کتابوں کی دنیا سلامت رہے —– عبدالخالق سرگانہ

0

اسلام آباد میں نیشنل بُک فائونڈیشن کا تین روزہ بُک فیسٹیول اتوار کو ختم ہو گیا۔ فیسٹیول میں پہنچا تو اتنی زیادہ گاڑیاں تھیں کہ مجھے پارکنگ ڈھونڈنے میں پندرہ بیس منٹ لگ گئے لیکن میں اس سے بدمزہ نہیں ہوا بلکہ مجھے ایک گونہ اطمینان ہوا کہ کتابوں کی دنیا سلامت ہے۔ یہ سُن کر دل بیٹھ سا جاتا ہے کہ کتاب کا زمانہ گزر گیا ہے اس کی جگہ ٹیکنالوجی نے لے لی ہے پھر یہ کہ نئی نسل تو ٹیکنالوجی کے علاوہ انگریزی زبان کی گرفتار ہے اُن کا تو اُردو سے تعلق ختم ہو گیا ہے اور یہ کسی حد تک صحیح بھی ہے میں تو اِسے ایک المیہ سمجھتا ہوں کہ نئی نسل اُردو سے دور ہونے کی وجہ سے اپنی تہذیبی روایت سے دور ہورہی ہے۔ بہرحال ایسے ادبی میلوں میں شامل ہو کر کچھ حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے اور مایوسی کچھ چھٹنے لگتی ہے کہ ابھی شاید کچھ زیادہ نہیں بگڑا۔ غنیمت ہے کہ کچھ شخصیات اور ادارے اس شعبے میں مثبت کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ تحریک یا روایت غالباً کراچی سے شروع ہوئی تھی لیکن اب ملک بھر میں پھیل چکی ہے۔ پنجاب اور لاہور کے بعد اب فیصل آباد میں بھی یہ مثبت سرگرمی پہنچ چکی ہے اور تو اور گوادر جیسے چھوٹے اور دور دراز شہر میں بھی کتاب میلہ بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ اسلام آباد ایک زمانے تک تو اس لحاظ سے بنجر تھا کہ یہاں اس قسم کی کوئی سرگرمی بہت کم دیکھنے میں آتی تھی لیکن اب کچھ سالوں سے نیشنل بُک فائونڈیشن سرگرم ہے۔ درمیان میں آکسفورڈ  والے بھی اس طرح کے ایک بھرپور فیسٹیول کا اہتمام کرتے تھے لیکن انہوں نے پتہ نہیں کیوں یہ سلسلہ منقطع کر دیا ہے۔ بہرحال نیشنل بُک فائونڈیشن یہ فیسٹیول بھرپور طریقے سے منا رہی ہے۔ سنا ہے تین دنوں میں تین کروڑ روپے سے زیادہ کی کتابیں فروخت ہوئی ہیں۔

فیسٹیول میں کتابوں کے سٹالوں کے علاوہ بہت سے موضوعات پر مذاکرے اور محفلیں منعقد ہوئیں، کئی کتابوں کی رونمائی ہوئی، مطالعے کے موضوع پر بھی ایک نشست ہوئی، کئی نشستیں کتاب خوانی کی ہوئیں، ایک میں میں بھی حاضر تھا۔ ایک دو لوگوں نے اچھے اقتباسات سنائے لیکن حاضری کافی کم تھی اور ایک اور بات کہ ایسے سیشنز میں میرے خیال میں سٹیج سیکرٹری کو مصنف کے بارے میں کچھ بتانا چاہئے کہ تخلیق کے عمل میں اُن کا شعبہ کونسا ہے اور اُن کی کتابوں کے نام بھی بتا دیئے جائیں تو میرے جیسے عام قاری کے لئے مفید ہو گا۔ وہاں کچھ لوگوں نے کسی دوسرے مصنف کی کسی کتاب سے کوئی اقتباس سنا دیا۔ پتہ نہیں چلا کہ خود وہ بھی صاحب تصنیف ہیں یا نہیں۔ فیسٹیول میں غیرملکوں میں مقیم پاکستانی اہل قلم کے لئے بھی ایک تقریب ہوئی پھر یہ کہ ملک بھر سے شاعروں، ادیبوں کو اس موقع پر مدعو کیا جاتا ہے اور یوں ایک قومی یکجہتی کی فضاء پیدا ہوتی ہے۔ علامہ اقبال ؒ کے بارے میں ایک تقریب بھی اس سارے پروگرام میں بہت اہم تھی جو مین آڈیٹوریم میں ہوئی اورآڈیٹوریم میں خالی جگہ کم ہی نظر آئی یہ ایک اچھا شگون ہے کہ ہر عمر اور رتبے کے لوگ اتنی بڑی تعداد میں اس تقریب میں موجود تھے۔ اس تقریب کے روح رواں سابق آئی جی پولیس ذوالفقار چیمہ تھے۔ چیمہ صاحب سروس میں نیک نامی کے علاوہ یہ بھی بہت نیک کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے اقبال کونسل کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنایا ہوا ہے۔ ہمارے دوست پروفیسر مسعود زاہد اس کے سیکرٹری ہیں۔ پچھلے ہفتے ترکی کے سفارتخانے میں ایک تقریب ہوئی جو دراصل اُن کے قومی شاعرمحمت عاکف ارسوی کے بارے میں تھی لیکن چیمہ صاحب کی کوشش اور دلچسپی کی وجہ سے اقبال کونسل نے بھی اس میں حصہ ڈالا اور یوں تقریب میں دونوں ملکوں کے قومی شاعروں کا ذکر ہوا۔

فیسٹیول والی تقریب میں ممتاز دانشور جناب فتح محمد ملک نے صدارت کی۔ ملک صاحب نے اقبال ؒ کے بارے میں قابل قدر کام کیا ہے اور اقبال ؒ کی شخصیت اور کلام کے بارے میں بعض ناقدین کی تحریروں کا منطقی ابطال کیا ہے۔ آجکل سندھ کے کچھ دوست ہماری قومی شخصیتوں قائداعظم اور علامہ اقبال کے خلاف تحقیق کے نام پر مہم چلا رہے ہیں۔ پتہ نہیں اُن کا مشن کیا ہے اُنہیں ملک صاحب کی تحریروں سے استفادہ کرنا چاہئے اگر وہ حقائق تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

کتاب کی اہمیت تو ہر دور میں رہی ہے لیکن افراتفری کے اس دور میں اس کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ سومر سیٹ ماہم نے کہا تھا کہ کتاب کا مطالعہ اور موسیقی دنیا میں مایوسی کا سب سے بڑا توڑ ہیں۔ ممتاز دانشور ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنی کتاب ’’بازدید‘‘ میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا کسی زمانے میں جھنگ میں زیرتعلیم رہے ہیں اُن دنوں گورنمنٹ کالج جھنگ میں عربی کے ایک جید عالم ڈاکٹر ضیاء الحق بھی کالج کی فیکلٹی میں شامل تھے۔ ڈاکٹر ضیاء الحق نے ایک دن وزیر آغا سے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ تم بڑے ہو کر کتابیں تحریر کرو گے پھر انہوں نے کتاب کے بارے میں ایک پتے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ کتاب بہت اہم چیز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی انسانوں سے ایک کتاب کے ذریعے ہی مخاطب ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: