گھر ٹوٹنے کا سبب: عورت کی تعلیم یا مرد کی انا —– فارینہ الماس

0

جدیدیت اور تبدیلی کا عمل انسان اور انسانی معاشرے کے ساتھ ازل سے وابستہ ہے۔ وہ دور جس میں انسان زراعت پر انحصار کرتا تھا، اس دور میں وہ روایت سے جڑا ہوا تھا جیسے ہی صنعت کے دور میں داخل ہو کر انسان نے مشینی ترقی کا منہ دیکھا، اس کا تمام تر تمدن ہی بدل کر رہ گیا۔ اخلاقی معیار، عقائد و رویے تبدیل ہوئے۔ تعلیم اور آزادی انسان کا بنیادی حق قرار پائے۔ مجموعی سماجی زندگی کی تبدیلی سے خاندانی رحجانات میں بھی بدلاؤ آیا۔ قدیم نظام جس میں عورت گھر داری کو سنبھالنے اور مرد خاندان کی معاشی ضرورتوں کا ذمہ اٹھانے پر مامور تھے، جس میں مرد کو اپنے فرائض اور امور کے حساب سے خاندانی نظام میں فوقیت حاصل تھی، وہ نظام اب فرسودہ نظام قرار دے دیا گیا۔ صنعتی دور کے بدلاؤ سے ایک طرف فرد کی کامیابیاں مادی کامیابیوں سے جانچی جانے لگیں اور انفرادی ترقی کا دباؤ مرد پر بڑھنے لگا تو دوسری طرف خواتین کے حقوق کی آواز بھی اٹھائی جانے لگی تھی۔ اس تحریک کا ثمر یہ تھا کہ عورتوں کو بھی تعلیم کے بہتر مواقع میسر آنے لگے۔ ان کی اجرت کو ان کی محنت کے برابر مختص کیا گیا جس سے اعلیٰ ملازمتوں میں ان کی حصہ داری کے امکانات بھی روشن ہوئے۔ ترقی کی اس لہر نے مرد اور عورت کو برابر تو لاکھڑا کیا، لیکن خاندان کے نظام میں توازن پیدا ہونے کی بجائے دونو ں کی اناؤں اور سے وہ مسائل پیدا ہوئے جنہیں تحمل، بردباری یا برداشت کی بجائے جذبات، جلد بازی اور کرودھ سے حل کیا جانے لگا۔ نتیجتاً طلاق کی شرح میں اضافہ ہونے لگا۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قدیم معاشروں میں طلاق شاذ ہی ہوا کرتی تھی۔ چین، مصر، بھارت، روم وغیرہ میں اسے ایک بھیانک شے سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جدیدیت کے وارد ہوتے ہی دنیا میں خاندانی نظام عدم استحکام کا شکار ہونے لگا۔ اس کا بڑا شکار ترقی یافتہ ممالک بنے۔ ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں اس گذشتہ ایک صدی میں طلاق کی شرح میں دوسو گنا اضافہ ہوا۔ آسٹریلیا میں ہر تیسری شادی کو طلاق کا منہ دیکھنا پڑتا ہے، جاپان میں ہر دو منٹ سے قبل ایک طلاق ہو جاتی ہے۔ بھارت میں ہر ہزار پر گیارہ شادیوں کا انجام طلاق ہے۔ امریکا میں ہر برس دس لاکھ بچے والدین کی طلاق کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔

اگر ہم اپنے ملک کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ کچھ خاص مختلف نہیں۔ سن 1970 میں یہاں طلاق کی شرح 13فیصد تھی۔ جو اب 35فیصد ہو چکی ہے۔ 2005سے2008تک 75ہزار کے لگ بھگ کیس رجسٹر ہوئے جب کہ 2008سے 2011تک طلاق کے کیسوں کی تعداد 1لاکھ تک تجاوز کر گئی۔ محض لاہور ہی کی مثال لیں تو یہاں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ڈیڑھ سو کیس رجسٹر ہو رہے ہیں۔

طلاق کو کسی طور بھی شعور اور بیداری کی تحریک کا ثمر نہیں سمجھا جا سکتا نا ہی اسے معاشرے کے لئے خوش آئند ٹھہرایا جا سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں بہت ذیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے ان معصوم بچوں کو جو اس صورت ماں یا باپ کے پیار سے محروم کر دئیے جاتے ہیں۔ جو نفسیاتی و جذباتی طور پر ایسی شکستگی کا شکار ہوتے ہیں کہ جس کا مداوا تمام عمر بھی نہ ہوسکے۔

بلاشبہ ہمارے ہاں بھی بھی خانگی مسائل کی بڑھتی شرح کی ایک بڑی وجہ معاشرے کی تیزی سے بدلتی یہ قدر ہے جس نے عورت کو خودمختاری اور خود انحصاری کا رستہ دکھایا۔ عورت کی تعلیم و شعور اور حقوق کے لئے اس کی بیداری نے اسے مرد کی برابری پر اکسایا۔ وہ اب گھر کو دیکھنے کے علاوہ ملازمت کے مسائل کا بھی مرد ہی کی طرح سامنا کرتی ہے۔ کام کا بھرپور دباؤ اس میں بھی نفسیاتی اور ذہنی مسائل پیدا کرنے کا سبب بننے لگا ہے۔ مرد ہی کی طرح وہ بھی چڑچڑے اور غصیلے پن کا شکار ہونے لگی ہے۔ بڑے شہروں میں طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے لیکن اگر پڑھے لکھے طلاق یافتہ لوگوں سے ان کی باہمی طلاق کی کوئی عقلی توجیہہ یا کوئی بڑا سبب جاننے کی کوشش کی جائے تو شاید ہی وہ ایسی کوئی بڑی وجہ بیان کرپائیں۔ کیونکہ اکثر فیصلے جذبات میں آکر یا اک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہی کئے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں میں قصوروار صرف عورت کے تعلیمی شعور یا فطری غرور کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ باقی تمام تر دوسرے عوامل کو نظر انداز کرکے اس بات کی بھرپور نفی کردی جاتی ہے کہ ایسے انتہائی اقدام کو سرزد کرنے میں مرد بھی برابر کا ذمہ وار ہے۔ یہ وہ معاشرتی رویہ ہے جس کے سبب تمام تر بے حسی اور غفلت کا طعنہ عمر بھر کے واسطے، عورت ہی کے لئے باعث رسوائی بن جاتا ہے۔

اس سے انکار نہیں کہ پرانے وقتوں کی ”عورت“ بہت سادہ مزاج تھی۔ وہ وصف شکیبائی پر مامور تھی۔ مصلحت سنج، قانع اور صلح جو تھی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہو جایا کرتی تھی۔ اس میں کمال کا ضبط تھا۔ شکوہ شکایت، حقوق کی پامالی کا رونا دھونا اسے چھو کر بھی نہ گزرتا تھا۔ کیونکہ وہ اپنا حق سب سے کمتر درجے پر خود اپنی رضا و رغبت سے رکھا کرتی، جبھی تو زندگی بھر، ہر شے جب گھر بھر میں بانٹ بخرے کے بعد باقی ماندہ، رہی سہی، بچی کھچی اس کے حصے میں آتی وہ صبر شکر سے لے لیا کرتی۔ اسے غلبہ پانے کی خواہش چھو کر بھی نہ گزری تھی، کیونکہ اس کے اندر ہمیشہ سے ایک خاص قسم کی آسودگی تمام وقت ڈیرے ڈالے رکھا کرتی تھی۔ وہ خود سے برتے جانے والے کسی ناروا سلوک پر بھی واویلا نا کیا کرتی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھاکہ زندگی میں اس کے لئے سب اچھا ہی ہوا کرتا تھا۔ سن پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی کی عورتیں ایسی ہی ہوا کرتی تھیں۔ ہماری نانیاں، دادیاں، ہماری مائیں ایسی ہی زندگی گزارا کرتی تھیں۔ کیونکہ انہیں نسل در نسل شوہر کو مجازی خدا ماننے کا سبق دیا جاتا تھا۔ اگر شوہر انہیں دھتکارتا بھی تو کہا جاتا ”مرد ایسے ہی ہوا کرتے ہیں“۔ اگر مرد اکھڑ مزاج، بدلحاظ، بے مروت ہوتا تو اس کی کسی نا کسی کمزوری کو اس کی مظلومیت سے جوڑ کر عورت کی نظر میں اسے ہیرو بنادیا جاتا۔ مثلاً ”گھربھر کا بار اٹھانے والے مرد تلخ ہو ہی جایا کرتے ہیں“ مثلاً  ”چلو زبان کا تلخ ہے یا غصے میں کبھی منہ پر تمانچہ دھر بھی دیا کرتا ہے تو کیا تمہارا خیال نہیں رکھتا، تمہیں اچھاکپڑا لتا، کھانا پینا میسر نہیں“۔ زبردستی کی شادیوں پر بھی دل کی رنجش یا تلخی اتارنے کا حق مرد کو ہی تھا جو وہ حیلے بہانے سے پورا کر ہی لیا کرتا۔ پھر جب عمر گزر جاتی اولاد جوان ہو جاتی تو مجازی خدا اپنی شریک حیات کو اپنی پر مسرت اذدواجی زندگی کا باعث گرداننے لگتا۔ وہ تمام عمر اپنی جھوٹی انا اور صنفی برتری کے غرور میں عورت کی خودداری، اس کے احساس اور نازک دل کو جس طرح چھلنی کرتا رہا عمر کے آخری حصے میں اس کے لئے معافی کا خواستگار ہوجایا کرتا۔ گویا جب حیات فنا کی حدود میں داخل ہوتی تو عورت بھی مرد کے راج سنگھاسن میں حصہ دار ٹھہرا دی جاتی۔

ایسا نہیں تھا کہ اس دور میں عورت کا وجود زخموں سے گھائل نہ ہوتا تھا۔ لیکن اس زخم کا درد پی کر چپ رہنا ہی عورت کی سمجھداری گردانا جاتا۔ کیونکہ طلاق ایک ٹیبو کی حیثیت رکھتی تھی۔ گھر کے ٹو ٹنے کو عورت ہی کی کم عقلی یا کسی بدچلنی کا سبب ٹھہرا کراسے پورے معاشرے کے لئے کوڑھ ذدہ انسان بنا دیا جاتا۔ شوہر کے گھر سے اس کی بے دخلی گویا حوا کی جنت سے بے دخلی کے مصداق تھا۔ خواہ وہ گھر اس کے لئے دوزخ ہی کیوں نہ رہا ہو۔ طلاق لے کر ماں باپ کے گھر آئی لڑکی کا حال، سسرال میں اس کے حال سے بھی کہیں ذیادہ اذیت ناک اور قابل رحم ہو جاتا۔ اب سب سے بڑا مسئلہ معاشی مسئلہ ٹھہرتا جہاں اس کا اور اس کے بچوں کا بار ناقابل برداشت ہوجاتا۔ تعلیم کی کمی کے باعث یہ بوجھ بھائیوں اور بھابیوں پر آجاتا جو انہیں ہر ہر لمحے کھٹکنے لگتا۔ یا پھر وہ گھر پر سلائی کڑھائی کا سلسلہ شروع کر کے کچھ ہی عرصے میں ریڑھ کی ہڈی اور کمر کے بھیانک مسائل کا شکار ہو کر بستر سے جا لگتی۔ عورت کے لئے بیوگی کو کاٹنا مشکل نہ ہوتا لیکن طلاق شدگی کے مسائل بڑے بھیانک ہوتے کیونکہ اس میں اس کی تذلیل کے بہت سے پہلو نکل آیا کرتے۔

وقت کے ساتھ ساتھ عورت تعلیم اور ہنر کی طرف آئی۔ جس کی وجہ خود اس کی اپنی دلچسپی، محنت اور لگن بھی ہے، لیکن اسے تعلیم اور ہنرکی طرف لانے میں سب سے بڑا ہاتھ بھی ایک مرد کا ہی ہے وہ مرد جو اس کا باپ ہے۔ ایک باپ جو اپنے بیٹوں کو حتی الامکان کوششوں کے باوجود اعلیٰ تعلیم کی طرف مائل نہیں کر پاتا تو وہ اپنی امیدوں کا تمام تر مرکزو محور اپنی بیٹی کو بنا لیتا ہے۔ یاوہ باپ بھی جس نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اپنی کسی پھوپھی، خالہ یا بہن کو بیوگی یا طلاق شدہ زندگی کے آزار کاٹتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ آج اپنی بیٹی کی تعلیم کو بیٹے کی تعلیم سے بھی ذیادہ اہم اور ضروری گردانتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ زندگی میں کبھی ایسا مقام آئے جب اس کی بیٹی مجبوری اور لاچاری کی زندگی بیتانے لگے۔ وہ اپنی بیٹی کو تعلیم اس لئے بھی دلانا چاہتا ہے کہ کل کلاں کو اگر بیٹی کا کوئی ہاتھ نہ تھامے، کوئی مناسب رشتہ اس کا مقدر نہ بن سکے تو وہ باپ کی دہلیز پر کھڑے کسی دیوتا کے انتظار میں گھلنے کی بجائے اپنی زندگی کسی مقصد اور عزم کے ساتھ خودانحصاری کے ساتھ گزار سکے۔ یہ باپ دنیا میں پھیلے دھوکے کی وبا سے بھی بخوبی واقف ہے یہ جانتا ہے کہ کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ وہ مکار اور فریبی ہے۔ سو اگر ماں باپ کا سوچ سمجھ کر کیا فیصلہ بھی غلط ثابت ہوا تو کسی فریبی اور دھوکے باز کے ساتھ سر پھوڑنے کی بجائے ان کی بیٹی الگ ہو کر اپنی زندگی خود گزارنے کے قابل ہو سکے گی۔ لڑکی کا اعلیٰ تعلیم کی طرف رحجان اس لئے بھی بڑھ رہا ہے کہ آج کل شادی کے لئے زیادہ تر لڑکے برسرروزگار بیوی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اکثر لڑکیاں ایسی بھی ہیں جو محض کسی مناسب رشتے کے انتظار میں ہی تعلیمی مدارج عبور کرتے کرتے پی ایچ ڈی تلک جا پہنچیں اور مجبوراً ملازمت بھی اختیار کرلی۔

کوئی لڑکی، تعلیم، طلاق کی اہمیت سے واقف کار ہونے کے لئے حاصل نہیں کرتی لیکن معاشی طور پر خود انحصاری سے اسے اپنے حق میں بہتر فیصلہ کرنے کی آزادی اور جرائت ضرور ملتی ہے۔ کیونکہ آج کی لڑکی نہیں چاہتی کہ اس کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف عمر کے آخری حصے میں کیا جا ئے۔ وہ اپنی خدمت کا اعتراف فوری طور پر طلب کرتی ہے۔ آج کی عورت مرد کی بیوفائی کو اپنی تقدیر سمجھ کر خاموشی سے وقت کاٹنا نہیں چاہتی۔ اسے بٹی ہوئی یا تقسیم شدہ محبت پر بھی یقین نہیں۔ وہ اپنی خوشی اور اپنے مفاد کے لئے خود غرض ہو کر سوچتی ہے اور اس خود غرضی کو بھی اپنا حق جانتی ہے۔ وہ برابری چاہتی ہے، وفاؤں، چاہتوں، خدمتوں، اور قربانیوں میں برابری۔ کیونکہ تعلیم اور ملازمت نے اسے مرد کے برابر لاکھڑا کیا ہے۔ اس لئے وہ مرد سے برابر کی عزت اور محبت کی طلب گار ہے۔ برابری کے اس سفر میں عورت بھی ایسی ہی تعلیم و ملازمت کی پیچیدگیوں سے گزرتی ہے جن سے کہ مرد، سو اس کی نفسیات و جذبات بھی بدل جاتے ہیں۔ اس کی خواہشات اور توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اور یہ طے ہے کہ اس کی انا اور عزت نفس بھی اسی طرح اہمیت کی حامل ہوگی جیسی کہ مرد کی۔

الزام عورت کی تعلیم کو کیوں؟ پاکستان میں خواتین ملک کا 49 فیصد حصہ ہیں۔ جن میں سے محض 24.8فیصد خواتین افرادی قوت میں شمار ہوتی ہیں۔ جن کا 72فیصد حصہ دیہاتوں میں زراعت کے کام سے وابستہ ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ایک تہائی جی ڈی پی بڑھ سکتا ہے اگر خواتین لیبر میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے لگیں۔ گویا اگر ہمیں اپنی معیشت کو سنبھالا دینا ہے تو خواتین کو ملازمتوں کی طرف لانا ہوگا۔ اسی صورت شاید ہمیں بیرونی قرضوں سے بھی چھٹکارہ مل سکے۔ تو اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ خواتین کی تعلیم اور ملازمت خود اس ملک کے مفاد کے لئے کس قدر اہم ہے۔

عورت کی تعلیم نسلوں کو سنوارنے کے لئے ضروری ہے اور ملازمت گھر کے معاشی معاملات کو سنبھالنے کے لئے۔ اس کے باوجود کہ عورت کو تعلیم، میڈیا یا این جی اوز نے خودمختاری کی راہ بھی دکھا دی ہے۔ اسے اپنی آزادی اور قانونی اختیارات کا شعور بھی دیا ہے۔ پھر بھی گھر کو چلانے اور بچانے کے لئے اس کی فہم اور مصلحت کوشی آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ قدامت پرست معاشرے میں تھی۔ قدرت نے اسے مزاج کا ٹھہراؤ اور معاملہ فہمی جیسے اوصاف عطا کرنے کے علاوہ متوازن حیاتیاتی وجذباتی فطرت عطا کی ہے وہ محبت سے بہت کچھ مسخر کر سکتی ہے لیکن بات یہ بھی اہم ہے کہ حق اگر محبت سے لیا جائے تو پائیدار ہے، اور اگر چھینا چھپٹی سے زور جبر سے تو ناپائیدار۔ مرد چھین کر لیا ہوا حق دے بھی دے تو بھی اس کے دل میں ناگواری کا ابال آتا ہی رہے گا۔ وہ اس وقت کی تلاش میں ہی رہے گا کہ کب کسی لمحے عورت کمزور پڑے اور مرد اس حق کو جھپٹ لے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ طلاق کی شرح اپر کلاس سے بھی کہیں ذیادہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اور یہ شرح تعلیم یافتہ لوگوں میں بڑھی ہے۔ عموماً لڑکیوں کے ساتھ ان کے والدین بھی کیس رجسٹر کروانے عدالتی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ عورت اپنی عزت اور ناموس کو خطرے میں دیکھتے ہوئے اس رشتے کو کبھی نہیں بچائے گی۔ وہ مار پیٹ اور تشدد کی صورت میں بھی اس رشتے سے چھٹکارے کا اختیار رکھتی ہے لیکن چھوٹے چھوٹے مسائل پر گھر خراب کرنا سمجھ داری نہیں۔ کیونکہ رشتے اپنے ہوتے ہوئے شاید وہ اتنی قدر نہیں پاتے جتنی قدر اپنے کھو جانے کے بعد پاتے ہیں۔ ان رشتوں کو دراڑ پڑنے سے بچایا جا سکتا ہے اگر اس لمحے جب ایک باپ اپنی بیٹی کی تعلیم کے لئے متفکر ہوتا ہے ایک ماں اپنی بیٹی کی تربیت کے لئے بھی اتنی ہی متفکر ہونے لگے تو۔ شکوہ تعلیم سے نہیں تربیت پر ہونا چاہئے۔ تعلیم طلاق لینا نہیں سکھاتی لیکن تربیت طلاق لینے سے بچا ضرور سکتی ہے۔ اگر بیٹی کی محبت میں مغلوب باپ طلاق لینے کے لئے اپنی بیٹی کی حوصلہ افزائی بھی کرے تو ماں کو دروازے کی اوٹ سے یہ ضرور کہنا چاہئے کہ جب میں بیاہ کر آپ کے بھرے پرے گھرانے میں آئی تھی تو کسی سازش، بے عزتی یاکسی نہ کسی حق تلفی کا شکار تو میں بھی رہا کرتی تھی۔ جب تو آپ کہا کرتے تھے کہ ” کچھ سال برداشت کر لو خودبخود سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور اب بات اپنی بیٹی کی آئی ہے تو اسے دوچار ماہ کی برداشت کا بھی مشورہ نہیں۔ “

طلاق لینے یا دینے دونوں ہی طرح کے واقعات میں قصوروار صرف عورت ہی کیوں ٹھہرائی جاتی ہے ؟ جب کہ مرد بھی گھر بچانے کی بجائے گھر کو برباد کرنے کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ کیا اس کا شعور، اس کی تربیت اس کی تعلیم حالات کو سنبھالا دینے میں کام نہیں آسکتی؟

سیدھی سی بات یہ ہے کہ گھر بار چلانے کے لئے دونوں ہی کی عقل، تعلیم، شعور اور سمجھ داری کی ضرورت ہوتی ہے۔ دونوں ہی کو اپنی اپنی اناکی لو مدہم رکھنا پڑتی ہے۔ دونوں ہی کو اپنے بچوں کی بہتری کے بارے سوچنا ہوتا ہے اور ان کی بہتری اپنے حقیقی والدین کے علاوہ اور کسی کی بھی قربت میں نہیں۔ اک دوسرے کی خاطر، اک دوسرے سے جڑے مسائل کا ادراک کرنا اور انہیں حل کرنے کی تدابیر کرنا ہوں گی۔ اگر میاں بیوی دونوں روزگار سے وابستہ ہیں تو عورت کی یہ خواہش ضرور ہوگی کہ اگر وہ بھی شوہرہی کے برابر ملازمت کے آزار اٹھا رہی تو پھر گھر کے معاملات کو نپٹانے میں بھی برابری کا یہی اصول لاگو رہے۔ اور اگر بیوی کما رہی ہے، شوہر بے روزگار ہے تو بھی وہ آخر کب تک اکیلے یہ بار اٹھا سکے گی وہ چڑچڑی ہو جائے گی۔ نفسیاتی ودماغی تناؤ کا شکار ہو نے لگی گی۔ وہ حالات سے اتنا زچ ہو گی کہ آخر کار اس تعلق ہی کو توڑنا چاہے گی جو اس کے لئے کوئی افادیت نہیں رکھتا۔

دونوں کو اک دوسرے سے وابستہ رشتوں کو اور لوگوں کو احترام دینا ہوگا اور انہیں اک دوسرے کی خاطر برداشت بھی کرنا ہوگا۔ اک دوسرے کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف بھی کرنا ہو گا فنا کی حد میں داخل ہونے سے پہلے۔ تعلیم اور عزت نفس دونوں ہی کے لئے اہم ہیں لیکن انا کی لو دونوں ہی کو مدہم رکھنا ہو گی۔ اپنا گھر اور گھر کا سکھ بچانے کے لئے۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: