کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم —– سید مظفر الحق

0

بہت دنوں سے کھدبد ہو رہی تھی دریائے خطابت و طبعی لطافت جوش مار رہے تھے۔ لیکن ذرا ٹہریں پہلےاپنے کردہ اور ناکردہ گناہ بخشوالوں تو عرض کروں۔ غالب کو تو یہ عذر دستیاب تھا کہ مقطع میں سخن گسترانہ بات آپڑی تھی ہمارے لئے تو مطلع ہی ابر آلود ہے۔
دانشوروں کی مجبوری ہے کہ جب تک دانش کے موتی درویشوں کی طرح نہ لٹائیں انہیں اپنے آپ پہ بخیلی کا شبہ ہونے لگتا ہے اب چاہے وہ نرگس کی کئی عشروں کی بے نوری کے بعد دیدہ ور کی آمد کو لالے کی حنا بندی کا حاصل سمجھیں یا بہت سے دیگر شکھشکھوں کی طرح مہا رکھشکھوں کی کاوش قرار دیں، وقت کی رفتار اور قانونِ مکافات عمل تو بدلنے سے رہے۔ اب کوئی کتنی ہی منطق اور حوالوں سے سمجھائے لیکن ان کی سوچ کا پرنالہ تو وہیں گرے گا۔ کیونکہ کہیں یہ دانشوری کا تقاضہ ہوتا ہے ےو کبھی تجاہل عارفانہ کا شاخسانہ۔

چالیس سال تک زردار، بندوق بردار اور آہن گر اپنی اپنی شعبدہ بازی دکھاتے زور و زر لککلپکی گنگا بہا کر اس میں اشنان کرتے رہے تب شکھشکھوں کے سارے وید و اپنشد نقش و نگارِ طاقِ نسیاں رہے۔ لیکن جہاں دانشوری کی جگہ دانشمندی نے کچھ رنگ جمانے کی کوشش کی وہیں تنقید کے پتھر برس پڑے، لیلائے فہیم و انصاف لاکھ دہائی دیتی رہے کہ

کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو

مگر سنگ الزام اور تیر دشنام نے تو ایک ہی ہدف چن لیا ہے کہ ان کا دمساز اور کون ہے وہ زمانے لد گئے جب پہلا پتھر مارنے کےلئے سنگ بازوں کی بیگناہی شرط تھی تب تعذیب کی طلب لئے جھمگٹا لگانے والے سب پیٹھ موڑ کرچل دیتے اور میدان میں فقط ایک پیغمبر اور ایک گناہگار ہی رہ جاتے تھے۔ اب تو ہر گناہگار سنگ بدست اور ہر پیغمبر سربگریباں ہوتا ہے۔

ہر میدان کا نقشہ اور مزاج مختلف ہوتا ہے اور ہر کھیل کے اصول و تقاضےدوسرے کھیل سے جدا ہوتے ہیں کرکٹ کےمیدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والا سیاست کی بساط پہ روایتی انداز اپنائے یہ ضروری تو نہیں، اور جو تاریخ بنانے والا ہو وہ تاریخ کا حافظ بھی ہو یہ کس نے کہہ دیا، ویسے بھی بدل سکا ہے بھلا کون وقت کی رفتار۔

جیب سے پرچیاں نکال کر ایک ایک لفظ چبا چبا کے بولنے والوں سے فی البدیہہ اور موقع محل پہ سادگی سے دل کی بات کہنے میں کچھ فرق تو ہوگا ہی، علامہ نے یہی تو کہا تھا ناں کہ

ہزار خوف ہوں لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

کیا شملہ معاہدے سے کیبنٹ مشن پلان تک کئی موڑ اور یو ٹرن نہیں آئے تھے کیا بیل کی طرح ایک ہی سیدھ میں دوڑ کر سینگ پھنسانا فہم و دانش کا تقاضہ ہوتا ہے یا پلٹ کر جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنا بھی ایک انداز شاہبازی نہیں کہلاتا۔ چالیس سال سے اندازِ کوفی و شامی بدلتے رہے لیکن نہ قافلہِ حجاز تھا اور نہ اس کا کوئی حدی خواں۔

اگر امیرخسرو میدان کارزار میں شمشیر زنی کرنے کےباوجود موسیقی اور شاعری کرسکتے تھے ہوچی منہہ گوریلا جنگ لڑتے ہوئے شاعری کرسکتا تھا اور آہن گر تین مرتبہ وزیر اعظم بن سکتا تھا تو کیا ایک بلّے باز جو ملک کا پہلا کینسر اسپتال بناکر اور نمل یونیورسٹی قائم کر کے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکا ہو جس کےپیچھے نہ جاگیردارانہ کروفر ہو نہ موروثیت کا تفاخر کیا اسے یہ حق نہیں کہ وہ اپنی سوچ کو الفاظ میں ڈھال کر ذرائع ابلاغ کو سونپ سکے اور اپنے لوگوں کی فکر کو مہمیز دے سکے

افلاطون کی ریاست کو تو اس کی دانش کا وارث ارسطو بھی اپنے شاگرد کو فاتح عالم بنانے کے باوجود عملی شکل نہ دلوا سکا پھر اس غیر پیشہ ور سیاستداں سے ہتھیلی پہ سرسوں جمانے کی توقع کیوں؟ ایک دن کےتھاپے اسی دن تو نہیں جلتے سوکھنے کےلئے وقت چاہئے۔

ہماری مشکل یہ ہے کہ ہماری ایک ذہنی ساخت اور مخصوص مزاج بن چکا ہے پہلے ہمیں صاحب بہادروں میں قدرت کا جلوہ اور دانش کاحلوہ نظرآتا تھا اب ہم پیشہ ور سیاستدانوں، خاندانی وڈیروں اور نسلی اعتبار سے حاکمیت کا حق جتانے والوں کو ہی اپنی قیادت و سیادت کا حقدار سمجھتے ہیں ایک ایسا شخص جو نہ کسی جرنیل کا پروردہ ہے نہ کسی سیاسی جاگیر کا موروثیت کی وجہ سے نامزد کردہ ہےجو نہ کسی دولتمند صنعت کار خاندان کا نمائندہ ہے وہ کیسے ہمارے گلے سے نیچے اترسکتا اور کھوپڑی میں سما سکتا ہے اس لئے کیوں نہ پہاڑ کاٹ کر راستہ بنانے کے دشوار عمل کے بجائے پامال شدہ راہوں پہ چلتے اور لذت آمیز گناہوں کو اپناتے رہیں۔ آئی ایم ایف کےدر پہ اس سےپہلے کتنے سوالی جھولی پھیلائے پہنچے تھے اور حفیظ شیخ کتنی بار وزیر خزانہ رہا یہ ہمارے حافظے سے محو ہوچکا، ایک اسد عمر کی تبدیلی پہ کیا ہا ہا کار مچی ہوئی ہے بغلوں کے ساز بجا کر ہجو کی نئی طرز ایجاد ہورہی ہے پچھلی ایک حکومت میں پانچ وزرائے خزانہ تبدیل ہوئے تو وہ ادائے دلبرانہ تھی کہ رمزِ دانشورانہ، چلیں مان لیتےہیں کہ چند چنیدہ رتن غیر منتخب ہیں مگر بھائی بھتیجے بیٹی اور داماد تو نہیں، افیون چرس اور گانجے کا سرور و اثرات تو افسانوی باتیں ہیں آج کل تو مالاکنڈ کی نسوار کی ایک چٹکی ہفت افلاک کی سیر کرادیتی ہے، کسےکیوں نکالا ہر نکلنے والا یہ اچھی طرح جانتا ہے لیکن قلندرانہ ادا ہے کہ قلبِ محزوں پہ ” کیوں نکالا ” کہ نعرہِ مستانہ کی ضرب لگاتے رہیں۔

امریکی ہدایت کی پیروی اور برطانوی جمہوریت کی ثنا خوانی کی جگہ مدینے کی ریاست کا نام برائے مثال ہی سہی، نوک زبان پہ کیوں آیا
“بڑا بے ادب ہوں سزاچاہتا ہوں ”

اور دانشورانہ نیش زنی کا کوئی تو ہدف ہو سو وہ فقط ایک ہی شخص ہے جو زبانِ حال سے کہہ رہا ہے

ایک دل ہے اور طوفانِ حوادث اے جگر
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں

(Visited 92 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: