور سلطنت اسلامیہ کے قاضی بنے۔

عزیزانِ من۔ جب بعض اہلِ علم نے اپنے اوپر درویشی کا لبادہ اوڑھ لیا اور کچھ ایسے اصطلاحات بیان کرنا شروع کیے جو متشابہات کے زمرے میں تھے اور جب جاہل صوفیوں اور خانقاہ نشینوں کے تخیلات اور مشاہدات کو دینیات کی تعبیر سمجھا جانے لگا اور شرعیات میں بھی ان کے نفسی اوہام سے تفسیر ہونے لگی اور ان کے خوابوں کو حجت تسلیم کیا جانے لگا۔ شرک کو اصل توحید کہا جانے لگا اور بدعات زور پکڑنے لگی۔ تو وہ شیخ الاسلام امام تقی الدین ابنِ تیمیہ ہی کی شخصیت تھی جنہوں نے اس شرک و بدعت پر قرآن وسنت کی تلوار کی ضربیں لگائی اور صفات باری تعالیٰ کے موضوع پر متکلمین اور گرویدۂ یونانیات کے انداز و اسلوب سے کنارہ کش ہو کر اسلاف کرام کے مسلک حقہ کی تصریح فرمائی۔

عزیزانِ من۔ جب تاجدارِ ہندوستان جلال الدین محمد اکبر دنیا میں امن و آشتی کا نعرہ لگائے ہوئے ایک مشترک دین کی تلقین کرتا رہا تھا اور آسمان آئین و دانش کے ستارے ابو الفضل، فیضی، بیربل، راجہ ٹورڈورمل وغیرہ اس کے نو رتن کے ماہ پروین بنے ہوئے تھے۔ ہر ایک فیروزمندی سر تسلیم خم کئے ہوئے تھی عظمت و جلالت کا سکہ دلوں پر بیٹھا ہوا تھا حتٰی کہ دین و مذہب کی پابندیوں سے بے نیاز ہو کر ہر ایک شہسوار اور سورماشاہی درشن کے وقت زمین پر سجدہ ریزی شروع کر دیتا تھا۔ اس وقت وہ امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ہی کی شخصیت تھی جنہوں نے اکبر کے دین الہٰی پر قرآن وسنت کے تیر برسا کر اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور شیخ نے دنیا کو بتادیا کہ یہ خاتم النبیین کا مذہب ہے جو اس کے مقدس دامنوں کو سمیٹنا چاہے گا وہ خود ہی سیمٹ جائے گا۔

عزیزانِ من۔ وہ امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہی کی شخصیت تھی جن کی گہری سوچ و بچار اور اعلیٰ تدبر نے فیصلہ کیا کہ جتنی سماجی، معاشی یا اقتصادی تباہیاں اس وقت موجود ہے اس کا واحد حل” فک کل نظام” ہے یعنی ہر باطل نظام کو توڑ دو۔

عزیزانِ من۔ آج میں یہ نہیں کہوں گا کہ مسلمانوں پر غیروں کے ہاتھوں قیامت برپا ہوئی ہے یا وہ باہمی جنگ و جدل کا شکار ہوئے ہیں۔ اور مسلمانوں کے اہل علم و قلم اور صاحب فہم لوگ دولت اور شہرت کمانے میں مصروف ہے۔ یہ باتیں روز روشن کی طرح واضح ہے اور کوئی بھی شخص اس سے بے خبر نہیں ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ آج ایک مرتبہ پھر امت کو امام ابوحنیفہ جیسی شخصیت درکار ہے جو استنباط و استدلال کا دروازہ کھول کر علم و عرفان کی اس اجڑی ہوئی بستی کو دوبارہ آباد کریں۔ آج ایک اور تقی الدین ابنِ تیمیہ کی ضرورت ہے جو دین کی موجودہ تعبیر سے بغاوت کرکے امت کو دوبارہ اسلاف کی سمجھی ہوئی تعبیر پڑھانے کا علم بلند کریں۔ آج حالات پھر سے امام ربانی مجدد الف ثانی کو پکار رہی ہے کہ موجودہ جدیدیت کے اس دین الہٰی کے قصر کو مسمار کر کے دین اسلام کی صحیح عمارت کو تعمیر کرے۔ آج ایک بار پھر دہلی کے اس مرد مجاہد شاہ زمانہ امام ولی اللہ کا وہ نعرۂ مستانہ بلند کرنا چاہیے جس سے ظلم پر مبنی سیاسی و معاشرتی نظام کا قلع قمع ہو۔ آج یقیناً ہر امتی کے زبان پر متی نصر اللہ متی نصر اللہ کی صدائیں بلند ہے لیکن شاید آج اللہ کی مدد اس لیے نہیں آرہی کہ ہم میں وہ جماعت ہے ہی نہیں جو ولتکن منکم امت یدعون الی الخیر کا مصداق ہو جو لوگوں کو قرآن و سنت کی اتباع کی طرف بلاتی ہو۔

(Visited 22 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: