ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ——- شہاب تہذیب

1

اﻧﺪﮬﮯ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺑﺎ !! ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ آﺗﺎ- ﻧﺌﯽ ﻗﻤﯿﺾ ﮐﺎ ﺳﺘﯿﺎﻧﺎس ﮐﺮ دﯾﺎ ۔ ﺧﺎص اس ﻣﻮﻗﻊ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﻠﻮاﺋﯽ ﺗﮭﯽ اور آپ ﻧﮯ

ﺑﺲ ﮐﺮو ﺳﻌﺎدت!! ﮐﻮﺋﯽ دوﺳﺮی ﻗﻤﯿﺾ ﭘﮩﻦ ﻟﻮ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ۔ اور ﮨﺎں !واﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺿﺮور ﻣﻠﻨﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺿﺮوریﺑﺎت ﮐﺮﻧﯽ ﮬﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ

ﻧﻮاب ﺷﺮاﻓﺖ اﭘﻨﮯ اﮐﻠﻮﺗﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﻌﺎدت ﭘﺮ ﻣﻌﻤﻮل ﮐﮯ ﺑﺮﻋﮑﺲ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﮨﻢ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﻌﺎدت ﺣﺎل ﮨﯽ ﻣﯿﮟ اﻋﻠﻰ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺟﺮﻣﻨﯽ ﺳﮯ وﻃﻦ واﭘﺲ ﻟﻮﭨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺎ ﺷﻮق اﺳﮯ ﺑﺎپ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮاﺳﮑﯽ ﻧﻤﻮد و ﻧﻤﺎﺋﺶ ﮐﯽ ﺧﻮاﮨﺶ ﻣﯿﮟ ﻧﻮاب ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺼﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ وہ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺧﺪا ﺗﺮس اﻧﺴﺎن ﺗﮭﮯ اور اﻧﮩﻮں ﻧﮯﺻﺮف ا ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ و ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ رﺿﺎ ﮐﮯ ﺑﮍے ﻟﺌﮯ ﻣﺨﻠﻮق ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﻮ اﭘﻨﺎ ﺷﻌﺎر ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔

آج ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻧﻮاب ﮐﻮ ﮐﺴﯽ درﺳﮕﺎہ ﮐﮯ اﻓﺘﺘﺎح ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﺎق ﺑﺎﺑﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗه ﻟﮍﮐﮭﮍاﺋﮯ اور ﭼﺎﺋﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮐﭗ ﺳﮯ ﭼﮭﻠﮏ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ وہ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻧﻮاب ﮐﮯ ﻇﺮف ﺳﮯ ﮨﺎر ﮔﺌﯽ۔ اﯾﮏ ﮨﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻣﯿﮟ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﭽه ﮔﻞ اﻓﺸﺎﻧﯽ ﮐﺮ دی۔ اور ﺑﯿﭽﺎرے ﻣﺸﺘﺎق ﺑﺎﺑﺎ ﺣﺴﺮت و ﯾﺎس ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﮯ ﭼﭗ ﭼﺎپ ﺳﻨﺘﮯ رﮨﮯ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﺑﮍے ﻧﻮاب ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻣﺪاﺧﻠﺖ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍی۔

ﻣﺸﺘﺎق ﺑﺎﺑﺎ اس ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﺮاﻧﮯ ﻣﻼزم ﺗﮭﮯ۔ ﺑﮍے ﻧﻮاب ﺻﺎﺣﺐ ان ﮐﮯ ﺳﺎﺗه ﺑﮩﺖ ﻋﺰت و ﺗﮑﺮﯾﻢ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ آﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﻮاب ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﺪد ﺑﺎر ﺑﮯ ﺣﺪ اﺻﺮار ﮐﮯ ﺑﺎوﺟﻮد وہ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺎم ﮐﺌﮯ ﺗﻨﺨﻮاہ ﻟﯿﻨﮯ ﭘﺮ راﺿﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ۔” ﺻﺎﺣﺐ !!ﺧﺪا آﭘﮑﻮ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺧﻮش رﮐﮭﮯ اور اﭘﻨﯽ ﻋﻨﺎﯾﺎت آپ ﭘﺮ دراز ﮐﺮے ﮐﮧ آپ اﺳﯽ ﻃﺮح اس ﮐﯽ ﻣﺨﻠﻮق ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﺗﮯ رﮨﯿﮟ “- ﺑﺲ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﯾﮧ ﮨﯽ ﺟﻮاب ﮬﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺸﺘﺎق ﺑﺎﺑﺎ ﮐﺎ۔

ﻧﻮاب ﺳﻌﺎدت ﺟﺐ اﺳﮑﻮل ﮐﮯ اﻓﺘﺘﺎح ﺳﮯ واﭘﺲ ﮬﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﺑﺎپ ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔

” ﻧﺎراض ﮬﻮ ﺑﺎپ ﺳﮯ؟؟ “

ﺑﮍے ﻧﻮاب ﮐﮯ اﺳﺘﻔﺴﺎر ﭘﺮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻧﻮاب ﮐﻮ ﭘﺎس ادب ﺳﮯ ﺻﺮف” ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ “ﮐﮩﺘﮯ ﺑﻦ ﭘﮍی۔ ﻣﮕﺮ ﻧﺎﮔﻮاری ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮات ﭼﮩﺮے ﭘﺮ ﻧﻤﺎﯾﺎں ﺗﮭﮯ۔ ﻧﻮاب ﺻﺎﺣﺐ اﯾﮏ ﺟﮩﺎﻧﺪﯾﺪہ ﺷﺨﺺ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗه ﺳﺎﺗه ﺑﺎپ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ اور اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻧﻔﺴﯿﺎت ﺳﮯ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﺑﮭﯽ۔

ﺑﯿﭩﺎ ﺗﻤﮩﺎری ﺧﻔﮕﯽ ﺑﮯ ﺟﺎ ﮬﮯ۔ اﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮی ﻓﮩﻤﺎﺋﺶ ﮐﮯ ﺑﺎوﺟﻮد ﺑﺎت ﮐﻮ ﻧﮧ ﺳﻤﺠه ﺳﮑﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﭘﺮ ﻧﺎﻗﺺ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻟﻮں؟

ارے ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﺎن !!ﺟﻮ ﮐﭽه ﮬﻮں وہ الله ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ و ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ آپ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﺎ ﮨﯽ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮬﮯ۔ آج ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺲ ﮐﻢ ﻇﺮﻓﯽ ﮐﺎ ﺛﺒﻮت دﯾﺎ وہ ﻣﯿﺮی اﭘﻨﯽ ﻧﺎ اﮨﻠﯽ ﮬﮯ۔

ﺑﺎپ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻧﻢ آﻧﮑﮭﯿﮟ دﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﺪراﻧﮧ ﺷﻔﻘﺖ اﻣﮉ آﺋﯽ اور ﺳﻌﺎدت ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ۔

ﺑﯿﭩﺎ !!ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮬﻮں ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ آج اﯾﮏ اﯾﺴﮯ راز ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮐﺮوں ﺟﺴﮯ ﺻﺮف ﻣﯿﮟ اور ﻣﺸﺘﺎق ﺑﺎﺑﺎ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﯿﮟ۔

اب ﺳﻌﺎدت ﮬﻤﮧ ﺗﻦ ﮔﻮش ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ آﺧﺮ وہ ﮐﻮن ﺳﺎ راز ﮬﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﺮم ﺧﻮد ﺑﯿﭩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ اﯾﮏ ﻏﯿﺮ ﺷﺨﺺ ﮬﮯ۔

ﺟﯽ ﺑﺎﺑﺎ !ﻣﯿﮟ ﭘﻮری ﻃﺮح ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮬﻮں۔

نواب صاحب گویا ھوئے ” بیٹا یہ گناہ گار آج جو کچھ ھے اس کے لئےمولا کریم نے مشتاق بابا کو ھی وسیلہ بنایا

—-تو کیا یہ حویلی اور دولت سب مشتاق بابا

چھوٹے نواب نے قطع کلامی کی تو نواب صاحب نے کسی ناراضگی کے بغیر اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا

میری اوائل جوانی کے دن تھے اورمیں تمہارے دادا کی تمام تر خاندانی دولت و وراثت کا تنہا وارث۔ زندگی بڑے عیش میں بسر کر رہا تھا۔ نایاب نسل کےگھوڑے رکھنے کا شوقین۔ ایک ایسے ماہر شخص کی شدت سے تلاش تھی جو گھوڑے سدھانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا جانتا” ھو۔ ایک قریبی دوست نے ایک دن ایک ایسا ہی شخص میری طرف روانہ کیا۔

کیا نام ھے تمہارا؟” جواب میں اس نے اپنا نام مشتاق بتایا۔”

اب تو مشتاق بابا کے متعلق جاننے کا سعادت کا اشتیاق اور افزوں ھو گیا۔

“پھر بابا؟”

تمہارے مشتاق بابا انتہائی مشاق ثابت ھوئے۔ شاید ھی کوئی اڑیل گھوڑا ھو جس نے ان کے آگے گھٹنے نہ ٹیک دئے ھوں۔ مجھے ھمیشہ سے ایسے ہی آدمی کی تلاش تھی۔ میں اسکی مہارت کا گرویدہ تھا۔ ایک دن گھڑ دوڑ میں میرا گھوڑا پہلی مرتبہ اول آیا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ میں نے فرط مسرت میں مشتاق بابا کو ایک خطیر رقم انعام میں دی۔ میں اپنی ترنگ میں تھا اور مشتاق بابا سے ایک ایسا سوال کر ڈالا جس نے اس غافل کی زندگی کی سمت ہی بدل دی

آپ نے آخر کیا پوچھا بابا؟” سعادت کا تجسس اور بڑھ گیا۔”

مشتاق تمہیں کبھی کسی گھوڑے کو رام کرنے میں دقت پیش آئی؟

میں نے تو لا ابالی پن میں سوال کیا تھا مگر اس کےجواب نے تو میری خوشی کو شدید اور نہ ختم ھونے والی فکر میں بدل دیا۔ اس نے صرف اتنا ہی کہا کہ “صاحب!! جی ھےایک ایسا جانور جو اب تک قابو نہ کر سکا۔” میں حیران ھوا کہ اس کی مہارت کے آگے کس کی مجال کہ تسلیم نہ ھو۔

“وہ کون ھے بھلا؟”

میں نے قدرے تجسس سے پوچھا۔

جواب ملا

“میرا نفس۔ صاحب یہ قابو میں نہیں آتا۔ اسکی سر کشی نے مجھے زچ کیا ھوا ھے۔”
یہاں تک پہنچ کر نواب صاحب کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور شدت گریہ سے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ بیٹا!!یک لخت مجھے یوں لگا کہ کسی نے مجھے گہری نیند سے بیدار کر دیا ھو۔ میں نے اسی لمحے عزم مصمم کیا کہ میں اپنے نفس پر دسترس کی کوشش کروں گا۔

وہ دن ﮬﮯ اور آج ﮐﺎ دن ﺗﻤﮩﺎرا ﺑﺎپ اس ﺟﮩﺎد ﻣﯿﮟ ﺑﺮ ﺳﺮ ﭘﯿﮑﺎر ﮬﮯ۔ ﯾﮧ ﻣﺸﺘﺎق ﺑﺎﺑﺎ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺑﺪوﻟﺖ ﮬﮯ ﮐﮧ دﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ اس دل ﻣﯿﮟ ﺟﮍ ﻧﮧ ﭘﮑﮍ ﺳﮑﯽ۔ ﺟﻮ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ اس ﮐﮯ ﻟﺌﮯ اﯾﮏ ﻟﻤﺤﮧ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮬﮯ اور ﻧﮧ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﭼﺎﮬﮯ ﺗﻮ ﻣﺎہ وﺳﺎل ﺑﺪﻟﺘﮯ رﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ وہ اﺳﯽ ﻃﺮح رﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﻞ ﻧﺌﮯ ﺳﺎل ﮐﺎ ﭘﮩﻼ دن ﮬﮯ۔ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮو ﮐﮧ ﺻﺮف ﺳﺎل ﮐﺎ ﮬﻨﺪﺳﮧ ﻧﮧ ﺑﺪﻟﮯ

ﻧﻮاب ﺻﺎﺣﺐ اﯾﮏ ﮐﺎﻣﯿﺎب زﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺧﻼﺻﮧ ﺑﯿﺎن ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ اور اﭘﻨﮯ ﻟﺨﺖ ﺟﮕﺮ ﮐﯽ آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ آﻧﮯ واﻟﯽ ﭼﻤﮏ اﻧﮩﯿﮟ اﯾﮏ روﺷﻦ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﻧﻮﯾﺪ ﺳﻨﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔

(Visited 68 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: