ساحرلدھیانوی کی نظم ’’پرچھائیاں‘‘ کا نو آبادیاتی مطالعہ —- عبدالعزیز ملک

0

’’نو آبادیات‘‘ کی اصطلاح جسے انگریزی میں Colonialism کہا جاتا ہے جدید تاریخ میں دن بدن زور پکڑتی جا رہی ہے۔ روسی محققین جن میں لیون (Levin) چچروف (Chicherov)، بیلوکرینٹسکی (Belokerenitsky)اورپولوسنکایا کے نام نمایاں ہیں، کی تحریروںنے برطانوی نو آبادیاتی نظام کی وہ قلعی کھولی، کہ گونگے کو بھی زبان میسر آ گئی اور نو آبادیاتی نظام کی بحثیں زبان زدِ خاص و عام ہوتی دکھائی دینے لگیں۔ مطالعے سے عیاں ہوتا ہے کہ نو آبادیات ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک طاقتور ملک اپنے سے کمزور ملک پر براہِ راست، معاشی، سیاسی، فوجی اور حتی ٰ کہ ثقافتی تسلط قائم کرتا ہے۔ دیگر ممالک پر تسلط کے قیام کا بنیادی مقصداقتدار کو وسعت دے کر دوسرے علاقوں پر قبضہ جمانا تا کہ مقامی آبادی کی افرادی قوت اور وسائل پیداوار پر دسترس حا صل کر کے زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔ یہ صورت ِ حال سرمایہ دارانہ دور کے ایک خاص مقام پر آکر جنم لیتی ہے، جس میں نو آباد کار ایک شعوری منصوبے کے تحت وہاں کی معاشی ترقی کی رفتار کو ایک خا ص حد سے آ گے بڑھنے نہیں دیتا جس کاحتمی مقصد اقتدار کو آسان بنانا اور طوالت بخشنا ہوتا ہے۔ نو آبادیات کے تعارف اور تعریف پر بحث کرتے ہوئے ریاض حسین شاہ ’اپنے پی۔ ایچ۔ ڈی کے مقالے ’ اردو ناول پر نو آ بادتی تمدن کے اثرات‘‘ میں تحریر کرتے ہیں۔ ’’نو آبادیات‘‘ کی اصطلاح جسے انگریزی میں Colonialismکہا جاتا ہے جدید تاریخ میں دن بدن زور پکڑتی جا رہی ہے۔ روسی محققین جن میں لیون (Levin) چچروف (Chicherov)، kerenitsky) اورپولوسنکایا کے نام نمایاں ہیں، کی تحریروںنے برطانوی نو آبادیاتی نظام کی وہ قلعی کھولی، کہ گونگے کو بھی زبان میسر آ گئی اور نو آبادیاتی نظام کی بحثیں زبان زدِ خاص و عام ہوتی دکھائی دینے لگیں۔ مطالعے سے عیاں ہوتا ہے کہ نو آبادیات ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک طاقتور ملک اپنے سے کمزور ملک پر براہِ راست، معاشی، سیاسی، فوجی اور حتی ٰ کہ ثقافتی تسلط قائم کرتا ہے۔ دیگر ممالک پر تسلط کے قیام کا بنیادی مقصد اقتدار کو وسعت دے کر دوسرے علاقوں پر قبضہ جمانا تا کہ مقامی آبادی کی افرادی قوت اور وسائل پیداوارپر دسترس حا صل کر کے زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔ یہ صورت ِ حال سرمایہ دارانہ دور کے ایک خاص مقام پر آکر جنم لیتی ہے، جس میں نو آباد کار ایک شعوری منصوبے کے تحت وہاں کی معاشی ترقی کی رفتار کو ایک خا ص حد سے آ گے بڑھنے نہیں دیتا جس کاحتمی مقصد اقتدار کو آسان بنانا اور طوالت بخشنا ہوتا ہے۔ نو آبادیات کے تعارف اور تعریف پر بحث کرتے ہوئے ریاض حسین شاہ ’اپنے پی۔ ایچ۔ ڈی کے مقالے ’ اردو ناول پر نو آبادیاتی تمدن کے اثرات‘‘ میں تحریر کرتے ہیں۔

’’کسی غیر ملکی طاقت کا اپنی سر حدی حدود سے با ہر، دوسری اقوام کے اقتدار ِ اعلیٰ کو ختم کرنا اور وہاں اپنے اقتدار کو مستحکم کرنا اور مقامی لوگوں کے حقوق و وسائل کا استحصال کر کے اپنے آبائی وطن کو معاشی طور پر مضبوط کرنا، نو آبادیات کہلائے گا ‘‘ (۱)

تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی کریںتو پتا چلتا ہے کہ نو آباد کاری کا یہ سلسلہ روم کے دور سے شروع ہوا اور جدید دور میں پرتگالی، اسپینی، فرانسیسی اور انگریز قوموں نے اسے بڑھاوا دیا۔ ہندوستان میں نوآبادیات کی جڑیں سولہویں صدی میں تلاش کی جاسکتی ہیں جب انگریز تاجر کی حیثیت سے یہاں وارد ہوئے۔ ان کی آمد سے قبل ہندوستانی معاشرہ جاگیرداری نظام میں جکڑا ہوا تھا۔ انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے توسط سے تجارتی سرمایہ داری کو ہندوستان میں وسعت دی اور جاگیر داری نظام کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں۔ انھوں نے مختلف علاقوں پر دھاندلی، جبر، دھو کہ دہی اور سازشوں سے اپنی اجارہ داری قائم کی۔

آ غاز میں تجارتی توازن ہندوستان کے حق میں تھا لیکن ۱۸۱۳ء کے بعد جب حکومت ِ برطانیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا تجارتی اجارہ ختم کیا تو آزاد تجارتی سرمائے نے بر طانیہ کے معاشی مفادات کی بنیاد رکھی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ زور پکڑتا گیا، اور ۱۸۵۷ء میں نو آباد کاروں نے پورے ہندوستان پر اپنے پنجے مضبوط کر لیے۔ اقتصادی استحصال تو پہلے ہی موجود تھا اب انگریزوں نے ہندوستانیوں کے سماجی استحصال کا بھی آ غاز کر دیا اور لوگوں میں اپنی زبان و ثقافت سے بیزاری پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ اگر غور کریں تو نوآ بادیاتی مقاصد کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ عام لوگوں کو باور کروائے کہ ان کی زبوں حالی اور زوال کا باعث خود ان کا اپنا نظام ِ سیاست اور پرانی تہذیبی اقدار ہیں جو کہ اس جدید نو آبادیاتی نظام کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، انگریزوں نے بھی اس مقصد کو سر ِفہرست رکھا اور یہاں کی سماجی، ثقافتی اور تہذیبی اقدار کو مسخ کرنے میں کوئی فرو گذاشت نہیں کی۔

انگریزوں کی آمد سے قبل ہندوستان کی معاشرتی فضا خا صی معتدل تھی جس کا نمایاں سبب بھگتی تحریک کے مثبت کردار کو گردانا جا سکتا ہے۔ انگریزوں نے اپنے اقتدار کو فروغ دینے کے لیے فروعی مسائل کو بڑھاوا دیا جس کے باعث ہندو اور مسلم دونوں قومیں جمود کا شکار ہو گئیں۔ اس جمود کو توڑنے کے لیے مسلما نوں میں پہلے سید احمد شہید تحریک اور بعد ازاں علی گڑھ تحریک نے جنم لیا اسی طرح ہندوؤں میں برہمو سماج اور آریہ سماج ایسی تحریکوں کے ذریعے فکری اور معاشرتی جمود کو تو ڑنے کی کاوشیں کی گئیں۔ اس طرح انگریزی یا مغربی علوم اورمقامی علوم و نظریات میں تصادم کی فضا پیدا ہوئی۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے نے اس رحجان کو قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ فارسی زبان کے خاتمے کے ساتھ مغرب سے آ نے والے فلسفے، نفسیات، لسانیات، طبیعات اور جدید سائنسی علوم کی یلغار نے یہاں کے طر زِ فکرواحساس پر اثرات مرتب کیے جس کاا ثرنہ صرف زندگی کے تمام شعبوں میں تلاشا جا سکتا ہے بلکہ یہاں کے ادب میں بھی بدیہی طور پر موجود ہے۔ اس صورت ِ حال پر رائے دیتے ہوئے اسفند شبیر اپنے مقالے میں تحریر کرتے ہیں۔

’’ اس پیش رفت سے اردو ادب متنوع رنگ اختیار کر گیا اور اس کا دامن وسیع ہو تا چلاگیا۔ اردو ادب کی اس متنوع رنگ کی سب سے بڑی خصوصیت  اس کا مزاحمتی رویہ تھا۔ یعنی پرانے افکار، انداز، اطوارکی علمی، ادبی، سماجی اور فکری سطحوں پریوں مزاحمت کرنا کہ قوم میں مقصدیت، عقلیت اور اجتماعیت کا فروغ ہوا اور وہ نئے دور کا طرز عمل اپنا کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی۔ ‘‘(۲)

انگریزوں کی سرمایہ دارانہ سوچ نے ہندوستان میں آجر اور اجیر کے رشتے کی بجائے ریاست اور مزدور کار شتہ تشکیل دیا جس سے ہندوستانی معیشت ترقی کی راہوں پر گامزن نہ ہو سکی۔ معیشت کی زبوں حالی اپنی جگہ لیکن فکری پسماندگی کو بھی جوں کا توں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ سائنسی اور منطقی علوم کو خاص لوگوں تک محدود رکھا گیا جس کے خلاف ذی شعور طبقے نے گاہے بگاہے آ واز بلند کی۔ اگر غور کریں تو سر سید سے پہلے اور اس کے عہد میں نو آبادیات کے استحصالی رویے کے خلاف مزاحمتی ادب جا بجا بکھرا پڑا ہے۔ بیسویں صدی کے آ غاز میں پریم چند اور بعد ازاں ترقی پسند مصنفین نے نہ صرف اسے بڑھاوا دیا بلکہ اس کے تصور اور عمل میں وسعت بھی پیدا کی۔ اس دور میں جہاںاردو ادب میں نثر کے تخلیق کاروں نے انگریز حکومت اور مقتدر طبقات کے خلاف اپنا ردِ عمل ظاہر کیا وہاں شعرانے بھی مزاحمتی شاعری میں کوئی فرو گزاشت نہیں کی۔ صنعتی انقلاب اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا نو آبادیاتی نظام، جس نے جبر و استبداد کی نئی تاریخ رقم کی ہے، نے ہندوستان کے سماج پر اپنے اثرات مرتب کیے اور اس نظام کی کج رویوں اور بے اعتدالیوں کے خلاف یہاں کے ادباء نے اپنا احتجاج قلم بند کروایا۔ اس سلسلے میں افسانے میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، خدیجہ مستور اور احمد ندیم قاسمی اور شعرا میں جوش ملیح آبادی، علی سردار جعفری، فیض احمد فیض، اسرار الحق مجاز کے ناموں کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ مزاحمتی شعرا کی طویل فہرست میں سا حر لدھیانوی کا نام ایک ایسا نام ہے جو نو آبادیاتی نظام اور استحصالی رویوں پر ہمہ وقت نو حہ کنا ں نظر آ تا ہے۔

ساحر لدھیانوی نے جس ماحول میں آنکھ کھولی اس میں بے اطمینانی، ذہنی خلفشار اور روحانی کرب پوری شدت سے موجود تھا۔ ساحر نے خود کو اس ماحول میں اجنبی محسوس کیا اوراس کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا۔ اس نے سامراج کو اپنی شاعری کے ذریعے للکارا اور غیر ملکی تسلط اورغلامانہ زندگی سے نجات کی خاطر عوام کا لہو گرم رکھنے کو قلم کا سہارا لیا۔ ساحر کے ہم عصر شعرا کی تخلیقات کا اگر جائزہ لیا جائے تویہ منکشف ہو تا ہے کہ ان میں منتشر معاشرتی نظام کی زبوں حالی کا احساس بہت کم ہے۔ بلکہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ انھیں اپنے ماحول میں ہونے والی سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی تبدیلیوں کا ادراک تو کجا احساس تک موجود نہیں ہے۔ ان کی ذہنی فضا میں وہی ٹھہراؤ، سکون اور توازن دکھائی دیتا ہے جو اس سے قبل کے شعرا میں موجود ہے۔ اگر بنظرِ غائر جائزہ لیں تو سا حر کی شاعری میںاپنے عہد کے ثقافتی، سیاسی اور معاشرتی تغیر کاشعور اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے، یہی ساحر کی شعری کائنات کا نچوڑ ہے اور اس کا اصلی موضوع ِ تخلیق بھی۔ معاشرتی، سماجی اور سیاسی کج رویوں اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف سا حر نے جس انداز سے صدائے احتجاج بلند کی ہے وہ سا حر کی اُس کیفیت کو ظاہر کرتی ہے جو معاشرتی انقلاب کے دوران حساس ذہنوں پر گزراکرتی ہے۔

سا حر کی زندگی میں عالمی سطح پر جو واقعات وقوع پذیر ہورہے تھے اوران کے نتیجے میں صورت پذیر ہونے والی تبدیلیوں کا نہ صرف اسے احساس ہے بلکہ کس طرح کے اثرات اس کی مقامی زندگی پر اثر انداز ہوں گے؟ اس چیز کا ادراک بھی اس کی شاعری میں شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بیسویں صدی میں دو عالمی جنگوں نے یوں تو پوری دنیا کی سیاست پر اپنے اثرات مرتب کیے لیکن برصغیر میں یہ جنگیںمتعدد مثبت اور منفی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ طوائف الملوکی، انتشار اور بدامنی کے قبیح اثرات کو محسوس کرتے ہوئے عالمی سطح پر ابھرنے والے امن و تہذیب کے تحفظ کے لیے کئی تحریکوں کا آغاز کیا گیا۔ یہی کاوشیں اکتوبر ۱۹۴۵ء میں قیام پذیر ہونے والے بین الاقوامی ادارے اقوام ِ متحدہ کے آغاز کا باعث بھی بنی۔ اس ادارے کا مقصود دنیا میں عالمی جنگوں کے خاتمے اور غریب ممالک میں ہونے والی خانہ جنگیوںکا سدِ باب کر کے امن و امان قائم کرناہے۔ ساحر لدھیانوی نے نظم ’’پر چھائیاں ‘‘اسی حوالے سے تحریر کی۔ جس کا اظہار وہ اس نظم کے آغازمیں یوں کرتے ہیں۔

’’پرچھائیاں‘‘ میری پہلی طویل نظم ہے۔ اس ساری دنیا میں امن اور تہذیب کے تحفظ کے لیے جو تحریک چل رہی ہے یہ نظم اس کاایک حصہ ہے۔  میں سمجھتا ہوں کہ ہر نوجوان نسل کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اسے جو دنیا اپنے بزرگوں سے ورثہ میں ملی ہے۔ وہ آئندہ نسلوں کو اس سے بہتر اور خوب  صورت دنیا دے کر جائے۔ میری یہ نظم اس کوشش کا ادبی روپ ہے ‘‘(۳)

ساحر لدھیانوی کی مذکورہ نظم دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ رومانویت سے بھر پور ہے جب کہ دوسرا حصہ سیاسی، سماجی، معاشرتی اور انقلابی خیالات کا آئینہ دار ہے۔ اس نظم کی قرأت آ شکار کرتی ہے کہ اس میں شاعر نے کہانی کی تکنیک سے استفادہ کیا ہے۔ یہ تکنیک اردو میں بہت کم شعرا کے ہاں مستعمل ہے۔ سا حر کا تعلق چوں کہ فلم کی دنیا سے خاصا گہرا رہا ہے اور اس کا شمارایک کامیاب گیت نگار کے طور پر ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس تکنیک کا خیال انھوں نے فلم سے لیا ہو۔ ساحر کا کمال یہ ہے کہ وہ فلمی گیت تخلیق کرتے کرتے لاشعوری طور پر ایک ایسی تکنیک کو سامنے لایا جو ’’پرچھائیاں‘‘ کا روپ دھار کر سامنے آئی۔ اس نظم کی کہانی ایک خوب صورت چاندنی رات سے شروع ہوتی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار المیہ زندگی کی نمائندگی کر تا ہے۔ وہ دو محبت کرنے والوں کو دیکھتا ہے۔ یوںنظم نگاراس کردار کا سہارا لیتے ہوئے فلیش بیک تکنیک کے تحت کہانی کے گزرے واقعات کو قاری پر منکشف کرتا چلاجاتا ہے۔ یادوں کا یہ سلسلہ پرچھائیوں کی صورت اس کے ذہن کے پردے پر نظم کے آخر تک ابھرتا اور گم ہوتا رہتا ہے۔ کہانی کا بیان اتنا دلکش اور جان دار ہے کہ قاری شاعر کے تجربات اور محسوسات کے عمل کو بذاتِ خودمحسوس کرنا شروع کر دیتا ہے اوریوں پوری نظم کی قرأت کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تصورات کی پرچھائیوں کا سلسلہ آغاز سے انجام تک متنوع صورتوں میں یقین اور گمان کے درمیان ہچکولے لیتا دکھائی دیتا ہے۔ جس کا اظہار خود شاعر نے ان الفاظ میں کیا ہے۔
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں  کبھی گماں کی صورت کبھی یقین کی طرح
نظم کا آغاز محبت کے خوب صورت اور دلکش منظر سے شروع ہوتا ہے جس میں پس نو آبادتی ہندوستان کی پر امن اور تہذیب یافتہ زندگی کو رومانویت کے پردے میں پیش کیا گیا ہے۔ میری یہاں رومانویت سے مراد وہ رومانویت نہیں جو عموماً اردو نقادوں کی تحریروں میں مستعمل ہے۔ بلکہ چوما چاٹی کی حدود سے ماورا ہوتے ہوئے انگریزی شعری روایت سے وابستہ اس مفہوم سے اپنا انسلاک قائم کرتی ہے جس میں انقلاب اور رومان کی حدیں دھندلی پڑتی دکھائی دیتی ہیں بلکہ رومان، انقلاب کا ارمان بن کراصطلاح کی صورت اختیار کرتانظر آتا ہے۔ انقلاب فرانس یورپ کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ ہے جس کی ظفر یابی پر دستاویزی مہر ثبت کرنے والے چارٹر “Declaration of Rights of Man and Citizens”نے جدید یورپ کی سمت کو بدل کر رکھ دیا اور وہ بھائی چارے، مساوات اور آزادی کے انقلابی تصورات سے آشنا ہوا۔ اس اعلانیے کے ا ثرات کی گونج انگریزی کے رومانوی شعرا کی شاعری میں واضح طور پر سنی جا سکتی ہے۔ ولیم ورڈز ورتھ، کولرج، بائرن اور شیلے ایسے شعرا اس روایت کے امین رہے ہیں جن کی شاعری میں کلاسیکیت کے خلاف ردِ عمل اور پرانے کی بجائے نئے تصوارت سے ہم آہنگی واضح طور پرتلاشی جا سکتی ہے۔ اردو میں فیض احمد فیض کے ساتھ ساتھ سا حر کے ہاں یہ رویہ اپنے تمام تر لوازمات کے ساتھ موجود ہے۔ ساحر نے رومان کو انقلاب سے ممزوج کر تے ہوئے جس استعاراتی نظام کا سہارا لیا ہے وہ بجا طور پر داد و تحسین کا مستحق ہے۔  رواں ہے چھوٹی سی کشتی ہواؤں کے رخ پر ندی کے ساز پہ ملاح گیت گاتا ہے تمہارا جسم ہر اک لہر کے جھکولے سے مری کھلی ہوئی باہوں میں جھول جاتا ہے تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں (۴) سا حر لدھیانوی کی ’’پر چھائیاں‘‘رومانویت کے پردے میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف روِ عمل اور انقلابی رویوںکی حامل نظم کے طور پر سامنے آتی ہے۔ سا دہ کہانی اور سہل الفاظ کے استعمال نے اس نظم کوعام آدمی میں مقبول بنا دیاہے۔ کلاسیکیت اور روایت کا سہارا لے کر روایتی شعرا کی طرح ساحر نے غیر مانوس الفاظ سے اسے ثقیل نہیں ہونے دیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی بات عام آدمی تک پہچانا چاہتا ہے اور وہ ہی زبان اس نے اس نظم کے لیے منتخب کی ہے تا کہ خیالات کی ترسیل میں ابہام یا ثقالت محسوس نہ ہو۔ اس بات کا اشارہ علی سردار جعفری’’ پرچھائیاں‘‘ کے دیباچے میں یوں کرتے ہیں۔ اقتباس ملا حظہ ہو۔
’’سا حر کی کامیابی اس میں ہے کہ اس نے اپنے سادہ اور آ سان الفاظ سے اس عہد کی بعض اہم حقیقتوں کو ایسے مصروں میں ڈھال دیا ہے جو زبان  پر چڑھ بھی جاتے ہیںاور دل پر اثر بھی کرتے ہیں۔ مثلا ً جب وہ یہ کہتا ہے کہ ’’ اس دور میں جینے کی قیمت یا دارو رسن یا خواری ہے۔ ‘‘ تو وہ ایک مصرے میں سب کچھ سمیٹ لیتا ہے جو ایک پوری کتاب کا مو ضوع ہے۔ ‘‘ (۵)

آگے چل کر نظم میں نئے منظرکا آغاز جنگ، قحط، افلاس اورنوآبادیاتی نظام کے نتیجے میں ہونے والے تغیرات سے ہوتا ہے۔ انگریزوں کی آمد سے یہاں کے نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو شاعرانہ پیرائے میں ساحر نے کمال حیرت سے بیان کیا ہے۔ نو آبادیات جو یورپ میں علم اور طاقت کے گٹھ جوڑ سے سامنے آئی، ہندوستان میں متعددمعاشی اور سماجی تغیرات کا سبب بنی۔ نو آبادیاتی عہد میںاشیاء کی پیداوار اورمقامی صنعتوں کی تباہی، ہندوستان سے وسائل کی نکاسی، جاگیردارانہ وسائل ِ پیداورکی صنعتی پیداوار میں تبدیلی کا عمل اور جاگیرداری نظام کی شکست و ریخت ایسے عوامل ہیں جنھوں نے بر ِ صغیر کے نظام ِ معیشت کو بدلنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے سماج پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ فطرتی عمل ہے کہ جب نو آبادیاتی معیشت پھل پھول رہی ہوتی ہے تو اس کے زیر ِ اثر معیشت کے کئی جزو تباہی کا شکار ہوتے ہیں اور کئی ایک کی افزائش بھی ہوتی ہے۔ جب سرمایہ دارانہ نظام کے وجود کے لیے لازمی شرائط پوری ہو جائیں توبورژوا ریاست ظہور پذیر ہوتی ہے اور بورژوا قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جاتا ہے۔ مقامی سرمایہ دارانہ ترقی کا آ غاز اسی مرحلے پر سامنے آتا ہے جس کی نو آبادیاتی حکومت کی جانب سے شدید مزاحمت ہوتی ہے۔ ہندوستان کے حوالے سے اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئے حمزہ علوی اپنی کتاب ’’ سرمایہ داری اور سامراج ‘‘ میںایک جگہ تحریر کرتے ہیں۔

’’ہندوستان کے حوالے سے یہ مزاحمت دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران اور بعد از نو آبادیاتی عہد میٹرو پولیٹن سر مایے کی مدد سے استعمار کی  جانب سے ہوتی ہے۔ اگر چہ سر مایہ دارانہ پیش رفت کے نتیجے میں ہونے والی صنعتی ترقی کی وجہ سے اشیاء کی وسیع تر پیدائش اور سر مائے کے پھیلاؤ(Expended reproduction of capital) سے اقتصادی و معاشرتی تبدیلی کے آثار تو بے شک نمایاں ہو رہے تھے لیکن آزادی کے بعد بھی کسی قسم کی تبدیلی رونما نہ ہو سکی۔ ‘‘ (۶)

جس طرز کی تبدیلی کا اشارہ حمزہ علوی کر رہے ہیں اس طرح کی تبدیلی تو نہ ہو پائی لیکن نو آبادیاتی نظام کے تحت معاشی اور سماجی سطح پر دیگر کئی ایسی تبدیلیا ں رونما ہوئیں جن کا ذکر سا حر لدھیانوی کی مذکورہ نظم میں موجود ہے۔ ان تبدیلیوں کے حوالے سے ساحر کی نظم کا ایک بند ملا حظہ ہو۔ بستی پہ اداسی چھانے لگی، میلوں کی بہاریں ختم ہوئیں آموں کی لچکتی شاخوں سے، جھولوں کی قطاریں ختم ہوئیںدھول اڑنے لگی بازاروں میں بھوک اُگنے لگی کھلیانوں میں ہر چیز دوکانوں سے اٹھ کر روپوش ہوئی تہہ خانوں میں بد حال گھروں کی بد حالی بڑھتے بڑھتے جنجال بنی مہنگائی بڑھ کر کال بنی، ساری بستی کنگال بنی (۷) اگر جائزہ لیں تو سا حر لدھیانوی کا دور ایک ایسا دور ہے جس میں عالمی کساد بازاری (World Economic Recession)نے پوری دنیا کو معاشی بحران سے دوچار کر دیا۔ اس عالمی کساد بازاری کے اثرات ہندوستان کی نو آبادیاتی معیشت پر بھی پڑے۔ پیداوار میں بتدریج کمی، تجارت میں خسارہ، بینکوں کی ناکامی اور اس طرز کے دیگر مسائل نے یہاں بے روز گاری اور بھوک و افلاس کو فروغ دیا۔ وہ لوگ جو پہلے ہی غربت کے منحوس چکر (Vicious Cycle Of Poverty)میں پھنسے ہوئے تھے اب ان کی بدحالی میں مزید اضافہ ہوا اور عالمی کساد بازری کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر مرتب ہونے لگے۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی معاشی تبدیلیوں نے یہاں مہنگائی کے سیلاب کو بھی بڑھاوا دیا، جس نے عام آ دمی کی زندگی کو اجیرن بنا ڈلا، طلاق، بچوں کی اموات اور گھریلو ناچاکیوں کی شرح میں اضافہ ہوا۔ (گھریلو ناچاکیوں اور طلاق کے بیشتر مسائل کی جڑیں اقتصادی مسائل سے جڑی ہوتی ہیں۔ مزید بچوں کی تعلیم، صحت، لباس اورخوراک کے سبھی مسائل معاشی خوشحالی سے منسلک ہوتے ہیں)۔ اس معاشی بد حالی کے عہد میں بستیاں ویران ہوئیں اور ان کی چہل پہل اداسیوں میں بدلنے لگی اور کسان کھیت کھلیان چھوڑ کر شہروں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہوئے۔ چرخوں کی صدائیں، چوپال کی رونقیں، گاؤں میںمیلوں کی بہاریں، پھولوں کی خوب صورت قبائیں اورآموں کی لچکتی شاخیں غارت ہونے لگیں اور انسان اجناس سے بھی سستا ہو گیا۔ اجرتوں میں کمی کے باعث جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا جس کے باعث عزت دار گھروں کی بہو بیٹیاں سرِ بازار اُٹھ آ ئیں۔ ’’ پر چھائیاں ‘‘ میں سا حر اس صورت ِ حال کو یوں بیا ن کرتا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں۔  اس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کھیتی چھن جائے  ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بکتی ہے اس شام مجھے معلوم ہوا، جب بھائی جنگ میں کام آئیں  سرمائے کے قحبہ خانوں میں بہنوں کی جوانی بکتی ہے (۸)

نو آ بادیاتی نظام نے ہندوستانی تہذیب و تمدن کو اپنی لپیٹ میں لے کر اسے زخما دیا، لوگ احساس ِ محرومی کا شکار ہوئے اور تخلیقی کی بجائے تقلیدی رویے پروان چڑھے۔ علی گڑھ تحریک نے نو آ بادیاتی بالا دستی کو قبول کیا جو بنیادی طور پر ثقافتی اور سماجی تحریک تھی اور اجتماعی زندگی میں محکومانہ نفسیات کی مظہر تھی۔ سر سید نے ’’ اسباب ِ بغاوت ِ ہند‘‘ میں شکست کی جو وجوہات تحریر کی ہیں وہ اس پر دال ہیں۔ سر سید احمد خان کو اس بات کا عتراف کرنا پڑا کہ ہم غیر مہذب اور تعلیمی پسمانگی کا شکار ہیں۔ ۱۸۷۰ء میں انھوں نے جو رسالہ جاری کیا اس کانام ’’ تہذیب الاخلاق ‘‘ رکھا جو اسی احساس ِ کمتری کا آئینہ دار ہے کہ ہم غیر مہذب اور تعلیمی طور پر پسماندہ قوم ہیں۔ مزید راجہ رام موہن رائے کی شخصیت اور اس کی تحریک ’’ برہمو سماج‘‘ کو بھی اسی تنا ظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کی ا س بدلتی ہوئی معاشرت اور نو آبادیاتی معیشت کے اثرات پر بحث کرتے ہوئے ’’ہند میں انگریز ریاست‘‘ کا مصنف ’’مون پینڈرل ‘‘تحریر کرتا ہے۔

’’قدیم ہندوستانی گاؤں کی معاشیات پر جس کا انحصار گھریلو صنعت پر تھا۔ لنکا شائر کی مشین سے بنائے ہوئے مال کی آمد سے بڑا ثر پڑا۔  محاصل نے ان کی حفاظت نہیں کی اور لاکھوں جولاہے بے کار ہو گئے۔ ان کے ہزاروں گروہ دیہاتوں میں بکھر گئے۔ تمام کاشت کاری میں مشغول ہوئے تو کاشت کاروں کے بوجھل کندھے اور بھی شل ہو گئے‘‘(۹)

یہ سب انگریز کے رائج کردہ نو آبادیاتی نظام کا نتیجہ تھا جس میں بھوک و افلاس تیزی سے ملک کے طول و عرض میں اپنے آہنی پنجے گاڑ رہی تھی۔ ملک میں عام آدمی تلا ش ِ معاش کی خاطر گلیوں کی خاک پھانکنے پہ مجبور تھا۔ اس صورتِ حال کوساحرلدھیانوی نے بڑی شدت سے محسوس کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس راہ میں رن پڑے گا، خون بہے گا اور بے گناہوں کا سر پھوٹے گا۔ اس بد نما ماحول کے خلاف بغاوت کا جذبہ ساحر کی تمام شاعری میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس حوالے سے ا ن کی نظمیں ’’چکلے‘‘، ’’ تاج محل‘‘، طلوعِ اشتراکیت‘‘ اور ’’قحطِ بنگال‘‘ اہمیت کی حامل ہیں جس میں طنزیہ پیرایہ اختیار کرتے ہوئے ساحر نے یہاں کے ماحول پر صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ سا حر کا یہ رویہ ’’پر چھائیاں‘‘ میں بھی نمودار ہوا ہے۔ جہاں اس کے لہجے کی کھنک نو آبادتی اثرات کاپر دہ چاک کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے نظم کا اقتباس ملا حظہ ہو۔  افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بکے، کھلیان بکے  جینے کی تمنا کے ہاتھوں، جینے کے سب سامان بکے  کچھ بھی نہ رہا جب بکنے کو، جسموں کی تجارت ہونے لگی خلوت میں جو ممنوع تھی وہ جلوت میں جسارت ہونے لگی تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں (۱۰)

اسی عالمی کساد بازاری اوریورپی ممالک کے معاشی مفادات کی کوکھ سے دوسری جنگ ِ عظیم کا ظہور ہوا۔ ۱۹۳۹ء میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر کے جنگ کا آ غاز کیا، اٹلی نے جرمنی کا ساتھ دیا، فرانس اور برطانیہ نے جرمنی کے خلاف محاذ کھول دیا۔ دو سال بعد جرمنی نے روس پر حملہ کر دیا یہی وہ سال ہے جب جاپان نے بحر الکاہل میں امریکی اڈوں پر حملہ کر کے انھیں تباہ کر دیا یوں جنگ کی حدود وسعت اختیار کر کے تمام سمندروں تک پھیل گئیں۔ جرمنی جب جنگی لحاظ سے کمزور ہوا تو روس کی فوجوں نے مشرقی یورپ کے ممالک پر قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ اسی دوران میں پولینڈ اور رومانیہ میں کیمونسٹ حکومتیں قائم ہوگئیں۔ بالآخر ۱۹۴۵ء میں جرمنی نے شکست تسلیم کر لی اور دوسری جنگ ِ عظیم کا خاتمہ ہو گیا۔ اس جنگ کے اثرات بڑی شدت سے ہندوستان میں بھی محسوس کیے گئے۔ ۱۹۳۹ء سے۱۹۴۵ء تک جاری رہنے والی اس جنگ میں سو ملین سے زائد افراد نے بطور جنگی فوجی حصہ لیااورایک اندازے کے مطابق پچاس سے پچاسی ملین افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ تاریخ کا مہلک ترین واقعہ بن کر سامنے آئی۔ ہندوستان، برطانوی نو آبادی ہونے کی وجہ سے اس جنگ کا ایک اہم حصہ داررہا ہے۔ نو آباد کاروں نے ہندوستان سے فو جی دستے بھرتی کر کے دنیا کے مختلف خطوں میں محاذ آرائی کے لیے بھیجے۔ ان دستوں میں کیولر ی برگیڈ(Cavalry Brigade)، آرمڈبرگیڈ(Armoured Brigade)موٹر برگیڈ(Motor Brigade)، اینٹی ائیرکرافٹ برگیڈ(Anti Aircraft Brigade)اورانفینٹری برگیڈ(Infantry Brigade)کے نام نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ علاقائی ناموں سے متعدد برگیڈ وں میں شامل فوجیوں نے یورپ، افریقہ اور ایشیاء کے خطوں میں برطانوی حکومت کی خا طر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ اگر غور کریں تو ٍہندوستان کے نو آبادیاتی معاشی نظام نے عام آدمی کی زندگی کو ایسی سماجی اور معاشی ساخت میں جکڑ لیا تھا کہ وہ بلا چون و چرا حکومت کے احکام ماننے پر مجبور تھا۔ نوآ بادیاتی جاگیرداری نظام کے تحت گاؤں گاؤں سے نوجوانوں کو جبراً بھرتی کر کے فوج میں محاذ جنگ پر بھیج دیا جاتا اور اس کی سب سے بڑی اخلاقی قدر افسران ِ بالا کے احکام کی بجا آوری ہوتا۔ احکام کی بجا آوری میں وہ جس قدر چابکدستی اورمستعدی سے کام لیتا اسے اتنا ہی اچھا سپاہی سمجھا جاتا۔ وہ اختلاف کے حق سے محروم ہوتا، اس کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی کوئی اپنی حیثیت اور شناخت ہوتی۔ دوسری جنگ ِ عظیم میں ہونے والی تباہی اور اس کے عام آدمی پر اثرات کا ذکر ساحر لدھیانو ی نے اپنی نظم میں بڑی خوب صورتی سے سمویا ہے۔ سا حر لدھیانوی ایک انسان دوست شاعر ہے۔ اس کی انسان دوستی ملک و ملت، رنگ و نسل کے تعصب سے پاک ہے۔ انسانیت کا خون جہاں کہیں بھی ہوتا ہے وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ دوسری جنگ ِ عظیم اور اس کے ہندوستان پر اثرات کا اظہار اس کی نظم ’’ پرچھائیاں ‘‘ کے اشعار میں موجود ہے۔ ملا حظہ ہو۔  نا گاہ لہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدائیں آنے لگیں بارود کی بوجھل بو لے کر پچھم سے ہوائیں آنے لگیں تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا  ہر گاؤں میں وحشت ناچ اٹھی ہر شہر میں جنگل پھیل گیامغرب کے مہذب ملکوں سے کچھ خاکی وردی پوش آئےاٹھلاتے ہوئے مغرور آئے، لہراتے ہوئے مدہوش آئے خاموش زمین کے سینے میں خیموں کی طنابیں گڑنے لگیں  مکھن کی ملائم راہوں پر بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیں  فوجوں کے بھیانک بینذ تلے چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں جیپوں کی سلگتی دھول تلے پھولوں کی قبائیں ڈوب گئیں (۱۱)

ہندوستان کی تاریخ کے مطالعے سے آ شکار ہوتا ہے کہ نو آ بادیاتی نظام اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اقتدارکے خلاف مزا حمت کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا لیکن انگریز نے ہندو مسلم تضادات اور سماجی و سیاسی استحصال سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور ہر مز احمت کو سختی سے کچلنے میں کامیاب ہوا۔ ابتدائی مزاحمتوں کا سلسلہ اٹھارہویں صدی کے اختتام سے لے کر انیسویں صدی کے وسط تک پھیلا ہوا ہے۔ اس حوالے سے تلنگانہ کی مزاحمتی تحریک ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے جو انگریز کی کالونیل جاگیر داری کے خلاف سخت ردِ عمل تھا۔ بنگال میں حاجی شریعت اللہ اور تیتو میر کا کاشتکاروں کی مدد سے ’’ فرائضی تحریک ‘‘کا آ غاز، سید احمد شہید کی جدو جہد، ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی، ریشمی رومال کی تحریک اور عبید اللہ سندھی کی جدوجہد، تحریک ِ خلافت، عدم تعاون کی تحریک، غدر پارٹی کا قیام، بھگت سنگھ کی جدو جہد، خان عبدالغفار خان کی ’’ سرخ پوش ‘‘ یا ’’خدائی خدمت گار‘‘تحریک، راشٹریہ سیوک سنگ، کیمونسٹ پارٹی کی تحریک اور خاکسار تحریک اس امر کی واضح مثالیں ہیں۔ اگر غور کریں تو سیاسی سطح پر ابھرنے والی ان تحریکوں کے علاوہ یہاں کے تخلیق کاروں نے بھی اپنی تحریروں کے توسط سے نو آ بادیاتی نظام کے خلاف اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آ غاز میں ادب اور ادبی روایات نے شعوری اور لاشعوری طور پر مزاحمتی رویہ اختیار کیا۔ پریم چند، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، احمد ندیم قاسمی، جوش ملیح آ بادی، علی سردار جعفری، فیض احمد فیض اور سا حر لدھیانوی ایسے ادیب ہیں جنھوں نے سامراجی رویوں اور نو آبادیاتی نظام کی کج رویوں اور بے اعتدالیوں کو اپنی تخلیقات کا مو ضوع بنایا۔ سا حر لدھیانوی نے اپنی شاعری میں اس نظام کے خلاف نعرۂ مستانہ بلند کیا اور مساوات، امن ِ عالم، آزادی اور زندگی کی وہ دوامی قدریں جو تمام نوعِ انسانی کی بہتری کی داعویدار ہیں، سا حر کی شاعری میں جلوہ افروز ہوئیں۔ سا حر کے ہاں جو نو آبادیات کے خلاف ردِ عمل اوربنیادی انسانی اقدار کی بحالی کی خواہشات ابھر کر سامنے آ ئی ہیں، وہ غیر ارادی نہیں بلکہ ساحرکے عمیق سماجی شعورکی آ ئینہ دار ہیں اور سطحی ہیجانات کی بجائے گہرے احساسات سے وابستہ ہیں۔ درج ذیل اشعار ان کے اس رویے کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔  چلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیں  کہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہے جسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئے ہمیں حیات کے اس پیراہن سے نفرت ہے کہو کہ اب کوئی قاتل اگرادھر آ یا تو ہر قدم پر زمیں تنگ ہوتی جائے گی ہر ایک موج ِ ہوا رخ بدل کے جھپٹے گی ہر ایک شا خ رگ ِ سنگ ہوتی جائے گی (۱۲) سا حر کی مذکورہ نظم میں ہندوستان میں موجود نو آبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمتی رویہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وطن کی محبت، انسان دوستی کا رویہ، آ زادی اور انسان کے لیے جذبۂ عظمت نے بھی سا حر کے گہرے سماجی اور معاشرتی شعور کو اجاگر کیا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بر ِ صغیر کے بنیادی مسائل، تقا ضو ں اور امنگوں کا بھر پور ادراک رکھتا ہے۔ سا حر کا آدرش ہے کہ عوام کو ہر قسم کے جبر اور ظلم سے نجات دلا کر انھیں اس کی عظمت اور خوشحالی لو ٹائی جائے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ’’ پرچھائیاں ‘‘ سا حر کی ایک ایسی نظم ہے جو رو حانی و ذہنی تسکین کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ قاری کو زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کرواتی دکھائی دیتی ہے، تو غلط نہ ہو گا۔

حوالہ جات۱۔ ریاض حسین شاہ، اردو ناول پر نو آبادیاتی تمدن کے اثرات، مقالہ پی ایچ ڈی، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد، ص۱۳۲۔ اسفند شبیر، نو آبادیاتی عہد میں اردو افسانے کا مزاحمتی رویہ، مقالہ برائے ایم فل، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد، ۲۰۱۳، ص۶۰ ۳۔ سا حر لدھیانوی، کلیات ِ ساحر، رابعہ بک ہاؤس، لاہور، سن ندارد، ص۲۷۹ ۴۔ ساحر لدھیانوی، کلیاتِ ساحر، محولہ بالا، ص۲۸۱۵۔ سردار جعفری دیباچہ، مشمولہ، کلیاتِ ساحر، محولہ بالا، ص۲۷۵ََِؐ۶۔ حمزہ علوی، جاگیر داری اور سامراج، فکشن ہاؤس، لاہور، ۲۰۱۰ء، ص۱۰۱۷۔ ساحر لدھیانوی، کلیاتِ ساحر، محولہ بالا، ص۲۸۳۸۔ سا حر لدھیانوی، تلخیاں، محمود پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۹۹ء، ص۱۲۷۹۔ مون، پینڈرل، ہند میں انگریز ریاست، تخلیقات، لاہور، ۱۹۹۵ء، ص۶۱۰۔ سا حر لدھیانوی، تلخیاں محولہ بالا، ص ۱۲۵۱۱۔ ساحر لدھیانوی، کلیات ِ ساحر، محولہ بالا، ص ۲۸۳۱۲۔ سا حر لدھیانوی، تلخیاں، محولہ بالا، ص۱۳۰

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: