ستم زدگان کی کہانیاں، مولُومصلی —– نعیم الرحمٰن

0

ڈاکٹرامجد ثاقب کی نئی کتاب ’’مولُومصلی‘‘ دل کوچھولینے والی تحریروں سے مزین پُراثرکتاب ہے۔ اس مختصرکتاب کی کہانیاں عام پاکستانیوں کی کہانیاں ہیں۔ دوست محمد موچی، محمد دین اوراللہ دتہ۔ سود کی دلدل میں گھری ایک خاتون کی، جیل کے ایک معصوم قیدی کی، ان عام لوگوں کی جوہمیں راہ چلتے ملتے ہیں۔ کسی فٹ پاتھ پر، کسی سرکاری دفترکے برآمدے میں، ضلع کچہری کی بے ربط بھیڑمیں، کسی گاؤں کی چوپال میں یاریل گاڑی کے تیسرے درجے میں۔ پل بھران پہ نگاہ پڑتی ہے، پھرفراموش کردیئے جاتے ہیں۔ عمدہ کاغذ، بہترین طباعت کے ساتھ مجلدایک سواڑتالیس صفحات کی کتاب کی قیمت چارسوپچاس روپے مناسب ہے۔ لیکن موضوع کی اہمیت اورعام آدمی کی دسترس میں لانے کے لیے اگرچوبیس خالی صفحات کم اور پیپربیک پرشائع کرکے اس کی قیمت مزید کم کی جاسکتی تھی۔ تاکہ کتاب زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

ڈاکٹر محمد امجد ثاقب ایک معروف سماجی رہنماہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور اورکنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی۔ 1985ء میں سول سروس کے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے لیے منتخب ہوئے۔ امریکاسے پبلک ایڈمنسٹریشن اورانٹرنیشنل ڈیولپمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اہم سرکاری عہدے پرفائز رہے۔ ملازمت سے مستعفی ہوکراخوت جیسے ادارے کی بنیادرکھی اوراسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اخوت دنیا میں قرض حسنہ دینے والاسب سے بڑاپروگرام ہے جس نے پاکستان کی ایک خوبصورت تصویردنیاکے سامنے پیش کی ہے۔ ایثار، قربانی اوربھائی چارے کی یہ تصویرجسے اخوت کا نام دیا گیا ہے۔ غربت کے خاتمے اورترقی کے ایک نئے افق کی نشاندہی ہی نہیں کرتا۔ اسے عملاً کرکے بھی دکھاتا ہے۔ معاشرے کے کمزورطبقات کے لیے آوازاٹھانے اوران کی رضاکارانہ خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹرامجد ثاقب کوملکہ برطانیہ کی جانب سے اعزازسے نوازاگیا۔ ورلڈاکنامک فورم اورشواب فاؤنڈیشن کی طرف سے دوہزاراٹھارہ کے انٹرپرائزآف دی ایئرایوارڈ کے حقدارقرارپائے۔ صدرپاکستان نے انہیں ستارہ امتیازعطاکیا۔ وہ کئی کتب کے مصنف اورمقبول مقرر بھی ہیں۔ زیرِ نظرکتاب ان کی دردمندی اورگہرے سماجی شعور کاحاصل ہے۔ ان الفاظ میں جہاں عصرِ حاضرکی تصویر نظرآتی ہے وہیں ایک نئی دنیا تعمیرکرنے کی آرزوبھی ہے۔

ڈاکٹرامجد ثاقب اس سے قبل سفرنامہ ’’گوتم کے دیس میں‘‘ قرض حسنہ کے سب سے بڑے پروگرام کی کہانی ’’اخوت کاسفر‘‘ دشت ِظلمت میں ایک دیا ’’اخوت‘‘ چنیوٹ کی قدیم عمارتوں علمی اورادبی شخصیات کے بارے میں ’’شہرلبِ دریا‘‘، ’’ایک یادگارمشاعرہ‘‘ اور چنیوٹی شیخ برادری کے کاروباری عروج کی داستان ’’کامیاب لوگ‘‘ تحریرکرچکے ہیں۔ ان کا اندازِ تحریرسادہ، دل نشین اور پُراثر ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر امجد ثاقب موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

’’مولُومصلی دو الفاظ کامرکب ہے۔ مولُو اورمصلی۔ مولُو۔ ۔ مولا بخش کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ہمارے معاشرے میں ناموں کو بگاڑ لینا کوئی نئی بات نہیں۔ کرم علی کوکرملی، غلام محمد کو گاما یا مختار کو موکھا کہا جاتا ہے۔ اس عمل کی بنیاد محبت سے زیادہ حقارت ہے۔ مصلی بھی مسلم شیخ کا بگاڑ ہے۔ مختلف مذاہب کی نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے جب حلقہ بگوش اسلام ہوئے توبھی انہیں کوئی بلند سماجی رتبہ نہ مل سکا۔ انہیں مسلم شیخ کہاجانے لگا۔ ان افراد کا تعلق نچلے طبقوں سے تھا، کم مرتبہ اور کم حیثیت۔ اس لیے انہیں پہچان کے لیے دیاگیالفظ مسلم شیخ بھی بگڑ کرمصلی بن گیا۔ گویا مولُومصلی، دہری تحقیر کی عکاسی کرتاہے۔ مولا بخش سے مولُو اورمسلم شیخ سے مصلی۔ مولُومصلی غربت اوربے بسی کااستعارہ بن چکاہے۔ سماجی بدحالی اورمعاشی ابتری کاشکارہرشخص مولُو مصلی ہے۔ مولُومصلی مقتدرطبقہ میں نہیں ہوتے۔ یہ ٹوٹے پھوٹے گھروں، کچی بستیوں، پسماندہ دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ مولُومصلی ظلم اورسماجی درجہ بندی کی ایک بدترین تصویراوراخلاقی طور پردیوالیہ معاشروں کی نشانی ہے۔ یہ کتاب بھی ایک المیہ ہے۔ لیکن اس کی کوکھ سے ایک آرزو جنم لیتی ہے۔ نئی دنیا اور نیا سماج بنانے کی آرزو۔ کچھ کہانیوں اورخاکوں پہ مشتمل یہ کتاب ان لوگوں کی کہانی ہے جن کے خواب پورے نہیں ہوتے۔ یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ غربت کی زنجیرکب ٹوٹے گی۔ ان کا بچہ کب اسکول جائے گا۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ، قلم اور کتاب کیوں نہیں۔ اس کی بیمارماں کودوا کیوں نہیں ملتی۔ اس کا باپ سر اٹھا کر کیوں نہیں چلتا۔ وہ سب کے سب مولُومصلی کیوں ہیں؟ یہ کتاب اپنے حصے کی شمع روشن کرنے کا نام ہے۔ یہ ایک احتجاج اور بغاوت ہے۔ اس کانام ’مولُومصلی اس لیے رکھا گیا تاکہ مولومصلیوں پر ہونے والے ظلم کی کہانی عام ہواور اس لفظ سے وابستہ سماجی رویوں کو مٹایا جاسکے۔ ‘‘

مشہورکالم نگار ہارون رشید ’’افتادگانِ خاک‘‘ کے زیرِ عنوان کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

’’دھتکارے ہوئے لوگ۔ کیا زندگی پران کاکوئی حق نہیں۔ صحن فلک پہ کوئی ستارہ جوان کے لیے چمک اٹھے۔ پیارکی کوئی آوازجون کے کانوں میں گھل جائے۔ ڈاکٹرامجدثاقب کے قلم سے یہ عام پاکستانیوں کی کہانیاں ہیں۔ دوست محمدموچی، محمددین اوراللہ دتہ کی۔ سود کے دلدل میں گھری ایک خاتون کی، جیل کے ایک معصوم قیدی کی، ان بچیوں کی، انتظارکے مہ وسال نے جن کے بالوں میں چاندی اتاردی۔ ڈاکٹرامجدثاقب پہلی نظرہی میں شناسا لگتے ہیں۔ پاس پڑوس کاکوئی آدمی، محلے کی دکان پہ کبھی کبھارجس سے ملاقات ہوتی ہے۔ راہ چلتے کبھی واسطہ پڑتاہویانمازِ جمعہ کا ہنگام۔ ہاں! مگراللہ نے انہیں ایک نادرخصوصیت عطاکی ہے۔ دردکی دولت بخشی ہے۔ ایساخزانہ کہ دن رات لٹاتے ہیں مگرختم ہونے میں نہیں آتا، بلکہ بڑھتا جاتا ہے۔ علم کی طرح ایثاربھی ایک عجیب دولت ہے۔ جتنی بکھیرو اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ برسات کے پانیوں میں بھیگے دھان کی طرح لہلہاتی ہے۔ ڈاکٹرصاحب ایسے ہرآدمی کے پڑوسی ہیں، ان کے دردمند، ان کے دوست، ان کے مربی بلکہ ان کے ہم نفس۔ انہی اجڑے ہوئے لوگوںمیں آپ کاجی لگتاہے اورکیاخوب لگتاہے۔ اپنے مرحوم عبدالستار ایدھی کی طرح۔ سہل نہیں ہے، ہرگز سہل نہیں ہے۔ وہی لوگ ایسا کرسکتے ہیں، ضبطِ نفس کے مراحل جوطے کرچکے ہوں۔ ریاکاری سے نجات پاچکے ہوں۔ چھوٹے کاروباری قرضوں کی دنیا میں ایسی اختراع انہوں نے کی ہے کہ مالیات کی جدیدتاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایسی ایجاد کے نگاہ خیرہ ہو جاتی ہے اور خیرہ ہی رہتی ہے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتاکہ یہ معجزہ ہواکیسے اورمستقل طور پربرپاکیسے ہے۔ اخبارنویس، ادیب اورافسانہ نگار چونکا دینے والے کرداروں کی کہانیاں لکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے عام آدمیوں کی داستانیں کہی ہیں۔ وہ عام لوگ راہ چلتے جوہمیں ملتے ہیں۔ کسی فٹ پاتھ پر، کسی سرکاری دفترکے برآمدے میں ضلع کچہری کی بے ربط بھیڑ میں، کسی گاؤں کی اداس چوپال میں یاریل گاڑی کے تیسرے درجے میں۔ بے رنگ، بے بو، بے ذائقہ زندگیاں ہوامیں اڑتے تنکوں کی طرح۔ ‘‘

ڈاکٹرامجدثاقب نے کتاب کے طویل اورذومعنی انتساب میں بھی بہت کچھ ان کہاکہہ دیاہے۔ ’’ہرحکمران کے نام۔ ہرسیاست دان کے نام۔ ہرمنصف کے نام۔ ہرسپاہی کے نام۔ ہربیوروکریٹ کے نام۔ ہردانشور، ادیب اورصحافی کے نام۔ ہرصاحبِ ثروت اورصاحبِ مال کے نام۔ ہرصاحبِ دل اورصاحبِ نظرکے نام۔ ہرچارسازکے نام۔ ہرعالم دین اورصاحبِ جبہ ودستارکے نام۔ ہرصاحبِ فہم وفراست اور صاحبِ اختیارکے نام۔ مولُومصلی کے اس پیغام کے ساتھ کہ
ہرچارگرکوچارہ گری سے گریزتھا۔ ۔ ۔ ورنہ جو اپنے دکھ تھے بہت لادوانہ تھے‘‘

کتاب کانام پہلی تحریر ’’مولُومصلی‘‘ پر رکھا گیا ہے۔ جس میں ڈاکٹر امج دثاقب نے بڑی دردمندی سے عام آدمی اوربڑے لوگوں کے شب و روزکی طرف اشارہ کیا ہے۔

’’ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے۔ ایک بارکچھ پولیس افسران نے ایک گھرکی تلاشی لینا چاہی توجواب ملا، خبردار! یہ چودھریوں کا گھر ہے۔ کسی مولُومصلی کا نہیں۔ اس پرپولیس افسران نے ہاتھ جوڑے، معافی مانگی اوریہ کہہ کر واپس لوٹ آئے کہ ہمیں علم نہ تھا کہ یہ چودھریوں کا گھر ہے۔ مولومصلی کا گھر ہوتا تو کب کے داخل ہوچکے ہوتے۔ مولُومصلی جس کا یہاں ذکر ہوا کون بدنصیب ہے؟ اس کے گھر اورچودھریوں کے گھرمیں کیافرق ہے؟ کیا اس کی ماں، بہن اور چودھریوں کی ماں، بہنیں برابر نہیں۔ مولومصلی کے گھر پولیس بلادریغ گھس سکتی ہے لیکن چودھریوں کے گھرپہ دستک دے تو ان کے محافظ سینہ تان کے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس تحقیر آمیز لہجے پہ نہ توکسی نے چودھریوں سے بازپرس کی اورنہ کسی نے پولیس سے پوچھا کہ ان کے نزدیک چودھری اور مصلی یکساں کیوں نہیں؟ مالک کو مزدور پہ، گورے کوکالے پہ، امیرکوغریب پہ اورچودھری کو مصلی پریہ فوقیت کیوں حاصل ہے؟ چند الفاظ پرمشتمل یہ محض ایک خبرنہیں بلکہ ایک المیہ ہے جوہمارے سیاسی اورمعاشی نظام اور سمان کی مکمل تصویر پیش کرتاہے۔ اس خبرمیں صدیوں سے جاری اس ظلم کی ایک جھلک ملتی ہے جوآج کروڑوں مولومصلیوں کا مقدر بن چکا ہے۔ بے چارے مولُومصلی کے ذکر پہ ہی کیا موقوف، اس کی ماں، بہن کا رتبہ بھی گلیوں کی خاک سے کم ترہے۔ حواکی ان بیٹیوں کی کوئی عزت نہیں۔ وہ تومٹی کا ایک کھلونا ہیں یا گوشت کا بے جان لوتھڑا، جن کا ذکر حقارت اورحصولِ عیش کے سوا اورکسی اندازمیں نہیں ہوتا۔ یہ کم نصیب گھروں، کھیتوں، ملوں اورفیکٹریوں کوآبادکرتی ہیں۔ ان کی محنت اورمشقت صحرا ودمن سے کوچہ بازارتک ہر جگہ پھول اگاتی ہے لیکن ایک روز کوئی چودھری، کوئی ملک یا کوئی بدمعاش ان کی عزت کو پامال کرکے انہیں دیدہ عبرت نگاہ بنا دیتا ہے۔ نہ ان کا بچپن اپنا، نہ جوانی اپنی، نہ بڑھاپا اپنا، قطرہ قطرہ، قریہ قریہ ان کی روح اور جسم نیلام ہوتا ہے۔ یہ نیلامی مکمل ہوتی ہے تویہ مٹی کی چادر اوڑھ کے ہمیشہ کے لیے سو رہتی ہیں۔ ‘‘

تحریر کے ایک ایک لفظ میں کس قدردردمندی اورساتھ ہی حقیقت بیانی کی سفاکیت ہے کہ ہرصاحبِ دل اورحساس انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے۔ استاد دامن نے عام آدمی کی اسی بے بسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاتھا۔

مال کسی دا تے رات نوں جاگ جاگ۔ ۔ ۔ چوکیدارپئے ہُوکراں ماردے نیں
جمہوریت اورمساوات کے دعوے داروں سے دنیابھری پڑی ہے۔ لوگ خلقِ خدا کی محبت میں صبح وشام آنسوبہاتے ہیں۔ تنی ہوئی گردنیں اور کلف لگے ہوئے پیرہن۔ اس ہجوم میں مولُومصلی سرجھکائے کسی مجرم کی طرح کھڑاہے۔ وہ ترقی، خوشحالی، انصاف اورمساوات کے چرچے سن رہاہے۔ تعلیم، صحت، سڑکیں، پانی، بجلی، اکیسویں صدی۔ ۔ لیکن اسے نہ اسکول درکارہیں، نہ ہسپتال، نہ موٹرگاڑیاں، نہ صاف پانی اوربجلی کے قمقمے۔ ان تمام باتوں سے بے نیازوہ صرف یہ سوال پوچھتاہے کہ اسے عزت کب نصیب ہوگی۔

ذرادوست محمدموچی کی بات بھی سنیں۔

’’میں یہاں کاموچی ہوں۔ آپ کوعلم ہے کہ موچی کیاہوتاہے۔ جن ہاتھوں سے آپ کتابیں پڑھتے ہیں، روٹی کھاتے ہیں میں انہیں ہاتھوں سے گندے اورمتعفن جوتے سیتاہوں۔ جوتوں کی گندگی میری جھولی میں گرتی ہے اورمیں پھربھی جوتے سیتا رہتاہوں۔ یہ گندگی کب تک میرے دامن سے لپٹی رہے گی۔ جوتے سیناکوئی بری بات نہیں لیکن موچی کوجن نگاہوں سے دیکھا جاتاہے وہ نگاہیں بری ہیں۔ میں چاہتاہوں جوتوں کی یہ گندگی میرے بچوں کامقدرنہ بنے۔ وہ کوئی اورکام کریں۔ گاؤں کاموچی توسماج کا سب سے نچلادرجہ ہے۔ میں ان کے ہاتھوں میں کتاب دیکھناچاہتاہوں۔ ‘‘

کتنی سچائی ہے دوست محمدموچی کی باتوں میں، اگرہم اپنے اردگردپھیلی ان کی حقیقتوں پرغورکریں۔ ان محنت کشوںپرتھوڑی سے محبت و شفقت کی نظرڈال لیں۔ توہماراکچھ نہیں جائے گا۔ لیکن بہت سے ٹوٹے ہوئے دل جڑجائیں گے۔ یہی مولُومصلی کاپیغام ہے۔ جسے زیادہ سے زیادہ آگے بڑھاناچاہیے۔

ڈاکٹرامجد ثاقب نے معاشرے کے دیگر راندہ درگاہ لوگوں کے ساتھ خواجہ سراؤں کے مسائل کابھی بڑی دردمندی سے ذکرکیاہے۔ خواجہ سرا جن کا ذکربڑی حقارت سے ہیجڑہ یازنخہ کہہ کرکیاجاتاہے۔ انہیں انسان نہیں سمجھاجاتا۔ ان کے ساتھ کوئی بھی ناروا سلوک رواسمجھاجاتاہے۔ خواجہ سراؤں کی شناخت کامسئلہ بھی سپریم کورٹ کے حکم سے ہی کسی حدتک حل ہوسکاہے۔ یہ خواجہ سراکون ہیں۔ کیازندگی پران کاکوئی حق نہیں؟کوئی ستارا، جوان کے لیے چمک اٹھے۔ کوئی دِیا، جوان کے نام پہ جلنے لگے۔ کئی ایساخواب جس کی تعبیرانہیں پرسکون کردے۔ یہ تحقیر اورتمسخرکاشکارکیوں ہیں؟ مفلس وقلاش، بے گھر، بے نشان۔ لوگ انہیں حقارت سے ہیجڑہ کہتے ہیں اوراگرکوئی مہربان ہوجائے تو خواجہ سرا کالقب ملتاہے۔ غربت ایک عجب گورکھ دھنداہے۔ دولت کانہ ہونا، علم کانہ ہونا، روزگارکانہ ہونا، گھر بار یا دوست احباب کانہ ہونا۔ اگریہی غربت ہے توان سے بڑھ کراورکون غریب ہوگاکہ ان کے پاس تواس میں سے کوئی بھی شے نہیںہے۔

ایک خواجہ سرا نے دردبھرے لہجے میں ٖڈاکٹرصاحب سے کہاکہ’’ہم نے کبھی چوری نہیں کی، ڈکیتی نہیں ڈالی، قتل نہیں کیا، کسی کواغوانہیں کیا، کسی مسجد کونہیں جلایا، کسی گرجاگھرکوآگ نہیں لگائی۔ پھربھی ہمارے دامن میں کانٹے بکھیرے جاتے ہیں۔ قانون ہمیں انسان نہیں سمجھتا۔ ظلم وحوادث کے یہ تھپیڑے، بے بسی کے یہ بھنور، ہم کہاں پناہ لیں۔

گھرسے مارپیٹ کرنکالے گئے ایک خواجہ سرامٹھوکی کہانی ڈاکٹرامجدثاقب کی ہی زبانی سنیے۔ لکھتے ہیں کہ

’’گھرسے نکالے جانے پرمیرے گرونے مجھے سہارادیا۔ آہستہ آہستہ گانے بجانے میں دل لگا لیا۔ میری آواز اچھی تھی اور صورت بھی۔ کام چل نکلا۔ ایک روز میں گرو کے پاؤں دبا رہی تھی کہ مجھے اپنی ماں نظرآئی۔ کہنے لگی، مٹھو تمہاری مدد چاہیے۔ تمہاری چھوٹی بہن کی شادی ہے۔ پانچ لاکھ روپے ہوں تو یہ شادی ہوسکتی ہے۔ تم ہی مدد کرسکتی ہو اورپھراگلے دوسال میں گلی کوچوں، شادی بیاہوں، شہروں اورقصبوں میں ناچتی رہی۔ گھنگھرو اور نغمے۔ راتوں کی مشقت اورجنسی تشدد۔ میں اپنی بہن کی ڈولی اٹھتے دیکھنا چاہتی تھی۔ مجھے ماں کا درد بے قرارکرگیا تھا۔ مجھے کتنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کہاں کہاں کے دھکے اورکیسے کیسے ظلم۔ دو سال میں چارلاکھ جمع ہوئے میں نے سارے ماں کے قدموں میں ڈھیرکردیے۔ اس نے منہ پھیرکرکہا، تھوڑے ہیں۔ نہ دعا، نہ شاباش۔ میں سر جھکائے واپس چلی آئی۔ کچھ دنوں بعد مجھے بہن کی شادی کی خبرملی۔ مجھے یوں لگا جیسے سارے غم دھل گئے ہوں۔ میں تیار ہو کرگھرپہنچی۔ میں بہن کواپنے ہاتھوں سے رخصت کرناچاہتی تھی۔ جوں ہی میں نے گھرکی دہلیزعبورکی، مجھے زناٹے دار تھپڑ پڑا۔ بھائی نے کہا چنڈال، حرافہ، کنجری۔ ۔ کیا ہمیں بدنام کرنے آئی ہو۔ ماں نے ہاتھ پکڑا اورایک کونے میں لے جاکر کہنے لگی مٹھو، واپس لوٹ جاؤ، تم نہ گئی تو تمہاری بہن کی بارات چلی جائے گی۔ تمہارے بارے میں لوگوں کوپتہ چلا تو یہ رشتہ قائم نہ رہے گا۔ مجھ پربجلی سی گرگئی۔ میری دوسال کی ریاضت، قربانی اورماں سے عشق۔ وہ چارلاکھ روپے نہیں چارلاکھ کوڑے تھے جومیں نے اپنے بدن پر سہے تھے۔ بھائی نے ایک اورٹھوکرماری اورباہرجانے کے لیے دھکا دیا۔ میرا سردروازے سے ٹکرایا اور خون بہنے لگا۔ پھر بھی کسی نے سہارانہ دیا۔‘‘ مٹھوکی کہانی ختم ہوئی۔ یوں لگا جیسے کائنات تھم سی گئی ہو۔ وہ میرے گلے لگ کراس طرح روئی جیسے ساون بھادوں کی جھڑی ہو۔ پھر اس نے میراماتھا چوما اوراس کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھنے لگے۔ مجھے لگا، یہی وہ دعا ہے جو حدِ افلاک چیرتی ہوئی عرشِ بریں پہ جاکے دم لیتی ہے۔ کاش مجھے ایسی دعا ایک بارپھرمل سکے۔

کس قدرسوزوگداز ہے مٹھوکی اس کہانی میں، اورکس دردمندی سے ڈاکٹرامجدثاقب نے اسے بیان کیاہے۔ جس کے لیے ماں کی ممتابھی ختم ہوگئی ہو۔ اس کے لیے یہ محبت کاعالم۔ مولُومصلی چندافراد میں بھی یہ دردجگانے میں کامیاب ہوگئی تواس کتاب کی کامیابی میں کوئی شبہ نہ ہوگا۔

وہ سورج کب طلوع ہوگاجب غریب کوعزت ملے گی؟ کیااس ملک کے چھ کروڑ محمددین اوراللہ دتے کسی اورخداکی مخلوق ہیں۔ کیاان کے حقوق حویلیوں میں رہنے والے بڑے لوگوں سے کم ہیں۔ یہ سال بہت پراناہے اوران گنت باردہرایاگیا ہے۔ لیکن پھربھی اس کاجواب نہ مل سکا۔ نہ پارلیمنٹ سے، نہ عدالت سے، نہ منبرومحراب سے اورنہ ہی اہلِ دانش اورکوچہ صحافت سے۔ محمددین اوراللہ دتہ مضمون میں ڈاکٹر صاحب نے یہی سوال ایک مرتبہ پھر اٹھایاہے۔

’’بہت عرصہ پہلے پاکستان کی سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے کسی مقدمہ میں کچھ دستاویزات مقررہ وقت کے بعد پیش کی گئیں۔ ایک فاضل جج نے اس تاخیر پرگہرے غم وغصے کااظہارکیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت حکم عدولی برداشت نہیں کرسکتی۔ ہم نے ہمیشہ تحمل کامظاہرہ کیاہے لیکن اب بات بہت آگے پہنچ چکی ہے۔ جج صاحب نے حکومت کے وکیل کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ یہ محمد دین اوراللہ دتہ کا کیس نہیں ہے۔ آپ کے مخاطب فاضل چیف جسٹس ہیں۔ گویا فاضل صاحبان خود کہہ رہے ہیں کہ محمد دین اوراللہ دتہ پاکستان کے شہری ہونے کے باوجود عزت یا ان حقوق کے حامل نہیں ہوسکتے جو انہیں حاصل ہیں۔ یہ بے وقعت، کم مایہ اورفروترجب کہ ہم اس اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیںجن کے حکم کے خلاف سوچنا بھی گناہ ہے۔ جن کاحسن خرد کوجنوں اورجنوں کوخردبنادیتاہے۔ ہم عالی مرتبت لوگ ہیں۔ عالی مرتبت! ہوائیں ہمارے اشارے پرچلتی ہیں۔ بہاریں ہم سے پوچھ کے آتی ہیں اورخزائیں ہمارے حکم سے رخصت ہوتی ہیں۔ ہم قانون کی باریکیوں سے آگاہ نہیں اورنہ ہی ہمیں علم ہے کہ توہینِ عدالت کا جرم کہاں سے شروع ہوکرکہاں ختم ہوتاہے۔ شایداس تحریرکے بعد ہم بھی کٹہرے میں کھڑے ہوں اورمنصف کی نگاہوں کاسامنا کررہے ہوں۔ اس خدشے کے باوجود ہماری فاضل جج صاحبان سے گذارش ہے کہ محمد دین اوراللہ دتہ کا اس طرح تذکرہ کرکے انہیں بے آبرو نہ کیا جائے۔ ‘‘

ڈاکٹرامجدثاقب ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ

’’میرے کان میں ایک کتاب کے کچھ الفاظ گونجتے ہیں۔ جی چاہتاہے ان الفاظ کوباربار دہرایا جائے۔ دراصل میں دوسرے آدم کی اولاد ہوں، میں جوہڑسے پانی پیتاہوں۔ میرابھائی منرل واٹرپیتاہے۔ میں روٹی کوترستاہوںاورمیرا بھائی کتے کوڈبل روٹی کھلاتا ہے۔ مجھے سرپرلگانے کوسرسوں کاتیل نہیں ملتا اورمیرابھائی ولائتی لوشن پاؤں پر لگاتا ہے۔ میں ننگے پاؤں چلتا ہوں اورمیرا بھائی اٹالین شوز پہنتاہے۔ مجھے سواری کے لیے گدھا گاڑی نہیں ملتی، میرابھائی بہترین گاڑی پرسوارہے۔ میں بان کی چارپائی پرسوتا ہوں، میرابھائی مخملیں بیڈ پرکروٹیں بدلتا ہے۔ میں ایک عام ساپاکستانی ہوں، میں اچھوت ہوں، میں ادھوری تخلیق ہوں، میں دوسرے آدم کی اولاد ہوں اورمیرابھائی صدرہے، وزیراعظم، وزیراعلٰی، گورنر، جج، جرنیل، بیوروکریٹ اورسرمایہ دارہے، ہاں میرابھائی زرداری ہے، شریف ہے، خان ہے، گیلانی ہے، قریشی ہے، سید ہے، ملک ہے، چودھری ہے۔ ‘‘

کیا دردناک موازنہ ہے، ایک عام اورخاص شہری کے درمیان۔ کیایہ فرق کبھی کم ہوسکے گا۔ شایدکبھی نہیں۔ لیکن مولُومصلی جیسی کتاب دل کے نازک تارتوچھیڑتی ہے۔ احساس جگانے کی کوشش توکرتی ہے۔ یقینا کچھ لوگوں پراس کا اثر بھی ہوگا۔ مٹھی کے ایک سماجی کارکن ڈاکٹر کٹھاؤمل کا کہنا تھا کہ ’’تھرمیں تبدیلی چند اقدامات سے نہیں آئے گی۔ یہاں تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہمارے بچے اسکول پہنچیں گے۔ ہمیں پانی سے زیادہ علم چاہیے۔ بھیک نہیں محبت چاہیے۔ اگرکوئی صرف چند ہزارباصلاحیت بچوں کو کہیں اورلے جائے۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور۔ یہ بچے کسی ایچی سن میں داخل ہوجائیں۔ کسی جی آئی کے، کسی آغاخان، کسی لمز کاحصہ بن جائیں۔ پھرآپ کی مدد کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ بچ پانچ دس سال بعد خود ہی تھرکوبدل دیں گے۔ تھرکورحم کی بھیک نہیں علم کی کچھ بوندیں درکارہیں۔ بس چند بوندیں، جل تھل توخود ہی ہوجائے گا۔ اس کی آنکھوں میں بھی جل تھل ہوگیا۔ تھرکاوسیع وعریض ریگستان! غربت کی دھوپ میں جلتے ہوئے مردوزن۔ ہماری کم نگاہی کاشکار۔ ‘‘

لیکن کیایہ پیغام صرف تھرکے لیے ہے؟علم کی کمی اورجہالت کاشکارتوہمارا پورامعاشرہ ہے۔ محرم النساء ضلع حافظ آبادکے ایک گاؤں میں رہتی ہے۔ 1990ء میں اس کی شادی کوٹ نانک میں ہوگئی۔ اس وقت تک اس گاؤں میں بچیوں کاکوئی اسکول نہیں تھا۔ محرم النساء شادی سے قبل قلعہ دیدارسنگھ کے پاس پڑھاتی تھی۔ اس نے محکمہ سے یہاں ٹرانسفرکی درخواست دی توپتہ چلاکہ اس گاؤں میں اسکول توکب کا منظور ہے، لیکن عمارت نہ ہونے کی وجہ سیاب تک شروع نہیں ہوسکا۔ محرم نے گاؤں میں تبادلہ کرایاتواس کے شوہرنے اپناگھرپیش کردیاکہ جب تک اسکول نہیں بنتااسے ہی اسکول سمجھو۔ یوں نانک کوٹ میں آزادی کے چالیس سال بعدعلم کی پہلی آوازمحرم کے گھرسے بلند ہوئی۔ وہ کہتی ہے کہ بچیوں نے میرے گھرکے آنگن میں لب پہ آتی ہے دعابن کے تمنامیری، کی صدا بلند کی تومیری آنکھیں بھیگنے لگی۔ میں نے گاؤں کی سینکڑوں بچیوں کوزیورعلم سے آراستہ کیاہے۔ اس گاؤں کا کوئی گھر ایسانہیں جس کی بچی نے مجھ سے چندحروف نہ سیکھے ہوں۔ گاؤں میں اب کئی کنال پہ ایک گرلزاسکول ہے۔ جہاں میرے علاوہ سات اوراستانیاں ہیں۔ محکمہ کی طرف سے کئی بارمیری خدمات کوسراہا گیا۔ مجھے بہترین استاد کا اعزاز ملا۔ لیکن میرا اصل اعزاز گاؤں والوں کی طرف سے ملنے والی عزت ہے۔ وہ بچیاں جنہیں میں نے علم کے نورسے سرفرازکیا۔ میرا انعام ہیں۔ ‘‘

ایسی ہی احساس کوجگاتی بہت سی کہانیاں، کئی خاکے اورکئی مضامین مولُومصلی میں شامل ہیں۔ یہ ہمارے اردگرد موجودعام آدمی کے قصے ہیں۔ غربت، محرومی اورظلم وستم کے مارے ہوئے لوگوں کی یہ کہانیاں چندافرادکے دل پردستک دینے میں بھی کامیاب ہوئیں تومعاشرے میں ایک بہتر تبدیلی آسکتی ہے۔ کتاب پڑھ بے اختیارڈاکٹرامجد ثاقب کے لیے دعا نکلتی ہے۔ اوریہ مصرعہ لب پرآجاتاہے۔ شاید کے ترے دل میں اترجائے مری بات۔ اس کتاب اوراس کا پیغام گھرگھر پہنچانے کی ضرورت ہے۔

 

(Visited 71 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: