’جہاد۔ ایک مطالعہ‘ مصنف: عمّارخان ناصر مبصر: امتیاز عبدالقادر

0

نام کتاب : ’جہاد۔ ایک مطالعہ‘ مصنف : عمّارخان ناصر مبصر : امتیاز عبدالقادر,  ناشر : ’المورد‘ لاہور، پاکستان صفحات :۳۹۳

’جہاد ایک مطالعہ‘ پاکستان کے کُہنہ مشق عالم ، محقق اور دانشور مولانا عمار خان ناصر کی تصنیف ہے۔ مولانا پاکستان کے معروف علمی ودینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے دادا مولاناسرفرازخان صفدر کو دیوبندی مسلک کاعلمی ترجمان سمجھاجاتاہے جبکہ ان کے والد مولانا زاہدالرشدی ایک نہایت متوازن رویہ رکھنے والے مذہبی اسکالراوردانشور کے طورپرمعروف ہیں۔ مولاناعمارخان ناصرنے ابتدائی مذہبی تعلیم مدرسہ’انوارالعلوم ‘گوجرانوالہ میں حاصل کی اور۱۹۹۴ء میںمدرسہ’ نصرۃ العلوم‘ گوجرانوالہ سے روایتی دینی علوم سے باقاعدہ فراغت حاصل کی۔ بعدازاںعصری علوم کی طرف متوجہ ہوئے اور۲۰۰۱ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہورسے انگریزی ادب میں ایم۔ اے کیا۔ مولاناعمارخان ناصر پاکستان کے علمی حلقوں میں جانا پہچانا نام ہے۔ علمی ذوق ، عمیق نظر ، نکتہ سنجی اور نقدوتبصرہ کے موصوف دھنی ہیں۔ موضوعات تو پُرانے ہی ہیں لیکن مواد میں تحقیقی جھلک اور دلائل پختہ فراہم کرتے ہیں۔ مولانا زُود نویس ہیں۔ پاکستان کے رسائل و جرائد میں ان کے علمی و تحقیقی مضامین آئے دن شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے متعددعلمی وتحقیقی مضامین ماہنامہ اشراق، لاہور، ماہنامہ الشّریعہ، گوجرانوالہ اورماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ میں شائع ہوچکے ہیں۔ موصوف ماہنامہ ’الشّریعہ‘ کے مدیر بھی ہیں۔

جہاد، بنیاد پرستی، شدت پسندی، دہشت گردی فی الوقت دنیا کے مبصرین، تجزیہ نگاروں، صحافت سے جڑے افرادکا بنیادی موضوع بن چکے ہے۔ داخلی وخارجی سطح پرمسلمانوں کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور ’جہاد‘ کی مختلف تعبیر و تشریح کرکے اسلام کا ایک عجیب تعارف دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔

اس موضوع پر دنیا کی بیشتر زبانوں میں علماء و محققین نے بے شمار مواد چھوڑا ہے لیکن اکیسوی صدی میں کچھ ایسے اسکالر ز نے ’جہاد‘ کے موضوع پر قلم اٹھایا جنہوں نے اپنے پیشرؤں کے فہم و نظر پر نقد کرتے ہوئے جہاد کی حقیقت اور اس کے مقاصد پر سیرحاصل گفتگو کی۔ اُن میں سے ایک مولانا عمار خان ناصر بھی ہیں۔

زیر تبصرہ کتاب ’جہاد۔ ایک مطالعہ‘ اُن کی علمی وتحقیقی کاوش کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ اُن کی فکری سطح و فہم کا ادراک مذکورہ کتاب کو پڑھ کر واضح ہوتا ہے۔ کتاب میں کُل سات ابواب ہیں جیسے، عہد نبویﷺ و عہد صحابہؓ میں جہاد و قتال کی نوعیت، صحابہ کا جہاد، جماعت صحابہ ؓ کی خصوصی حیثیت، غلبہ دین بطور دلیل نبوت، مخالف استدلالات کا جائزہ، فقہی روایت کا ارتقا اور مولانا موددی کی تعبیر جہاد۔

جیسا کہ عنوانات سے واضح ہوتا ہے کہ موصوف نے قرنِ اول اور بیسویں صدی میں جہاد کی تعبیر و تشریح کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بالخصوص مولانا مودودی ؒ کے حوالے سے جنہوں نے جہاد سے متعلق اسلامی شریعت کے تصوراور اس کے احکام کی تعبیر و تشریح کو ایک خاص زاویے سے موضوع بحث بنایا ہے، مصنف نے اُن کا نقطہ نظر کتاب کے آخر میں پیش کرکے اُس پر عملی نقد کی ہے۔  امن اور آزادی انسانی تمدن کی ناگزیر ضرورت ہے۔ انسانی تمدن کی بنیاد اس قانون پر قائم ہے کہ انسان کی جان، عزت اور اس کا خون محترم ہے۔ قومیں جب شوریدہ سر ہوجاتی ہیں اور نصیحت و تادیب کا رگر نہ ہوں تو ریاست کو حق ہے کہ وہ اُن کے خلاف ہتھیار اُٹھائیں اور اُس وقت تک برسرپیکار رہیں جب تک نہ امن اور آزادی کی فضا بحال ہو۔ اسلامی شریعت میں جہاد کا مقصد یہی ہے۔ یہ ملک کی تسخیر ، جاہ و حشمت کے حصول، خواہش نفس کی تکمیل ، زمین کی حکومت ، شہرت ونا موری اور عصبیت یا عداوت کے کسی جزبے کی تسکین کیلئے نہیں ہے۔ دراصل یہ اللہ کی جنگ ہے۔ اسلئے اللہ کے بندوں کو پھونک پھونک کر قدم اُٹھانا پڑتا ہے اُور حدود و قیود کا پابند رہنا ہے جس کا دائرہ خود اللہ تعالیٰ نے کھینچا ہے۔ جہادکا مقصد فتنہ کا استیصال ہے ، ظلم و جبر اور عدوان جس صورت میں بھی ہو ، یہ اُس کے خلاف کیا جاسکتا ہے۔

گذشتہ چودہ صدیوں میں علمی روایت کے ارتقا ء نے جہاد کے بارے میں قرآن وسنت کے نصوص کی تفہیم و تعبیرکے حوالے سے جو متنوع نقطہ ہائے نگاہ پیدا کئے، مصنف نے ابتدا میں اُس کا احاطہ کیا ہے، لکھتے ہیں:

’’(الف) کلاسیکی فقہی ذخیرے میں جہاد ، کوامر باالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک فرع قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو خدا کی طرف دعوت دینے ، کفر و شرک سے اجتناب کی تلقین کرنے اور ان کے تزکیہ و اصلاح کیلئے انبیاء کا جو سلسلہ جاری فرمایا، کفار کے ساتھ جہاد بھی اسی کی ایک کڑی اور دعوت الی الحق ہی کی ایک صورت ہے اور اُمت مسلمہ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ دنیا کی کافر قوموں کو اسلام کی دعوت دے اور اگر وہ اسے قبول نہ کریں تو ان کے خلاف جہاد کرکے انہیں اپنا محکوم بنالے۔

(ب) دور جدید میں اہل علم کی بڑی تعداد نے اس تعبیر سے اختلاف کیا ہے۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کفار کے خلاف جہاد اسلام کی توسیع و اشاعت کیلئے نہیں بلکہ محض اس کے دفاع اور دشمنانِ اسلام کے ظلم و جبر کے خاتمہ کیلئے شروع کیا گیا تھا۔

(ج) عصر حاضر کے ممتاز عالم اور مفکر مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی ؒ نے جہاد سے متعلق اسلامی شریعت کے تصوراور اس کے احکام کی تعبیر و تشریح کو ایک خاص زاوئے سے موضوع بحث بنایا ہے۔ ان کا نقطہ نظر ا س حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے فقہاء کے روایتی موقف کے مطابق جہاد و قتال کے اس ہدف سے تو اتفاق کیا ہے کہ اس کے ذریعے سے پوری دنیا پر اسلام کی سیاسی حاکمیت قائم کردی جائے ، تاہم اس کی فکری اور فلسفیانہ اساس کے ضمن میں انہوں نے فقہاء سے مختلف ایک متبادل تعبیر پیش کی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ان کی رائے میں اسلام شخصی اعتقاد اور رسمی عبادت کے دائرے میں تو کفر و شرک کو گوارا کرتا ہے لیکن کسی ایسے نظام حکومت کا وجود اسے قبول نہیں جس میں خدائی قانون کے علاوہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی عمل داری قائم ہو۔

(د) عصر حاضر ہی کے ایک دوسرے ممتاز عالم اورمحقق جناب جاوید احمد غامدی نے مزکورہ آراء کے بنیادی زاویہ نگاہ (Approach) سے اختلاف کرتے ہوئے متذکرہ علمی الجھنوں کو ایک نئے انداز میں حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُن کے نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ شرعی نصوص میں وارد جہاد و قتال کے احکام دو مختلف نوعیتوں میں تقسیم ہیں: ایک وہ جن میں کسی گروہ کے فتنہ و فساد اور ظلم و تعدی کے خاتمہ کیلئے جہاد کی مشروعیت بیان کی گئی ہے اور دوسرے وہ جن میں اتمامِ حجت کے بعد منکرینِ حق کے خلاف قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ ۔ ۔ ‘‘ (ص ۱۰۔ ۸)

مصنف نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس اہم موضوع پر غیرجانبدارانہ تحقیق کر کے، منصفانہ تعبیر پیش کرنے کی لائق تحسین کوشش کی ہے۔ موصوف نے بدلائل اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی کہ جہاد و قتال کے بارے میں جو احکامات قرآن و سنت میں ہیں اُس کی دو قسمیں ہیں۔ فتنہ و فساد کے خاتمے کیلئے دئے جانے والے احکام کا تعلق دین و شریعت کے عمومی اور ابدی دائرے سے ہے جبکہ اسلام نہ قبول کرنے والے کفار کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم اللہ تعالیٰ کے قانون اتمامِ حجت پر مبنی اور انہیں گروہوں تک محدود ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صریحاً اس کی اجازت دی گئی ہو۔ مطلب اتمامِ حجت کا قانون رسولوں کے ساتھ مختص ہے۔ اُن کے علاوہ اب یہ کسی کا حق نہیں کہ اسلام کی دعوت کو تلوار کے مرحلے میں داخل کرے۔ جہاد وقتال کا حکم بقول اُن کے دو طرح کے مقاصد کے تحت دیا گیا ہے:

’’ایک اہل کفر کے فتنہ و فساد اور اہل ایمان پر ان کے ظلم و عدوان کا مقابلہ کرنے کیلئے اور دوسرے کفر و شرک کا خاتمہ اور باطل ادیان کے مقابلے میں اسلام کا غلبہ اور سربلندی قائم کرنے کیلئے۔ ‘‘(ص۔ ۱۱)

مزید لکھتے ہیں:

’’قرآن کی رو سے کسی قوم میں پیغمبر کی بعثت محض ایک داعی حق کی بعثت نہیں ہوتی بلکہ اس قوم کیلئے فیصلے کی گھڑی ہوتی ہے اور پیغمبر کے مبعوث ہونے کے بعد قوم کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں ، یا تو وہ پیغمبر کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر ایمان لاکر نجات پائے اور یا اس کے دعوے کو تسلیم نہ کرے اور خدا کے عذاب کا نشانہ بن جائے۔ ‘‘ (ص ۲۲۶)

دورِ نبوی میں جتنے بھی غزوات ہوئے مصنف کی رائے میں وہ دراصل عذاب کا وہ تسلسل ہے جو کہ رسولوں کے حق میں اللہ کی سنت رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ گزشتہ اقوام بادو باران ، خسف و طوفان سے تباہ ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ کے اتمامِ حجت کے بعد جنہوں نے تکبر سے انکار کیا ، اُن پر حضور ﷺ کی تلوار کی صورت میں قیامت صغرٰی برپا کیا گیا۔ صحابہ ؓ نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد روم و فارس کے خلاف جو جنگی اقدامات کئے اور جن کی تعبیر کرتے ہوئے بعض علماء واضح کرتے ہیںکہ وہ دراصل دفاعی جنگ تھی۔ اس کا مقصد محض دفع ِفساد تھا اور صحابہ ؓ نے حفظِ ما تقدم کے اصول کے تحت اسلامی سلطنت کے پڑوس میں اُبھرتی طاقتوں کو توڑ کر یاکمزور کرکے خطرے سے اسلامی سلطنت کو محفوظ کردیا، فاضل مصنف نے اس توجیح پر نقد کی ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ یہ کوئی سیاسی تدبیر نہیں بلکہ اُس عذاب کا ہی تسلسل تھا جو اللہ نے حضور ﷺ کے ذریعے مخاطب قوم پر نازل کیا اور حضور ﷺ کی موجودگی میں جہاں جہاں بھی اتمام ِحجت ہوا، حضور ﷺ کے بعد صحابہ ؓ نے تلوار کے ذریعے انہیں مغلوب و مملوک بنایا۔ لکھتے ہیں:

’’حدیث و سیرت کے ذخیرے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ ؓ کرام کے ان اقدامات کی شرعی بنیاد رسول اللہ ﷺ کے وہ خطوط تھے جو آپ ﷺ نے جزیرہ عرب اور اس کے گردو نواح کی سلطنتوں کے سربراہوں کے نا م لکھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے ان خطوط کو ہمارے اہل سیرت بالعموم ’دعوتی خطوط‘ کا عنوان دیتے ہیں حالانکہ ان کے مضمون اور پیش و عقب کے حالات سے واضح ہے کہ ان میں مخاطبین کو محض سادہ طور پر اسلام کی دعوت نہیں بلکہ یہ وارننگ دی گئی تھی کہ اُن کے لئے سلامتی اور بقا کا راستہ یہی ہے کہ وہ اس دعوت کو قبول کرلیں۔ بصورت دیگر انہیں اپنی حکومت و اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ ‘‘ (ص۔ ۶۸)

بعد ازاں مثالوں کے ذریعے تاریخی شواہد و قرآئن کتاب میں درج کرتے ہوئے مصنف موصوف نے مزید لکھا ہے کہ:

’’گویا ان خطوط کی حیثیت ’اتمام حجت‘ کی تھی، جس کے بعد ان اقوام کے خلاف جنگی اقدام کی اجازت صحابہ ؓ کو حاصل ہوگئی تھی۔ چنانچہ نبی ﷺ نے متعدد مواقع پر صحابہ ؓ کو یہ بشارت دی کہ وہ سلطنتوں کو فتح کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے خزانے ان کے تصرف میں دے دے گا۔ ‘‘ (ص۔ ۷۲)
مصنف کی نظر میں صحابہ ؓ کی خصوصی حیثیت تھی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ساتھیوں کو شہادت علی الناّس کے منصب پر فائز کیا تھا اور اسی کے تحت اُن سرکش اقوام کے خلاف قتال کا اختیار دیا گیا تھا۔ (ص۔ ۱۰۰)

سورۃ الحج آیت نمبر ۷۸، سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۱۴۳اور سورۃ الحج ۴۲۔ ۴۱ کا حوالہ دے کر صاحب کتاب بدلائل واضح کرتے ہیں کہ اُن میں عام مسلمان مخاطب نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے جانباز ساتھی ہی مخاطب ہیں۔ نیز سورۃ الٓال عمران کی وہ آیت جو ہر مسلمان کے زبان پر جاری ہے اور جس سے استدلال کرتے ہوئے مسلمانوں کی اکثریت خود کو اللہ تعالیٰ کی منتخب کردہ ’خیرامت ‘تصورکرتی ہے، کے بارے میں بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ نے اُس آیت میں ایمان و عمل کو معیار ٹھہراکر جن کو مخاطب کیا ہے، وہ صحابہ ؓ ہی کی جماعت ہے۔ لکھتے ہیں:

’’سیاق و سباق دونوں سے واضح ہے کہ یہاں مخاطب خاص طور پر صحابہ ؓ ہی کی جماعت ہے، اس لئے کہ ’خیراُمّت‘ کا لقب دینے سے پہلے دلوں میں الفت و محبت پیدا کرنے کی جس نعمت کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بھی انہی کو عطا کی گئی تھی اور اس کے بعد جس فتح و نصرت کی بشارت دی گئی ہے ، وہ بھی انہی کیلئے خاص ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود صحابہ ؓ کرام نے ’خیراُمت‘ کے اعزاز کو اپنے لئے خاص قرار دیا۔ ‘‘۔ (ص۔ ۱۰۷)

دلیل کے طور پر فاضل مصنف نے حضرت عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے جو کہ ’تفسیر الّطبری ‘ سے لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، تابعی مفسر امام ضحاک ؒ اور ابن عبدالبر ؒ کے اقوال بھی رقم کئے ہیں۔

کتاب میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ صحابہ ؓ کے جہاد کا متعین اور محدود ہدف تھا۔ اس حوالے سے دلائل فراہم کرنے کے بعد وہ رقمطراز ہیں:

’’اس پس منظر میں یہ بات صحابہ ؓ پر بالکل واضح تھی کہ ان کی ذمہ داری اصلاً کوئی عالمگیر اسلامی حکومت قائم کرنا نہیں بلکہ ایک محدود اور متعین دائرے میں اسلام کا غلبہ قائم کرنا ہے۔ چنانچہ خلفائے راشدین ؓ کے عہد میں کئے جانے والے جنگی اقدامات کے بارے میں تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ ان کا ہدف وہی محدود علاقہ تھا جس کو فتح کرنے کی انہیں اجازت دی گئی تھی اور ان اقوام سے آگے انہوں نے از خود کوئی جارحانہ اقدام کسی قوم کے خلاف نہیں کیا۔ ‘‘ (ص۔ ۱۱۴)

اس دعوے کی تائیدمیںمصنف نے خلفائے راشدین کے عہد کی متعددمثالیں پیش کرکے اپنی بات کو ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور تاریخی شواہد کی روشنی میں خلفائے راشدین کی جنگی پالیسی کو مندرجہ ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا ہے:

’’(۱) جہاد و قتال سے ان کا مقصد اسلامی سلطنت کی غیر محدود توسیع نہیں تھا بلکہ ان کا اصل ہدف صرف رومی اور فارسی سلطنتیں تھیں۔ (۲) رومی اور فارسی سلطنتوں کے خلاف جنگ کی اجازت حاصل ہونے کے باوجود وہ ان کے تمام علاقوں پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کے پیش نظر اصلاً صرف شام اور عراق کے علاقے تھے اور وہ ان سے آگے بڑھنا نہیں چاہتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ (۴) روم و فارس یا ان کے زیر اثر علاقوں کے علاوہ دوسری قوموں کے خلاف انہوں نے صرف اس صورت میں اقدام کیا جب انہوں نے مسلمانوں کے مقابلے میں دشمن کی مدد کی یا ان کی طرف سے میدان جنگ میں آئے۔ ۔ ۔ ‘‘(ص ۳۶۔ ۱۳۵)

قرآن مجید میں حضور ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ ، سورۃالصف میں فرمایا ہے کہ دین اسلام کا غلبہ تمام دینوںپر قائم کردیا جائے۔ اس آیت کے تناظر میں بعض علما و مفکرین پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ قائم کرنے کے کسی نظری اور اصولی ہدف کا اصول اخذ کرتے ہیں۔ تاہم کتاب کے مصنف کی رائے یہ ہے کہ یہ عام حکم نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کے لئے غلبہ اور فتح کی بشارت اور وعدے کی حیثیت سے مذکورہ آیت قرآن میں تین مقامات پر وارد وہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی روشنی میں متعدد مواقع پر جزیرۃ عرب اور روم و فارس کے علاقوں پر اللہ کے دین کے غلبے کی پیشن گوئی فرمائی ہیں۔ اس حوالے سے طویل بحث ، دلائل و شواہد کو سمیٹتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں:

’’غلبہ دین کا یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ؑ کے ساتھ اصلاً جزیرئہ عرب کے حدود میں کیا تھا اور یہ چونکہ آپ ﷺ کے منصبِ رسالت کا لازمی تقاضا تھا ، اس لئے اس کی تکمیل آپ ﷺ کی ذات کی حد تک آپ ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ہوگئی تھی۔ اس کے بعد صحابہ کرام ؓ کو جو فتوحات حاصل ہوئیں، وہ چونکہ رسول اللہ ﷺ ہی کو حاصل ہونے والے غلبے کی توسیع اور تکمیل تھیں، اس لئے وہ بھی ضمناً اس کا مصداق قرار پاتی ہیں لیکن زمان و مکان کے اس مخصوص دائرے سے باہر نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نصرت کا کوئی وعدہ ہے اور نہ اس سے نظری سطح پر کوئی آفاتی ہدف اخذ کیا جاسکتا ہے۔ ‘‘ (ص۔ ۱۵۰)

’جہادکے توسیع اہداف ‘‘ پر نقد و تبصرہ کرتے ہوئے مصنف اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ کلاسیکی علمی وفقہی روایت میں پوری دنیا پر اسلام کے غلبے کو جہاد کا ہدف قرار نہیں دیا گیا۔ اُن پیشنگوئیوں کو جنھیں حضور ﷺ سے حضرت عیسیٰ ؑ اور امام مہدی کے حوالے سے بعض احادیث میں درج کیا جاتا ہے، موصوف نے علامہ انور شاہ کشمیری ؒ اور دیوبندی مکتبہ فکر کے ایک اور محدث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی آراء کو نقل کیا ہے، جن میں یہ دونوں محدثین اس عام رائے سے اختلاف کرتے ہیں جس کے مطابق حضرت مسیح ؑ کے نزول ِ ثانی کے موقع پر ساری دنیا میں اسلام کا غلبہ ہوگا۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے بقول اس سے مراد پوری سرزمین نہیں بلکہ شام اور اس کے گردونواح کا مخصوص علاقہ ہے جہاں ان کا ظہور ہوگا اورجو ُاس وقت اہل اسلام اور اہل کفر کے مابین کشمکش اور جنگ و جدال کا مرکز ہوگا۔ (ص۳۰۰)

آخری باب میں مصنف نے ’مولانا مودودی کی تعبیر جہاد‘ کو مفصل بیان کرکے مولانا کے بعض خیالات سے اختلاف کیا ہے۔ مصنف کے بقول مولانا مودودی کے استدلال میں جو بنیادی مغالطہ پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں معنوی حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے لفظ کے اشتراک سے حکمِ اشتراک اخذ کرلیا گیا ہے۔ (ص ۳۴۹) البتہ مصنف اعتراف کرتے ہیں کہ مولانا مودودی ؒکا شمار عالم اسلام کے ان نمایاں ترین اہل علم اور مفکرین میں کیا جاسکتا ہے جنہوں نے نظریہ اور تصورپر ہی سہی ، اسلامی قانون کی تشکیل جدید کے ضمن میں نہایت بنیادی راہ نمایا نہ کردار ادا کیا ہے۔ جہاد کی تشریح کے حوالے سے مولانا مودودی ؒ اور دیگر معاصر اہل علم کے طرز استدلال میں فرق کو واضح کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں: ’’۔ ۔ ۔ ۔ مولانا مودودی نے عدم تشدد اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کو اپنی تحریک کا بنیادی پتھر قرار دیا۔ ہمارے نزدیک مولانا کی پیش کردہ تعبیرات اور افکار کے مختلف پہلؤں سے اختلاف کے تمام تر امکانات کے باوجود ، دورِ جدید میں ایک متوازن طرز فکر کی تشکیل کے حوالے سے مولانا کی یہ خدمت (Contribution) بے حد غیر معمولی ہے اور درحقیقت اسی میں ان کی فکری عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔ ‘‘ (ص۔ ۳۹۲) مجموعی طور پر کتاب کے مصنف قابل صد مبارک ہیں کہ انہوں نے اُس وقت اس موضوع پر قلم اُٹھایا جب کہ اپنے اور پرائے ’جہاد‘ کے حوالے سے بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اُن کی محنت شاقہ سے اُمید ہے کہ اُمت اِس سے مثبت نتائج اخذ کرے گی۔ زیر تبصرہ کتاب سماج کے ہر فردکے لئے مفیدہے۔ علماء ، طلباء، جماعتوں، تنظیموں، کالجوںاورمدرسوںسے وابستہ افراد کو اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لے کر اس کابالاستعیاب مطالعہ کرنا چاہے۔ بہتر رہتا اگر عربی ، انگریزی اور ہندی زبان میں بھی مذکورہ کتاب کا ترجمہ کیا جائے۔ اعلیٰ طباعت اور معیاری کاغذ کے ساتھ ’المورد‘ نے اسے لاہور ، پاکستان سے چھاپا ہے۔

(Visited 204 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: