سطحیت کا روگ‎ ——– خواجہ نوید

0

ایک لکھیک کیلۓ یہ بات بہت زیادہ اہم ہوتی ہے کہ وہ اپنی تحریر میں جن لوگوں کو مخاطب کررہا ہوتا ہے ان کی سطح پر جاکر الفاظ و تراکیب کا انتخاب کرے تاکہ مدعا ان تک احسن طریقے سے پہنچایا جاسکے۔ لیکن میرا مشاہدہ ہے کہ بسا اوقات ایسی کوشش میں خیالات و افکار کی اصلیت و معنویت بہت حد تک متاثر ہوجاتی ہے۔ آج کل کے اکثریتی پڑھنے والے، خصوصا سوشل میڈیایی حاضرین، گہرایی میں جاکر الفاظ و تراکیب کو سمجھنے کی تکلف نہیں برتتے بلکہ ایسی تحریر پڑھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ البتہ جذباتی سطح پر جو چیز ان کو اپیل کررہی ہوتی ہے اسی کو لے کے بیٹھ جاتے ہیں۔ اصطلاحات کے حوالے سے تو مشکل اور بھی سوا ہے۔ بہت سی ایسی اصطلاحات ہوتی ہیں جن کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن ان کی سمجھ بہت کم ہوتی ہے۔ اس بات کا احساس یوں ہوا کہ ساینس میگزین کے چیف ایڈیٹر ، محترم علیم احمد صاحب نے فیس بک پر سوال اٹھایا کہ کیا ساینس جمود کا شکار ہوچکا ہے اور آیا ٹیکنالوجی ہی صرف ترقی پارہی ہے۔ ان کے فرینڈ لسٹ میں بہت سمجھ بوجھ رکھنے والے صاحبان کا ردعمل دیکھ کر مجھے سخت مایوسی ہویی کہ ساینس اور ٹیکنالوجی کے مابین فرق ہی اکثریت کو معلوم نہیں اسی لۓ ٹامک ٹوییاں ہی مارتے چلے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے میں نے عرض کیا کہ ساینس کے متعلقات اور نۓ علم کی نمو اسی شد و مد کے ساتھ برسر پیکار ہے جتنی کچھ بازگشت آپ کو ٹیکنالوجی کی ترقی کی دکھایی دے رہی ہے۔ فرق البتہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی عوام و خواص کے استعمال کے دایرے میں آکر مقبول و معروف ٹھرتی ہے جبکہ سائنس ” بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“ کے مصداق اگر مقبولیت پاتی بھی ہے تو ایک مخصوص دائرہ میں بہت کم عوامی مقبولیت کا امکان لۓ ہوۓ۔ درمیانی ”عملیت پسندوں“ کے وارے نیارے ہیں کہ سائنسی کاوشوں کے مصنوعات کو ٹیکنالوجی کے دایرے میں لاکر مقبولیت، پیسہ اور تعریف کے حقدار بن جاتے ہیں۔

سطحیت کے حوالے سے مسئلہ اس لۓ بھی سوا ہے کہ پڑھنے والے کو اپنے متعلق عموما یہ غلط فہمی رہتی ہے کہ اسے گہرا اور تفصیلی علم ہے موضوع بحث کا۔ اس حوالے سے ایڈم وٹز (Adam waytz) اور روزن بلٹ (Rozenbilt) کے تجربات بہت اہم ہیں۔

ان تجربات کو علمی گہرایی کے سراب (Illusion of explanatory depth) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں ان صاحبان نے مختلف لوگوں سے عام طور پر استعمال میں آنے والی اشیا اور فطری مظاہر و واقعات جیسے کہ موسموں کے تغیرات، رات دن کی کایا پلٹ، جانداروں کا زندہ رہنا اور بڑھنا وغیرہ، کی بابت سوالات کۓ ہیں کہ یہ لوگ ان اشیا کو کتنی بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اکثریت لوگوں کا جواب “بہت بہتر طور پر سمجھنے ” کا تھا۔ دوسرے مرحلے میں انہی لوگوں سے اسی چیز کے حوالے سے تفصیل طلب جوابات مانگے گۓ تھے جن کے جوابات غیر تسلی بخش اور حقایق کے منافی آۓ۔ جب پہلا سوال انہی لوگوں سے انہی چیزوں کے متعلق دوبارہ دریافت کیا گیا تو ان لوگوں نے ” بہت بہتر طور پر سمجھنے” کی بجاۓ “کچھ کچھ سمجھنے” کا جواب منتخب کیا۔ یہی تجربہ پھر علم کے دوسرے شعبہ جات کے متعلق بھی کیا گیا۔ اس چھوٹے سے تجربے سے ان لوگوں پر اپنے معلومات کی سطحیت اور کمی کا ادراک ہوا۔

اسی طرح اگر ہم سوشل میڈیا ( فیس بک، ٹویٹر ، انسٹاگرام، یوٹیوب وغیرہ) اور انفو ٹینمنٹ الیکٹرانک میڈیا کا تجزیہ کرلیں تو حجم کی زیادتی کی بنیاد پر ہمارا یہ گمان بن جاتا ہے کہ گویا ہمیں بہت علم حاصل ہوا ہے حالانکہ سب سے بنیادی سوال تو ان معلومات کے مستند اور غیر مستند، جانبداریت اور معروضیت اور جواز و عدم جوز کا ہوتا ہے۔ اس سے آگے جا کر پھر ان معلومات کو علم کے دایرے میں لانے کیلۓ غوروفکر اور تجزیہ و تحلیل کے مراحل سے بھی گزارنا لازمی ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں تو ایک مخصوص میدان میں تھوڑا زیادہ علم پانے والے یا طریقہ اظہار پانے والے کچھ اس طنزیہ، تضحیک سے بھرے اور مطلق انداز میں اپنی راۓ کا اظہار کرتے ہیں گویا منصب افتا پر فایز ہوگۓ ہوں اور ہر چیز پر فتوی دینا اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ یہ رویہ دوریوں کا باعث بن رہا ہے اور علم کی ترویج میں الٹا مانع ثابت ہورہا ہے۔ ایک تحقیق میں تو یہ بات سامنے آیی ہے کہ منطقی استدلال، حس مزاح اور زبان دانی کے علم سے عاری افراد عموما اپنے علم کے بارے میں ضرورت سے زیادہ خود اعتماد اور خوش فہم ہوتے ہیں۔

ہمیں اپنی علمی سطحیت کا ادراک تھوڑی سی تفصیل طلب کرنے پر ہی ہوجاتا ہے لہذا ہمیں اپنی معلومات کے دایرے کو بڑھانے پر ہمہ وقت توجہ دینی چاہۓ تاکہ ہمیں چیزوں کی پیچیدگی کا اندازہ ہو اور ایک حقیقی تصور علم کی طرف سفر جاری و ساری ہو۔ اس سے علم کےتکبر سے بھی نجات ملے گی اور سطحیت کے سراب سے بھی۔

(Visited 116 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: