جنگ زدہ بوڑھے کی باتیں —– راشد حمزہ

0

اجمل خان سوات کے رہائشی ہیں، دریائے سوات کے کنارے ان کی وسیع زرعی زمین ہے جہاں وہ مختلف سبزیاں کاشت کرتے ہیں، یہاں ان کا سیب کا خوبصورت باغ ہے، سیب کے درختوں کے جھنڈ میں ان کا تین کمروں پر مشتمل مختصر سا خوبصورت مکان ہے، مکان کی پشت کے ساتھ ایک چھوٹی سی نہر بہتی ہے جو دریائے سوات کے بطن سے کہیں دریا کنارے کی زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے جدا ہوتی ہے، اس نہر سے گرم موسم میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اٹھتی ہے، اسی مکان میں خالص فطری ماحول میں وہ اپنی بیوی اور ایک لے پالک بچے کے ساتھ زندگی کے شب و روز کاٹ رہے ہیں۔

اجمل خان خوش شکل خوش لباس خوش گفتار اور خوش مزاج انسان ہیں، ان کے چہرے پر جب پہلی نظر پڑتی ہے تو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں، ہمارے یاں جب کسی کے سر پر ٹوپی چہرے پر چھوٹی فیشنی داڑھی مزاج میں سختی لہجے میں کرختگی کردار میں پختگی اور عمل میں ایقان ہو تو ان کے بارے میں عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ شاید وہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہوں ــــــــ اجمل خان شکل و لباس سے تو شاید جماعت اسلامی والوں سے مشابہت رکھتے ہوں لیکن انکی خوش مزاجی، لہجے میں موجود نرمی، رکھ رکھاؤ اور خوش سلیقگی سے ہرگز محسوس نہیں ہوتا کہ آپ کبھی جماعت اسلامی سے وابستہ رہے ہیں۔

ان سے ہماری ملاقات ان ہی کے خوبصورت مکان کے باہر باغ میں سیب کے درختوں کے ٹھنڈے سایوں تلے پرسکون اور پرامن ماحول میں ہوئی تھی، اس نے ہمارے لئے خاص طور پر چارپائیاں بچھائی تھیں جس میں بڑے بڑے تکیے رکھے گئے تھے، درمیاں میں لکڑی کا بڑا سا میز رکھا تھا، میز پر ہمارے کاغذات کے پلندے اور ملاقات کے دوران استعمال میں آنے والے دوسرے لوازمات سلیقے سے رکھے گئے تھے، میز پر خشک میوہ جات کا ٹرے، شیشے کا جگ جس میں پانی حد سے زیادہ شفاف معلوم ہو رہا تھا، چائے کا تھرماس اور کپ بھی رکھے ہوئے تھے، ان سے ہماری ملاقات ایک غیرسرکاری تنظیم نے طے کرائے تھی، ہمیں ٹاسک دیا گیا تھا کہ ہم سبزیوں کی کاشت اور پھلوں کے باغ کی دیکھ بھال کے حوالے سے ان کے تجربات کی روشنی میں ایک رپورٹ تیار کریں…

ہمارے ٹاسک کے بارے میں ان سے بہت ساری باتیں ہوئی تھیں لیکن وہ یہاں لکھنا مجھے غیر ضروری معلوم ہو رہا ہے، ان سے میری جو غیر رسمی باتیں ہوئی تھیں ان باتوں کی بنیاد پر یہ مضمون آگے بڑھے گا۔

تین چار موضوعات پر ہمارے بہت باتیں ہوئیں تھیں باتوں کے دوران جب میں نے جنگ کے موضوع پر ملکی حالات اور افغان جنگ پر باتیں شروع کیں تو وہ دلگیر ہوگئے ان کی آنکھوں میں نمی آگئی، پھر اس نے مجھے جنگوں کے بارے میں بہت قیمتی باتیں بتائیں اپنے بارے میں بھی کھل کر بتایا، ان کے مطابق ان کا ایک ہی بیٹا تھا جو شہر میں پڑھتا تھا، صوم و صلاة کا بہت پابند تھا، افغانستان پر جب امریکہ نے حملہ کردیا تو بیٹے کو بھی اپنے چند ساتھیوں نے ورغلایا اور افغان جہاد میں شامل ہونے کے لئے تیار کرایا، میں ان سے غافل نہیں رہا تھا وقتا فوقتا انکی خبر لیتا تھا لیکن ان کے دوستوں کے جہاد میں شمولیت کے منصوبے سے میں یکسر بے خبر رہا۔

ایک دن مجھے ان کے سکول سے معلوم ہوا کہ میرا بیٹا دو دن سے سکول نہیں آیا ہے، مجھے فکر ہوئی کہ کہاں غائب ہوگیا، ایک ہفتے تک ان کے متعلق پوچھ گچھ اور تلاش کے بعد ان کے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ افغانستان جانے کا ایسا کوئی منصوبہ زیر غور تھا، یہ خبر میرے اوپر قیامت کی طرح گزر گئی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اب کیا کیا جائے، میرا ایک ہی بیٹا تھا جس کو ان کی معصومیت اور مکار ذہنیت نے جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا، میرے بیٹے کے کچھ دوست افغانستان سے واپس آئے ان کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ افغانستان میں کہیں موجود ہیں، اب میں سوچتا ہوں نجانے وہ کتنا بڑا ہوا ہوگا کہاں موجود ہوگا اور کب تک اپنے گھر واپس آئیگا۔

ہمیں ان کے واپس آنے کا یقین نہیں ہے لیکن ہم امید و امکان کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں کرسکتے، ہم دونوں کا بڑھاپا امکان کے اس دروازے سے ہوکر گزر رہا ہے، اس امکان کے سہارے ہم زندہ ہیں ہم ہر قسم کے شور و شغب سے دور پرامن اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، ہم نے ایک بچے کو بھی گود لیا ہوا ہے جس کا باپ شورش کے دور میں طالبان کے ساتھ شامل ہوا تھا اور کسی فوجی آپریشن میں کام آیا تھا، جب ہم گود لینے کے لئے بچے کی تلاش میں تھے تو ہمیں یہ بچہ پسند آیا، پسند آنے کی وجہ ان کے حالات تھے، بچے اور میرے حالات ایک جیسے تھے، جنگ نے میرا بیٹا چھینا تھا اور اس بچے سے باپ چھینا تھا، ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا بن سکنے کے لئے آئیڈیل تھے…

اس نے مجھے کہا تھا “ہمیں سادہ زندگی گزارنی چاہئے، ملازمت کے ساتھ ساتھ سبزیاں اگانے چاہئے، پھل پھول اور درخت لگانے چاہئے فطرت کے قریب رہنا چاہئے، بارش برفباری اور پانی کا شکر گزار رہنا چاہئے یہی چیزیں ہماری کاشت کاری اور کھیتی باڑی کو معنی دیتی ہیں، ہمیشہ حکومت کی مدد کے انتظار میں بیٹھنا نہیں چاہئے، اپنے ہاتھوں پر یقین رکھنا چاہئے، ایسی معتدل زندگی گزارنی چاہئے کہ ہر حالت میں سہولت کے ساتھ زندہ رہا جاسکے، زندگی جینے سے مقدس فریضہ کوئی نہیں، زندگی کسی چیز پر قربان نہیں کرنی چاہئے اچھی زندگی پر ہر چیز قربان کرنی چاہئے، ملکوں، قوموں، گروہوں اور قبائل کی لڑائیوں کی بنیاد میں ابدی صداقت نہیں ہوتی، ان کی بنیاد میں مفادات ہوتے ہیں، ہمیشہ اپنی زندگی کی تحفظ کےلئے امن سے رہنا چاہئے..

(Visited 92 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20