عملی سیاست اور فکری سیاست کی بحث —— شاہ برہمن

0

ہم اکثر اس بات پر بحث و مباحثہ اور مختلف نقطہ نظر والوں کو آپس میں سر پھٹول کرتے دیکھتے ہیں کہ عملی سیاست بہتر ہے یا فکری سیاست۔

عملی سیاست کے حمایتی عملی زندگی سے ہر طرح کی مثالیں لے کر آتے ہیں اور اپنے نقطہ نظر کی اصابت ثابت کرتے ہیں، وہ تاریخی حوالوں سے لیکر موجودہ صورتحال تک سے مثالیں لاتے ہیں، تاریخی حوالوں سے خاص طور پر مغل حکمران اکبر کی مثال دی جاتی ہے کہ کیسے اس نے عملی تقاضوں کو مد نظر رکھا اور برصغیر میں ایک لمبی اور مستحکم حکومت کی بنیاد رکھی، اور پھر عملی سیاست کے پیرو کار اورنگ زیب عالمگیر کی بھی مثال دیتے ہیں کہ اس نے فکری سیاست کی اور یوں مغل اقتدار کے زوال کی بنیاد رکھی اور اگر وہ عملی سیاست کے تقاضوں کو مد نظر رکھتا اور فکری و نظری سیاست میں ملوث نا ہوتا تو مغل کبھی بھی کمزور نا ہوتے اور شائد آج بھی پورے برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی۔

موجودہ زمانے میں عملی سیاست کے معاملے میں جناب زرداری، جناب نواز شریف اور جناب عمران خان کی سیاست کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے، اس سلسلے میں عمران خان کی سیاست کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ انہوں نے عملی سیاست کی بجائے فکری سیاست کرنے کی کوشش کی اور بالآخر عملی سیاست کرنے پر مجبور ہوئے اور اس راستے میں انکو بے شمار یو ٹرن لینے کا طعنہ بھی مارا جاتا ہے اور یہ بات بطور دلیل استعمال کی جاتی ہے کہ اصل سیاست عملی سیاست ہی ہوتی ہے اور فکری سیاست صرف کتابی بات ہوتی ہے۔

اس تحریر کا مقصد اس مغالطے سے پردہ اٹھانا ہے کہ عملی سیاست اور فکری سیاست میں فرق کیا ہے اوراس بارے میں غلط تصور کو واضح کیا جائے۔

اس سارے قصے میں جو بات پھیلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ عملی سیاست اور فکری سیاست ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہوتی ہیں اور عملی سیاست شہد کا رس بھرا چھتہ ہے جس سے سیاست کے تمام مسائل کا بے حد و حساب رس بہہ رہا ہے اور اس میں محبوب آپکے قدموں سے لیکر عالمی خارجہ حکمت عملیوں کے پیچیدہ حل تک سب کچھ موجود ہے جبکہ فکری سیاست اصل میں کیکر کے درخت پر لگا ہوا بھڑوں کا چھتہ ہے اور جونہی آپ نے اسکو ہاتھ لگایا آپکو اپنی اور اپنے اردگرد لوگوں کی جان بچانے کے لالے پر جائیں گے۔

آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ عملی سیاست اصل میں ہے کیا۔
سیاست اصل میں انسانی مسائل کا اجتماعی یعنی حکومتی سطح پر حل ڈھونڈھنے کا نام ہے، جب سے انسانوں نے ایک معاشرے کی صورت رہنا شروع کیا ہے تو انکے باہمی جھگڑوں، حقوق و فرائض آپسی تعلقات و ریاستی تعلقات کو منظم کرنے کیلئے ایک خاص ڈھانچے کی ضرورت پڑی اور پھر کچھ قوانین و ضابطوں کی بھی ضرورت پڑی، دوسرے الفاظ میں سیاست کیلئے ضابطوں اور قوانین کی ضرورت پڑی. ان قوانین و ضابطوں کو آپ سیاست کا نظریہ یا فکر کہہ سکتے ہیں۔ تو انسانی مسائل و مشکلات کے حل کیلئے ان ضابطوں و قوانین کے عملی اطلاق کو آپ عملی سیاست کہہ سکتے ہیں۔

دنیا میں اس وقت مختلف قسم کی فکری سیاست رائج ہے، جی ہاں فکری سیاست، دوسرے الفاظ میں کوئی بھی ملک یا معاشرہ ایسا نہیں ہے جو کسی بھی طرح کی فکری سیاست سے مبراء ہو یا اس سے بالاتر ہو، اس وقت دنیا میں فکر یا نظریے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو تین طرح کے سیاسی نقطہ نظر ہیں، سیکولر سیاست، اسلامی سیاست، اشتراکی سیاست۔ اسلامی اور اشتراکی سیاست کا اگرچہ عملی وجود موجود نہیں ہے لیکن ایک نظریے کے طور پر بہرحال موجود ہے، اگر ہم عملی وجود کے طور پر دیکھیں تو سیکولر فکری سیاست کو ہم اپنے ہر سو لاگو دیکھتے ہیں۔ یہ مضمون اس بات سے مخاطب نہیں ہے کہ کونسی فکری سیاست اچھی یا بہتر ہے کہ وہ ایک علیحدہ موضوع ہے . یہاں پر موضوع بحث یہ بات ہے کہ جس سیاست کو ہم عملی سیاست کے طور پر دیکھتے ہیں کیا وہ واقعی عملی سیاست ہے اور اسی طرح جس سیاست کو ہم فکری سیاست سمجھتے ہیں کیا وہ واقعی فکری سیاست ہے۔

اس وقت دنیا کے تمام ممالک (اسلامی و غیر اسلامی) میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں اور جو ان ملکوں کے موجودہ نظام کو تسلیم کر کے سیاست کر رہی ہیں وہ اصل میں سیکولر فکری سیاست کو اپنائے ہوئے ہیں اور اسی فکر کے تحت انسانی مسائل کا اپنے اپنے معاشروں کیلئے حل پیش کرتی ہیں۔ اب ہوتا ایسا ہے سیاستدان اس فکری سیاست سے کشیدہ حل کومحض اپنے طریقہ عمل درآمد کی بنا پر عملی یا فکری قرار دے دیتے ہیں۔ عام لوگ چونکہ فکر و نظریے کی پیچیدگیوں و بحثوں سے واقف نہیں ہوتے تو وہ ایک ہی فکر سے نکلے حل کو عملی و فکری حل کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، اس سارے قضیے میں سیاستدان بھی لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ایک ہی فکری سیاست سے اخذ کردہ حل کی مشہوری عملی سیاست یا فکری سیاست کے نام سے کرتے ہیں . اس سلسلے میں وہ کسی خاص مسئلہ یا معاملہ یا شخصیات کے بارے لوگوں میں موجود تعصب، نفرت، محبت، ناانصافی، بےحسی، حقوق وغیرہ کے اسی حل کو عملی سیاست یا فکری سیاست کا نام دیتے ہیں۔

اگر ہم نواز شریف، آصف زرداری یا عمران خان کی سیاست کا جائزہ لیں تو ان میں فکری اعتبار سے رتی برابر فرق نہیں ہے جبکہ تینوں سیاستدان اپنی اپنی سیاست کو فکری سیاست بنا کر پیش کرتے ہیں. اب تماشا یہ ہوا ہے کہ لوگوں میں یہ مغالطہ مقبول ہوگیا ہے کہ زرداری اور نواز شریف کی سیاست عملی سیاست اور عمران خان کی سیاست فکری سیاست ہے، اس مغالطے کا شکار اچھے خاصے پڑھے لکھے حضرات بھی ہیں اور اس سلسلے میں عمران خان کی سیاسی غلطیوں کو انکی “فکری سیاست ” کی وجہ قرار دیتے ہیں اور نواز شریف و زرداری کی سیاست کی “کامیابی” کو عملی سیاست قرار دیتے ہیں۔

کیا آپ معاشی، تعلیمی، سماجی، خارجہ، عدالتی، سیاسی اعتبار سے ان تینوں حضرات کی سیاست میں کوئی جوہری فرق دیکھتے ہیں، انہی کی کیا، کیا آپ پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کی ان معاملات میں سیاست میں حقیقی معنوں میں کوئی فرق دیکھتے ہیں، ہرگز نہیں، اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف اور صرف عملدرآمد کے معاملے میں ہے اور یہ عملی سیاست کا میدان ہے۔

طوالت کے پیش نظر بات کو مختصر کرتے ہوئے اصل نقطہ جو بیان کرنا مقصود ہے کہ عملی سیاست اصل میں عملدرآمد کے طریقہ کا نام ہے اور ہر فکری سیاست میں عملی سیاست موجود ہوتی ہے اب چاہے یہ فکری سیاست، اسلامی ہو، اشتراکی ہو یا سیکولر سیاست

اکبر نے سیکولر فکری سیاست کو بنیاد بنا کر عمل درآمد کیلئے اقدامات اٹھائے اور یوں اپنے اقتدار(انچاس سال) کو محفوظ کیا جبکہ اورنگزیب نے اسلامی افکار پر مبنی فکری سیاست کو بنیاد بنا کر عوام و حکومتی مسائل کے حل کیلئے عملی سیاست کی اور یوں انچاس سال جی ہاں اکبر کی طرح انچاس سال ہی حکومت کی اور اسکے انتقال کے ایک سو پچاس سال بعد مغل اقتدار ختم ہوا۔

اس لئے اس مغالطے اور غلط فہمی سے نکلئے کہ شائد سیکولر سیاست عملی سیاست ہوتی ہے اور اسلامی سیاست فکری، اور عملی سیاست ہی کامیاب ہے۔

ہر سیاست کی بنیاد فکری ہوتی ہے اورانسانی مسائل کا اس سے اخذ کردہ حل پر عمل درآمد کا طریقہ عملی سیاست ہوتا ہے۔

(Visited 114 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: