بندہ مزدور بھی سماجی اور قانونی مجرم ہے —- خرم شہزاد

0

یوم مزدور۔۔۔ بندہ مزدور کے حقوق اور خوشحالی کے لیے جدوجہد کا دن، ایک دن جب نئے سرئے سے اور نئے جذبوں سے اپنی جدوجہد کو چلانے کا عہد کیا جاتا ہے۔ ایک دن جب دنیا کو یاد آتا ہے کہ اس کی ترقی اور خوشحالی کی ایک وجہ مزدور بھی ہے، ایک دن جب سبھی مزدور کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں لیکن دراصل یہی وہ دن بھی ہے جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ مزدور کا کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ پچھلے سال بھی ایسی ہی تقریر اور تقریب تھی جس میں ہم نے بڑے بڑے دعوے کئے، بڑے جذبوں کا اظہار کیا اور اب ایک سال بعد ہم اپنی ناکامی کے بعد وہیں پر کھڑے ہیں جہاں ایک سال پہلے کھڑے تھے۔ دیکھا جائے تو ہم ناکام ہو کر پچھلے سال کی جگہ پر نہیں کھڑے بلکہ ایک سے ڈیڑھ صدی پیچھے چلے جائیں تب بھی مزدور کی ایسی ہی حالت تھی اور اس کے راہنما تب بھی ایسی ہی کسی جدوجہد کی باتیں کرتے تھے۔ مزدور کا جوش، جذبہ، تقریریں اور حالت دو صدیوں میں نہ بدل سکی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ناکامی کی وجوہات کا پتہ لگانے کے بجائے بس کولہو کے بیل کی طرح جدوجہد اور حقوق کے کنویں کے گرد چکر لگائے جا رہے ہیں۔ آج تک مزدور کی جدوجہد کے لیے عقلی اور قانونی پہلووں پر بات کی جاتی رہی ہے لیکن چلیں آج مزدور کی ناکامی کے کچھ اخلاقی پہلو بھی تلاش کرتے ہیں۔

اپنی جدوجہد میں مزدور نے ایک کامیابی حاصل کی کہ اس کے کام کرنے کے اوقات آٹھ گھنٹے کر دئیے گئے، آٹھ گھنٹے اس کے خاندان اور سماجی زندگی کے لیے جبکہ بقیہ آٹھ گھنٹے اس کی ذات کے لیے ہیں، جس میں اسے آرام کرنا اور اپنی نیند پوری کرنی ہوتی ہے۔ ایک بہت چھوٹا سا سوال ہے کہ کیا مزدور اپنے خاندان کو آٹھ گھنٹے دیتا ہے؟ کسی بھی مزدور سے سوال کیجئے آپ کو ننانوے فیصد نہیں بلکہ سو فیصد کے جوابات حیران کر دیں گے کہ انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ خاندان اور گھر والوں کو بھی وقت دینا ہوتا ہے۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ ان کا سب کچھ تو ہے ہی گھر والوں کے لیے اور وہ دن رات محنت مزدوری کی بھٹی میں جلتے ہیں تو گھر والوں کے لیے وغیرہ وغیرہ لیکن سب جذباتی جملوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے جب سوال کا اصلی جواب مانگا جاتا ہے تو وہ نفی میں ہوتاہے۔ مزدور شائد برسوں پہلے گھر والوں کوکبھی کہیں گھمانے پھرانے لے کر گیا ہو، لیکن بہت سے گھر والوں کی زندگی میں یہ موقع ایک بار بھی نہیں آیا کیونکہ مزدورکے اندر دو شخصیتیں ہوتی ہیں ان میں سے ایک احساس کمتری کا مارا ہوا شخص ہوتا ہے جس کے خیال میں گھر والوں کو باہر لے کر نکلنا، کسی پارک میںجانا تو صرف امراء کا شوق ہوتا ہے اوروہ امیر آدمی کی ضد اور اپنے احساس کمتری میں اپنے گھر والوں پر ہر طرح کی تفریح کے دروازے بند رکھتا ہے۔ مزدور کے اندر ایک صاحب جیسی شخصیت بھی ہوتی ہے جس کے مطابق گھر والوں کو باہر لے کر جانا ایک عیاشی ہوتی ہے، بہت لازم ہے کہ گھر والوں کو جب باہر لے کر نکلا جائے کسی پارک میں ہی بھلے کیوں نہ جایا جائے تو کچھ خرچہ کرنا ضروری ہوتا ہے جس کا وہ متحمل نہیں ہو سکتا لہذااس عیاشی پر پابندی اور گھر والوں پر گھر میں ہی قید رہنا ضروری ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسروں سے اپنے حقوق مانگنے والا مزدور خود اپنے گھر والوں کو آٹھ گھنٹے دینے کو تیار ہی نہیں۔ اس کی مجبوریوں، ضرورتوں اور غربت کے رونے شروع ہو جاتے ہیں لیکن جب اسے کہا جائے کہ چالیس پنتالیس برس کی عمر ہونے کے باوجود جب تم کوئی پہاڑ نہیں کھود سکے تو اگلے دس دن میں کون سی نہر نکال لو گے، کیا بہتر نہیں کہ پھر چند گھنٹے گھر والوں کو بھی دے دئیے جائیں اور ان سے بھی چند باتیں مسکرا کر ہو جائیں کہ ان کی جذباتی ضرورت بھی ہوتی ہے کہ ان کے شوہر، باپ یا بیٹا ان کے پاس بیٹھے اور کچھ باتیں کرئے۔ پاکستان میں مڈل کلاس اور اس سے نچلے طبقوں کی ایک بد قسمتی یہ بھی ہے کہ وہاں گھر والوں کے پاس بیٹھ کر چند باتیں کرنا بھی امیروں کے چونچلے شمار ہوتا ہے، اسی وجہ سے سوائے امیروں کے ہمارے معاشرے میں میاں بیوی بچے، ماں باپ جب بھی کوئی آپس میں بیٹھتا ہے تو ان کے پاس کرنے کو صرف خرچہ اور مسائل کی باتیں ہوتی ہیں، لڑائی جھگڑے کی باتیں ہوتی ہیں اور یہی ذہنی تناو آخر کار جسمانی تباہی کا بھی باعث بھی بنتا ہے اور جسم بیماریوں کا گھر بن جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک مزدور یا محنت کش دوسروں سے کم صحت مند رہتا ہے اورکم زندگی پاتاہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ مڈل کلاس اور نچلے طبقوں میں میاں بیوی خرچے اور مسائل کے علاوہ آپس میں کیا بات کریں، یہ انہیں پتہ ہی نہیں ہے اور نہ کبھی انہوں نے یہ پتہ کروانے کی کوشش کی ہے۔

یوم مزدور پر اپنے حقوق اور خوشحالی کی جدوجہد کرنے والے مزدور کو ایک بار اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہیے کہ صدیوں کی جدوجہد میں اس نے اوقات کار کی جو کامیابی حاصل کی ہے وہی اب اس کے مجرم ہونے کی صورت بھی ہے۔ مجھے کسی بھی مزدور کے حقوق کی جنگ میں اس وقت تک کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی جب تک وہ خود انہیں حقوق نہ دے دے جنہیں وہ دے سکتا ہے۔ آج کا مزدور اپنی غربت اور مسائل کے بہانوں کی آڑ میں اپنے گھر والوں کا ذہنی اور جذباتی استحصال کرتے ہوئے میری نظر میں ایک مجرم ہے۔ افسوس یہ کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی اور جذباتی استحصال کو جرم ہی نہیں سمجھا جاتا لیکن نہ سمجھنے سے جرم اور اس کی نوعیت کم تھوڑی ہو جاتی ہے۔آٹھ گھنٹے جو گھر والوں کا حق ہے، جس میں لازم نہیں کہ ان سے خرچے اور مسائل پر ہی بات کی جائے، آپ یہ باتیں نہ کرتے ہوئے بھی انہیں ذہنی سکون دے سکتے ہیں لیکن یہ وقت بھی کسی دوسرے کام میں لگا کر ایک مزدور یہ سمجھتا ہے کہ وہ گھر والوں کی خوشحالی کے لیے کوشاں ہے حالانکہ بہت سے گھروں میں اس مادی خوشحالی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ وہ بچے جو ہفتہ ہفتہ بھر باپ کی شکل دیکھنے کو ترسے ہوتے ہیں، وہ تین کے بجائے دو روٹیاں کھانے پر دل سے راضی ہیں کہ ایک روٹی کے بدلے ان کا باپ ایک بار انہیں گلے لگالیا کرئے اور ان کے ماتھے کو چوم لیا کرئے، ان سے ان کے بارے کوئی بات کیا کرئے لیکن ایک باپ کو ایک مزدور کو بھلا ان سب کاموں کی فرصت کہاں۔

آج ایک مزدور اپنے آٹھ گھنٹے میں مراعات اور حقوق کے لیے کوشاں ہے لیکن اسی دن کے دوسرے آٹھ گھنٹے اس کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ایسے میں اگلی دس صدیاں بھی جدوجہد کرنے کے باوجود ایک مزدور شائد کچھ حاصل نہ کر سکے کیونکہ قانونی جرم کی سزا تو چند سال ہوتی ہے لیکن سماجی جرم کی سزا صدیوں پر محیط ہوتی ہے۔ اس سال کے یوم مزدور پر ہر مزدور کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ خود اپنے لیے تو انصاف مانگتا ہے لیکن وہ خود دوسروں کو انصاف کب دے گا؟

یہ بھی پڑھیئے:  عملی سیاست اور فکری سیاست کی بحث —— شاہ برہمن
(Visited 203 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20