دیباچے کی اہمیت و معنویت —– معراج رعنا

0

یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ تحریر مصنف کی خلقی ذات کا پرتو ہوتی ہے۔ خواہ تحریر تخلیقی ہو یا تنقیدی، اُس کے دروبست میں مصنف کی نفسیات کہیں نہ کہیں ضرور کارفرما ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہ تحریر کا مزاج اور اُس کی کیفیت کسی بھی نوع کی کیوں نہ ہو وہ لکھنے والے کی ذات کو مرقوم کرتی ہے۔ کسی تصنیف یا تالیف میں دیباچہ ہی وہ پہلا مقام ہوتا ہے جہاں قاری تحریر کے وسیلے سے مصنف یا مولف کی علمیات و نفسیات سے متعارف ہوتا ہے۔ دیباچے کی روایتی تعریف تو یہ ہے کہ یہ کسی کتاب کا تعارفی خاکہ ہوتا ہے۔ جس کے مطالعے سے قاری کو کتاب کی موضوعی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ جب کہ غیر رسمی دیباچے کا تعارفی دائرہ ادب کے موضوعاتی دائرے کی طرح حد درجہ وسیع و عریض متصور کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ جو دیباچے رسمی یا روایتی طرز پر لکھے جاتے ہیں یا لکھے گئے ہیں اُن میں مصنف کی علمی دبازت پرت در پرت اُس طرح نہیں کھلتی جس طرح غیر رسمی دیباچوں میں کھلتی ہے۔ رسمی دیباچہ عام طور پر کتاب کا تعارفی خاکہ ہوتا ہے۔ اور یہ تعارفی خاکہ عام کتابوں کا عام تحریری رویہ رہا ہے۔ لہٰذا اس نوع کے دیباچے میں کسی خاص نکتے کی نشان دہی ممکن نہیں۔ اردو زبان و ادب سے متعلق کتابوں کے ایک بڑے ذخیرے میں ایسی کتابوں کی نشان دہی بہت مشکل ہے جن کے دیباچے سے کسی فکری نکتے کی دریافت ممکن العمل نظر آتی ہو۔ لیکن جب یہ بات کہی یا لکھی جاتی ہے تو اس سے یہ نہیں سمجھا جانا چاہئیے کہ رسمی دیباچے میں فکر و فن کے کسی پہلو کو انگیز کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ دوسری زبانوں میں لکھی گئی ایسی متعدد کتابیں موجود ہیں جن کے رسمی دیباچے اپنی فکری دبازت کی وجہ سے نظری حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔ اب رہا سوال اردو کتابوں کے غیر رسمی دیباچے کاتو یہاں بھی اشاعتی تناسب کے اعتبار سے مایوسی ہی نظر آتی ہے۔ بعض کتابوں کو منہا کر کے دیکھا جائے تو یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ گزشتہ دو تین دہائیوں میں ازم اور تحریک کے نام پر اردو کے ادبی معاشرے میںجو کتابیں منظرِ عام پر آئی ہیں (اُن کتابوں سے قطع نظر) اُن کے دیباچے سے کسی بھی فکری ڈسکورس یا بحث و تمحیص کی راہ ہموار نہیں ہوتی۔ حالانکہ دیکھا جائے تو فارسی اور اردو کی کلاسیکی روایت میں ایسی کتابیں موجود ہیں جن کے دیباچے اتنے عمیق و دقیق ہیں کہ اُن پر بحث و تمحیص کی ایک بڑی دنیا آباد ہے۔ یہی نہیں بلکہ اُن کے دیباچے کتاب کے موضوعات سے کہیں زیادہ اہمیت کے حامل ٹھہرے ہیں۔ اس ضمن میں امیر خسرو کی مثال بالکل سامنے کی ہے۔ اُن کا تیسرا دیوان “غرۃ الکمال “کے نام سے 1294میں مکمل ہوا تھا۔ خسرو کا یہ دیوان اپنے مشمولات سے کہیں زیادہ اپنے دیباچے کی وجہ سے مشہور ہوا۔ اُنھوں نے اپنے اس دیوان کے طویل دیباچے (جو تقریباساٹھ صفحے پر مشتمل ہے) میں تیرہویں صدی کی ادبی تہذیب کے ساتھ ساتھ شاعری کے متعدد اہم نکات پر بحث کی ہے:

گویندگان بیش بیش از دونقط ترکیب نگردہ اندزیرا کہ ترتیب معنی زاید
از دو نقط تا غایت سہ دشوار است من بندہ از آنجا حدت دبزانی تیغ زبان
من است قطعہ تقطیع کردہ ام کہ زبان جواب انجا علی القطع بریدہ است
از این روی کہ در ہر بیتی مصراع آخر تمام از یک جنس لفظ بر سبیل صنعت
اشتقاق معنوی و بے تکلیف ربط یافتہ است چنانکہ حرفی زاید برائے اسم
در آن فعل نمی تواند کرد۔ (غرۃ الکمال، (P-55

خسرو نے مذکورہ اقتباس میںصنعتِ اشتقاق کی لفظی ترکیب و تشکیل اور شعر میں اس کے ااستعمال کی دشواریوں کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس صنعت سے پیدا ہونے والی معنوی خوبی و خامی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ غرۃ الکمال میں شعر و حکمت اور فکر و فن سے متعلق ایسی متعدد موشگافیاں موجود ہیں۔ یوں تو خسرو کے فکر و پرفن پرتحریروں کا ایک وافر ذخیرہ موجود ہے۔ شبلی اوروحید مرزا سے لے کرگو پی چند نارنگ تک خسرو شناسی کی تصنیفی روایت کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ وحید مرزا نے خسروکی زندگی اور فن پر ایک اچھی کتاب لکھی ہے لیکن غرۃ الکمال کے دیباچے کے حوالے سے یہا ں بھی تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں یہ ذکر ناگزیر ہے کہ غرۃ الکمال کے دیباچے پر شمس الرحمن فاروقی اور قاضی جمال حسین نے بھر پور تنقیدی محاکمہ پیش کیا ہے۔ قاضی جمال حسین نے اُسی رتبے کا مضمون لکھا ہے جس رتبے کا دیباچئہ غرۃ الکمال ہے۔ جہاں تک فاروقی صاحب کا سوال ہے، اُنھوں نے خسرو پر کوئی مستقل کتاب تو نہیں لکھی لیکن غرۃالکمال کے دیباچے پر جو مضمون لکھا ہے وہ خسرو پر لکھی گئی ضخیم و حجیم کتابو ںپرفضیلت کا استحقاق رکھتا ہے۔ غرۃ الکمال پر لکھے گئے یہ دونوں مضامین” شب خون” (الہ آباد)میں شایع ہوئے تھے۔ دوسری مثال شیخ ظہور الدین حاتم کے دیوان “دیوان زادہ” کے دیباچے کی ہے۔ حاتم کا یہ دیوان 1755میں مرتب ہوا تھا۔ اٹھارہویں صدی کے اوائل میں شمالی ہندوستان میں جن شعرا کے فیضانِ سخن سے اردو شاعری کا چراغ روشن ہو اُن میں ــظہور الدین حاتم خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ دہلی میں اردو شاعری کی ابتدا ایہام گوئی کی ادبی تحریک کے زیرِ اثر ہوئی۔ اس عہد کے بیشتر شعرا(آبرو، حاتم، شاکر ناجی، مضمون، یک رنگ، مظہر، یقین وغیرہ) ہمہ وقت ایسے الفاظ کی کی تلاش و جستجو میں سر گرداں رہتے تھے جو ذو معنی ہوں۔ جس کے نتیجے میں اردو شاعری ایک نوع کی پہیلی اور گورکھ دھندا بن گئی تھی۔ آمد کے بر عکس آورد کے عملِ شدید نے شعر سے داخلی جذبوں، متصوفانہ فکر اور دروں بینی کے میلانات کو پوری طرح بے دخل کر دیا تھاجو اُس وقت کی فارسی شاعری کے نمایاں اوصاف تھے (حالانکہ فارسی شاعری میں بھی ایہام کا استعمال موجود تھا)۔ یہام گوئی کی تمام خامیوں کے با وجود یہ بات بھی سچ ہے کہ اردو زبان اور اُس کی کی شاعری میں ہندی نیز دیسی زبان کے ایسے متعدد الفاظ شامل ہو گئے جو ذو معنویت کی صفت سے متصف تھے۔ لیکن اس ضمن کا سب سے بڑا واقعہ یہ ہے کہ جب 1720میں ولی کا دیوان دہلی پہنچا تو اُس کے مطالعے کے بعد دہلی کے شعرا میں یہ احساس پیدا ہوا کہ شاعری محض ذو معنی الفاظ کے استعمال اور محبوب کے خارجی خد و خال کے اظہار کا نام نہیںبلکہ اس میں ہر نوع کی کیفیت کو بیان کرنے کی غیر معمولی قوت موجود ہے۔ لہٰذا اسی احساس کے نتیجے میں دہلی کے شعری معا شرے میں اصلاحِ زبان کی تحریک کا آغاز ہوتا ہے۔ اس ضمن میں حاتم اور مظہر جانِ جاناں کے نام سرِ فہرست ہیں۔ یوں توحاتم کثیر الاشعار شاعر تھے اور اُنھوں نے اپنا ایک ضخیم دیوان بھی مرتب کیا تھا۔ لیکن اصلاحِ زبان کی تحریک کے بعد اُن پر غزل اور ریختے کے بیچ کا فرق واضح ہوگیا۔ یہی وجہ تھی کہ حاتم غزل یا ریختے میں دروں بینی کی اُس روایت کے حامی بن گئے جو ولی دکنی سے شروع ہوتی ہے۔ بقول حاتم “در ریختہ ولی را استاد می داند”۔ شائد یہی وجہ تھی کہ وہ فارسی میں صائب اور اردو میں ولی کو اپنا استاد تسلیم کرتے تھے۔ ولی کے اثرات اور اصلاحِ زبان کی تحریک کے نتیجے میں اُنھوں نے اپنے ضخیم اردو دیوان سے ایسے اشعار ِ کثیرہ نکال دیے جن میں یہام اور خارجی معاملات کا اظہار موجود تھا۔ اُنھوں نے نو مرتب دیوان کا نام” دیوان زادہ “رکھا جو مختصر ہے۔ لیکن حاتم نے اس دیوان کا ایک اہم دیباچہ لکھا ہے۔ جس میں میں اُنھوں نے یہام گوئی، اصلاحِ زبان کی تحریک، اور اُ س زمانے کی ادبی تہذیب کی صورتِ حال بیان کی ہے۔ دیکھا جائے تو دیوان زادہ کا یہ دیباچہ نظری نوعیت کی تحریر معلوم ہوتا ہے۔ اور اس نظری تحریر سے نہ صرف یہ کہ اُس زمانے کی ادبی صورتِ حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے بلکہ اس کے توسط سے خود حاتم کے نظریئہ شعر کو بھی بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اردو ادب کے موجودہ منظر نامے پر ایک سر سری نظر ڈالی جائے تو یہاں مرتبین کی کثرت نظر آتی ہے۔ یعنی یہ کہ مصنف بننے کی خواہش میںایسے لوگوں کی ایک بھیڑ ہے جو راتوں رات (مصنف بننے کی چاہ میں) کسی موضوع پر لکھی گئی دوسروں کی تحریروں کو مجتمع کر کے ایک مختصر سے دیباچے کے ساتھ شائع کروا دیتے ہیں۔ قطرہ قطرہ سمندر می شود، اور کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا جوڑ کرترتیب دی جانے والی کتاب کے دیباچے سے یہ توقع کی ہی نہیں جاسکتی کہ اُس میں اغراض ِ ترتیب کی کوئی مضبوط فکری اساس موجود ہو۔ ایسی تحریریں اور ایسی کتابیں شائع ہوتے ہی نہ صرف یہ کہ گوشئہ گمنامی میں چلی جاتی ہیں بلکہ دوسروں کے موقر مضامین بھی اپنی Readability یا پڑھوانے کی قوت سے منہا ہو جاتے ہیں۔ ترتیبِ کتب کا عمل بظاہر آسان معلوم ہوتا ہے لیکن در اصل یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور اس مشکل کام کو اردو معاشرے میں اُنھیں لوگوں نے کیا ہے جو بڑے ناقد و محقق کی سے حیثیت سے مقبول ہو چکے ہیں۔ اس ضمن کی ایک اہم کتاب ” نئے نام” ہے۔ اس کتاب کو 1967میں اردو کے ممتاز نقاد شمس الرحمن فاروقی نے مرتب کیا تھا۔ جس میں 173جدید شاعروں کی نظمیں اور غزلیں شامل ہیں۔ یہاں کتاب میں شامل تخلیقات کی معنوی اہمیت کو بیان کرنا نہیں بلکہ یہ ذکر مقصود ہے کہ فاروقی صاحب نے اس کتاب کا ایک بھرپور دیباچہ ” ترسیل کی ناکامی کا المیہ” کے عنوان سے لکھا ہے جس میں اُنھوں نے نئی اور پرانی شاعری اور اُس کی زبان کے متعلق مدلل بحث کی ہے۔ جس کی گونج ستر کی دہائی میںہر طرف سنائی دے رہی تھی۔ فاروقی صاحب لکھتے ہیں:

“شاعری کے ارتقا کی دو منزلیں ہیں۔ ایک تو جب شاعر اپنے دور سے بہت حد تک ہم آہنگ ہوتا اور اُس کی زبان اپنے عہد کی زبان سے بہت دور نہیں ہوتی۔ ایسے زمانے میں شاعر نسبتہ زیادہ ابلاغ کا اہل ہوتا ہے اور ترسیل کی مسرت اس کے شعر کا موضوع ہوتا ہے۔ ایسے عہد میں شاعر جذباتی اور ذہنی مسائل کو الجھانے سے زیادہ سلجھانے کا کام انجام دیتا ہے۔ دوسری منزل میں شاعر کی زبان اپنے عہد کی زبان
سے دور ہونے کی وجہ سے نسبتہ کم ابلاغ کی اہل ہوتی ہے۔ ایسی شاعری کا سر چشمہ ترسیل کی ناکامی سے پیدا ہونے والے المیے کا احساس ہوتا ہے”(نئے نام، شمس الرحمن فاروقی، 16)

فاروقی صاحب کے مذکورہ اقتباس کی روشنی میں اگر اردو کی انیسویں اور بیسویں صدی کی اردو شاعری کا مطالعہ کی جائے تو زبان کی یہ تفریق آسانی کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔ اور زبان کی اسی تفریق کے نتیجے میں ترسیل کی کامیابی اور ناکامی کی بنا استوار ہے۔ غالب کے ابتدائی کلام کی نا مقبولیت اُس عہد کی زبان سے عدم ہم آہنگی تھی جو دہلی کے شعرامثلا ذوق اور مومن وغیرہ میں رائج تھی۔ داغ کے یہاں زبان اپنے عہد سے مربوط ہونے کی وجہ سے معنی کی ترسیل میں کسی نوع کی رکاوٹ پیدا نہیں کرتی۔ لیکن میراجی، راشد، اختر الایمان، شہریار، منیر نیازی، افتخار عارف اور ظفر اقبال کے یہاں زبان ایک نوع کی غیر مانوسیت یا پیچیدگی کی فضا قائم کرتی ہے۔ انگریزی شعر و ادب میں William Wordsworth کی ترتیب دی گئی کتاب “Lyrical Ballads”کا دیباچہ آفاقی شہرت کا حامل ہے۔ جس میں ورڈس ورتھ کی 18 اور کولرج کی 5 نظمیں شامل تھیں۔ شاعری کا یہ انتخاب 1798میں شائع ہوا تھا۔ لیرکل بیلڈز کی اشاعت شعری تجربے کے طور پر ممکن ہوئی تھی۔ جب یہ کتاب اپنے ایک مربوط و مبسوط دیباچے کے ساتھ منظرِعام پر آئی توانگریزی شعر و ادب میں رومانیت کی تحریک انقلاب آفریں ثابت ہوئی۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد 5ستمبر 1798کو Southeyنے William Taylorکو ایک خط لکھا تھا جس کی عبارت سے کتاب کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

Have you seen a volume of Lyrical Ballads, etc?
They are by Coleridge and Wordsworth,but their names not
affixed.Coleridge,s Ballads of the Ancyent Mariner is,
I think, the clumsiest attempt at German sblimity I
ever saw. Many others are very fine
(Biographia Literaria,p-8)

مذکورہ خط میںکولرج کی نظم” قدیم العمر جہازی کا نغمہ” کے متعلق Southey نے جرمنی کے افتخار کے اظہار میں “بھدے پن “کا ذکر کیا ہے جو بہ ظاہر منفی تاثر دیتا ہے لیکن در اصل یہی اس کتاب کا مقصد تھاکہ تجربی شاعری کے وسیلے سے نئی شعریات کی تشکیل کو ممکن العمل بنایا جائے۔ جس میں ورڈس ورتھ پوری طرح کامیاب ثابت ہوا تھا۔ ورڈس ورتھ نے صاف صاف کہا ہے کہ لیریکل بیلڈز کی اشاعت شعری تجربے کے طور پر عمل میں آئی ہے۔ اس میں شامل نظموں کے وسیلے سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا عروضی ترتیب سے ہم آہنگ عام انسانوں کی عام زبان(جوانبساط آمیز ہوتی ہے)

عام انسانوں تک اُسی طرح پہنچتی ہے جس طرح شاعر اُس زبان کو پہنچانے کا متمنی ہوتا ہے؟لہٰذا اسی غرض سے ورڈس ورتھ نے ایسی نظمیں منتخب ومرتب کی تھیں جن میں عام انسانی زندگی اور عام انسانی صورتِ حال اُسی زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اور جو عام انسانی زندگی کے قراتی نظام سے وابستہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ بیلڈز کی نظموں میں تخئیل کی آمیزش بھی کی گئی تھی کہ جس سے عام اشیا کا تصور اختصاص کی صفت سے متصف ہو جائے۔ جس کے نتیجے میں عام انسانی زندگی اور عام انسانی صورتِ حال قاری کے لیے تحیر انگیز اور دلچسپی کا سبب بن سکے۔ ورڈس ورتھ کا یہ دیباچہ اتنا اہم ثابت ہوا کہ اُس کے معاصر اور رفیقِ دیرینہ کولرج نے اپنی کتاب (1817) “Biographia literaria”کے دیباچے میں ایک مربوط بحث کی بنیاد ورڈس ورتھ کی فکر پر رکھی۔ اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ لیریکل بیلڈز کی تجربی نظمیں جن میں موضوعات اور غیر معمولی بلاغتی زبان کا استرداد موجود تھا، وہ استردادی زبان عام انسانی زبان میں ایک بڑی حد تک منظم نہیں ہو سکی ہیں۔ اس لیے یہاں انبساط آفریں مفادِ شعری کی ترسیل ممکن نہیں ہوئی جو کہ شاعری کا ایک مخصوص کام ہے۔ حالانکہ اسی دیباچے میں کولرج نے جہاں ایک طرف اپنی نظموں(Rime of the Ancient Mariner,The Dark Ladie,Christabel ( کے تخلیقی محرکات بیان کیے ہیں، وہیں دوسری طرف اُس نے ورڈس ورتھ کی شعری عظمت کا اعتراف بھی کیا ہے۔ کولرج نے ” بایوگرافیا “کے دیباچے میں متعدد تحیر انگیز فکری بحث کی ہے۔ یہاںوہ ورڈس ورتھ کی رائے سے عدم اتفاق کی بنیاد پر یہ کہتا ہے کہ عروضی نظام کی غیر موجودگی میں بھی Platoاور Bishop Taylorکی تحریریں اعلیٰ درجے کی شاعری تسلیم کی جا سکتی ہیں۔ کولرج کے الفاظ ہیں:

The writings of Plato ,and Bishop Taylor , and the
“Theoria Sacra” of Burnet, furnish undeniable proofs
that poetry of the highest kind may exist without metre
(Biographia Literaria,p.13)

کولرج آخر میں اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مضمونِ عالیہ شعری ذہانت کا جسم، فکر اُس کی چلمن، جذبہ اُس کی زندگی اور تخئیل اُس کی روح ہوتا ہے جو اُس کے تار وپود میں ہر جگہ سرایت ہوتا ہے۔ John Dryden کی کتاب ” Fables,Ancient and Modern “(جو 1700میں چھپی تھی)آج بھی ایک معرکتہ الآرا بحث کا سرچشمہ تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کتاب کو معرکتہ الآرا بنانے میں اس کے دیباچے کا کلیدی کردار رہا ہے۔ ایسا دیباچہ جس کے سامنے موٹی موٹی تقابلی تنقید کی کتابیں بھی کم رتبہ نظر آتی ہیں۔ جون ڈرائڈن نے لکھا ہے “کہ ملٹن، اسپینسر کی شعری اولاد تھا، اور اسپینسر نے ایک سے زائد بار یہ اشارہ کیا تھا کہ چوسر کی روح اُس کے جسم میں حلول ہو گئی تھی، اور ملٹن نے مجھ سے یہ اقرار کیا تھا کہ اسپینسر اُس کی شعری فکر کا اصل سرچشمہ تھاـ”یہاں اُس نے Homerاور Virgilکے طریقِ کار اور فطری جھکائو کی مدلل بحث کی ہے۔ اُس کہنا ہے کہ” ورجل پوری طرح مسکن المزاج تھا۔ ہومر متشدد، غیر تعقلی اور پُر آتش تھا۔ ورجل کی کلیدی صلاحیت تنوع الافکاریت اور تغزلانہ الفاظ کے استعمال کی تھی۔ ہومر بارق الافکار تھاـ”وہ آگے لکھتا ہے کہ” ہومر کی ایجاد غزیر و متنوع تھی۔ جب کہ ہومر کی قابلیت محدودیت کی حامل تھی”ڈرائڈن مزید لکھتا ہے کہ ہومر کی تحسین وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں اُسے اختتام پذیر ہونا چاہئیے تھا۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ شعر القصصی یعنی Epic Poemکی پہلی خوبصورتی لفظیات سے متشکل ہوتی ہے۔ اردو میں اس نظریے کی پہلی تحریری بازگشت خواجہ حالی کے یہاں سنی گئی تھی۔ حالی کی” تفحصِ الفاظ” کی پوری بحث اس ضمن میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ عربی معلقات کی شاعری میں یہی بحث حسان بن ثابت کے قصیدے کے ایک شعرپر جسے حسان نے خود بیت القصیدہ قرار دیا تھا، نابغہ ذبیانی کی موجودگی میںپہلی شاعرۃ اسلام خنساء ( 645.D (نے کی تھی:
لنا الجفُنات الغریلمعن با لضحیٰ
واسیافنا یقطرن من بخد ۃ دما

اس شعر پر خنساء کا اعتراض یہ تھا کہ حسان نے “اسیاف “کا استعمال کر کے شعر کے افتخار کو کم کر دیا ہے کیوں کہ اسیاف کا لفظ دس سے کم تلواروں کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں وہ مزید کہتی ہیںکہ اُنھیں اس لفظ کی جگہ ” سیوف “استعمال کرنا چاہئیے تھاکہ اس میں کثرت کے معنی پنہاں ہیں۔ لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انتخابِ الفاظ کی ہنر مندی ہی شعر میں رنگ آمیزی اور معنوی امکانات کو وسیع کرتی ہے۔ Samuel Johnsonکی ایک اہم کتاب (1765) ” Preface to the Plays of William Shakespeare ـ” ہے جس کا دیباچہ کلاسیکی نوعیت کا حامل ہے۔ یہاں جونسن نے شیکسپیر کے ڈراموں کے کراداروں اور اُن کے مکالموں کے متعلق حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں۔ اُس کا کہنا ہے کہ شیکسپیر کے مکالمے صورتِ حال اور واقعات کے بالکل تابع ہوتے ہیں، اور جو بہت ہی سادہ ہیں اور آسانی کے ساتھ خلق کیے گئے ہیں۔ جونسن کے مطابق یہی شیکسپیر کے فکشن یا ڈرامے کی امتازی خوبیاں ہیں۔ جونسن آگے لکھتا ہے کہ شیکسپیر کا کوئی ہیرو نہیں۔ اُس کے مناظر عام آدمیوںسے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ وہی کام اور گفتگو کرتے ہیں جس کے متعلق ناظرین بھی یہی سوچتے کہ اگر وہ بھی ڈرامے میں مائل بہ عمل ہوتے تو یہی کام انجام دیتے اور یہی گفتگو کرتے۔ اسی طرح Francis Baconکی کتاب”The Instauration Magna” (1620)”کا دیباچہ بھی اہم دیباچوں میں شامل ہے۔ جس میں بیکن فطرت کی ترجمانی کے فن کو متعارف کرتا ہے اور اُسے ایک نوع کی منطق قرار دیتا ہے۔ اسی دیباچے میں اُس نے تاریخِ علوم پر ایک نئے انداز سے غور کیا ہے۔ Derridaکی پہلی کتاب Edmund Husserlکی کتاب “Origin of Geometry”کا ترجمہ تھی۔ جس میں دریدا کا ایک طویل تنقیدی دیباچہ شامل تھا۔ اس دیبچے کے حوالے سے دریدا نے ہسرل کے فلسفے کی بھر پور تنقیدی گرفت کی ہے۔ کم و بیش یہی کام دریدا کی کتاب “Of Gramatology”(1944)کے پہلے انگریزی ترجمہ کے دیباچے میں گایتری چکرورتی نے کیا ہے۔ ہیگل کے تصورِمتن کے تناظر میں دریدا کی فکر کا محاسبہ کرتے ہوئے گایتری چکرورتی لکھتی ہیں کہ دریدا کی اظہاریتِ نو میں دیباچائی متن یعنی Preface-textاپنے دونوں سرے پر کھلا ہوتا ہے۔ وہ آگے لکھتی ہیں کہ متن کی کوئی پائیدار شناخت نہیں ہوتی ہے۔ اور نہ ہی اُ س کی مستحکم اصل اور مستحکم سرا ہوتا ہے۔ متن کی قرات کا ہر عمل ایک دووسرے کا دیباچہ ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ خود وضعی دیباچے کی قرات اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ مذکورہ نکات کی روشنی میں یہ نتیجہ برآمد کیا جا سکتا ہے کہ موضوعی اہمیت اور اسلوبی انفرادیت کے اعتبار سے اردو میں ایسی کتابیں تو بہت ہیں۔ لیکن ایسی کتابیں بہت کم ہیں جن کے دیباچے نظری نوعیت کے حامل ہوں، اور جن سے بحث و مباحث کے متعدد ابواب وا ہوتے ہوں۔

(Visited 110 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: