بھاگڑ مچی ہے شہر میں –[ڈاکٹر وحید قریشی: کچھ یادیں کچھ باتیں]– عزیز ابن الحسن

0

عزیز ابن الحسن

دو چار ماہ ہوتے ہیں راقم نے معروف شاعر انجم رومانی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے دو شعروں کی طرف اشارہ کیا تھا جو ایک زمانے میں لاہور کے ادبی حلقوں میں بہت معروف تھے۔ معلوم نہیں کہ یہ اشعار کبھی ضبط تحریر میں آئے یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ انجم رومانی فی البدیہہ ہجویہ اشعار کے بھی استاد تھے ان کی کہی پھبتیاں زبان سے نکلی کوٹھوں چڑھی کے مصداق دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے ادبی حلقوں میں پھیل جاتی تھیں۔

ان کے ایک شعر
دیکھیو  رکھیو نہ کوئی در کھلا
پھر رہا ہے شہر میں صفدر کھلا

کا ذکر میں کسی سابقہ شذرے میں کر چکا ہوں۔ ان کا دوسرا کثرت سے دہرایا جانے والا شعر یہ تھا

بات  کو تـول  وحید قـریشی
پھر بھی نہ بول وحید قریشی

انجم صاحب کی طرح ڈاکٹر وحید قریشی بھی لاہور کا ادبی ورثہ تھے۔ انجم صاحب محفل باز آدمی نہ تھے ہر وقت سنجیدہ سنجیدہ سے رہتے۔ بولتے تو منہ ہی منہ میں کچھ ایسے بڑبڑاتے کہ بات بمشکل ہی سمجھ میں آتی۔ قینچی مارکہ سگریٹ ان کا من پسند برانڈ تھا۔ سگریٹ جوں جوں چھوٹا ہوتا جاتا توں توں انگشت شہادت اور بڑی انگلی کی پہلی پوروں کی طرف سرکتا جاتا۔ بقول انتظارحسین ہنسنے مسکرانے سے انہیں مکمل پرہیز تھا۔تاہم سینئر ادیبوں میں ان کا بہت احترام تھا۔

ان کے برعکس ڈاکٹر وحید قریشی ایک بھرپور مجلسی آدمی تھے اور بلا کے جملے باز آدمی بھی۔ فقرہ کستے بھی تھے اور فقرہ سنتے بھی تھے۔ سنا ہے کہ منٹو حلقہ ارباب ذوق میں عصمت چغتائی کے بارے میں کوئی مضمون پڑھ رے تھے۔ مضمون میں انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ عصمت چغتائی لاہور آئیں تو منٹو انہیں جوتا دلوانے انارکلی بازار میں لیئے لیئے پھرے۔ عصمت کو کوئ جوتا پسند ہی نہ آتا تھا آخر منٹو کی محنت رنگ لائی اور ان کے ناپ کا ایک جوتا پسند کروا ہی دیا۔ منٹو ابھی اتنا ہی پڑھ پائے تھے کہ سامعین میں سے پاٹ دار آواز آئی:
“سائز کیا تھا ان کا”؟
توبہ توبہ منٹو پر جملہ کسنے کے لئے جگرا چاہیے، یہ جگرا وحید قریشی ہی کا تھا۔

جن لوگوں نے وحید قریشی کو صرف انکی کتابوں کے حوالے سے دیکھا ہے وہ ان کی شخصیت کے مجلسی پن کا اندازہ ہی نہیں کرسکتے۔ وحید قریشی کی ابتدائی شہرت تو ایک نقاد اور استاد کے طور پر تھی مگر بعد میں وہ بطور محقق زیادہ معروف ہوئے۔ محقق کے بارے میں عام طور پر ایک منہ بسورتے آدمی کا تصور بنتا ہے جو موٹے شیشوں کی عینک لگائے قدیم کرم خوردہ کتابوں اور دست نوشتہ مسودوں میں کھویا رہتا ہے۔ اس سے کچھ وقت بچ جائے تو سر اٹھائے بغیر عینک ناک کی پھننگ پر جمائے جمائے ہی نظریں فریم کے اوپر سے اٹھا کر دیکھتا ہے، بات سن لیتا ہے اور چائے وغیرہ کا کہہ پھر مسودے میں گم ہو جاتا ہے۔ مگر وحید قریشی ایسے محقق ہرگز نہیں تھے یا یوں کہیے کہ بعد میں جیسے ہوگئے شروع میں ویسے نہ تھے۔ انہوں نے شاعری بھی خوب کی بے تحاشہ نظمیں غزلیں لکھیں، قطعات اوردوہوں میں نہایت تازہ کاری کے جوہر دکھائے۔ ابتدائی دور میں انہوں نے تنقید تو شاید تحقیق سے زیادہ ہی لکھی ہے۔ ان کی ابتدائی نقادی کو مظفر علی سید بھی بہت مانتے تھے۔ ان کی بد نام زمانہ کتاب، یا مقالہ کہیے، وہ “شبلی کی حیات معاشقہ” تھی۔ انیس سو چھیالیس سنتالیس میں شبلی شناسی کی خاموش اور پرسکون فضا میں اس مقالے سے گویا ایک بھونچال آگیا تھا۔ اُس زمانے میں نفسیاتی تنقید ابھی چھٹ بھئیوں کے ہتھے نہ چڑھی تھی۔ ڈاکٹر وحید قریشی جیسے محقق کو بھی “گاڑھا محقق” بننے سے پہلے نفسیاتی تنقید سے بہت دلچسپی تھی۔ مذکورہ کتاب میں انہوں نے شبلی کے خطوط اور فارسی غزلوں کی روشنی میں شبلی کی “فرائیڈین تحلیل نفسی” کی تھی اور ایسی دلدلوں میں جا اترے کہ جس پر، سنا ہے کہ،عطیہ فیضی نے بھی ردعمل کا اظہار کیا تھا اور پھر بعد میں ندوہ والوں کو اس کتاب کا جواب لکھ کرشبلی کی برات کا تحقیقی سامان کرنا پڑا تھا۔ کلاسیکی افسانوی و داستانوی ادب پر بھی انہوں نے پڑھی ژرف نگاہی سے لکھا تھا۔ شبلی کے فرائیڈین مطالعے کو انہوں نے “باغ و بہار” کے یونگین تجزیہ سے بیلنس کیا تھا۔ ان کا شمار معدودے چند ان محققین میں ہوتا ہے جن کا تنقیدی شعور ان کی تحقیق میں ایک چمک اور تازگی پیدا کیے رکھتا اور جن کی تحقیقی احتیاط پسندی ان کی تنقید کو نری گپ بازی بننے سے محفوظ رکھتی تھی۔ اس پر مستزاد معاصر ادب سے ان کا رابطہ اور اس کے بارے میں ایک سوچی سمجھی رائے کا ہونا تھا۔

ڈاکٹر وحید قریشی ان لوگوں میں سے تھے جنکی مجلسی گفتگو اور گپ بازی بھی ایک ادبی قیمت رکھتی تھی۔ اورینٹل کالج لاہور کی راہداریوں میں ان کے بلند قہقہے ہی نقش نہیں ہیں بلکہ وہاں کے در و دیوار ان کے دلچسپ جملوں سے بھی گونجتے تھے۔ سخت ڈیرے دار قسم کے آدمی تھے۔ ہمیشہ اپنا ایک جرگہ بناکر رہے اور ٹھسے کی زندگی گزاری تھی۔ مخالف دھڑے کے لوگوں کو زچ کرنے کے فن میں ایسے ماہر کہ ان کا لحیم شحیم تن و توش بھی اس میں آڑے نہ آ سکتا تھا بلکہ الٹا کچھ کام ہی آتا تھا۔

وہ بھی کیا زمانہ تھا کہ اورینٹل کالج اپنے وقت کے بے مثال استادوں کا گہوارہ تھا اور تعلیمی سیاست کا مرکز بھی۔ پروفیسر سید وقار عظیم اور وحید قریشی کی چشمکوں کے پس منظر میں ایک واقعہ یہ سنا تھا کہ غالبا سیدعبداللہ نے چھریرے بدن پر شیروانی پہننے والے پروفیسر وقار عظیم کو وحید قریشی کی طرف سے یہ کہتے ہوئے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا تھا کہ اگر کبھی وہ لغزش پا کا بہانہ بنا کر ہی آپکے اوپر گرگئے تو آپ کا علم تو شاید بچ جائے مگر آپ خود جانبر نہ ہو پائیں گے۔
ڈاکٹر صاحب کی خوش مزاجی اور خوش طبعی کا اظہار ان کے مجلسی فقروں کے علاوہ ان کے اخباری کالموں میں بھی خوب ہوتا تھا جو وہ ‘میر جملہ لاہوری’ کے نام سے لکھتے رہے ہیں۔ ذرا اس قلمی نام ہی کو دیکھیے جس میں ان کی تمامتر ذہنی اپج سمٹ آئی ہے۔

کلاس میں پڑھاتے ہوئے طلباء کے ساتھ ان کا انداز بھی شگفتگہ ہوتا تھا۔ ان کی ایک شاگرد نے بتایا کہ ایک دفعہ کلاس میں ڈاکٹر صاحب میر امن کی باغ و بہار کے چند کرداروں کا تجزیہ کر رہے تھے کہ خواجہ وقاص نامی ہمارے ایک ہم جماعت بار بار اٹھ کر کچھ اپنی ماہرانہ رائے پیش کرنے کی کوشش کرتے۔ دو چار دفعہ تو قریشی صاحب نے ان کی بات سنی اور ٹال گئے۔ لیکن وہ صاحب دور شاگردی میں خود کو شہباز علم کے مرتبے پر فائز گردانتے تھے، باز نہ آئے اور خواجہ سگ پرست کے ذکر پر پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابھی انہوں نے کچھ پھڑپھڑانا شروع ہی کیا تھا کہ ڈاکٹر وحید قریشی نے کہا
“دیکھ خواجے پہلے میری بات مکمل ہونے دے اپنی یہ خواجہ سرایاں بعد میں کر لینا”۔
یہ سننا تھا کہ کمرۂ جماعت قہقہوں سے گونج اٹھا اور خواجہ صاحب کو سگ پرستی کی داستان مکمل ہونے تک دوبارہ “کُسکنے” کی ہمت نہ ہوئی۔

ہم نے تو وہ زمانہ نہیں دیکھا لیکن اگلے لوگ بتاتے تھے کہ کسی زمانے میں وحید قریشی بغیر کلچ والا ففٹی ہونڈا موٹر سائیکل بھی چلایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں بھی ان کے جسم اور ففٹی ہونڈا موٹر سائیکل میں پہاڑ اور گلہری کی سی نسبت تھی۔ وحید قریشی علم و تن کا پہاڑ اور ان کی موٹر سائیکل بے بضاعتی کے احساس تلے کراہتی گلہری! کہتے ہیں کہ اسی زمانے میں ان کے ڈاکٹر نے انہیں متنبہ کیا تھا کہ اگر آپ نے اپنا وزن کم نہ کیا تو آپ کی ہڈیاں آپ کے اپنے وزن سے چٹخ جائیں گی۔ مرحوم طارق زیدی روایت کرتے تھے کہ ایک دفعہ ڈاکٹر وحید قریشی ٹی ہاؤس سے باہر نکل کر اپنی ففٹی پر بیٹھے تو کسی بے تکلف دوست تھے انہیں یہ بات یاد دلائی جس پر وحید قریشی  زور سے قہقہہ لگا کر جو اچھلے تو ان کے ففٹی کی سیٹ فریم سمیت پچک گئ!

2007 میں میرے پی ایچ ڈی کا زبانی امتحان بوجوہ مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی نے مرحوم ڈاکٹر جمیل جالبی کو امتحان کے لیے بلایا تھا لیکن جالبی صاحب نحیفی اور بیماری کے سبب اکیلے سفر کرنے پر تیار نہ تھے۔ انہوں نے اپنی بیگم کو بھی ایئر ٹکٹ دینے کا کہا جس پر یونیورسٹی کے قواعد آڑے آگئے اور یوں زبانی امتحان ٹلتا رہا۔ آخر قرعہ فال ڈاکٹر وحید قریشی کے نام کا نکلا۔ مجھے قریشی صاحب کے مزاج کا اندازہ تھا اس لیے میں نے سراج منیر کے ایک پرانے مشورے (کہ انٹرویو کار سے کسی غیر متعلقہ مسئلے پر الجھنا نہیں چاہیے خواہ آپ اپنے موقف میں کتنے ہی درست ہوں) کو ذہن میں تازہ کرتے ہوئے قریشی صاحب کے سوالوں کے جواب دینے شروع کیے۔ میں نے کہیں تفصیلی کہیں مختصر جواب دیے اور جہاں جہاں مجھے ان کے موقف سے اختلاف تھا وہاں خاموشی اختیار کرنا مناسب جانا۔ اس زمانے میں بھی وہ بیمار ہی تھے مگر میں ان کے ذہنی استحضار پر حیران ہوتا رہا۔ قیام پاکستان کے گردوپیش کی ادبی سیاست، محمد حسن عسکری کی ترقی پسندوں سے محاذ آرائییاں اپنی باریک جزئیات سمیت ان کے دماغ میں پوری طرح موجود تھیں۔ ان سب امور پر قدرے خشونت آمیز متانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پون گھنٹے تک انہوں نے متعلم کو توم کے رکھا۔ زبانی امتحان ختم ہوا۔ چائے کا دور شروع ہوا تو اپنی پرانی جون میں لوٹ آئے۔ قہقہہ لگاتے ہوئے بولے میں تمہیں جان بوجھ کر تنگ کر رہا تھا تمہارا مقالہ بھی بہت اچھا ہے اور زبانی امتحان بھی عمدہ ہوا ہے۔ پھر انہوں نے مبارکباد دیتے ہوئے ڈگری کا اعلان کیا۔ ابھی میں کمرۂ امتحان میں ہی تھا کہ گھر سے بیگم کا فون آگیا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ میں نرغۂ ممتحنین میں میں گھرا ہوا ہوں۔ میں نے اسے امتحان میں کامیابی کا بتایا۔ قریشی صاحب کو اندازہ ہوگیا کہ میں بیگم سے بات کررہا ہوں تو کہنے لگے لاؤ فون مجھے دو۔ میں نے بیگم سے کہا کہ ڈاکٹر وحید قریشی صاحب تم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب  فون لیتے ہی سلام کے بعد “بناوٹی سنجیدگی طاری کرکے بولے یہ آپ اپنے میاں کو کچھ پڑھنے لکھنے کا ٹائم کیوں نہیں دیتیں؟ یہ یہاں بڑی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں”، اس اچانک افتاد سے بیگم کچھ نہ سمجھتے ہوئے قدرے پریشان سی ہوگئ کہ نجانے کیا ماجرا کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی اسکا احساس ہوگیا تو لہجے میں نرمی پیدا کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میں مذاق کر رہا تھا آپ کے صاحب کا viva voice بہت اچھا ہو گیا ہے۔ اس کے لیے اصل مبارکباد کی حقدار تو آپ ہیں” تو تب ہماری بیگم کو یقین آیا کہ میاں صاحب پڑھنے لکھنے میں کچھ ٹھیک ہی ہیں!

یہ قریشی صاحب کا وہ زمانہ تھا جب ان کی نقل و حرکت بہت محدود ہوچکی تھی۔ وہ ہفتے میں ایک آدھ دن جی سی یونیورسٹی میں تشریف لایا کرتے تھے۔ مگر اتفاق سے جس دن میرا زبانی امتحان تھا وہ دن ان کا جی سی آنے کا نہیں تھا۔ اورینٹل کالج سے انہیں جو گاڑی لینے کے لئے بھیجی گئی وہ شاید کلٹس تھی۔ اب مسئلہ یہ ہوا کہ قریشی صاحب اس میں سما نہیں پا رہے تھے۔ ان کے گھر سے ہی ڈرائیور نے فون کرکے مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ جلدی جلدی بڑی گاڑی کا انتظام کیا گیا اور قریشی صاحب آئے۔ جیسا کہ رواج ہے پی ایچ ڈی کا دفاع عمومی انداز کا ہوتا ہے اور اس میں ہر طرح کے لوگ شریک ہوسکتے ہیں۔ ہمارے دوست مرحوم جعفر بلوچ بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ جعفر بلوچ بھی اپنے ہی انداز کے آدمی تھے۔ فی البدیہ شعر کہنے اور ہجویات  گھڑنے میں دوسری صف کے اماموں میں شمار ہوتے تھے اور پھر وحید قریشی صاحب کی طرح جملے باز بھی بلا کے تھے۔ اب منظر یہ تھا کہ زبانی امتحان ختم ہو چکا تھا اور قریشی صاحب واپس تشریف لے جانے کے لیے ایک ہاتھ میں کھونٹی تھامے اور دوسرا ہاتھ جعفر بلوچ کے کندھے پر رکھے گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا گیا اور قریشی صاحب نے پہلے اپنی کھونٹی اندر پھینکی پھر اپنا دایاں پیر اندر رکھا اور دوسری طرف جعفر بلوچ کا کندھا بھی ساتھ لیتے ہوئے دھپ سے سیٹ پر “دھنس” سے گئے اور جعفر بلوچ ان کے اوپر گرتے گرتے بچے۔ سب نے ہاتھ پھیلاتے ہوئے قریشی صاحب کو شکریے کے ساتھ رخصت کیا۔ گاڑی چلی گئی اور لوگ بھی ادھر ادھر ہو گئے تو جعفربلوچ جو کافی دیر سے کچھ ضبط کیے کھڑے تھے تازہ تازہ بنے ڈاکٹر کے کان کے قریب منہ لاتے ہوئے پھڑکتا جملہ چھوڑ گئے:

“اللہ اکبر اللہ اکبر!
لحد میں اتارنے کا منظر آنکھوں میں گھوم گیا”۔
یہ سن کر ہنسی کو ضبط کرنے میں نوساختہ ڈاکٹر کو کچھ ویسے ہی کڑے مراحل سے گزرنا پڑا جو کسی مریض پر آپریشن تھیٹر میں آپریشن سے پہلے آتے ہیں۔

یاد پڑتا ہے کہ ڈاکٹر وحید قریشی کو پہلی مرتبہ انیس سو اٹھاسی کے اوائل میں ہلٹن، لاہور میں ہونے والے کسی کتاب کی تقریب رونمائی کے پروگرام میں دیکھا تھا جس میں جنرل ضیاءالحق بھی بطور مہمان خصوصی آئے ہوئے تھے۔ اسی پروگرام میں ہندوستان سے آئے ہوئے محقق رشید حسن خاں بھی مدعو تھے۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد اوپر والے ہال سے نیچے آتے ہوئے ضیاءالحق کے ایک طرف کھونٹی کے سہارے چلتےہوئے ڈاکٹر وحید قریشی اور دوسری طرف رشیدحسن خاں تھے۔ وحید قریشی اپنے لحم وشحم  کی وجہ سے بہت آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر رہے تھے۔ اور ضیاءالحق بڑے مؤدبانہ انداز میں دونوں ہاتھ آگے باندھے ہوے ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ غالباً اسی موقع پر رشید حسن خاں نے جنرل ضیاء الحق کی موجودگی میں یہ ادبی لطیفہ بھی سنایا تھا کہ
“ان کے ایک دوست کہنے لگے کہ لکھنؤ کے بعض نازک مزاج “ڑ” کا تلفظ نہیں کرتے اس لیے وہ کیچڑ کو “کیچ” کہتے ہیں تو میں نے ان سے کہا اچھا تو پھر وہ لوگ چوتڑ کا تلفظ کیا کرتے ہیں؟” اس پر وحید قریشی نے حسب معمول زوردار قہقہہ لگایا، ضیاءالحق صرف مسکرا کے رہے گئے اور ان کے پیچھے تنے کھڑے ان کے اے ڈی سی کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔

پھر اسی زمانے میں ڈاکٹر صاحب بزمِ اقبال لاہور کے سیکریٹری ہوکر آگئے تھے۔ میں اس وقت ادارۂ ثقافت اسلامیہ لاہور میں تھا۔ نرسنگ داس کلب کی بڑی سی بلڈنگ میں تین اداروں کے دفتر تھے۔ ادارہ ثقافت اسلامیہ اور مجلس ترقی ادب؛ اور مجلس ترقی ادب والے حصے میں ایک کمرہ بزم اقبال کے لیے مختص تھا۔ میں ان دنوں ادارہ ثقافت اسلامیہ کے پائیں باغ احاطے میں ہی رہتا تھا۔ ادارہ ثقافت اسلامیہ کے ڈائریکٹر سراج منیر تھے اور مجلس ترقی ادب کے ناظم احمد ندیم قاسمی تھے اور بزم اقبال کے سیکرٹری ڈاکٹر وحید قریشی۔ ادارہ ثقافت اسلامیہ میں مولانا محمد اسحاق بھٹی کے علاوہ راجہ ف م ماجد صاحب بھی کام کرتے تھے۔ ماجد صاحب نون میم راشد کے چھوٹے بھائی تھے۔ بہت عالم اور باغ و بہار شخصیت تھے۔ ان کے ساتھ بیتے دنوں کا حال پھر کبھی لکھوں گا۔ ماجد صاحب کی وحید قریشی صاحب سے اچھی یاد اللہ تھی۔ ان کے ساتھ میں بھی کبھی کبھی قریشی صاحب کے ہاں چلا جاتا۔ یوں ملاقاتوں کا سلسلہ گاہے گاہے جاری رہا۔ ایک دفعہ میں نے ان سے پروفیسر منہاج الدین (جن کا مختصر سا ذکر کرنا مجھ پر واجب ہے جو کسی اور موقع پر کروں گا) کی قاموس الاصطلاحات کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر صاحب مغربی پاکستان اردو اکیڈمی کے بھی سیکرٹری تھے۔ یہ کتاب شاید اکیڈمی نے ہی چھاپی تھی۔ اگلے روز قریشی صاحب جب آئے تو گاڑی سے اترتے ہوئے یہ کتاب بھی ہاتھ میں پکڑ لی، اپنے آفس میں جانے سے پہلے ثقافت اسلامیہ کے نائب قاصد شریف کو کہلا کر مجھے بلوایا اور قاموس الاصطلاحات دیتے ہوئے بولے اس پر ایک تبصرہ لکھیں، جو افسوس ہے کہ میں آج تک نہ لکھ سکا۔

مرزا منور کے انتقال کے بعد ڈاکٹر وحید قریشی اقبال اکیڈمی کے ناظم بنا دیے گئے تھے۔ اس نظامت کے دوران میرے مشفق اور مہربان سہیل عمر، ڈپٹی ناظم اقبال اکیڈمی، سے ڈاکٹر صاحب کی نہ نبھی۔ انتظامی امور پر دونوں میں کچھ اختلاف رہا اور ڈاکٹر صاحب کے دل میں سہیل عمر کی طرف سے بال آ گیا۔ بعد میں سہیل عمر نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے اقبال کے خطبات تشکیل جدید الہیات اسلامیہ پر “خطبات اقبال نئے تناظر میں” کے عنوان سے ایم فل کا جو مقالہ لکھا وہ ڈاکٹر وحید قریشی کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ انہوں نے اخبار میں اس کے خلاف ایک سخت قسم کا مضمون لکھ کر انہیں “اقبال دشمنوں” میں شمار کر دیا۔ میں نے یہ مضمون پڑھا تو مجھے افسوس ہوا کہ دفتری چشمک کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب تنقیدی اعتدال پر قائم نہ رہ سکے تھے ۔ میں نے اس مضمون کی روشنی میں کتاب کو مکرر پڑھا اور مجھے جہاں جہاں ڈاکٹر صاحب کی باتوں سے اختلاف ہوا میں نے ایک طویل مضمون میں اس کا اظہار کردیا۔ میں نے مضمون سہیل عمر کو بھیج دیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ مضمون کا انجام کیا ہوا؟ وہ کہیں چھپا یا نہیں اور اگر چھپ گیا تھا تو کیا قریشی صاحب کے نظروں سے گزرا تھا، کچھ معلوم نہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ میرے پی ایچ ڈی کے زبانی امتحان میں انہوں نے اس طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔

اقبال اکیڈمی کا دفتر لاہور میں ایوان اقبال کی چھٹی منزل پر ہے، جس کا گراؤنڈ فلور ہی دس بارہ سیڑھیاں چھڑے بغیر نہیں آتا۔ ڈاکٹر وحید قریشی جب دفتر آتے تو بیسمنٹ سے لفٹ کے ذریعے اوپر چھٹی منزل پر جاتے۔ اتنی سیڑھیاں چڑھنا تو عام آدمی کے بس کی بات بھی نہیں قریشی صاحب تو پھر بیمار آدمی تھے۔ دفتر کا ستم ظریف عملہ بتایا کرتا تھا کے جب بجلی بند ہوتی تو اس روز ہم بڑے خوش ہوتے کہ ڈاکٹر قریشی آج دفتر نہ آ سکیں گے۔ مگر وہ ایوان اقبال میں آتے ضرور تھے لفٹ کا چلنا ممکن نہ ہوتا تو وہ فون کرکے اوپر سے اس روز کے ضروری کام کی فائلیں نیچے منگوا لیتے اور وہی ایک طرف کو کرسی پہ بیٹھ کے فائلوں پر دستخط کرتے ہدایت دیتے اور گھر تشریف لے جاتے ہیں۔ وہ روز دفتری عملے کے لئے خوشی کا دن ہوتا۔

ڈاکٹر صاحب سے بس میری یہی اچٹتی اچٹتی سی ملاقاتیں رہی ہیں۔ باقی ان کے بارے میں سنا بہت کچھ ہے جن میں سے کچھ گفتنیاں یہاں پیش کر رہا ہوں اور ناگفتنیوں سے صرف نظر کیا ہے۔

آخری عمر میں ڈاکٹر وحید قریشی بیماریوں کا گڑھ بن چکے تھے مگر ان کی حاضر جوابی اور شگفتہ مزاجی میں رتی بھر بھی فرق نہ آیا تھا۔ روزانہ شہر میں آنا مشکل ہو گیا تھا۔ کچھ پرانے دوست اور نئے عقیدتمند گھر ہی میں ان سے مل آتے تھے۔ اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو ٹیلی فون کے ذریعے سارے شہر کی ادبی سیاست سے باخبر رہتے، مشورے دیتے اور ماحول گرمائے رکھتے تھے۔ اس زمانے میں بھی کہ جب وہ بالکل بستر سے لگ گئے تھے اور اس قابل بھی نہ تھے کہ اپنی ہی نایاب اور وسیع لائیبریری سے استفادہ کرسکتے وہ اپنے پرانے رکے ہوئے کاموں کو جلد از جلد نپٹانے کے لیے بے قرار رہتے تھے۔ شوگر بلڈ پریشر اور حد سے بڑھ زیادہ بڑھا ہوا وزن ایسے مسائل ہیں جو ان سے بہت کم عمر لوگوں کو بھی چڑچڑا بدمزاج اور سنکی بنا دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس عالم، بعمر 85 برس، میں بھی ان کی ذہنی قوت اور ان کی طبیعت کی شگفتگی عروج پر رہی۔
ایسے زندہ دل لوگ اب کہاں باقی ہیں۔

“نقد جاں” کے عنوان سے ان کا پہلا شعری مجموعہ 1968 میں چھپا تھا۔ جس میں غزلیں آزاد نظمیں پابند نظمیں قطعات اور کچھ ہندی دوہے شامل تھے۔ ان کی ابتدائی غزلوں پر فراق گورکھپوری کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ اس لئے ان میں کچھ انفرادیت نہیں نظر آتی۔

وہ سامنے ہیں تو دل کی ہے اور ہی کچھ بات
جھکی جھکی سی نگاہیں رکی رکی سی حیات
سکوت ناز پہ سرگوشیاں نثار ہوئیں
تری نگاہ نے کہہ دی ہے آج دل کی بات

کچھ اور بھی ہیں محبت کی مشکلیں اے دوست
یہی نہیں کہ مجھے تیرا اعتبار نہیں

مگر ان کے دوہوں اور قطعات میں بڑی تازگی ہے
(ترنجن)
گاؤں کی لڑکیاں ترنجن میں
گیت گانے لگیں عجیب عجیب
اور محسوس یہ ہوا مجھ کو
سانس لیتا ہے کوئی دل کے قریب

آخری عمر کی غزلوں کے رنگ میں البتہ ایک نیا پن ہے۔

وہ بے حسی ہے کہ غم بھی اثر نہیں کرتے
ہمارے دل میں ستارے سفر نہیں کرتے
مثال موج ہوا خود ہی چلتی جاتی ہے
یہ زندگی ہے جسے ہم بسر نہیں کرتے
کچھ ایسے پست ہوئے حوصلے دلوں کے وحید
یہ سوچتے ہیں کریں کچھ مگر نہیں کرتے

دوہے

آؤ کبڈی کھیل لیں چٹیل ہے میدان
ایسے اجڑے دیس کا ملنا نہیں آسان

کی سرکار کی نوکری رہے ہمیشہ داس
کہیں ضمیر نہ جاگ اٹھے سدا رہا وسواس

بھاگڑ مچی ہے شہر میں کون ہے کس کا یار
کاروبار ہے لوٹ کا ہاتھ میں ہے تلوار

نو سو چوہے کھائے کے بلی چلی حجاز
نو سو دوہے کہہ چکے چلو پڑھیں نماز

پھیلے ہوئے ہیں دور تک عمر رواں کے کھیت
لپٹ رہی ہے پاؤں سے صحراؤں کی ریت

ملک کا کیا انجام ہو رکھو ہاتھ کو گول
پوری کرلو حسرتیں ہاتھ میں لے کشکول۔

یہ تھے ہمارے ڈاکٹر وحید قریشی۔  دعا ہے اللہ ان کے درجات بلند کرے اور ہمیشہ آسانیوں میں رکھے۔

(Visited 424 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: